مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2175
2175 - حدثنا أبراهيم حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا الحجاج بن أبي عثمان عن أبي الزبير Y عن جابر قال : قد م الطفيل بن عمرو الد وسي على رسول الله صلى الله عليه و سلم بمكة فقال لرسول الله : هلم إلىحصن حصين وعدد وعدة - قال أبو الزبير : الدوس : حصن في رأس جبل لا يؤتى إلا في مثل الشراك - فقال له رسول الله : أمعك من واءرك ؟ قال : لا أدري قال : فأعرض عنه لما ذخر الله للانصار قال : فلما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة قدم الطفيل بن عمرو مهاجرا الى رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعه رجل من رهطه فحم ذلك الرجل حمى شديدة فخرج فأخذ شفرة فقطع بها دواحله فشخب حتى مات فدفن فجاء فيما يرى النائم في الليل إلى الطفيل بن عمرو في شارة حسنة وهو مخمر يده فقال له الطفيل : أفلان ؟ قال : نعم قال : كيف فعلت ؟ قال : صنع بي ربي خيرا : غفر لي بهجرتي إلى نبيه قال : فما فعلت يداك ؟ قال : قال ربي : لن نصلح منك ما أفسدت من نفسك فقص الطفيل رؤياه على رسول الله صلى الله عليه و سلم فرفع يده فقال : اللهم وليديه فاغفر اللهم وليديه فاغفر اللهم وليديه فاغفر K رجاله رجال الصحيح غير إبراهيم بن عبدالله الهروي
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت طفیل بن عمرو الدوسی‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مکہ شریف آئے‘ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی :حصین کے قلعہ کی طرف تشریف لے چلیں‘ کچھ لوگ انتظار میں ہیں اور کچھ کھانا تیار ہے‘ حضرت ابو زبیر کا قول ہے: دوس‘ پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ ہے جو تسمے کی مانند ہے۔سو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تیرے ساتھ تیرے پیچھے کوئی اور بھی ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نہیں جانتا ہوں ۔ راوی کا بیان ہے: اس نے اعراض کیا اس چیز کے لیے جو انصار کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ذخیرہ فرمائی۔ راوی کہتے ہیں: سو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس وقت طفیل بن عمر وبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کرتے ہوئےآیا جبکہ اس کے گروہ سے ایک آدمی بھی اس کے ساتھ تھا۔ سو اس آدمی کو سخت بخارا ہوا تو وہ (مدینہ سے ) نکل گیا۔سو اس نے ایک تیز دھار آلہ لیا اور اس کے ساتھ اپنے ہاتھ کی رگیں کاٹ ڈالیں جس سے بہت سا خون بہہ گیا اور وہ مر گیا ۔سو اُسے دفن کر دیا گیا۔سو وہ ایک رات طفیل بن عمرو کے خواب میں آیا‘ انتہائی اچھی شکل تھی لیکن وہ اپنا ہاتھ چھپائے ہوئے تھا ۔طفیل نے اس سے کہا: کیا تو فلاں (یعنی نام لیا) ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں! طفیل نے کہا: تو نے کیا کیا؟ اس نے کہا: میرے رب نے میرے ساتھ بھلائی کا سلوک فرمایا‘ مجھے بخش دیا اس وجہ سے کہ میں نے اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ۔طفیل نے کہا: تیرے ہاتھوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرے رب نے فرمایا: اپنی جان کا جو حصہ تو نے بگاڑا ( ضائع کیا‘ خراب کیا ) اس حوالے سے ہم تیرے ساتھ کبھی صلح نہ کریں گے ۔طفیل نے اپنا خواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا دیئے اور دعا کی : اے اللہ ! اور اس کے ہاتھوں کو بھی درست فرما دے اس کی بخشش فرما اور اے اللہ ! اس کے ہاتھ بھی درست کر دے‘ اس کی بخشش فرما اور اس کے ہاتھ بھی درست فرما دے‘ اس کی بخشش فرما۔
جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِبْرَاهِيمَ،
Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2175
