مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2557
2557 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني أبي عن ثور بن زيد عن عكرمة Y عن ابن عباس أنه قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم أعرابي فبايعه في المسجد ثم انصرف فقام ففشج فبال فهم الناس به فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تقطعوا على الرجل بوله ثم دعا به فقال : ألست بمسلم ؟ قال : بلى قال : فما حملك على أن بلت في المسجد ؟ فقال : والذي بعثك بالحق ما ظننت إلا أنه صعيد من الصعدات فبلت فيه فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بذنوب من ماء فصب على بوله K إسناده جيد
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسجد میں بیعت کی پھر چلا گیا اور اس کے بعد وہ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو کھولا اور پیشاب کیا ، صحابہ کرام نے اس کو ڈرایا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو پیشاب کرتے ہوئے نہ روکا ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلوا کر فرمایا: کیا تو مسلمان نہیں ہے؟ اس نے عرض کی : کیوں نہیں ۔فرمایا: تو تجھے کس چیز نے ابھارا ہے کہ مسجد میں پیشاب کرے؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں نے خیال کیا کہ یہ کوئی ٹیلا ہے ٹیلوں میں سے، میں نے اس میں پیشاب کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا پانی کے ڈول لانے کا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← زُهَيْرٍ
Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2557
