Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي جحيفة ‹ من مسند أبي جحيفة · حديث 895

895 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا الفضل بن دكين حدثنا عبد الجبار بن العباس الهمداني عن عون بن أبي جحيفة Y عن أبيه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفره الذي ناموا فيه حتى طلعت الشمس فقال : إنكم كنتم أمواتا فرد الله إليكم أرواحكم فمن نام عن صلاة فليصها إذا استيقظ ومن نسي صلاة فليصل إذا ذكر K إسناده صحيح

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم اس سفر میں تھے ، جس میں صحابہ کرام سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا ، فرمایا : تم مر گئے تھے تمہاری روحوں کو لوٹا دیا گیا دوبارہ واپس جو نماز کے وقت سویا رہے اس کو چاہیئے کہ وہ پڑھ لے جب وہ جاگے جو بھول جائے اس کو چاہیئے کہ وہ نماز پڑھے جب اس کو یاد آئے ۔

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ العَبَّاسِ الْهَمْدَانِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the armrest of Abu Juhaifa › Chapter · Hadith 895

مسند أبي يعلى · من مسند أبي جحيفة ‹ من مسند أبي جحيفة · حديث 896

896 - حدثنا زهير حدثنا الفضل بن دكين عن عبد الجبار بن العباس قال : حدثني عون بن أبي جحيفة Y عن أبيه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ثمن الكلب وثمن الدم ومهر البغي K إسناده صحيح

حضرت عون بن ا بی حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے کتے اور خون کی قیمت اور زانیہ کی کمائی سے منع کیا ۔

ثمن الكلب وثمن الدم ومهر البغي إسناده صحيح ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← عبد الجبار بن العباس ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the armrest of Abu Juhaifa › Chapter · Hadith 896

مسند أبي يعلى · من مسند أبي جحيفة ‹ من مسند أبي جحيفة · حديث 897

897 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا عبد الجبار بن العباس عن عون بن أبي جحيفة Y عن أبيه أن رجلا ذبح قبل أن يصلي رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم النحر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يجزىء عنك فقال : يا رسول الله إن عندي جذعة قال : تجزي عنك ولا تجزي بعدك K رجاله ثقات

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : تیری قربانی نہیں ہوئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک چھ ماہ کا دنبے کا بچہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا: تیرے لیے جائز ہے ، تیرے بعد کسی کےلیے جائز نہیں ہے ۔

عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← عبد الجبار بن العباس ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the armrest of Abu Juhaifa › Chapter · Hadith 897

مسند أبي يعلى · من مسند أبي جحيفة ‹ من مسند أبي جحيفة · حديث 898

898 - حدثنا زهير حدثنا جعفر بن عون حدثنا أبو عميس عن عون بن أبي جحيفة Y عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم آخى بن سلمان وبين أبي الدرداء قال : فجاء سلمان يزور أبا الدرداء فرأى أم الدرداء متبتلة قال : ما شأنك ؟ قالت : إن أخاك ليس له حاجة في الدنيا فلما جاء أبو الدرداء رحب به سلمان وقرب إليه طعاما فقال له سلمان اطعم قال : إني صائم ثم قال : أقسمت عليك إلا ما طعمت ما أنا بآكل حتى تأكل قال : فأكل معه وبات عنده فلما كان من الليل قام أبو الدرداء فأجلسه سلمان ثم قال : يا أبا الدرداء إن لربك عليك حقا ولأهلك عليك حقا أعط كل ذي حق حقه صم وأفطر وقم ونم وائت أهلك فلما كان عند الصبح قال : قم الآن فقاما فصليا ثم خرجا إلى الصلاة فلما صلى النبي صلى الله عليه و سلم قام إليه أبو الدرداء فأخبره بما قال سلمان فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم مثل ما قال له سلمان K إسناده صحيح

حضرت عون بن ا بی جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے سلمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ الدرداء رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ حضرت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ الدرداء رضی اللہ عنہ کی زیارت کے لیے آئے ۔ انہوں نے ام دردا کو خستہ حالت میں دیکھا ۔حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ کیا حالت ہے ؟ اس نے کہا : آپ کے بھائی کو دنیا سے کوئی حاجت نہیں ہے ۔ جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ الدرداء رضی اللہ عنہ آئے ۔ حضرت سلمان نے کہا : آپ بھی کھانا کھائیں ! ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا : میں روزہ کی حالت میں ہوں ، پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ میں بھی نہیں کھاؤں گا یہاں تک کہ آپ کھائیں ۔ انہوں نے ان کے ساتھ کھایا ، انہیں کے پاس رات گزاری ، جب رات ہوئی تو حضرت ابوالدرداء کھڑے ہوئے ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان کو بٹھایا پھر فرمایا : اے حضرت ابو الدرداء ! تیرے رب کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے ، تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے ہر حق والے کو اس کا حق دو روزہ رکھو اور افطار بھی کرو ، قیام کرو او ر آرام بھی کرو ، اپنے اہل خانہ کے پاس جاؤ ۔جب صبح ہوئی تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اٹھو ! اب دونوں اٹھے ، دونوں نے نماز پڑھی ۔ پھر نماز کے لیے نکلے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے نماز پڑھائی حضرت ا بو الدرداء کھڑے ہوئے اور وہ ساری بات بتائی جو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کی تھی ۔

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← أَبُو عُمَيْسٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the armrest of Abu Juhaifa › Chapter · Hadith 898

مسند أبي يعلى · من مسند أبي جحيفة ‹ من مسند أبي جحيفة · حديث 899

899 - حدثنا زهير حدثنا هاشم بن القاسم و الحسن بن موسى قالا : حدثنا زهير حدثنا أبو إسحاق Y عن أبي جحيفة قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهذه منه بيضاء - يعني عنفقته - فقيل له : مثل من أنت يومئذ ؟ قال : أبري النبل وأريشها K إسناده صحيح

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو دیکھا کہ آپ کے ہونٹوں کے نیچے سفید بال تھے ۔ حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کی گئی : آپ اس وقت کس کے برابر تھے ؟ یعنی عمر کیا تھی ؟ فرمایا : میں تیرچھیل لیتا تھا اور تیر پر پھل لگاتا تھا ۔

أَبِي جُحَيْفَةَ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرٍ ← هاشم بن القاسم و الحسن بن موسى ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the armrest of Abu Juhaifa › Chapter · Hadith 899

مسند أبي يعلى · مسند أبي الطفيل ‹ مسند أبي الطفيل · حديث 900

900 - حدثنا عمرو بن الضحاك بن مخلد حدثنا جعفر بن يحيى بن ثوبان حدثنا عمارة بن ثوبان Y أن أبا الطفيل أخبره أن النبي صلى الله عليه و سلم كان بالجعرانة يقسم لحما وأنا يومئذ غلام أحمل عضو البعير قال : فأقبلت امرأة بدوية فلما دنت من النبي صلى الله عليه و سلم بسط لها رداءه فجلست عليه فسألت : من هذه ؟ قالوا : أمة التي أرضعته K إسناده منقطع

حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم جعرانہ کے مقام پر گو شت تقسیم کر رہے تھے ، میں اس دن بچہ تھا ۔ میں نے اونٹ کا ایک عضو اٹھایا ہوا تھا ، جب ایک دیہاتی عورت آئی ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے قریب ہوئی تو آپ نے اس کے لیے چادر بچھا دی وہ اس چادر پر تشریف فرما ہوئیں ۔ میں نے اس مائی صاحبہ کے متعلق پوچھا : یہ کون ہے ؟ صحابہ کرام نے فرمایا : یہ آپ کی رضاعی ماں ہے۔

عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ ← جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، ← عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Tufail › Chapter · Hadith 900

مسند أبي يعلى · مسند أبي الطفيل ‹ مسند أبي الطفيل · حديث 901

901 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا عبد الله بن المبارك أخبرني عبيد الله بن أبي زياد Y عن أبي الطفيل : أن النبي صلى الله عليه و سلم رمل من الحجر إلى الحجر K عبيدالله بن أبي زياد مختلف فيه وباقي رجاله ثقات

حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ایک پتھر سے دوسرے پتھر تک رمل کیا ۔

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Tufail › Chapter · Hadith 901

مسند أبي يعلى · مسند أبي الطفيل ‹ مسند أبي الطفيل · حديث 902

902 - حدثنا أبو كريب حدثنا محمد بن فضيل حدثنا الوليد بن جميع Y عن أبي الطفيل قال : لما فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة بعث خالد بن الوليد إلى نخلة وكانت بها العزى فأتاها خالد بن الوليد وكانت على تلال السمرات فقطع السمرات وهدم البيت الذي كان عليها ثم أتى النبي فأخبره فقال : ارجع فإنك لم تصنع [ شيئا ] فرجع خالد فلما نظرت إليه السدنة وهم حجابها أمعنوا في الجبل وهم يقولون : يا عزى خبليه يا عزى عوريه وإلا فموتي برغم ! قال : فأتاها خالد فإذا امرأة عريانة ناشرة شعرها تحثو التراب على رأسها فعممها بالسيف حتى قتلها ثم رجع إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره قال : تلك العزى K إسناده صحيح

حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مکہ فتح کیا ، خال د بن ولید رضی اللہ عنہ کو کھجور کے باغ کی طرف بھیجا ، وہاں عزیٰ نام کا بت تھا ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے ، وہ عزیٰ بت کیکر کے درختوں کے اوپر تھا ، آپ نے وہ درخت کاٹ دیا وہ گھر گرا دیا جس پر وہ تھا ۔ پھر حضرت خالد رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی بار گاہ میں آئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : واپس جاؤ ! تم نے کوئی کام نہیں کیا ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ واپس گئے ، پس دربانوں نے آپ کی طرف دیکھا وہی اس کے چوکیدار تھے ، وہ پہاڑ میں چلے گئے جبکہ وہ کہہ رہے تھے ب: اے عزیٰ ! اس آنے والے کو دیوانہ بنا ، اے عزیٰ ! اسے کانا کر دو ورنہ مر جاؤ ذلت سے ۔حضرت خالد رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے ، دیکھا کہ ایک عورت برہنہ بیٹھی ہوئی ہے اور اس کے بال کھلے ہوئے ہیں ، مٹی اپنے سر پر ڈالے جا رہی ہے ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے تلوار پکڑی اور اس کو قتل کر دیا ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی بار گاہ میں آئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : یہ عزیٰ تھا ۔

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Tufail › Chapter · Hadith 902

مسند أبي يعلى · مسند أبي الطفيل ‹ مسند أبي الطفيل · حديث 903

903 - حدثنا مجاهد بن موسى حدثنا القاسم بن مالك عن معروف بن خربوذ Y عن أبي الطفيل بن واثلة قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يطوف بالبيت على ناقته يستلم الحجر بمحجن معه K إسناده صحيح

حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو دیکھا اونٹنی پر طواف کرتے ہوئے ۔حجرہ اسود کو استلام کیا چھڑی کے ساتھ ۔

أبي الطفيل بن واثلة ← مَعْرُوفِ بْنِ خَرَّبُوذَ، ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Tufail › Chapter · Hadith 903

مسند أبي يعلى · مسند أبي الطفيل ‹ مسند أبي الطفيل · حديث 904

904 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد عن علي بن زيد . عن أبي الطفيل عن النبي صلى الله عليه و سلم وعن حبيب و حميد عن الحسن Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال بينما أنا أنزع الليلة إذ وردت علي غنم سود وغنم عفر فجاء أبو بكر فنزع ذنوبا أو ذنوبين فيهما ضعف والله يغفر له ثم جاء عمر فاستحالت غربا فملأ الحياض وأروى الواردة فلم أر عبقريا من الناس أحسن نزعا منه فأولت أن الغنم السود العرب والعفر العجم K إسناده ضعيف

حضرت امام حسن بصری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : آج رات میں کھینچ رہا تھا کہ اچانک مجھ پر کالی اور سرخ و سفید بکریاں پیش کی گئیں ، اس کے بعد ا بو بکر آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے ، ان دونوں کے کھینچنے میں کمزوری تھی ، اللہ نے اس کی معافی دیدی ، اس کے بعد عمر آئے انہوں نے کئی ڈول کھینچے ، حوض اور برتن بھر دئیے لوگوں میں آپ سے زیادہ اچھا کھینچنے والا میں نہیں دیکھا ، میں نے کالی بکریوں سے مراد عرب لیے ہیں اور سفید و سرخ سے مراد عجمی لیے ہیں ۔

الْحَسَنِ، ← النبي صلى الله عليه و سلم وعن حبيب و حميد ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Tufail › Chapter · Hadith 904

مسند أبي يعلى · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بقية من مسند عبد الله بن أنيس · حديث 905

905 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن إسحاق حدثني محمد بن جعفر بن الزبير عن ابن عبد الله بن أنيس Y عن أبيه قال : دعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن بلغني أن ابن سفيان بن نبيح الهذلي جمع لي الناس ليغزوني وهو بنخلة أو بعرنة فأته قال : قلت : يا رسول الله انعته لي حتى أعرفه فقال : آية ما بينك وبينه أنك إذا رأيته وجدت له قشعريرة قال : فخرجت متوشحا بسيفي حتى وقعت عليه في ظعن يرتاد لهن منزلا حين كان وقت العصر فلما رأيته ] وجدت ما وصف لي رسول الله صلى الله عليه و سلم من القشعريرة فأخذت نحوه وخشيت أن يكون بيني وبينه محاولة تشغلني عن الصلاة فصليت وأنا أمشي نحوه أومىء برأسي فلما انتهيت إليه قال : ممن الرجل ؟ قلت : رجل من العرب سمع بك وبجمعك لهذا الرجل فجاء لذلك قال : أحل إني أنا في ذلك قال : فمشيت معه شيئا حتى إذا أمكنني حملت عليه بالسيف حتى قتلته ثم خرجت وتركت ظعائنه منكبات عليه فلما قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فرآني قال : قد أفلح الوجه قال : قلت : قتلته يا رسول الله قال : صدقت قال : ثم قام معي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأدخلني بيته فأعطاني عصا فقال : أمسك هذه العصا عندك يا عبد الله بن أنيس قال : فخرجت بها على الناس فقالوا : ما هذه العصا ؟ قلت : أعطانيها رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمرني أن أمسكها قالوا : أفلا ترجع فتسأله لم ذلك ؟ قال : فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله لم أعطيتني هذه العصا ؟ قال : آية بيني وبينك يوم القيامة إن أقل الناس المختصرون أو المتحضرون يومئذ فقرنها عبد الله بسيفه فلم تزل معه حتى إذا مات أمر بها فضمت معه في كفنه ثم دفنا جميعا رحمة الله K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے بلوایا اور فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ ابن سفیان بن نبیح الہذلی میرے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے تاکہ مجھ سے جہاد کرے ، وہ نخلہ یا عرنہ کے مقام پر ہے تو اس کے پاس جا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے اس کا حلیہ بتائیں تاکہ میں اس کو پہچان لوں ۔ آپ نے فرمایا : جب تو اس کو دیکھے گا تو تیرے اور اس کے درمیان نشانی یہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے تو اس کو پائے گا کہ وہ کپکپی کی حالت میں اپنی تلوار کو لپٹا کر نکلا ہے یہاں تک کہ میں اس کے گھر کے قریب چلا گیا، اس وقت عصر کا وقت تھا ، جب میں نے اس کو دیکھا تو اسی طرح پایا جو مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے اس کی حالت بتائی تھی ، کپکپی اس پر طاری تھی ، میں نے اس کو پکڑا ، مجھے خوف ہوا کہ میرے اور اس کے درمیان حائل ہونے کی وجہ سے نماز عصر نہ رہ جائے اور مجھے نماز سے مشغول رکھے ، میں نے نماز اس حال میں پڑھ لی کہ میں اس کے ساتھ چل رہا تھا ، میں نے اپنے سر کے ساتھ اشارہ کر کے نماز پڑھ لی ، جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا : کون آدمی ہے ؟ میں نے کہا : عرب سے ایک آدمی ہوں ، آپ کے اور آپ کے لشکر کے متعلق سنا ہے ، اس آدمی کے متعلق ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے ) اس سے آیا ہوں ، اس نے کہا : ٹھیک ہے ! میں بھی اسی نیت سے ہوں، میں اس کے ساتھ تھوڑی دیر چلا ،جب میرے قابو میں آ گیا تو میں نے اس پر تلوار کا حملہ کر دیا یہاں تک کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ۔ پھر میں نکلا اور میں اپنی تلوار اسی پر لگی چھوڑ گیا ، جب میں حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا : اس کا چہرہ کامیاب ہو گیا ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کو مار کر آیا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : تو نے سچ کہا ! پھر حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم میرےساتھ کھڑے ہوئے اور مجھے اپنے گھر لے گئے مجھے عصا مبارک عطا کیا اور فرمایا : اس عصا کو اپنے پا سنبھال کر رکھنا ، اے عبداللہ بن ا نیس ! میں وہ لے کر صحابہ کرام کے پاس آیا ، صحابہ کرام نے کہا : یہ عصا ء کیا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے عطا کیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ مین اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھوں ۔ صحابہ کرام نے فرمایا : کیا تو واپس نہیں جاتا ہے یہ پوچھنے کہ اسے کس لیے سنبھال کر رکھوں ؟ میں واپس گیا اور آپ کی بار گاہ میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے یہ عصا مجھے کیوں دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میرے اور تیرے درمیان قیامت کے دن نشانی کے طور پر ، اگرچہ لوگ اس دن مختصر ہوں گے ۔ حضرت عبداللہ نے تلوار کے ساتھ ملا کر اسے رکھ دیا او ر ہمیشہ اپنے پاس رکھتے یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا ، انہوں نے اس عصا ء کے متعلق حکم دیا کہ اسے میرے کفن میں رکھنا ، پھر دونوں کو ملا کر دفن کیا گیا ، اللہ ا ن پر رحم کرے !

أَبِيهِ ← ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Abdullah bin Anis › Chapter · Hadith 905

مسند أبي يعلى · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بقية من مسند عبد الله بن أنيس · حديث 906

906 - حدثنا الصلت بن مسعود الجحدري حدثني يحيى بن عبد الله بن يزيد بن عبد الله بن أنيس حدثني الحسن بن يزيد عمي Y عن عبد الله بن أنيس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعثه سرية وحده K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ان کو اکیلے ایک سریہ میں بھیجا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← الحسن بن يزيد عمي ← يحيى بن عبد الله بن يزيد بن عبد الله بن أنيس ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Abdullah bin Anis › Chapter · Hadith 906

chevron_left Previous
1…542543544…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter