Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2737

2737 - حدثنا زهير حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا همام حدثنا قتادة عن عكرمة عن ابن عباس Y أن أخت عقبة بن عامر نذرت أن تحج ماشية فسأل النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل غني عن نذر أختك لتركب وتهد بدنة K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عقبہ بن عامر کی بہن نے نذر مانی تھی کہ حج پیدل کروں گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا اس کے متعلق ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ بے پرواہ ہے تیری بہن کی نذر سے اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو اور اونٹنی کی قربانی کرے۔

عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2737

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2738

2738 - حدثنا زهير حدثنا محمد حدثنا محمد ابن عمرو عن أبي أمية عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نهيت أن أصلي وراء المتحدثين والنيام K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے منع کیا گیا ہے بات کرنے والے‘ سونے والوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أبي أمية ← محمد ابن عمرو ← مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2738

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2739

2739 - حدثنا زهير حدثنا عثمان بن عمر أخبرنا يونس عن الزهري عن يزيد بن هرمز Y أن نجدة الحروري حين خرج في فتنة ابن الزبير أرسل إلى ابن عباس يسأله عن سهم ذي القربى لمن يراه ؟ قال : هو لقربى رسول الله صلى الله عليه و سلم قسمه رسول الله صلى الله عليه و سلم لهم وقد كان عمر عرض علينا منه عرضا رأيناه دون حقنا فرددناه عليه وأبينا أن نقبله وكان الذي عرض عليهم أن يعين ناكحهم وأن يقضي عن غارمهم وأن يعطي فقيرهم وأبى أن يزيدهم على ذلك K رجاله ثقات

حضرت یزید بن هرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف خط لکھا جس وقت ابن زبیر والی آزمائش سے نکلے‘ پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں کے حصہ کے متعلق کہ اس کے حق دار کون ہیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں کے لیے ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تقسیم کیا ہے‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہم پر اس سے حق پیش کرتے تھے‘ ہم اپنے سے زیادہ حق دار دوسروں کو سمجھتے ہیں‘ ہم ان کو واپس کر دیتے تھے ہم قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ داروں پر پیش کرتے تھے کہ ان کے نکاح کرنے والے کی مدد کی جائے ‘ ان کا قرض ادا کیا جائے ‘ ان کے فقیروں کو دیا جائے‘ اس سے زیادہ دینے پر انکار کرتے تھے۔

يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2739

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2740

2740 - حدثنا زهير حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس قال Y لما نزلت { والذين يرمون المحصنات ثم لم يأتوا بأربعة شهداء فاجلدوهم ثمانين جلدة ولا تقبلوا لهم شهادة أبدا وأولئك هم الفاسقون } [ النور : 4 ] قال سعد بن عبادة ـ وهو سيد الأنصار ـ : أهكذا أنزلت يا رسول الله ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر الأنصار ألا تسمعون إلى ما يقول سيدكم ؟ قالوا : يا رسول الله لا تلمه فإنه رجل غيور والله ما تزوج امرأة قط إلا بكرا ولا طلق امرأة قط فاجترأ رجل منا على أن يتزوجا من شدة غيرته . فقا سعد والله يا رسول الله إني لأعلم أنها حق وأنها من عند الله ولكن قد تعجبت أني لو وجدت لكاعا قد تفخذها رجل لم يكن [ لي ] أن أهيجه ولا أحركه حتى آتي بأربعة شهداء ؟ فو الله لا آتي بهم حتى يقضي حاجته قال فما لبثوا إلا يسيرا حتى جاء هلال بن أمية ـ وهو أحد الثلاثة الذين تبت عليهم ـ فجاء من أرضه عشاء فوجد عند أهله رجلا فرأى بعينيه وسمع بأذنيه فلهم يهجه حتى أصبح فغدا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إني جئت أهلي عشاء فوجدت عندها رجلا فرأيت بعيني وسمعت بأذني . وكره رسول الله صلى الله عليه و سلم ما جاء به واشتد عليه واجتمعت الأنصار فقالوا : قد ابتلينا بما قال سعد بن عبادة إلا أن يضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم هلال بن أمية ويبطل شهادته في المسلمين فقال : والله والله إني لأرجو أن يجعل الله لي منها مخرجا فقال هلال : يا رسول الله إني قد أرى ما اشتد عليك مما جئت به والله يعلم أني لصادق فوالله إن رسول الله صلى الله عليه و سلم ليريد أن يأمر بضربه إذ نزل على رسول الله صلى الله عليه و سلم الوحي وكان إذا نزل عليه الوحي عرفوا ذلك في تربد جلده فأمسكوا عنه حتى فرغ من الوحي فنزلت : { والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم } [ النور : 6 ] الآية كلها فسري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أبشر يا هلال قد جعل الله لك فرجا وخرجا فقال هلال : قد كنت أرجو ذاك من ربي . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أرسلوا إليها فأرسلوا إليها فجاءت فتلاها رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكرهما وأخبرهما أن عذاب الآخرة أشد من عذاب الدنيا . فقال هلال : والله يا رسول الله لقد صدقت عليها فقالت : كذب . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا عنوا بينهما فقال لهلال : اشهد فشهد أربع شهادات بالله إنه لمن الصادقين فلما كانت الخامسة قيل : يا هلال اتق الله فإن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة وإن هذه الموجبة التي توجب العذاب فقال : والله لا يعذبني الله عليها كما تجلدني عليها فشهد الخامسة أن لعنة الله عليه إن كان من الكاذبين ثم قيل لها : اشهدي فشهدت أربع شهادات بالله إنه لمن الكاذبين فلما كانت الخامسة قيل لها : اتقي الله فإن عذاب الدينا أهون من عذاب الآخرة وإن هذه الموجبة التي توجب العذاب فتلكأت ساعة ثم قالت : والله لا أفصح قومي فشهدت الخامسة أن عضب الله عليها أن كان من الصادقين ففرق رسول الله صلى الله عليه و سلم بينهما وقضى أن لا يدعى ولدها لأب ولا يرمى ولدها ومن رماها أو رمى ولدها فعليه الحد وقضى أن لا بيت لها عليه ولا قوت من أجل أنهما يتفرقان من غير طلاق ولا متوفى عنها قال : إن جاءت به أصيهب أثيبج أريسح حمش الساقين فهو لهلال وإن جاءت به أورق جعدا جماليا خدلج الساقين سابغ الأليتين فهو للذي رميت به فجاءت به أورق جعدا جماليا خدلج الساقين سابغ الأليتين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لولا الأيمان لكان لي ولها شأن قال عكرمة : وكان بعد ذلك أميرا على مصر وما يدعى لأب K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’اور وہ لوگ جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی کوئی گواہی بھی نہ مانو ، وہی فاسق ہیں‘‘(النور:۴) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے‘ وہ انصار کے سردار تھے‘ بولے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اسی طرح نازل ہوئی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا تم سنتے نہیں اس بات کو جو تمہارا سردار کہہ رہا ہے؟ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس کو سلامت نہ کریں یہ غیرت مند آدمی ہے۔ اللہ کی قسم! یہ شادی ہمیشہ کنواری سے کرتا ہے کسی عورت کو طلاق نہیں دیتا ، ہم میں سے کوئی آدمی جرأت نہیں کرتا اس کی غیرت مندی کی وجہ سے اس کی عورت سے شادی کرنے کی ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن تعجب خیز بات یہ ہے کہ اگر میں کسی مرد کو اس حالت میں پاؤں کہ اس نے اس عورت کو اپنی رانوں میں دبایا ہوا ہو۔ میرے لیے ممکن نہیں کہ میں اس پہ چار گواہ لے آؤں ۔ اللہ کی قسم میرے آنے تک وہ کام مکمل کر چکا ہو گا۔ تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ حضرت حلال بن امیہ تشریف لائے وہ ان تین میں شامل تھے جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، رات کو اپنے باغ سے آئے ۔ اپنے اہل خانہ کے پاس ایک مرد کو پایا انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے دونوں کانوں سے سنا لیکن مقدمہ پیش کرنے کی جرأت نہیں ہوئی یہاں تک کہ صبح ہوئی ۔صبح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں رات کو اپنے اہل خانہ کے پاس آیا‘ میں نے اس کے پاس ایک مرد کو پایا‘ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اپنے کانوں سے سنا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نا پسند خیال کیا‘ آپ پر شاق گزری۔ انصار جمع ہو گئے‘ کہنے لگے: جو حضرت سعد بن عبادہ نے کہا تھا ہم بھی اس میں مبتلا ہوئے ہیں مگر یہ کہ حضرت بلال بن امیہ کو سزا ہو گی ،مسلمانوں میں ان کی گواہی باطل قرار دیں گے۔حضرت ہلال کہنے لگے: اللہ کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ میرے لیے کوئی بہتر راستہ نکال دے گا۔ اس سے حضرت حلال نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے بے شک دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شاق گزرا ہے، اس وجہ سے جو میں لے کر آیا ہوں اللہ کی قسم جانتا ہوں میں سچا ہوں ۔ اللہ کی قسم! بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور ان پر سزا کا حکم لگانے والے تھے‘ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی آنا شروع ہو گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے معلوم کر لیا جاتا تھا کہ وہ اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدل جاتا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رُک گئے یہاں تک کہ وحی آنا ختم ہو گئی۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: ’’وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس گواہ نہیں ہوتے مگر اپنے آپ ہی‘‘ (النور :6 ) فرمایا: خوشخبری ہو اے ہلال، بے شک اللہ عزوجل نے تیرے لیے گنجائش اور راستہ نکال دیا ہے۔حضرت ہلال کہتے ہیں بے شک مجھے اپنے رب کی ذات پر امید تھی ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی بیوی کو بلواؤ، پس اس کو بلوایا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی ، اس کو وعظ ونصیحت فرمائی کہ آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے ۔حضرت ہلال نے کہا: اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں اس کے خلاف سچ بولتا ہوں ۔ اس عورت نے کہا: اس نے سچ نہیں بولا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان لعان کرو ۔ حضرت بلال نے کہا، گواہی دے! اس نے چار مرتبہ گواہی دی کہ اللہ کی قسم! میں سچوں میں سے ہوں جب پانچ ، پانچویں دفعہ سہادت آئی تو کہا گیا اے ہلال اللہ سے ڈر بے شک دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے تھوڑا ہے ۔ یہ پانچویں دفعہ شہادت واجب کرنے والی ہے۔ حضرت ہلال نے کہا اللہ کی قسم تم مجھے اس پر عذاب نہیں ہو گا جس طرح کہ مجھے اس پر کوڑے نہیں پڑے۔ انہوں نے پانچو میں دفعہ گواہی دی کہ اللہ کا غضب اس پر اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو ۔ پھر اس عورت سے کہا گیا کہ تو گواہی دے۔ چار مرتبہ اس طرح گواہی دے کہ اللہ کی قسم وہ جھوٹوں میں سے ہے۔ جب پانچویں مرتبہ گواہی دینے لگی تو اس کو کہا گیا اللہ سے ڈر، بے شک دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے تھوڑا ہے، یہ پانچویں مرتبہ تجویز ثابت کرنے والی ہے۔ وہ ایک گھڑی روئی ۔ پھر اللہ کی قسم کھا کر کہا میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی ۔ اس نے پانچویں دفعہ گواہی دی ۔ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ (اس کا خاوند ) بچوں میں سے ہو ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی‘ یہ فیصلہ دیا کہ اس عورت کی اولا دکو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے ۔ جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر تہمت لگائے اس پر حد ہو گی ۔ یہ فیصلہ دیا گیا کہ اس عورت کے لیے نہ گھر ہو گا ۔ نہ نان نفقہ ہو گا۔ اس وجہ سے کہ ان دونوں کے درمیان فرق کیا جا رہا ہے بغیر طلاق اور بغیر وفات کے اور فرمایا اگر اس عورت نے بچہ جنا اس طرح کا سرخ و سفید رنگ کا،ہلکی سیرین والا ، پیلی پنڈلیوں والا‘ وہ ہلال کا ہو گا ۔ اگر گندی رنگت والا ہو‘ گھنگرے بالوں والا ہو‘ موٹی پنڈلیوں والا ، موٹی سرین والا ہو۔ یہ اس آدمی کا ہو گا جس کی طرف اس کو منسوب کیا گیا اس نے ناگند میں رنگ والا موٹی پنڈلیوں والا ۔موٹی سیرین والا بچہ جنا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے اور اس عورت کے درمیان قسم نہ ہوتی تو معاملہ کچھ اور ہوتا ۔ حضرت عکرمہ فرماتے اس کے بعد وہی مصر کا گورنر بنا۔ اس کو باپ کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا تھا ۔

سعد بن عبادة وهو سيد الأنصار أهكذا أنزلت ← لَمَّا نَزَلَتْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2740

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2741

2741 - أخبرنا أبو يعلى حدثنا أبي حدثنا يزيد بن هارون Y بنحوه

حضرت ابو یعلیٰ نے ہمیں خبر دی‘ میرے باپ نے ہمیں حدیث سنائی‘ یزید بن ہارون نے اس جیسی حدیث ہمیں سنائی ۔

يزيد بن هارون بنحوه ← أَبِي ← أَبُو يَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2741

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2742

2742 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير بن عبد الحميد عن فطر عن شرحبيل بن سعد عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما من رجل مسلم يكون له ابنتان فيحسن إليهما ما صحبتاه ـ أو صحبهما ـ إلا أدخلتاه الجنة K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی دو بیٹیاں ہوں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے جب تک اس کے پاس ہوں مگر اللہ ان دونوں کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شرحبيل بن سعد ← فِطْرٍ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2742

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2743

2743 - حدثنا زهير حدثنا عبد الملك بن عمرو حدثنا زهير بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو عن مكرمة عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من وجدتموه يأتي البهيمة فاقتلوه واقتلوها معه ومن وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو جانور سے بدفعلی کرے تو جانور کو اور اسے قتل کر دو‘ جس کو قوم لوط والا کام کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول کو قتل کر دو ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مكرمة ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2743

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2744

2744 - حدثنا زهير حدثنا روح بن عبادة حدثنا ابن جريج قال حدثني زكريا بن عمر أن عطاء أخبره Y أن عبد الله بن عباس دعا الفضل بن عباس يوم عرفه إلى طعام فقال : إني صائم فقال عبد الله : لا تصم فإن النبي صلى الله عليه و سلم قرب إليه حلاب قيه لبن فشرب منه هذا اليوم وإن الناس يستنون بكم

حضرت عطاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے کی دعوت دی ۔ حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں روزہ کی حالت میں ہوں‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آپ روزہ نہ رکھیں‘ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک برتن میں دودھ لایا گیا‘ آپ نے اس دن اسے نوش کیا اور بے شک لوگوں کے لیے یہ طریقہ سنت آپ لوگوں نے بنایا ہے۔

زكريا بن عمر ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2744

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2745

2745 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا الحسن بن موسى حدثنا ابن لهيعة حدثنا يزيد بن أبي حبيب عن عكرمة عن ابن عباس قال Y صليت خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الكسوف فلم أسمع منه فيها حرفا K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے‘ اس میں ایک حرف بھی نہ سنا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2745

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2746

2746 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا حجاج بن محمد قال Y قال : ابن جريج { يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم } [ النساء : 59 ] في عبد الله بن حذاقة بن قيس بن عدي بعثه النبي صلى الله عليه و سلم في سرية . أخبرنيه يعلى بن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس K إسناده صحيح

حضرت ابن جریج اس آیت کی: ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں اولی الامر ہو ان کی اطاعت کرو‘‘ کی تفسیر کرتے ہیں کہ یہ حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے‘ وہ اس طرح کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک سریہ میں بھیجا۔ مجھے یعلیٰ بن مسلم نے بتایا کہ انہوں نے سعید بن جبیر سے‘ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ۔

حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2746

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2747

2747 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان عن إبراهيم بن ميسرة عن طاووس يبلغ به Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لم ير للمتحابين مثل النكاح K رجاله ثقات إلا أنه مرسل

حضرت طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نکاح کی طرح محبت کرنے والوں کیلئے کوئی چیز نہیں دیکھی گئی ۔

لم ير للمتحابين مثل النكاح رجاله ثقات إلا أنه مرسل ← النبي صلى الله عليه و سلم ← طاووس يبلغ به ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2747

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2748

2748 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان عن إبراهيم بن ميسرة عن عبيد بن سعد يبلغ به Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أحب فطرتي فليستن بسنتي ومن سنتي النكاح K رجاله ثقات

حضرت عبید بن مصر کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پہنچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو پسند کرے میری فطرت کو وہ میری سنت پر چلے، میری سنت نکاح بھی ہے۔

من أحب فطرتي فليستن بسنتي ومن سنتي النكاح رجاله ثقات ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عبيد بن سعد يبلغ به ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2748

chevron_left Previous
1…124125126…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter