مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2545
2545 - حدثنا زهير حدثنا شبابة بن سوار حدثنا يونس بن أبي إسحاق عن المنهال بن عمرو عن علي بن عبد الله بن عباس Y عن أبيه قال : قال لي العباس : بت بآل رسول الله صلى الله عليه و سلم واحفظ صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم وتقدم إلى أن لا تنام حتى تحفظ صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فصلى النبي صلى الله عليه و سلم العشاء وخرج من المسجد حتى لم - يبق فيه أحد غيري قال : فنظر إلي النبي صلى الله عليه و سلم فقال : من هذا عبد الله ؟ قال : قلت : نعم قال : مالك ؟ قال : قلت : أمرني العباس أن أبيت بكم الليلة قال : فانطلق إذا قال : افرشها عبد الله قال : فأتيت بوسادة من مسوح حشوها ليف قال : ثم تقدم النبي صلى الله عليه و سلم فصلى ركعتين ليستا بطويلتين ولا قصيرتين ثم أتى فراشه حتى سمعت غطيطه - أو خطيطه - ثم استيقظ فقرأ : { إن في خلق السماوات والأرض واختلاف الليل والنهار } [ آل عمران : 190 ] حتى ختم السورة ثم مسح ثلاثا ثم قام فبال ثم استن بسواكه ثم توضأ ثم قام فصلى ركعتين ليستا بطويلتين ولا قصيرتين ثم عاد إلى فراشه فنام حتى سمعت غطيطه - أو خطيطه - ثم استيقظ ثم استوى على فراشه وفعل كما فعل في المرة الأولى ثم مسح ثلاثا وقرأ الآيات من آخر سورة آل عمران : { إن في خلق السماوات والأرض واختلاف الليل والنهار } [ الآية : 190 ] حتى ختم السورة ثم قام فاستن بسواكه ثم توضأ ثم صلى ركعتين ليستا بطويلتين و لا قصيرتين ثم عاد إلى فراشه فنام حتى سمعت غطيطه - أو خطيطه - ثم استيقظ ففعل كما فعل في المرتين الأوليين فصلى ست ركعات ثم أوتر بثلاث ثم صلى الركعتين قبل الفجر فلما فرغ من صلاته قال : اللهم اجعل لي في بصري نورا وفي سمعي نورا وفي قلبي نورا ومن أمامي نورا ومن خلفي نورا ومن فوقي نورا ومن تحتي نورا وعن يميني نورا وعن يساري نورا واجعل لي يوم القيامة نورا وأعظم لي نورا K إسناده صحيح
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے باپ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم آل ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رات گزارو اور آپ ان کی نماز کو یاد کرو ( کہ کیا پڑھتے ہیں؟ ) جلدی جاؤ کہ کہیں وہ سو نہ جائیں، یہاں تک کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز یاد نہ کر لے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عشاء پڑھائی اور مسجد سے نکلے یہاں تک کہ مسجد میں میرے علاوہ کوئی نہیں تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف نظر کرم فرمائی اور فرمایا: کون؟ عبداللہ ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں!( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام) عبداللہ ۔ فرمایا: کیسے آئے ہو؟ میں نے عرض کی : مجھے میرے باپ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزاروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت ساتھ چلیے ، فرمایا : عبداللہ بستر بچھاؤ۔ میں ایک تکیہ لایا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختصر دو رکعتیں ادا کی ، نہ بہت زیادہ لمبی نہ بہت زیادہ مختصر ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر آئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خراٹے سنے پھر اٹھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: '' بے شک زمین و آسمان کی پیدائش اور دن و رات میں اختلاف ( نشانی ہے) ‘‘ یہاں تک کہ سورۃ ختم ہو گئی ۔ پھر ( مجھ) پر ہاتھ پھیر کر اٹھے ۔ پھر مسواک فرمائی ، پھر وضو کیا پھر قیام کیا دو رکعت نماز پڑھی جو نہ مختصر نہ لمبی ، پھر اپنے بستر پر آئے، آرام کرنے لگے یہاں تک کہ میں نے خراٹے سنے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے ، پھر اپنے بستر پرسید ھے ہو کر لیٹ گئے ، ایسے ہی کیا جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا۔ پھر تین مرتبہ دست شفقت میرے سر پر پھیرا۔ پھر اس کے بعد سورۃ آل ِعمران کی تین آمیتیں تلاوت فرمائیں۔ پھر اٹھے اور مسواک کی ، وضو کیا اور نماز پڑھی دو رکعتیں نہ مختصر نہ لمبی ۔ پھر اپنے بستر پر آئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خراٹے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی دو مرتبہ کی طرح ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھ رکعتیں ادا فرمائی پھر تین رکعتیں وتر پڑھے۔ پھر فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں ۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے یہ دعا کی: ’’اللهم اجعل لی الیٰ آخرہ‘‘۔
أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← زُهَيْرٍ
Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2545
