Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2749

2749 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن الحكم عن يحيى بن الجزار عن أبي الصهباء قال Y كنت عند ابن عباس فذكرنا ما يقطع الصلاة فقالوا : الحمار والمرأة فقال ابن عباس : لقد جئت أنا وغلام من بني عبد المطلب مرتدفي حمار ورسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي بالناس في أرض خلاء فتركنا الحمار بين أيديهم ثم جئنا حتى دخلنا بينهم فما بالى ذلك ولقد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي بالناس فجاءت جاريتان من بني عبد المطلب تشتدان اقتتلتا فأخذهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فنزع إحدهما من الأخرى وما بالى ذلك K إسناده صحيح

حضرت ابى الصہباء فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا۔ ہم نے ذکر کیا کہ جو نماز کو چیزیں توڑ دیتی ہیں (وہ کیا ہیں؟)۔ فرمایا: گدھا، عورت ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک غلام گدھے پر سوار ہو کر آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جنگل میں ہم نے گدھے کو ان کے آگے چھوڑ دیا پھر ہم دونوں آ گئے یہاں تک کہ ان کے درمیان نماز میں شامل ہو گئے۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ۔ بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھارہے تھے صحابہ کرام کو ۔ بنی عبدالمطلب کی دو بچیاں آئیں دونوں لڑ رہی تھیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں میں سے دوسری کو کھینچا اور جدا کر دیا مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ۔

ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَقَدْ جِئْتُ ← الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، ← كنت عند ابن عباس فذكرنا ما يقطع الصلاة ← أَبِي الصَّهْبَاءِ، ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَكَمِ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2749

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2750

2750 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا الفضل بن دكين حدثنا سفيان عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن أبي ربيعة عن حكيم بن حكيم بن عباد بن حنيف عن نافع بن جبير بن مطعم عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أمني جبريل عند البيت مرتين فصلى الظهر حين زالت الشمس على مثل قدر الشراك ثم صلى العصر حين كان ظل كل شيء قدر ظله ثم صلى بي المغرب حين أفكر الصائم ثم صلى بي العشاء حين غاب الشفق ثم صلى الفجر حرم الطعام والشراب على الصائم ثم صلى الظهر من الغد حين كان كل شيء في قدر ظله ثم صلى العصر حين كان كل شيء مثلي ظله ثم صلى بي المغرب حين أفطر الصائم لوقت واحد ثم صلى العشاء حين ذهب ثلث الليل الأول ثم صلى الفجر لا أدري أي شيء قال : ثم التفت إلي فقال : يا محمد هذا وقت الأنبياء قبلك الوقت فيما بين هذين الوقتين K إسناده حسن

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبرائیل امین علیہ السلام نے دومرتبہ خانہ کعبہ کے پاس امامت کروائی ۔ ظہر کی نماز پڑھائی ، جس وقت سورج زائل ہو گیا تھا۔ اشراق کی مثل پھر عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر شئی کا سایہ اس کے سایہ کی مثل ہو گیا۔ پھر مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزه دار روزہ افطار کرتا ہے۔ پھر مجھے عشاء کی نماز پڑھائی جس وقت شفق غائب ہو گئی۔ پھر مجھے فجر کی نماز پڑھائی جس وقت کھانا اور پینا روزہ دار کے لیے حرام ہو جاتا ہے پھر دوسرے دن ظہر کی نماز پڑھائی۔ جس وقت ہر شئی کا سایہ ایک مثل ہو گیا پھر عصر کی نماز پڑھائی ۔جس وقت ہر شئی کا سایہ دو مثل ہو گیا ۔ پھر مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزه دار روزہ افطار کرتا ہے ایک وقت کے لیے پھر عشاء کی نماز پڑھائی جس وقت رات کا اوّل حصہ چلا گیا۔ پھر فجر کی نماز پڑھائی ۔ میں نہیں جانتا ہوں کہ کیا شی تھی فرمایا: حضرت جبرائیل علیہ السلام میری طرف متوجہ ہوئے اور عرض کی: اے محمد! یہ وقت پہلے انبیاء علیہ السلام کا ہے۔ آپ کے لیے ان دونوں وقتوں کے درمیان وقت ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2750

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2751

2751 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا المعتمر عن أبيه عن حنش عن عكرمة عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من جمع بين صلاتين من غير عذر فقد أتى بابا من أبواب الكبائر من ـ يعني ـ كتم الشهادة اجتاح بها [ مال ] امرئ مسلم أو سفك بها دمه فقد أوجب النار أو كما قال K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے دو نمازیں بغیر عذر کے جمع کیں ۔ اس نے کبیرہ گناہوں کے دروازے پر دستک دی ۔ اور جس نے یعنی اس نے گواہی کو چھپایا ۔ اس کے ساتھ اس نے مسلمان کا مال چرایا ہے۔ اس کے ساتھ خون بہا ہے اس پر جہنم واجب ہو گئی‘ یا جس طرح آپ نے فرمایا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حنش ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2751

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2752

2752 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا عبد ربه بن بارق الحنفي أنه سمع جده سماك الحنفي يحدث عن ابن عباس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يا عائشة من كان له فرطان من أمتي دخل بهما الجنة قالت بأبي فمن كان له فرط ؟ قال : ومن كان له فرط يا موفقة قالت : بأبي فمن لم يكن له فرط من أمتك ؟ قال : فأنا فرط أمتي : لم يصابوا بمثلي K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! جس کے لیے میری اُمت سے دو خوشیاں ہوں وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ان دونوں کی وجہ سے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: میرے باپ آپ پر قربان! جس کے لیے ایک خوشی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے لیے ایک خوش ہو‘ اے موفقہ ! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی جس کے پاس آپ کی اُمت سے کوئی خوشی نہ ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کے لیے خوشی ہوں اپنی اُمت کے لیے وہ میری مثل نہیں پائیں گے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← جده سماك الحنفي ← عبد ربه بن بارق الحنفي أنه ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2752

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2753

2753 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا يحيى بن سعيد حدثنا عبيد الله بن الأخنس حدثني ابن أبي مليكة عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كأني أنظر إليه أسود أفحج يقتلعها حجرا حجرا ـ يعني الكعبة ـ K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی نگاہ سے اس منظر کو دیکھ رہا ہوں کہ جو شخص کعبہ شریف کا ایک ایک پتھر اکھیٹر دے گا وہ کالا سیاہ اور کشادہ ٹانگوں والا ہو گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2753

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2754

2754 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا أبو بكر بن عبد الله البكري حدثنا عمرو بن مالك عن أبي الجوزاء عن ابن عباس Y في قوله ابن عباس في قول الله عز و جل { لعمرك } [ الحجر : 72 ] قال : بحياتك K إسناده ضعيف

حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ارشاد باری تعالیٰ کا معنی بیان کرتے ہیں: ’’لعمرك ‘‘ سے مراد ہے: آپ کی زندگی کی قسم ۔

بحياتك إسناده ضعيف ← ابن عباس في قوله ابن عباس في قول الله عز و جل ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكْرِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2754

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2755

2755 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا خالد بن الحارث حدثنا سعيد عن قتادة عن أبي نهيك عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سألكم بوجه الله فأعطوه ومن استعاذكم بالله فأعيذوه K إسناده صحيح مسند أنس بن مالك - ما أسنده الحسن بن أبي الحسن عن أنس بن مالك

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم سے اللہ کے لیے مانگے اس کو دے دو، جو اللہ کے لیے پناہ مانگے اس کو دے دو ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي نَهِيکٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2755

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2756

2756 - أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثتى التميمي الموصلي حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا مبارك بن فضالة حدثنا الحسن عن أنس بن مالك قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب يوم الجمعة إلى جنب خشبة يسند ظهره إليها فلما كثر الناس قال : ابنوا لي منبرا فبنوا له منبرا له عتبتان فلما قام على المنبر يخطب حنت الخشبة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم . قال أنس : وإني في المسجد فسمعت الخشبة حين حنت حنين الواله فما زالت تحن حتى نزل إليها رسول الله صلى الله عليه و سلم فاحتضنها فسكنت . قال : فكان الحسن إذا حدث بهذا الحديث بكى ثم قال : يا عباد الله : الخشبة تحن إلى الرسول شوقا إليه لمكانه من الله فأنتم أحق أن تشتاقوا إلى لقائه K رجاله ثقات

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن لکڑی کے ایک تنے کے ساتھ اپنی پشت مبارک کو ٹیک دے کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ پھر جب لوگ زیادہ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے منبر بناؤ۔ تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک منبر بنایا، جس کی دو سٹرھیاں تھیں (یعنی تیسری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلوہ افروز ہوتے ) تو جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے تو لکڑی کے اس تنے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فراق میں رونا شروع کر دیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت مسجد میں ہی تھا تو میں نے سنا کہ وہ لکڑی کا تنا اس طرح رو رہا ہے جس طرح بچہ اپنی ماں کی جدائی میں شدید گھبرا کر روتا ہے، وہ مسلسل روتا ہی رہا حتٰی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے منبر شریف سے نیچے تشریف لائے اس کے پاس گئے اور اس کو اپنی گود میں لے لیا (اس کے ساتھ پیار فرمایا ) تو پھر وہ تنا سکون میں ہوا۔ راوی کہتے ہیں : ( اس جگہ راوی سے مراد مبارک بن فضالہ بناتے ہیں ) کہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ راوی حدیث ) نے جب یہ حدیث مبارک پڑھائی تو آپ رحمتہ اللہ علیہ رو پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کے بندو! لکڑی کا ایک تنا حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشق ومحبت میں روتا ہے اس وجہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی بارگاہ میں ایک خاص مقام ملا تھا تو تم اس بات کے زیادہ حقدار ہو کہ تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کا شوق رکھو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثتى التميمي الموصلي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2756

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2757

2757 - حدثنا أبو إبراهيم الترجماني حدثنا صالح المري قال : سمعت الحسن يحدث عن أنس بن مالك Y عن النبي صلى الله عليه و سلم ـ فيما يروي عن ربه ـ قال : أربع خصال واحدة منهن لي وواحدة لك وواحدة فيما بيني وبينك وواحدة فيما بينك وبين عبادي . فأما التي لي فتعبدني ولا تشرك بي شيئا وأما التي لك علي فما عملت من خير جزيتك به وأما التي بيني وبينك فمنك الدعاء وعلي الإجابة وأما التي بينك وبين عبادي فارض لهم ما ترضى لنفسك K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس روایت میں راوی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب سے روایت کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: (اے ابن آدم!) چار خصلتیں ہیں ان میں سے ایک میرے لیے ہے اور ایک تیرے لیے ہے اور ان میں سے ایک میرے اور تیرے بندوں کے درمیان ہے بہرحال ان میں سے وہ جو صرف میرے بارے میں ہے وہ یہ ہے کہ تو صرف میری عبادت کر ، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ رہی وہ جو تیرے لیے ہے‘ میرے ذمہ کرم پہ ہے وہ یہ ہے کہ تو نے جو بھی اچھا عمل کیا میں اس کی جزا دوں گا، بہرحال وہ جو میرے اور تیرے درمیان ہے تو وہ تیری طرف سے دعا ہے اور میری طرف سے اس کو قبول کرنا ہے اور وہ خصلت جو تیرے اور میرے بندوں کے مابین ہے تو وہ یہ ہے کہ تو ان کے لیے وہ پسند کر جو تو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

رَبِّهِ ← النبي صلى الله عليه و سلم فيما يروي ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← صالح المري ← أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2757

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2758

2758 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا مبارك قال سمعت الحسن عن أنس Y أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم متى الساعة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما إنها قائمة فماذا أعددت لها ؟ قال : ما أعددت لها كبيرا إلا أني أحب الله ورسوله قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فأنت مع من أحببت ولك ما احتسبت . ثم قال : تسألونني عن الساعة ! والذي نفسي بيده ما على الأرض نفس منفوسة اليوم تأتي عليها مئة سنة . واللفظ للعسكري K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی : یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ تو جواباً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :خبردار! بے شک وہ آنے والی ہے، تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کے لیے کوئی زیادہ تیاری تو نہیں کی مگر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اس کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت کرتا ہے اور تیرے لیے وہی ہو گا جو تو نے گمان کیا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھ سے قیامت کے بارے سوال کرتے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! کوئی بھی ایسی جان نہیں جو زمین پر آج سانس لے رہی ہو‘ سو سال تک اس زمین پر رہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا فرمائی‘ پھر فرمایا: قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ تو اس آدمی کو لایا گیا وہ بہت گھبرایا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوس قبیلہ کے ایک بچے کی طرف نظر فرمائی اس کو سعد کہا جاتا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ زندہ رہا تو بوڑھا نہ ہو گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن میں بچے جتنا تھا۔

أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2758

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2759

2759 - حدثنا الحسن بن حماد و هدبة بن خالد ـ واللفظ للحسن ـ قالا : حدثنا حزم بن مهران القطعي عن الحسن عن أنس قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم لبعض مخارجه ومعه ناس من أصحابه فانطلقوا يسيرون وحضرت الصلاة فنزل القوم فلم يجدوا ماء يتوضؤون به فقالوا : يا رسول الله ما نجد ما نتوضأ به ! ورأى في وجوه أصحابه الكراهية فانطلق رجل من القوم فجاء بقدح من ماء يسير فأخذ النبي صلى الله عليه و سلم فتوضأ منه ثم أمر أصابعه الأربع على القدح ثم قال للقوم : هلموا قال : فجاء القوم فتوضؤوا حتى أبلغوا فيما يريدون من الوضوء فقيل : كم بلغ القوم ؟ قال : سبعين رجلا أو نحو ذلك . واللفظ للعسكري K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کسی کام کے لیے نکلے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ ساتھ تھے، وہ سارے چل رہے تھے اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا تو ساری قوم اتری ان کے پاس اتنا پانی نہیں تھا جس سے سارے وضو کر سکتے‘ تو انہوں نے عرض کی : یارسول اللہ! ہمارے پاس اتنا پانی بھی موجود نہیں جس سے ہم وضو کر سکیں اور آپ نے اپنے صحابہ کے چہروں میں پریشانی سی دیکھی ۔ پھرقوم میں سے ایک آدمی چلا اور وہ ایک پیالے میں تھوڑا سا پانی لے کر آیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیالہ پکڑا اور اس سے وضو کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چاروں انگلیاں پیالے پر پھیریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آؤ۔ راوی کہتے ہیں: ساری قوم آ گئی سب نے وضو کیا حتٰی کہ انہوں نے خوب مبالغہ کر کے وضو کیا جتنا ان کا ارادہ تھا اتنا مبالغہ کر کے وضو کیا۔ راوی سے کہا گیا: اس دن قوم کے کتنے لوگ تھے؟ ( تعداد کیا تھی؟ ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ستر آدمی تھے اور اس جتنے ( جانور وغیرہ بھی ) یہ الفاظ عسکری کے ہیں۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← حزم بن مهران القطعي ← الحسن بن حماد و هدبة بن خالد واللفظ للحسن

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2759

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2760

2760 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا ميمون بن نجيح أبو الحسن الناجي حدثنا الحسن عن أنس قال Y أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني أشتهي الجهاد ولا أقدر عليه قال : هل بقي من والديك أحد ؟ قال : أمي قال : فأبل الله في برها فإذا فعلت ذلك فأنت حاج ومعتمر و مجاهد فإذا رضيت عنك أمك فاتق الله وبرها

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں جہاد کا شوق رکھتا ہوں مگر اس پر قدرت نہیں رکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے عرض کی : جی ہاں! میری ماں زندہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے میں اللہ کی اطاعت کر جب تو نے یہ کر لیا تو حاجی بھی ہے معمر بھی ( عمرہ کرنے والا بھی ) اور مجاہد بھی ہے، جب تیری ماں تجھ سے راضی ہو گئی تو تو اللہ سے ڈر اور اس سے بھی اچھا برتاؤ کر۔

أُمِّي ← هل بقي من والديك أحد ← إني أشتهي الجهاد ولا أقدر عليه ← أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← ميمون بن نجيح أبو الحسن الناجي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2760

chevron_left Previous
1…125126127…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter