Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2557

2557 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني أبي عن ثور بن زيد عن عكرمة Y عن ابن عباس أنه قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم أعرابي فبايعه في المسجد ثم انصرف فقام ففشج فبال فهم الناس به فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تقطعوا على الرجل بوله ثم دعا به فقال : ألست بمسلم ؟ قال : بلى قال : فما حملك على أن بلت في المسجد ؟ فقال : والذي بعثك بالحق ما ظننت إلا أنه صعيد من الصعدات فبلت فيه فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بذنوب من ماء فصب على بوله K إسناده جيد

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسجد میں بیعت کی پھر چلا گیا اور اس کے بعد وہ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو کھولا اور پیشاب کیا ، صحابہ کرام نے اس کو ڈرایا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو پیشاب کرتے ہوئے نہ روکا ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلوا کر فرمایا: کیا تو مسلمان نہیں ہے؟ اس نے عرض کی : کیوں نہیں ۔فرمایا: تو تجھے کس چیز نے ابھارا ہے کہ مسجد میں پیشاب کرے؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں نے خیال کیا کہ یہ کوئی ٹیلا ہے ٹیلوں میں سے، میں نے اس میں پیشاب کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا پانی کے ڈول لانے کا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2557

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2558

2558 - حدثنا زهير حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن إسحاق حدثني محمد بن مسلم الزهري عن طاووس اليماني قال Y قلت لعبد الله بن عباس : زعموا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اغتسلوا يوم الجمعة واغسلوا رؤوسكم إلا أن يكون جنبا ومسوا من الطيب . فقال ابن عباس : أما الطيب فلا أدري وأما الغسل فنعم K إسناده صحيح

حضرت طاؤس یمانی فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : تم خیال کر تے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سر کو دھوؤ ، مگر یہ کہ جنبی ہو اور خوشبو لگاؤ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بہرحال خوشبو میں نہیں جانتاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہو بہرحال غسل کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ۔

قلت لعبد الله بن عباس زعموا ← طَاوُوسٍ الْيَمَانِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2558

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2559

2559 - حدثنا زهير حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا شعبة عن أبي جمرة Y عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي من الليل بعد العشاء ثلاث عشرة ركعة K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات نماز عشاء کے بعد تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2559

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2560

2560 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن الأرقم بن شرحبيل Y عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مات ولم يوص K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ نے کوئی وصیت نہیں کی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الأرقم بن شرحبيل ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2560

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2561

2561 - حدثنا زهير حدثنا القاسم بن مالك المزني عن حنظلة بن عبد الله السدوسي عن شهر بن حوشب Y عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى ركعتين قرأ فيهما بأم الكتاب لم يزد عليها شيئا K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( فرض کی آخری دو رکعتوں کو) پڑھا اور اس میں سورۂ فاتحہ پڑھی‘ اس کے علاوئی کوئی صورت نہیں پڑھی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← حنظلة بن عبد الله السدوسي ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِکٍ الْمُزَنِيُّ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2561

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2562

2562 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي ظبيان قال Y قال ابن عباس أي القراءتين تعدون قراءة الأولى ؟ قالوا : قراءة عبد الله قال : قراءتنا القراءة الأولى وقراءة عبد الله قراءة الأخيرة إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يعرض عليه القرآن كل رمضان عرضة فلما كان العام الذي قبض فيه عرض عليه عرضتان فشهد عبد الله وشهد ما نسخ منه وما بدل K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تم دو قرأتوں میں سے پہلی کس کو شمار کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کی: عبداللہ بن مسعود کی قرأت کو! حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہماری قرأت پہلی قرأت ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی دوسری قرأت ہے‘ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال قرآن کا ایک مرتبہ دور کرتے تھے‘ جس سال آپ کا وصال ہونا تھا اس سال حضرت جبریل نے آپ سے دومرتبہ دور کروایا، حضرت عبداللہ موجود تھے اور حاضر ہوئے جو منسوخ کی گئی تھیں اور جو بدل دی گئی تھیں ۔

قراءتنا القراءة الأولى وقراءة عبد الله قراءة الأخيرة ← قراءة عبد الله ← ابن عباس أي القراءتين تعدون قراءة الأولى ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2562

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2563

2563 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن خازم حدثنا الأعمش عن مسعود بن مالك عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني نصرت بالصبا وإن عادا أهلكت بالدبور K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری صباء ہوا سے مدد کی گئی ہے، قوم عاد کی ہلاکت دبور کے ساتھ کی گئی تھی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مَسْعُودِ بْنِ مَالِکٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2563

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2564

2564 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن خازم أبو معاوية عن حجاج بن أرطأة عن الحكم عن مقسم Y عن ابن عباس قال : أعتق رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الطائف من خرج إليه من عبيد المشركين K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف کے دن جو مشرکین سے غلام نکل کر آئے‘ آپ نے انہیں آزاد کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← حجاج بن أرطاة ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ أَبُو مُعَاوِيَةَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2564

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2565

2565 - حدثنا زهير حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة Y عن ابن عباس قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إني رأيت ظلة تنطف سمنا وعسلا فأخذ الناس منها فبين مستكثر منها وبين مستقل ومن بين ذلك وكأن سببا دلي من السماء فجئت فأخذت به فعلوت فأعلاك الله ثم جاء رجل من بعدك فأخذ به فعلا فأعلاه الله ثم جاء رجل من بعد كما فأخذ به فعلا ثم جاء رجل من بعدكم فأخذ به ثم قطع به ثم وصل له فعلا فأعلاه الله . فقال أبو بكر : يا رسول الله ائذن لي فلأعبرها فأذن له فقال : أما الظلة فالإسلام وأماالسمن والعسل فالقرآن وأما السبب فما أنت عليه تعلو فيعليك الله ثم يكون رجل من بعدك على منهاجك فيعلو فيعليه الله ثم يكون رجل من بعدكما فيأخذ بإخذكما فيعلو فيعليه الله ثم يكون رجل من بعدكم على منهاجكم ثم يقطع به ثم يوصل له فيعلو فيعليه الله قال : أصبت يا رسول الله ؟ قال : أصبت وأخطأت قال : أقسمت يا رسول الله لتخبرني قال : لا تقسم K رجاله ثقات

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ عرض کی : یا رسول اللہ! میں نے ایک بادل کا ٹکڑا دیکھا‘ اس سے گھی اور شہد کی بارش ہوئی ہے‘ لوگوں نے اس سے گھی لینا شروع کیا‘ کچھ لوگوں نے زیادہ لیا کچھ نے کم‘ اس حالت میں کہ میں دیکھ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک رسّی لٹکائی گئی‘ آپ تشریف لائے‘ آپ نے اس کو پکڑا‘ آ پ نے بلند ہونا چاہا تو اللہ اوپر لے گیا‘ پھر آپ کے بعد ایک اور آدمی آیا‘ اس نے بھی پکڑا‘ اس نے او پر جانا چاہا‘ اللہ نے اس کو اوپر کر لیا۔ پھر تیسرا آدمی آیا اور اسے پکڑا تو وہ رسّی ٹوٹ گئی‘ پھر اس کو ملا لیا‘ اس نے اوپر جانا چاہا تو اللہ نے اس کو اوپر کر لیا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر بتاتا ہوں! آپ نے اجازت دی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : جو بادل کا ٹکڑا تھا وہ اسلام تھا‘ جو گھی اور شہد تھا تو وہ قرآن تھا‘ جو رسّی تھی تو وہ آپ تھے‘ آپ نے بلندی چاہی تو اللہ نے آپ کو بلند کیا‘ پھر آپ کے بعد ایک آپ ہی تو اس نے آپ کا طریقہ اختیار کیا‘ اس نے بلندی چاہی تو اللہ نے اس کو بلند کیا‘ پھر اس کے بعد ایک اور آدمی آیا تو اس نے بھی پہلے والے کی طرح اسے پکڑا‘ پھر وہ بھی اسی طریقے پر چلا‘ اس نے بلندی چاہی تو اللہ نے اس کو بلند کیا‘ پھر تیسرا آدمی آیا تو اس نے بھی تمہارے طریقے پر چلنا چاہا تو اس کو کاٹ دیا گیا‘ اس نے بلندی چاہی تو اللہ نے اس کو بلند کر دیا۔ عرض کی : یارسول اللہ! میں نے تعبیر درست بیان کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ درست‘ کچھ غلط ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ! میں قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ مجھے سنائیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم قسم نہ اٹھاؤ!

جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2565

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2566

2566 - حدثنا زهير حدثنا بشر بن السري حدثنا سيف بن سليمان عن عبد الله بن يسار Y عن ابن عباس قال : ما طاف رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء إلا وهو من البيت K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شئی کا طواف نہیں کیا سوائے خانہ کعبہ کے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2566

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2567

2567 - حدثنا زهير حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا أبي حدثنا أيوب عن عبد الصمد بن سعيد بن جبير عن أبيه Y عن ابن عباس قال : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة فرأى اليهود يصومون عاشوراء : فقال : ما هذا اليوم الذي تصومونه ؟ فقالوا : هذا يوم صالح هذا يوم نجى الله فيه بني إسرائيل من عدوهم قال : فصامه موسى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا أحق بموسى منكم فصامه رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمر بصومه K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ شریف تشریف لائے تو دیکھا یہودی عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اس دن کیوں روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے عرض کی : یہ اچھا دن ہے اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا تھا ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام کا تم سے زیادہ حق دار ہوں‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اپنے صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عبد الصمد بن سعيد بن جبير ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2567

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2568

2568 - حدثنا زهير حدثنا عفان بن مسلم حدثنا همام حدثنا الحجاج عن الحكم عن مقسم Y عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم ذبح ثم حلق K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی پھر حلق کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْحَجَّاجِ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2568

chevron_left Previous
1…109110111…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter