Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2175

2175 - حدثنا أبراهيم حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا الحجاج بن أبي عثمان عن أبي الزبير Y عن جابر قال : قد م الطفيل بن عمرو الد وسي على رسول الله صلى الله عليه و سلم بمكة فقال لرسول الله : هلم إلىحصن حصين وعدد وعدة - قال أبو الزبير : الدوس : حصن في رأس جبل لا يؤتى إلا في مثل الشراك - فقال له رسول الله : أمعك من واءرك ؟ قال : لا أدري قال : فأعرض عنه لما ذخر الله للانصار قال : فلما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة قدم الطفيل بن عمرو مهاجرا الى رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعه رجل من رهطه فحم ذلك الرجل حمى شديدة فخرج فأخذ شفرة فقطع بها دواحله فشخب حتى مات فدفن فجاء فيما يرى النائم في الليل إلى الطفيل بن عمرو في شارة حسنة وهو مخمر يده فقال له الطفيل : أفلان ؟ قال : نعم قال : كيف فعلت ؟ قال : صنع بي ربي خيرا : غفر لي بهجرتي إلى نبيه قال : فما فعلت يداك ؟ قال : قال ربي : لن نصلح منك ما أفسدت من نفسك فقص الطفيل رؤياه على رسول الله صلى الله عليه و سلم فرفع يده فقال : اللهم وليديه فاغفر اللهم وليديه فاغفر اللهم وليديه فاغفر K رجاله رجال الصحيح غير إبراهيم بن عبدالله الهروي

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت طفیل بن عمرو الدوسی‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مکہ شریف آئے‘ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی :حصین کے قلعہ کی طرف تشریف لے چلیں‘ کچھ لوگ انتظار میں ہیں اور کچھ کھانا تیار ہے‘ حضرت ابو زبیر کا قول ہے: دوس‘ پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ ہے جو تسمے کی مانند ہے۔سو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تیرے ساتھ تیرے پیچھے کوئی اور بھی ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نہیں جانتا ہوں ۔ راوی کا بیان ہے: اس نے اعراض کیا اس چیز کے لیے جو انصار کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ذخیرہ فرمائی۔ راوی کہتے ہیں: سو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس وقت طفیل بن عمر وبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کرتے ہوئےآیا جبکہ اس کے گروہ سے ایک آدمی بھی اس کے ساتھ تھا۔ سو اس آدمی کو سخت بخارا ہوا تو وہ (مدینہ سے ) نکل گیا۔سو اس نے ایک تیز دھار آلہ لیا اور اس کے ساتھ اپنے ہاتھ کی رگیں کاٹ ڈالیں جس سے بہت سا خون بہہ گیا اور وہ مر گیا ۔سو اُسے دفن کر دیا گیا۔سو وہ ایک رات طفیل بن عمرو کے خواب میں آیا‘ انتہائی اچھی شکل تھی لیکن وہ اپنا ہاتھ چھپائے ہوئے تھا ۔طفیل نے اس سے کہا: کیا تو فلاں (یعنی نام لیا) ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں! طفیل نے کہا: تو نے کیا کیا؟ اس نے کہا: میرے رب نے میرے ساتھ بھلائی کا سلوک فرمایا‘ مجھے بخش دیا اس وجہ سے کہ میں نے اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ۔طفیل نے کہا: تیرے ہاتھوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرے رب نے فرمایا: اپنی جان کا جو حصہ تو نے بگاڑا ( ضائع کیا‘ خراب کیا ) اس حوالے سے ہم تیرے ساتھ کبھی صلح نہ کریں گے ۔طفیل نے اپنا خواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا دیئے اور دعا کی : اے اللہ ! اور اس کے ہاتھوں کو بھی درست فرما دے اس کی بخشش فرما اور اے اللہ ! اس کے ہاتھ بھی درست کر دے‘ اس کی بخشش فرما اور اس کے ہاتھ بھی درست فرما دے‘ اس کی بخشش فرما۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2175

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2176

2176 - حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي سمينة حدثنا مبشر بن إسماعيل حدثنا أبو بكر الغساني عن حكيم بن عمير Y عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يسجد في أعلى جبهته مع قصاص الشعر K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشانی کے بالوں کے اگنے والی جگہ کے ساتھ سجدہ کرتے تھے۔

جَابِرٍ ← حكيم بن عمير ← أبو بكر الغساني ← مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2176

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2177

2177 - حدثنا مسروق بن المرزبان حدثنا ابن أبي زائدة عن أبي إسحاق عن سعيد Y عن جابر قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يقوم إلى خشبة يتوكأ عليها يخطب كل جمعة حتى أتاه رجل من الروم وقال : إن شئت جعلت لك شيئا إذا قعدت عليه كنت كأنك قائم قال : نعم قال : فجعل له المنبر فلما جلس عليه حنت الخشبة حنين الناقة على ولدها حتى نزل النبي صلى الله عليه و سلم فوضع يده عليها فلما كان من الغد فرأتها قد حولت فقلنا : ما هذا ؟ قال : جاء النبي صلى الله عليه و سلم و أبو بكر و عمر فحولوها K إسناده حسن

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکڑی کے ایک تنے کے ساتھ کھڑے ہو کر ہر جمعہ کو خطبہ دیتے تھے۔ جب روم سے ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کی : اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہیں تو میں آپ کے لیے کوئی شئے بنا دوں (اسی طرح کی) کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھیں تو ایسے معلوم ہو کہ آپ کھڑے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے منبر بنایا گیا۔ جب اس پر تشریف فرما ہوئے وہ لکڑی کا تنا سسکیاں لے کر رونے لگا جس طرح اونٹنی اپنے بچے کے لیے روتی ہے‘ حتٰی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نیچے اترے اس پر اپنا دست مبارک رکھا(شفقت کے لیے ) جب صبح ہوئی میں نے اس کے بعد دیکھا اس کو تبدیل کر دیا گیا ہے ہم نے کہا: یہ کیا ہے؟ فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر آئے تھے انہوں نے تبدیل کر دیا ہے ۔

جَابِرٍ ← سَعِيدٌ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2177

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2178

2178 - حدثنا عبدالله بن عمر بن أبان حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد بن جميع عن أبي سلمة Y عن جابر قال : قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم على المنبر فقال : بينما ناس يسيرون في البحر فلقيتهم الجساسة فقلت : وما الجساسة ؟ فقال : امرأة تجر شعر جلدها ورأسها فقالت : في هذا القصر خبر ما تريدون فأتوه فإذا هم برجل موثق قال : أخبروني أو سلوني أخبركم فسكت القوم : فقال : أخبروني عن نخل بيسان - وعين زغر وعمان - هل أطعم ؟ قالوا : نعم قال : فأخبروني عن حمأة زغر هل فيها ماء ؟ قالوا : نعم هي ملاى تدفق جانبها قال : فقال : وهو المسيح تطوى له الأرض فيسلكها في أربعين إلا ما كان من طيبة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هي المدينة ما باب من أبوابها إلا عليه ملك صالت سيفه يمنعه منها وبمكة بمثل ذلك ثم قال : في بحر فارس ما هو في بحر الروم ما هو ثلاثا قال : فقال ابن أبي سلمة : إن هذا الحديث شيئا ما حفظته قال : فشهد جابر أنه ابن صياد قال : فقلت : إن ابن صياد قد مات قال : وإن مات قال : فقلت : فإنه قد أسلم قال : وإن كان قد أسلم قال : فإنه قد دخل المدينة قال : وإن كان قد دخل المدينة K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک گروہ سمندر میں سفر کرتا ہے‘ تو انہیں ایک جسامہ ملتی ہے ۔ میں نے ابوسلمہ سے سوال کیا (راوی کا بیان ہے : ) جساسہ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ عورت جو اپنی جلد اور سر کے بال گھیسٹتی ہے‘ تو وہ کہتی ہے: اس محل میں اس چیز کی خبر ہے جو تم تلاش کر رہے ہو‘ وہ سارا گروہ مل کر اس جگہ آتا ہے‘ وہاں ایک رسیوں اور زنجیروں سے جکڑا ہوا آدمی ہے‘ پس وہ کہتا ہے: مجھے بتاؤ! یا مجھ سے پوچھو! ( راوی کو شک ہے کہ ان دو میں سے کون سا لفظ مروی عنہ نے بولا ) میں تمہیں بتاؤں گا۔ (یہ سن کر ) قوم خاموش ہو جاتی ہے۔ پس وہ کہتا ہے: مجھے کھجوروں کے باغ کی خبر دو‘ مجھے زغر اور عمان کے چشمہ کی خبر دو گے کیا اس میں پانی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! وہ کھرا ہوا ہے اس کی ایک طرف سے پانی ٹپک رہا ہے‘ وہ کہتے ہیں: ہاں! (بالکل) ۔ انہوں نے کہا: وہ مسیح ہے جس کے لیے پوری زمین لپیٹ دی جائے گی چالیس دن میں وہ اس میں بھرے گا مگر مدینہ طیبہ میں داخل نہ ہو سکے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ طیبہ کا کوئی دروازہ ایسا نہیں ہو گا جس پر ایک فرشتہ تلوار سونتے‘ اس کو روکنے کے لیے نہ کھڑا ہو گا اور مکہ میں بھی اسی طرح ۔ پھر فرمایا: فارس کے سمندر میں کیا ہے؟ روم کے سمندر میں کیا ہے؟ یہ بات تین بار فرمائی‘ پھر تین بار ۔ سو ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا: اس حدیث میں ایک ایسی چیز ہے جس کو میں نے یاد کیا۔ ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جناب جابر نے گواہی دی کہ وہ ابن صیاد ہے۔ میں نے کہا: نہیں! ابن صیاد نہیں کیونکہ وہ تو فوت ہو چکا ہے انہوں نے کہا: اگرچہ وہ فوت ہو چکا‘ میں نے کہا: وہ اسلام لایا ؟ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ مسلمان بھی ہوا‘ میں نے کہا: وہ مدینہ میں داخل ہوا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ مدینہ میں بھی داخل ہوا۔

جَابِرٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عبدُاللهِ بنُ عمرَ بنِ أبانَ:

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2178

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2179

2179 - حدثنا عقبة بن مكرم الهلالي حدثنا يونس بن بكير حدثنا إبراهيم بن إسماعيل عن أبي الزبير Y عن جابر قال : ما سمعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم باح لنا بشيء من الدعاء على الجنائز ولا أبو بكر ولا عمر K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنا کہ ہمارے لیے کوئی شے واضح طور پر متعین کی ہو جنازہ کی دعا پڑھنے کے لیے نہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔

مَا ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إبراهيم بن إسماعيل ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْهِلَالِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2179

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2180

2180 - حدثنا عقبة حدثنا يونس حدثنا هشام الدستوائي عن أبي الزبير Y عن جابر قال : اشتكيت فدخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فنفخ في وجهي فأفقت K رجاله رجال الصحيح خلا عقبة بن مكرم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی (بیاری کی ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے چہرے پر پھونک ماری تو میں تندرست ہو گیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يُونُسَ ← عُقْبَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2180

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2181

2181 - حدثنا عقبة حدثنا يونس قال : أخبرني إبراهيم بن إسماعيل عن أبي الزبير Y عن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يضطجع أحدنا يضع إحدى رجليه على الأخرى K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا کہ ہم میں سے کوئی ایک لیٹنے کی حالت میں اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إبراهيم بن إسماعيل ← يُونُسَ ← عُقْبَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2181

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2182

2182 - حدثنا عقبة حد ثنا يونس حدثنا سليمان الأعمش عن أبي سفيان Y عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليأتين على الناس زمان يخرج الجيش من جيوشهم فيقال : هل فيكم أحد صحب محمدا فتستنصرون به فتنصروا ؟ ثم يقال : هل فيكم من صحب محمدا فيقال : لا فمن صحب أصحابه ؟ فيقال : لا فيقال : من رأى من صحب أصحابه ؟ فلو سمعوا به من وراء البحر لأتوه K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لشکروں میں سے ایک لشکر نکلے گا۔ ان کو کہا جائے گا کیا تم میں سے کوئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہے؟ اس کے وسیلہ سے مدد مانگیں گے‘ ان کی مدد کی جائے ؟ پھر ان کو کہا جائے گا: کیا تم میں سے کوئی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں؟ کہا جائے گا : نہیں ۔ وہ ہے جس نے صحابی کی صحبت اختیار کی ہو؟ ان کو کہا جائے گا نہیں! کہا جائے گا : وہ ہے جس نے صحابی کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو؟ اگر انہوں نے سنا ہو گا کہ وہ سمندر کے پیچھے ہے تو اس کے متعلق وہ اس کو ضرور لائیں گے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← يُونُسَ ← عقبة حد

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2182

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2183

2183 - حدثنا عقبة حدثنا مسعدة بن اليسع عن شبل بن عباد عن عمرو بن دينار Y عن جابر بن عبد الله أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : أي الناس أعلم ؟ قال : من يجمع علم الناس إلى علمه وكل صاحب علم غرثان K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگوں میں کون زیادہ عالم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کے علم کو اپنے علم میں جمع کر لے ۔ ہر علم والے کو بھوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شِبْلِ بْنِ عَبَّادٍ ← مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، ← عُقْبَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2183

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2184

2184 - حدثنا الأزرق بن علي حدثنا حسان حدثنا محمد بن الفضل عن عمرو بن دينار Y عن جابر بن عبدالله قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن الناس يكثرون وأصحابي يقلون فلا تسبوهم لعن الله من سبهم K إسناده تالف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: لوگ زیادہ ہوں گے اور میرے صحابی کم ہوں گے‘ میرے صحابہ کو گالی نہ دو‘ اللہ کی لعنت ہو اس پر جو ان کو گالی دے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللہِ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← حَسَّانُ ← الأزرق بن علي

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2184

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2185

2185 - حدثنا محمد بن المنهال حدثنا يزيد بن زريع حدثنا سعيد عن قتادة عن عطاء بن أبي رباح Y عن جابر قال : كنت في الصف الثاني أو الثالث حيث صلى النبي صلى الله عليه و سلم على النجاشي K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2185

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2186

2186 - حدثنا مسروق حدثنا شريك عن الأعمش عن أبي سفيان Y عن جابر قال : جاء سليك إلى المسجد والنبي صلى الله عليه و سلم يخطب فأمره أن يصلي ركعتين خفيفتين K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد کی طرف آئے اس حال میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے‘ آپ نے حکم دیا کہ دو مختصر رکعت نفل پڑھے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← مَسْرُوقٍ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2186

chevron_left Previous
1…181920…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter