Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2641

2641 - حدثنا محمد بن جامع حدثنا يزيد بن زريع حدثنا روح بن القاسم عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الخير معقود بنواصي الخيل K إسناده ضعيف

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی پر قیامت تک بھلائی ہی بھلائی رہے گی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← محمد بن جامع

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2641

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2642

2642 - حدثنا محم بن جامع العطار حدثنا حماد بن زيد عن زيد عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الخير معقود بنواصي الخيل K إسناده ضعيف

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی پر قیامت تک بھلائی ہی بھلائی رہے گی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← زيد1 ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← محم بن جامع العطار

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2642

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2643

2643 - أخبرنا أبو يعلى حدثنا محمد بن عقبة السدوسي حدثنا علي أبو محمد القرشي حدثنا أبو عبد الرحمن الغنوي عن عبيد الملك بن عمير قال Y رأيت الحسين بن علي أتي به عبيد الله بن زياد ورأيت رأس عبيد الله بن زياد أتي به المختار بن أبي عبيد ورأيت رأس المختار أتي به مصعب بن الزبير ورأيت رأس مصعب أتي به عبد الملك بن مروان .قال أبو يعلى : ما كان لهؤلاء عمل إلا الرؤوس ! ؟ K أثر إسناده ضعيف جدا

حضرت ابوعبدالرحمٰن الغنوی، عبد الملک بن عمیر سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر مبارک دیکھا، اس کو عبداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا تھا اور میں نے عبداللہ بن زیادہ کے سر کو دیکھا وہ مختار بن ابی عبید کے پاس لایا گیا تھا، میں نے مختار کا سر دیکھا اس کو مصعب بن زبیر کے پاس لایا گیا تھا، میں نے مصعب بن زبیر کا سر دیکھا اس کا سر عبدالملک بن مروان کے پاس لایا گیا تھا۔ امام ابو یعلیٰ فرماتے ہیں: ان تمام کا جو انجام ہوا‘ وہ سر ہی لائے گئے تھے۔

أبو يعلى ما كان لهؤلاء عمل إلا الرؤوس أثر إسناده ضعيف جدا ← رأيت رأس مصعب أتي به عبد الملك بن مروان ← رأيت رأس المختار أتي به مصعب بن الزبير ← رأيت رأس عبيد الله بن زياد أتي به المختار بن أبي عبيد ← رأيت الحسين بن علي أتي به عبيد الله بن زياد ← عبيد الملك بن عمير ← أبو عبد الرحمن الغنوي ← علي أبو محمد القرشي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2643

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2644

2644 - أخبرنا أبو يعلى حدثنا محمد بن عقبة حدثنا يحيى بن حماد حدثنا أبو عوانة قال Y صنعت طعاما فدعوت سليمان الأعمش فبلغني عنه أنه قال : إن وضاحا دعانا على عرق عائر ورمان حامض قال : فلقيت رقبة بن مسلقة فشكوته إليه فقال : أكفيك فلقيه فقال : يا أبا محمد دعاك أخ من إخواننا فأكرمك ثم تقول : على عرق عائر ورمان حامض ؟ ! أما والله ما علمتك إلا شرس الطبيعة دائم القطوب سريع الملل مستخفا بحقوق الزور كأنك تسعط الخردل إذا سئلت الحكاية

حضرت امام ابو عوانہ فرماتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا‘ سلیمان الاعمش کی دعوت کی‘ ان کی طرف سے مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ انہوں نے کہا ہے کہ وضاح نے میری دعوت کی ہے جس میں سی عرق اور کھٹے انار پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں: پس میں اس سلسلہ میں عقبہ بن مسقلہ سے ملا اور ان کے سامنے ان کی شکایت کی تو انہوں نے میری طرف سے ان سے بات کرنے کی حامی بھر لی‘ پس انہوں نے ان سے ملاقات کر کے کہا: تیرے مسلمان بھائیوں میں سے ایک بھائی نے تیری دعوت کی اپنی طاقت کے مطابق تیری عزت کی‘ پھر آپ کہتے ہیں کہ انہوں نے سی عرق اور کھٹا انار کھلایا پلایا ہے‘ قسم ہے میں نے تیرے جیسا خراب مزاج، جلدی اُکتا جانے والا اور ملاقات کے حقوق کو پامال کرنے والا نہیں دیکھا۔

أكفيك فلقيه ← فلقيت رقبة بن مسلقة فشكوته إليه ← إن وضاحا دعانا على عرق عائر ورمان حامض ← صنعت طعاما فدعوت سليمان الأعمش فبلغني عنه أنه ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2644

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2645

2645 - حدثنا وهب بن بقية حدثنا حماد بن زيد قال Y لقنت سلمة بن علقمة فحدثني به فرجع عنه ثم قال : إذا أردت أن يكذب صاحبك فلقن K أثر رجاله ثقات

حضرت حماد بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن علقمہ سے ملاقات کی مجھے انہوں نے بیان کیا، وہ اس سے واپس آ گئے، پھر فرمایا: جب تو ارادہ کرے اپنے ساتھی کو جھٹلانے کا ، اس کو تلقین کر ۔

إذا أردت أن يكذب صاحبك فلقن أثر رجاله ثقات ← لقنت سلمة بن علقمة فحدثني به فرجع عنه ثم ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2645

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2646

2646 - حدثنا شعيب بن سلمة بن قاسم الأنصاري من ولد رفاعة بن رافع بن خديج قال : حدثنا أبو مصعب إسماعيل بن قيس بن زيد بن ثابت حدثنا أبو حازم عن سهب بن سعد الساعدي قال Y أستأذن العباس بن عبد المطلب النبي صلى الله عليه و سلم في الهجرة فقال له : يا عم أقم مكانك الذي أنت به فإن الله ـ عز و جل ـ يختم بك الهجرة كما ختم بي النبوة K إسناده ضعيف جدا

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہجرت کی اجازت مانگی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے چچا! اپنی جگہ ٹھہریئے جس جگہ آپ ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے لیے ہجرت ختم کر دے گا ۔ جیسے میرے آنے سے نبوت ختم کر دی گئی۔

سهب بن سعد الساعدي ← أَبُو حَازِمٍ ← أَبُو مُصْعَبٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2646

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2647

2647 - حدثنا يعقوب حدثنا عبد الرحمن بن مهدي قال : سمعت شعبة يقول : Y إن هذا الحديث يصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة وعن صلة الرحم فهل أنتم منتهون ؟ ! K إسناده صحيح إلى شعبة

حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ یہ بات تم کو اللہ کے ذکر سے ، نماز سے اور صلہ رحمی سے روکتی ہے، کیا تم باز آ جاؤ گے؟

الصَّلَاةِ ← اللہُ ← «إِنَّ هَذَا الْحَدِيثَ يَصُدُّكُمْ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2647

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2648

2648 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا بشر قال : أخبرنا عبد الله بن عثمان عن عبيد الله بن أبي مليكة حدثني ذكوان Y أن ابن عباس جاء يستأذن على عائشة وهي في الموت قال : فجئت وعند رأسها عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر فقلت هذا ابن عباس يستأذن عليك ؟ قالت : دعني من ابن عباس فلا حاجة لي به ولا بتزكيته قال : فقال عبد الله : يا أمتاه إن عبد الله بن عباس من صالحي بنيك يريد أن يسلم عليك قالت : فأذن له إن شئت قال : فجاء ابن عباس فعقد فقال : أبشري فو الله ما بينك وبين أن تفارقي كل نصب وتلقي محمدا والأحبة إلا أن تفارق روحك جسدك قالت : أيضا ابن عباس ؟ ! قال : كنت أحب نساء رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا طيبا سقطت قلادتك يوم الأبواء فأصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم في المنزل يلتقطها وأصبح الناس ليس معهم ماء فأنزل الله ـ تبارك وتعالى ـ أن تيمموا صعيدا طيبا فكان ذلك من سببك ما أنزل الله لهذه الأمة من الرخصة ثم أنزل الله براءتك من فوق سبع سماوات فأصبح ليس مسجد من مساجد الله يذكر فيه الله إلا تتلى فيه براءتك آناء الليل وآناء النهار . قالت : دعني منك يا ابن عباس فو الله لوددت أني كنت نسيا منسيا K إسناده صحيح

حضرت ذکوان فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے حضرت اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اجازت چاہی اس بیماری میں جس میں آپ نے وصال فرمایا تھا۔ میں آپ کے پاس آیا اور آپ کے سر کے پاس حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر تھے۔ میں نے عرض کی: یہ ابن عباس ہیں ( آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے ) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:چھوڑ دو مجھے، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالہ سے (یعنی میں بیمار ہوں اور مجھ میں ہمت نہیں ہے ) ۔ مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ان کے پاس ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی ، اے امی جان بے شک عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نیک فرزندوں میں سے ہے، وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کرنا چاہتے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اس کو اجازت دے دوا گر تو چاہتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے ۔اس کے بعد بیٹھ گئے ۔عرض کی: اللہ کی قسم! آپ کو خوشخبری ہو۔ آپ کے درمیان اور ان کے درمیان جو دنیا سے چلے گئے ان سے ملاقات کا اتنا وقت رہ گیا جتنا روح کا جسم سے جدا ہونے کا ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کہا: اے ابن عباس! یہ بھی ہو گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج پاک سے زیادہ محبوب تھیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ہی کو پسند کرتے تھے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ابواء کے دن ہار گر گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی جگہ صبح کہا۔صحابہ کرام نے اس کو تلاش کیا ۔لوگوں نے صبح اس حالت میں کی کہ ان کے پاس پانی تک نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا کہ تم پاک مٹی سے تیمّم کر لو۔ یہ بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سبب ہوا تھا۔ اللہ عزوجل نے رخصت فرمائی اس امت پر۔ پھر اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی برات نازل فرمائی ۔ سات آسمانوں کے اوپر سے کوئی مسجد نہیں ہو گی جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہو مگر وہاں پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر برأت کی آیتیں نازل ہونے والی پڑھی نہ جاتی ہوں دن و رات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اے ابن عباس! مجھے چھوڑ دیں ، اللہ کی قسم! میں چاہتی ہوں کہ میں بھولی بسری ہو جاتی ۔

ذَكْوَانَ، ← عبيد الله بن أبي مليكة ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← بِشْرٌ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2648

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2649

2649 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا هشام بن يوسف حدثني القاسم بن أخي خلاد بن عبد الرحمن عن خلاد بن عبد الرحمن عن سعيد بن المسيب أنه سمع ابن عباس يقول Y بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب الناس يوم الجمعة أتاه رجل من بني ليث بن بكر بن عبد مناة بن كنانة يتخطى الناس حتى أقترب إليه فقال : يا رسول الله : أقم علي الحد فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اجلس فجلس ثم قام الثانية فقال : اجلس ثم قام الثالثة فقال مثل ذلك فقال : وما حدك ؟ قال : أتيت امرأة حراما فقال النبي صلى الله عليه و سلم لرجال من أصحابه فيه علي بن أبي طالب و العباس و زيد بن حارثة و عثمان بن عفان : انطلقوا به فاجلدوه مئة جلدة ولم يكن الليثي تزوج قيل : يا رسول الله : ألا تجلد التي خبثت بها ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ائتوني به مجلودا فلما أتي به قال النبي صلى الله عليه و سلم : من صاحبتك ؟ قال : فلانة ـ امرأة من بني بكر ـ فدعا بها فسألها عن ذلك فقالت : كذب والله ما أعرفه وإني مما قال لبريئة الله على ما أقول من الشاهدين فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من شهد على أنك خبثت بها ؟ فإنها تنكر فإن كان لك شهداء جلدتها حدا وإلا جلدناك حد الفرية فقال : يا رسول الله ما لي شهداء فأمر به فجلد حد الفرية ثمانين جلدة K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کو جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ نبی لیث بن بکر بن عبد مناة بن کنانہ کا ایک آدمی آیا۔لوگوں کی گردنیں پچھلانگتا ہوا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گیا ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! مجھ پر حد قائم کیجیے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا: بیٹھ جا! بیٹھ جا! وہ بیٹھ گیا۔ پھر دوسری مرتبہ کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا ، وہ تیسری مرتبہ کھڑا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا حد چاہتا ہے؟ اس نے عرض کی میں نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا جو وہاں موجود تھے۔ حضرت علی ، حضرت عباس، حضرت زبیر بن حارثہ، عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا: اس کو لے چلو اور اس کو سو کوڑے مارو ۔ اس لیثی نے شادی نہیں کی تھی ۔عرض کی : یا رسول اللہ! کیا اس کو کوڑے ماریں اس کے خبث کی وجہ سے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس کوڑا لاؤ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا ساتھی کون ہے؟ یعنی جس کے ساتھ زنا کیا۔ اس نے عرض کیا: فلانی بنی بکر کی عورت ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلوا کر اس سے اس کے متعلق پوچھا؟ اس عورت نے کہا: یہ جھوٹ بولتا ہے۔ میں اس کو نہیں جانتی ہوں یہ جو کہہ رہا ہے میں اس سے بری ہوں ۔ اللہ کی قسم! میرے پاس گواہ نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو گواہی دے اس پر کہ اس نے زنا کیا ہے؟ یہ عورت تو انکار کر رہی ہے ۔اگر تیرے پاس گواہ نہیں ہے تو میں تم کو چھوڑ دوں اس کو حد لگاتا ہوں ۔ ورنہ حد فریہ لگاتا ہوں۔عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس گواہ نہیں ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حد فریہ لگوائی ۸۰ کوڑے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ ← خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← القاسم بن أخي خلاد بن عبد الرحمن ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2649

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2650

2650 - حدثنا إسحاق حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن إبراهيم بن إسماعيل عن داود بن حصين عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تقتلوا أصحاب الصوامع K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صوامع والے اصحاب کو نہ مارو ۔

لا تقتلوا أصحاب الصوامع إسناده صحيح ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، ← إبراهيم بن إسماعيل ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2650

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2651

2651 - حدثنا إسحاق حدثنا عبد الواحد بن زياد حدثنا خصيف حدثنا مقسم مولى ابن عباس عن ابن عباس قال Y لما نزلت هذه الآية { وما كان لنبي أن يغل } [ آل عمران : 161 ] في قطيفة حمراء فقدت يوم بدر فقال بعض الناس : لعل رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذها فأنزل الله عز و جل { وما كان لنبي أن يغل ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة } [ آل عمران : 161 ]

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن سرخ رنگ کی چادر نہ پائی گئی جو مشرکین سے ملی تھی ۔ لوگوں نے کہا، ہوسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لے لی ہو۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ” کسی نبی (علیہ السلام ) کے لیے مناسب نہیں کہ وہ خیانت کرے جو خیانت کرے گا وہ قیامت کے لیے آئے گا‘‘(آل ِعمران ) ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ← خُصَيْفٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2651

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2652

2652 - حدثنا عبد الله بن عمر حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعب بن سوار عن سلمة بن كهيل عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال Y مرت شاة بين يدي النبي صلى الله عليه و سلم وهو في الصلاة بينه وبين القبلة فلم يقطع صلاته K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بکری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گزری نماز کی حالت میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان سے آپ نے نماز نہیں چھوڑی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← أشعب بن سوار ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2652

chevron_left Previous
1…116117118…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter