Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4888

4888 - حدثنا مجاهد بن موسى حدثنا محمد بن عبدالله ويزيد قالا : حدثنا محمد بن عمرو الليثي حدثنا أبو سلمة Y عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي وأنا معترضة أمامه في البيت فإذا أراد أن يوتر غمزني برجله وقال : ( تنحي ) K إسناده حسن والحديث صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے لیٹی ہوتی تھی، گھر میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاؤں کے ساتھ جھنجوڑتے تھے اور فرماتے تھے اور فرمایا: ہٹ جا۔

تنحي إسناده حسن والحديث صحيح ← معترضة أمامه في البيت فإذا أراد أن يوتر غمزني برجله ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي ← عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ ← محمد بن عبدالله ويزيد ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4888

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4889

4889 - حدثنا مجاهد حدثنا أبو معاوية حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن الأسود Y عن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم أهدي إلى البيت مرة غنما فقلدها K إسناده حسن غير أن الحديث صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ کی طرف قربانی بھیجی بکری کی ۔ اس کو قلادہ پہنایا ہوا تھا۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُجَاهِدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4889

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4890

4890 - حدثنا مجاهد حدثنا معاذ حدثنا ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن ذكوان Y عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم استأمروا النساء في أبضاعهن قالوا يا رسول الله فالبكر تستحس قال : سكوتها إقرارها K رجاله ثقات

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کی شرمگاہوں کا فیصلہ کرنے میں، یعنی ان کے نکاح کے وقت ان سے مشورہ کرو۔ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! عورت تو حیاء کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے ۔

عَائِشَةَ ← ذَكْوَانَ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُعَاذٌ، ← مُجَاهِدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4890

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4891

4891 - حددثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي حدثنا ابن المبارك عن يونس عن الزهري عن أبي سلمة Y عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه إذا أراد أن ينام وهو جنب توضأ وضوءه للصلاة وإذا أراد أن يأكل غسل يديه ثم أكل K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں روایت کرتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنبی حالت میں سونا چاہتے تو وضو فرماتے ، جو نماز کی طرح کا وضو ہوتا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا چاہتے تو ہاتھ دھوتے پھر کھا لیتے ۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حددثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4891

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4892

4892 - حدثنا عبد الرحمن بن صالح حدثنا علي بن مسهر عن هشام عن أبيه Y عن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يعجبه الحلواء والعسل K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میٹھا اور شہد کو پسند کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عبد الرحمن بن صالح

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4892

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4893

4893 - حدثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي حدثنا علي بن مسهر عن هشام عن أبيه Y عن عائشة قالت : قال لي النبي صلى الله عليه و سلم إني لأعلم إذا كتت علي غضبي وإذا كنت عني راضية . إذا كنت علي غضبي قلت : لا ورب إبراهيم وإذا كنت عني راضية قلت لا ورب محمد . قالت : أجل والله ما أهجر إلا اسمك K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں ضرور جان لیتا ہوں جب تم مجھ پر غصے ہو اور جب تم مجھ سے راضی ہوں ، جب تم مجھ پر غصے ہو تو تم کہتی ہو: " لا " ( نہیں) ابراہیم کے رب کی قسم ! اور جب تم مجھ سے خوش ہو تو کہتی ہو : نہیں ! محمد کے رب کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : جی ہاں ! قسم بخدا! میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں ( آپ کو تو نہیں چھوڑتی)۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4893

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4894

4894 - حدثتا عبد الله بن الرومي حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه Y عن عائشة قالت : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم إني لأعلم إذا كنت عني راضية وإذا كنت علي غضبي قالت : قلت : من أين تعرف ذلك ؟ قال : إذا كنت عني راضية قلت : لا ورب محمد وإذا كنت علي غضبى قلت لا ورب إبراهيم قلت : أجل والله ما أهجر إلا أسمك K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں ضرور جان لیتا ہوں جب تم مجھ پر غصے ہو اور جب تم مجھ سے راضی ہو، جب تم مجھ پر غصے ہو تو کہتی ہو نہیں ابراہیم کے رب کی قسم ! اور جب تم مجھ سے خوش ہو تو کہتی ہو : نہیں ! محمد کے رب کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : جی ہاں قسم بخدا! میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں ، آپ کو تو نہیں چھوڑتی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← حدثتا عبد الله بن الرومي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4894

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4895

4895 - حدثنا عبد الله بن الرومي حدثنا أبو معاوية عن هشام عن أبيه Y عن عائشة أنها كانت تغتسل هي و رسول الله صلى الله عليه و سلم من إناء واحد K إسناده صحيح

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4895

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4896

4896 - حدثنا عبد الله بن الرومي حدثنا أبو يعلى أسامة عن هشام عن أبيه Y عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحب الحلواء والعسل فكان إذا صلى العصر دار على نسائه فيدنو منهن فدخل على حفصة فاحتبس أكثر مما كان يحتبس فسألت عن ذلك فقيل لي : أهدت لها امرأة من قومها عكة عسل فسقت النبي شربة فقلت : أما والله لتحتالن له فذكرت ذلك لسودة قلت : إذا دخل عليك فإنه سيدنو فقولي له : يا رسول الله أكلت مغافير ؟ فإنه سيقول لك : سقتني حفصة شربة عسل فقولي له : جرست نحلة العرفط وسأقول ذلك له وقولي أنت يا صفية . فلما دخل على سودة قالت تقول سودة : والله الذي لا إله إلا هو لقد ذكرت أن أبادئه بالذي قلت وإنه لعلى الباب فرقا منك . فلما دنا قالت : يا رسول الله أكلت مغافير ؟ قال : لا قلت : ماهذه الريح ؟ قال : سقتني حفصة شربة عسل قالت : قلت جرست نحلة العرفط فما دخل علي قلت له مثل ذلك ثم دخل على صفية فقالت له مثل ذلك فلما دخل على حفصة قالت : يا رسول الله أسقيك ؟ قال : لا حاجة لي به قال تقول سودة : سبحان الله لقد حرمناه قالت : قلت : اسكتي K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلوا اور شہد پسند فرماتے تھے، پس جب آپ عصر کی نماز ادا کر لیتے تو اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے ، پس ان کے قریب ہوتے ، پس حضرت حفصہ کے پاس تشریف لائے ، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس ٹھہر گئے ۔ اس سے زیادہ پہلے ٹھہرا کرتے تھے ۔ پس میں نے اس بارے میں سوال کیا تو مجھ سے کہا گیا: اس کی قوم سے ایک عورت نے اسے شہد کی کپی بطور تحفہ دی ہے تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا ہے ۔ پس میں نے کہا: بہرحال قسم بخدا! ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کوئی حیلہ ضرور کریں گی، پس میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت سودہ سے کیا، میں نے کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے پاس تشریف لائیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے قریب ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کرنا: اے اللہ کے رسول ! آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھ سے فرمائیں گے : حضر ت حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے ، تو عرض کرنا: اس شہد کی مکھیوں نے مغافیر کھائی ہو گی۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی عرض کروں گی اور اے صفیہ ! تم بھی یہی عرض کرنا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سودہ کے پاس تشریف لائے تو آپ فرماتی ہیں : حضرت سودہ کہنے لگیں : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! میں نے وہی بات کہی جو تو نے بتائی تھی، آپ تجھ سے فاصلے پر دروازے کے پاس تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریب ہوئے ، کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! مجھے حضرت حفصہ نے شہد کا شربت پلایا ہے ۔ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی : اس کی مکھیوں نے عر فط کے پودے کی کلیوں سے شہد لیا۔ پس جب میرے پاس آئے تو میں نے بھی وہی بات کی، پھر حضرت صفیہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی کی مثل عرض کیا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حفصہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں آپ کو پلاؤں ؟ فرمایا: نہیں! مجھے ضرورت نہیں۔ حضرت سودہ کہا : سبحان اللہ ! ہم نے آپ کو محروم کر دیا حضرت عائشہ نے کہا: خاموش رہو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أبو يعلى أسامة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4896

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4897

4897 - حدثنا عبد الله بن الرومي حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه Y عن عائشة قالت : تزوجني رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا بنت ست سنين وبنى بي وأنا بنت تسع سنين فقدمنا المدينة فوعكت شهرا فوفى شعري جميمة فأتتني أم رومان وأنا على أرجوحة فصرخت بي فأتيتها وما أدري ما يراد مني فأخذت بيدي فصرخت بي فأتيتها وما أدري ما ذا يراد مني فأخذت بيدي فأوقفتني على الباب فقلت هه هه حتى ذهب نفسي فأدخلتني بيتا فإذا نسوة من الأنصار فقلن لي : على الخير والبركة على خير طائر فأسمتني إليهن فغلسن رأسي وأصلحنني فلم يرعني إلا رسول الله فأسلمنني K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رضی اللہ عنہ میری عمر چھ سال تھی، مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کیا، تو سال کی عمر میں رخصتی ہوئی، پس ہم مدینے آئے تو میں ایک ماہ ٹھہری، میرے بال جمیمہ ہو گئے حضرت ام رومان میرے پاس آئیں اس حال میں کہ میں جھولے پر تھی پس اس نے میرے نام سے بلند آواز لگائی ، پس میں اس کے پاس آئی ، مجھے اندازہ نہ ہو سکا کہ مجھ سے کیا مقصود تھا، پس اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دروازے پر لا کر کھڑا کر دیا، میرے منہ سے افسوس ناک آواز نکلی حتیٰ کہ میری جان نکلنے پر آ گئی، وہ مجھے کمرے کے اندر لے گئی، اچانک میری نگاہ پڑی تو وہاں انصاری عورتیں موجود تھیں، پس انہوں نے میرے لیے کہا : خیر و برکت پر اور نیک شگون پر ۔ پس ام رومان نے مجھے ان کے حوالے کر دیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور میری حالت درست کی پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہی ڈر اور رعب محسوس ہو، پس انہوں نے مجھے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کردیا۔

بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ وَبَنَى بِي ← تزوجني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4897

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4898

4898 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا صالح ابن موسى عن معاوية بن اسحاق عن عائشة ابنة طلحة Y عن عائشة أم المؤمنين قالت : والله إني لفي بيتي ذات يوم و رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه في ا لفناء والستر بيني وبينهم إذ أقبل طلحة بن عبيد الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم من سره أن ينظر إلى رجل يمشي على ظهر الأرض قد قضى نحبه فلينظر إلى طلحة K إسناده ضعيف جدا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ایک دن اپنے گھر میں تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام ) صحن میں تھے ۔ میرے اور ان کے درمیان پردہ تھا۔ اچانک طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ آئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو پسند ہو ایسے آدمی کو دیکھے جو زمین پر چلتا ہے اس کا فیصلہ ہو چکا ہے وہ طلحہ کی طرف دیکھے۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَائِشَةَ ابْنَةِ طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ← صالح ابن موسى ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4898

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4899

4899 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا صالح بن موسى عن معاوية بن إسحاق عن عائشة بنت طلحة Y عن عائشة أم المؤمنين قالت : والله إني لفي بيتي ذات يوم و رسول الله صلى الله عليه و سلم في الفناء وأصحابه والستر بيني وبينهم إذ أقبل أبو بكر فقال النبي صلى الله عليه و سلم من سره أن ينظر إلى عتيق من النار فلينظر إلى أبي بكر وإن اسمه الذي سماه أهله لعبد الله بن عثمان فغلب عليه اسم عتيق K إسناده ضعيف

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں اپنے گھر میں تھی ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحن میں تھے ۔ میرے اور ان کے درمیان پردہ تھا۔ اچانک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ وہ جہنم سے آزاد آدمی کی طرف دیکھے وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ لے ۔ حضرت ابو بکر کا نام آپ کے گھر والوں نے عبداللہ بن عثمان رکھا تھا، آپ کا عتیق نام زیادہ مشہور ہو گیا۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ← صالح بن موسى ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4899

chevron_left Previous
1…515253…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter