Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2163

2163 - حدثنا أبوهشام حدثنا ابن فضيل حدثنا الاجلح عن أبي الزبير Y عن جابر قال : لما كان يوم الطائف ناجى رسول الله صلى الله عليه و سلم عليا فأطال نجواه فقال بعض أصحابه : لقد أطال نجوى ابن عمه ! فبلغه ذ لك فقال : ما أنا انجيته بل الله أنتجاه K رجاله رجال الصحيح غير أجلح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سرگوشی فرمائی ۔ سرگوشی لمبی فرمائی، بعض صحابہ کرام نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا زاد سے لمبی سرگوشی فرمائی‘ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس سے سرگوشی نہیں فرمائی بلکہ اللہ نے سرگوشی فرمائی ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الأَجْلَحِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أبوهشام

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2163

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2164

2164 - حدثنا أبوهشام الرفاعي حدثنا محمد بن فضيل حدثنا الوليد بن جميع عن أبي سلمة بن عبد الرحمن Y عن جابر قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم على المنبر فقال : يا أيها الناس إني لم أقم فيكم بخبر جاءني من السماء ولكن بلغني خبر ففرحت به فأحببت أن تفرحوا بفرح نبيكم إنه بينا ركبا يسيرون في البحر إذ نفد طعامهم فرفعت لهم جزيرة فخرجوا يريدون الخبز فلقيتهم الجساسة ) - فقلت لأبي سلمة : وما الجساسة ؟ قال : امرأة تجر شعرجلدها ورأسها - فقالت : في هذا القصر خبر ما تريدون فأتوه فإذا هم برجل موثق فقال : أخبروني - أو سلوني أخبركم - فسكت القوم فقال : أخبروني عن نخل بيسان أطعم ؟ قالوا : نعم قال أخبروني عن حمأة زغر فيها ماء ؟ قالوا : نعم قالوا : هو المسيح تطوى له الأرض في أربعين يوما إلا ما كان من طيبة . قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وطيبة : المدينة ما باب من أبوابها إلا ملك مصلت سيفه يمنعه وبمكة مثل ذ لك ) ثم قال : في بحر فارس ما هو في بحر الروم ما هو ثلاثا ثم ضرب بكفه اليمنى على اليسرى ثلاثا فقال لي ابن أبي سلمة : في هذا الحديث شيء ما حفظته قلنا ما هو ؟ قال : شهد جابر أنه ابن صائد قلت : لا فإن ابن صائد قد مات قال : وإن مات قلت : قد أسلم قال : وإن أسلم قلت : فإنه قد د خل المد ينة قال : وإن دخل المدينة K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تمہیں کوئی ایسی خبر دینے کے لیے کھڑا نہیں ہوا جو آسمان سے آتی ہے لیکن مجھے ایک ایسی خبر پہنچی ہے جس سے میں خوش ہوا ہوں ۔ پس میں نے پسند کیا کہ میں خوش ہو رہا ہوں تو اپنے نبی کے ساتھ تم بھی خوشی مناؤ! وہ خبر یہ ہے کہ ایک گروہ سمندر میں سفر کرتا ہے‘ اسی دوران ان کا زاد راہ ختم ہو جاتا ہے (جس سے وہ پریشان ہو جاتے ہیں ) پس ان کے لیے ایک جزیرہ بلند ہوتا ہے‘ وہ کھانا تلاش کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں ایک جسامہ ملتی ہے۔ میں نے ابو سلمہ سے سوال کیا ( راوی کا بیان ہے:) جساسہ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا وہ عورت جو اپنی جلد اور سر کے بال گھسیٹتی ہے یعنی بڑے ہوتے ہیں‘ تو وہ کہتی ہے: اس محل میں اس چیز کی خبر ہے جو تم تلاش کر رہے ہو‘ وہ سارا گروہ مل کر اس جگہ آتا ہے‘ وہاں ایک زنجیروں سے بندھا ہوا آدمی ہے‘ پس وہ کہتا ہے: مجھے بتاؤ! یا مجھ سے پوچھو! ( راوی کو شک ہے کہ ان دو میں سے کون سا لفظ مروی عنہ نے بولا ) میں تمہیں بتاؤں گا۔ (یہ سن کر ) قوم خاموش ہو جاتی ہے۔ پس وہ کہتا ہے: مجھے اس کھجوروں کے باغ کی خبر دو جس سے اس کھایا گیا؟ وہ کہتے ہیں : ہاں! ( خبر دیتے ہیں )۔ وہ کہتا ہے: مجھے زغر کے کیچڑ کی خبر دو گے جس میں پانی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ہاں! (بالکل) ۔ انہوں نے کہا: وہ مسیح ہے جس کے لیے چالیس دن میں پوری زمین لپیٹ دی جاتی ہے (یعنی وہ اس میں پھرے گا ) مدینہ طیبہ میں داخل نہ ہو سکے گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ طیبہ کا کوئی دروازہ ایسا نہیں ہو گا جس پر ایک فرشتہ تلوار سونتے‘ اس کو روکنے کے لیے نہ کھڑا ہو گا اور مکہ میں بھی اسی طرح ۔ پھر فرمایا : فارس کے سمندر میں کیا ہے؟ روم کے سمندر میں کیا ہے؟ یہ بات تین بار فرمائی‘ پھر تین بار اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر مارا۔سو ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا: اس حدیث میں ایک ایسی چیز ہے جس کو میں نے یاد کیا۔ ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جناب جابر نے گواہی دی کہ وہ ابن صائد ہے۔ میں نے کہا: نہیں ! ابن صائد نہیں کیونکہ وہ تو فوت ہو چکا ہے‘ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ فوت ہو چکا‘ میں نے کہا: وہ اسلام لایا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ مسلمان بھی ہوا‘ میں نے کہا: وہ مدینہ میں داخل ہوا؟ انہوں نے کہا: وہ مدینہ میں بھی داخل ہوا۔

جَابِرٍ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أبوهشام الرفاعي

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2164

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2165

2165 - حدثنا أبوهشام حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن أبي صلاح و أبي سفيان Y عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا فرغ أحد كم من طعامه فليلعق أصابعه فإنه لا يد ري في أي طعامه تكون البركة K إسناده حسن

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے۔ وہ نہیں جانتاکہ کھانے کے کس حصہ میں برکت ہوتی ہے۔

جَابِرٍ ← أبي صلاح و أبي سفيان ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أبوهشام

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2165

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2166

2166 - حدثنا الحسن بن عمر بن شقيق حدثنا يزيد عن حسين عن عطاء بن أبي رباح Y عن جابر أن رجلا أعتق غلاما له عن دبر منه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من يشتريه مني ؟ قال : فاشتراه نعيم بن عبدالله فأخذ ثمنه فدفعه إليه K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے غلام آزاد کیا۔ وہ غلام مد بر تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے کون خریدے گا؟ اس کو نعیم بن عبداللہ نے خریدا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیسے لے کر اس کو دے دیا۔

فاشتراه نعيم بن عبدالله فأخذ ثمنه فدفعه إليه إسناده صحيح ← دبر منه فقال النبي صلى الله عليه و سلم من يشتريه مني ← جابر أن رجلا أعتق غلاما له ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← حُسَيْنٌ ← يَزِيدُ: ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2166

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2167

2167 - حدثنا الحسن بن عمر بن شقيق حدثنا يزيد عن حبيب عن أبي الزبير Y عن جابر بن عبدالله بمثل حديث حسين عن عطاء وزاد فيه : قال : قال نبي الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان أحدكم فقيرا فليبدأ بنفسه K رجاله ثقات

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فقیر ہو (تو صدقہ دینا چاہیے ) وہ اپنے سے ابتداء کرے۔

عطاء وزاد فيه ← جابر بن عبدالله بمثل حديث حسين ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَبِيبٍ ← يَزِيدُ: ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2167

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2168

2168 - حدثنا أبو بكر بن زنجويه حدثنا عبد الله الرزاق أخبرنا معمر عن عبد الله بن محمد بن عقيل Y عن جابر قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من تمام الصلاة إقامة الصف K إسناده حسن

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کامکمل ہونا صف کے مکمل ہونے سے ہے۔

جَابِرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← مَعْمَرٌ، ← عبد الله الرزاق ← أبو بكر بن زنجويه

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2168

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2169

2169 - حدثنا أبوعلي مجاهد بن موسى حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس حدثنا زهير حدثنا أبي الزبير Y عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يبيع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض K إسناده صحيح على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہری دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے‘ لوگوں کو چھوڑ دو کیونکہ اللہ عزوجل بعض کو بعض کی وجہ سے رزق دیتا ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← أبوعلي مجاهد بن موسى

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2169

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2170

2170 - و بإسناده قال Y نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع الثمر حتى يطيب K إسناده صحيح على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔

بيع الثمر حتى يطيب إسناده صحيح على شرط مسلم ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← و بإسناده

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2170

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2171

2171 - حدثنا مجاهد بن موسى حدثنا أحمد بن عبدالله حدثنا زهير حدثنا أبوالزبير Y عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان شريكا في ربعة أو نخل فليس له أن يبيعه حتى يؤذن شريكه فإن رضي أخذ وإن كره ترك K إسناده صحيح على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی باغ یا کھجوروں کے باغ میں شریک ہو تو اس کے لیے جائز نہیں ہے فروخت کرنا یہاں تک کہ شریک سے اجازت لے لے اگر راضی ہو جائے تو لے لے اگر ناراض ہو تو چھوڑ دے۔

جَابِرٍ ← أبوالزبير ← زُهَيْرٍ ← أحمد بن عبدالله ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2171

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2172

2172 - حدثنا أبوأسحاق إبراهيم بن عبد الله الهروي حدثنا إسماعيل بن عليه حدثنا الحجاج بن أبي عثمان عن أبي الزبير Y عن جابر انطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم ليصلح بين بني عمرو بن عوف من الأنصار قال : وحضرت الصلاة فقال بلا ل لأبي بكر : أأؤذن فتصلي بالناس ؟ قال : نعم فأقام بلال فتقدم أبو بكر فصلى بالناس وجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعلوا يصفقون بأيديهم لأبي بكر وكان أبو بكر لا يكاد يلتفت إذ كان في الصلاة فلما صفقوا التفت فرأى رسول الله صلى الله عليه و سلم فتأخر فأومأ النبي صلى الله عليه و سلم بيده إليه أن يصلي فأبى فتقد م رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى فلما قضى صلاته قال لأبي بكر : ما منعك أن تصلي ؟ قال : ما كان لأبن أبي قحافة أن يؤم رسول الله صلى الله عليه و سلم فأقبل على القوم فقال : ما بال التصفيق ؟ إنما التصفيق في الصلاة للنساء فأذا كانت لأحدكم حاجة فليسبح K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے تاکہ بنی عمرو بن عوف انصار کے درمیان صلح کروا دیں ۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلاؤ۔ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: جی ہاں! حضرت بلال نے اقامت پڑھی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے۔ لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے‘ صحابہ کرام حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہاتھوں سے تالیاں بجا کر آگاہ کرنے لگے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز میں اِدھر اُدھر متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ جب تالیاں بجنے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متوجہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر پیچھے ہونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ نماز پڑھاتے رہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیار نہ ہوئے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی ۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : آپ ان کو کیا رکاوٹ تھی نماز پڑھانے میں؟ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : ابو قحافہ کے بیٹے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امامت کروائے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تالیاں بجانے کا کیا سبب ہے؟ تالیاں بجانا نماز میں عورتوں کا کام ہے جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی حاجت ہوتو وہ’’ سبحان اللہ‘‘ پڑھے۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أبوأسحاق إبراهيم بن عبد الله الهروي

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2172

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2173

2173 - حدثنا إبراهيم الهروي حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا الحجاج بن أبي عثمان حدثني أبو الزبير Y أن جابر حدثهم قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بأم السائب - أو أم المسيب - وهي تزفزف من الحمى فقال لها : ما شأنك يا أم السائب تزفزفين ؟ قالت : الحمى لا بارك الله فيها قال : لا تسبيها فإنها تذهب خطايا ابن ادم كما يذهب الكير خبث الحد يد K رجاله رجال الصحيح خلا إبراهيم بن عبدالله الهروي

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت اُم سائب یا اُم مسیّب کے پاس آئے وہ کانپ رہی تھیں‘ آپ نے فرمایا : اے اُم سائب ! کیا ہوا ہے؟ آپ نے عرض کی: بخار ہے‘ اللہ اس میں برکت نہ دے ۔ آپ نے فرمایا: بخار کو گالی نہ دے بے شک بخار ابن آدم کے گناہ اسی طرح ختم کر دیتا ہے جس طرح لوہار کی بھٹی لوہے سے میل کچیل نکال دیتی ہے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أبراهيم الهروي

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2173

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2174

2174 - حدثنا أبراهيم الهروي حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا الحجاج بن أبي عثمان عن أبي الزبير Y عن جابر قال قدم : رجل المد ينة مهاجرا قال : فحم حمى شديدة فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله : أقلني الهجرة فقال : لا والله لا أقيلك إن الأسلام لا يقال قال الحجاج : وذكر أنه غيرمرة كل ذلك يأبى عليه فخرج بغير أذنه فأخبر به النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أنها طيبة تنفي خبث الرجال كما ينفي الكير خبث الحديد K رجاله رجال الصحيح خلا إبراهيم بن عبدالله الهروي

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ہجرت کر کے مدینہ آیا‘ اس کو سخت بخار ہو گیا‘ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ ! مجھ سے ہجرت کا اقالہ فرمائیں‘ یعنی واپس کے جانے دیں‘ حجاج فرماتے ہیں: اس نے کئی مرتبہ ذکر کی‘ آپ نے ہر مرتبہ انکار کیا‘ وہ آپ کی اجازت کے بغیر نکلا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا : مدینہ بُرے لوگوں کو ایسے دور کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے سے زنگ دور کر دیتی ہے۔

فحم حمى شديدة فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ← قدم رجل المد ينة مهاجرا ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أبراهيم الهروي

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2174

chevron_left Previous
1…171819…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter