Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5559

5559 - حدثنا أحمد بن إبراهيم النكري حدثنا مبشر يعني إبن إسماعيل الحلبي عن الأوزاعي عن الزهري عن سالم عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y إذا استأذنت أحدكم امرأته إلى المسجد فلا يمنعها K إسناده صحيح

حضرت سالم اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک سے اس کی بیوی مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو اسے نہ روکے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مبشر يعني إبن إسماعيل الحلبي ← أحمد بن إبراهيم النكري

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5559

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5560

5560 - حدثنا نصر بن علي الجهضمي حدثنا عبد الله يعني إبن داود عن حنظلة بن أبي سفيان عن سالم عن إبن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y من اتخذ كلبا إلا كلبا ضاريا أو كلب ماشية فإنه ينقص من أجره كل يوم قيراطان فقال أبو هريرة : أو كلب زرع قال : وكان أبو هريرة يزرع K إسناده ضعيف والحديث صحيح

حضرت سالم ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کتا رکھا مگر شکاری کتا یا جانوروں کی حفاظت کے لئے، پس اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔ پس حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: یا کھیتی کا کتا۔ فرمایا: حضرت ابو ہریرہ کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← عبد الله يعني إبن داود ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5560

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5561

5561 - حدثنا نصر بن علي أخبرنا إبن داود عن حنظلة عن سالم Y أن ابن عمر طلق امرأته وهي حائض فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يراجعها K إسناده ضعيف

حضرت سالم ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رجوع کرنے کا حکم دیا۔

حَنْظَلَةُ، ← ابن داود ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5561

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5562

5562 - حدثنا محمد بن بشار حدثنا أبو عامر حدثنا كثير بن زيد المدني قال : سمعت سالم بن عبد الله يحدث عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y لا يكون المؤمن لعانا

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← كثير بن زيد المدني ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5562

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5563

5563 - حدثنا منصور بن أبي مزاحم حدثنا أبو أويس عن الزهري أن سالم بن عبد الله حدثه Y أنه سمع رجلا سمع رجلا من أهل الشام يسأل عبد الله بن عمر عن المتمتع بالعمرة إلى الحج فقال عبد الله : هو حلال قال الشامي : فإن أباك قد نهى قال عبد الله : أرأيت إن كان أبي نهى عنها وصنعها رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر أبي تتبع أم أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ ! فقال الشامي : بل أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : قد صنعها رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت سالم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا حج تمتع کے متعلق؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا: وہ جائز ہے۔ اس آدمی نے کہا: آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے باپ تو منع کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:اگر میرا باپ منع کرتا ہے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔ کیا ہم اپنے باپ کے حکم کی اتباع کریں یا رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کے حکم کی؟ آدمی نے کہا: بلکہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کے حکم کی، آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: تو رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نےایسے ہی کیا ہے۔

الزُّهْرِيِّ، ← أَبُو أُوَيْسٍ ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5563

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5564

5564 - حدثنا أحمد بن الدورقي حدثنا إسماعيل بن إبراهيم أخبرنا معمر عن الزهري عن سالم بن عبد الله عن أبيه قال Y رأيت رسول الله صلى عليه وسلم إذا دخل في الصلاة يرفع يديه وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع ولا يفعل ذلك في السجود K إسناده صحيح

حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا:میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو بلند فرماتے اور جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے سراٹھاتے لیکن سجود میں یہ نہیں کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ الدَّوْرَقِيِّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5564

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5565

5565 - حدثنا أحمد بن عيسى المصرى حدثنا عبد الله بن وهب حدثني يونس بن يزيد عن ابن شهاب أن سالم بن عبد الله أخبره أن عبد الله بن عمر قال Y بات رسول صلى الله عليه و سلم بذي الحليفة مبدأه وصلى في مسجدها K إسناده صحيح

حضرت ابن شہاب سے روایت ہے کہ انہیں حضرت سالم نے خبر دی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے مقام پر رات کا ابتدائی حصہ گزارا اور اس کی مسجد میں نماز پڑھی۔

أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5565

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5566

5566 - حدثنا الحسن بن إسماعيل حدثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن سالم عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y إنما يقاؤكم فيما سلف من الأمم كما بين صلاة العصر إلى غروب الشمس فأوتي أهل التوراة التوراة فعملوا إلى نصف النهار ثم عجزوا فأعطوا قيراطا قيراطا وأوتي النصارى الإنجيل فعملوا إلى صلاة العصر ثم عجزوا فأعطوا قيراطا قيراطا فأوتينا القرآن فعملنا من صلاة العصر إلى غروب الشمس فإعطينا قيراطين قيراطين فقالت اليهود و النصارى : يا ربنا إنا كنا نحن أكثر عملا منهم وأعطيتنا قيراطا قيراطا ؟ فقال تبارك وتعالى : هل ظلمتكم من أجوركم شيئا ؟ قالوا : لا قال فهو فضلي أوتيه من أشاء K إسناده صحيح

حضرت سالم ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تمہاری بقاء اس میں ہے جو پہلے امتیں گزری ہیں جیسے عصر اور غروب آفتاب کے درمیان، پس تو رات والوں کو تورات دی گئی تو انہوں نے آدھے دن تک کام کیا پھر عاجز ہوئے تو ان کو ایک ایک قیراط عطا کیا گیا او رعیسائیوں کو انجیل ملی،پس انہوں نے نماز عصر تک کام کیا پھر عاجز آ گئے ، پس انہیں ایک ایک قیراط عطا ہوا، پس ہمیں قرآن ملا، ہم نے عصر کی نماز سےلے کر غروب آفتاب تک کام کیا تو ہمیں دو دو قیراط عطا ہوئے، پس یہود و نصاریٰ نےعرض کی: اے ہمارے رب! ہم نے ان سے زیادہ کام کیا لیکن تو نے ہمیں ایک ایک قیراط عطا کیاِ؟ اللہ تبارک نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے اجر میں کوئی کمی کی ہے؟ انہوں نے عرض کی: نہیں! فرمایا: پس یہ میرا فضل ہے جس کو چاہوں عطا کروں۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← الحسن بن إسماعيل

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5566

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5567

5567 - حدثنا سليمان بن عمر حدثنا محمد بن سلمة عن الوازع عن سالم عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y من أكل من هذا اللحم شيئا فليغسل يده من ريح وضره لا يؤذي من حذاءه K إسناده ضعيف جدا

سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نےاس گوشت سے کوئی چیز کھائی اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھ دھوئے اس کی بو اور نقصان کی وجہ سے تا کہ جو اس کے مقابل ہے اس کو تکلیف نہ دے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الوازع ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← سليمان بن عمر

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5567

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5568

5568 - حدثنا بشر بن الوليد الكندي حدثنا أبو عقيل يعني يحيى بن المتوكل أخبرنا القاسم بن عبيد الله عن سالم عن أبيه عبد الله بن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y لا تأكلوا بشمالكم ولا تشربوا بها فإن الشيطان يأكل بها ويشرب بها K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ پیئے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور پیتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← سَالِمٍ ← الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← أبو عقيل يعني يحيى بن المتوكل ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5568

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2543

2543 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن يوسف بن مهران Y عن ابن عباس قال : جاءنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فسقيناه من هذا النبيذ - يعني نبيذ السقاية - فشرب ثم قال : أحسنتم هكذا فاصنعوا K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشکیزہ سے نبیذ پیش کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمائی ۔ فرمایا : تم نے اچھا کیا، اسی طرح کیا کرو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2543

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2544

2544 - حدثنا أبو يعلى حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن يوسف بن مهران Y عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما أحد من ولد آدم إلا قد أخطأ أو هم بخطيئة ليس يحيى بن زكريا وما ينبغي لأحد أن يقول أنا خير من يونس بن متى K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولاد آدم علیہ السلام میں ایسا کوئی نہیں جس نے غلطی یا غلطی کا ارادہ نہ کیا ہو مگر حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام نے کوئی غلطی نہیں کی‘ کسی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو يَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2544

chevron_left Previous
1…107108109…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter