مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1974
1974 - حدثنا عمرو حدثنا سفيان عن عمرو عن جابر قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا جابر أتزوجت ؟ قلت : نعم قال : بكرا أو ثيبا ؟ قال : قلت : لا بل ثيبا قال : فهلا جارية تلاعبك وتلاعبها ؟ قلت : يا رسول الله إن أبي قتل يوم أحد وترك تسع بنات وهن لي تسع أخوات فلم أحب أن أجمع إليهن جارية خرقاء مثلهن ولكن امرأة تمشطهن وتقوم عليهن قال : أصبت K إسناده صحيح
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو نے شادی کر لی ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کی : نہیں! بلکہ بیوہ سے کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کنواری سے کیوں نہیں کی کہ وہ تیرے ساتھ کھیلتی اور تو اس کے ساتھ کھیلتا؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میرے والد اُحد کے دن شہید ہو گئے تھے‘ انہوں نے نو بیٹیاں پیچھے چھوڑی ہیں‘ میری نو بہنیں ہیں‘ میں نے ان جیسی لڑکی پسند نہ کی، لیکن ایسی عورت جو ان کو کنگھی کرے اور ان کے کام سر انجام دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے ٹھیک کیا۔
جَابِرٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَمْرٍو،
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1974
