Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5547

5547 - حدثنا إسحاق حدثنا عبد العزيز بن محمد حدثنا معمر عن الزهري عن سالم عن أبيه قال Y لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم في صلاة الصبح فلانا وفلانا : ناسا من المنافقين فأنزل الله تعالى : { ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون } K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں فلاں فلاں آدمی پر لعنت فرمائی۔ منافقوں میں سے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:"لیس لک من الامر الیٰ آخرہ"

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5547

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5548

5548 - حدثنا إسحاق حدثنا عبد العزيز بن محمد عن موسى عن سالم عن أبيه قال Y كان يمين رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ومقلب القلوب K إسناده صحيح

حضرت سالم اپنے والد سے راوی ہیں ، فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم یہ تھی: نہیں! قسم ہے دلوں کو پلٹ دینے والے کی!

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← مُوسَى ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5548

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5549

5549 - حدثنا إسحاق حدثنا سفيان عن معمر عن الزهري عن سالم عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y الناس كالإبل المئة ليس فيها راحلة K إسناده صحيح

حضرت سالم اپنے والد گرامی سے راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ ایسے سو اونٹوں کی مانند ہیں جن میں کوئی بھی سواری کے قابل نہ ہو۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5549

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5550

5550 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن عاصم عن سالم عن ابن عمر Y أن عمر استأذن النبي صلى الله عليه و سلم في العمرة فأذن له قال : يا أخي أشركنا في صالح دعائك ولا تنسنا K إسناده ضعيف

حضرت سالم سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ پہ جانے کے لئے اجازت طلب کی ، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے کر فرمایا: اے میرے بھائی! اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں شریک رکھنا اور ہمیں کبھی نہ بھولنا۔

سَالِمٍ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5550

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5551

5551 - حدثنا زهير حدثنا الوليد بن مسلم حدثنا الأوزاعي قال : حدثني يحيى بن أبي كثير أن أبا قلابة حدثه عن سالم بن عبد الله عن عبد الله بن عمر قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : تخرج نار من بحر حضرموت ـ أو من حضرموت ـ تسوق الناس فقلنان : يارسول الله فا تأمرنا ؟ قال : عليكم بالشام K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضر موت کے سمندر یا حضر موت سے آگ نکلے گی وہ لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی۔ ہم نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شام چلے جانا۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5551

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5552

5552 - حدثنا يحيى بن أيوب حدثنا إسماعيل بن جعفر أخبرني محمد يعني إبن أبي حرملة عن سالم بن عبد الله عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y من اقتنى كلبا إلا كلب ماشية أو كلب صيد نقص من عمله كل يوم قيراط قال عبد الله وقال أبو هريرة : أو كلب حرث K إسناده صحيح

حضرت سالم بن حضرت عبداللہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کتا پالا مگر جانوروں کی حفاظت والا یا شکار کا کتا تو اس کے عمل کے اجر سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا۔ حضرت عبداللہ کا قول ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے "یا کھیتی کا کتا" بھی فرمایا۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← محمد يعني إبن أبي حرملة ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5552

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5553

5553 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا شبابة بن سوار و يزيد بن هارون قالا : حدثنا إبن أبي ذئب عن الحارث بن عبد الرحمن عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ليأمرنا بالتخفيف وإن كان ليؤمنا في الفجر بـ الصافات K إسناده جيد

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم ہمیں تخفیف کا حکم فرماتے تھے، اگرچہ آپ ہمیں نماز پڑھاتے تو فجر کی نماز میں سورہ صافات تلاوت فرماتے تھے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← شبابة بن سوار و يزيد بن هارون ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5553

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5554

5554 - حدثني الفضل بن الصباح حدثني معن بن عيسى حدثنا خالد بن أبي بكر بن عبيد الله بن عمر عن سالم بن عبد الله عن أبيه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : باب أمتي الذي تدخل منه الجنة عرضه مسيرة الراكب المجود المجود ـ ثلاثا ! إنهم ليضغطون عليه حتى تكاد مناكبهم تزول

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا وہ دروازہ جس سے وہ جنت میں داخل ہوں گے، اس کی چوڑائی عمدہ سے عمدہ سواری کی تین دن کی مسافت ہے، کیونکہ دروازے پر ان کی ایسی بھیڑ ہو گی حتیٰ کہ قریب ہے کہ ان کے کندھے ٹوٹنے لگیں۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← خالد بن أبي بكر بن عبيد الله بن عمر ← مَعْن بن عيسی ← الفضل بن الصباح

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5554

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5555

5555 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا الوليد بن محمد عن الزهري قال : حدثني سالم بن عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يسبح وهو على ظهر الدابة حيث كان وجهه قال أبو يعلى : يعني يصلي K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تسبیح کر لیتے تھے جس طرف بھی اس کا منہ ہوتا۔ امام ابو یعلیٰ فرماتے ہیں: یعنی تسبیح سے مراد ہے کہ نماز پڑھتے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الوليد بن محمد ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5555

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5556

5556 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا يزيد بن زريع حدثنا عمر بن محمد عن عبد الله بن يسار عن سالم بن عبد الله عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y ثلاثة لا يدخلون الجنة وثلاثة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة : العاق لوالديه والديوث والمرأ المترجلة وثلاثة لا ينظر إليهم بوم القيامة ـ فثنى العاق لوالديه ـ ومدمن الخمر والمنان بما أعطى K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہو ں گے اورتین آدمیوں پر اللہ نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے: اپنے والدین کا نافرمان، دیوث،(دوسروں کے لئے) بناؤ سنگھار کرنے والی عورت ، جن تین پر رحمت نہیں کرے گا: اپنے والدین کا نافرمان، عادی شراب پینے والا، دے کر احسان جتلانے والا۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5556

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5557

5557 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الصمد حدثنا همام حدثنا مطر عن سالم عن أبيه قال Y سافرت مع النبي صلى الله عليه و سلم ومع عمر فكانا لا يزيدان على ركعتين وكنا ضلالا فهدانا الله فبه نقتدي K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کے ساتھ میں نے سفر کیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ بھی کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفرمیں دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ ہم گمراہ تھے، اللہ نے ہم کو ہدایت دی اس کے ساتھ اس لیے ہم ان کی اقتداء کرتے ہیں۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← مَطَرٍ، ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5557

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5558

5558 - حدثنا الحسن بن حماد الكوفي حدثنا أبو أسامة عن عمر بن حمزة قال : سمعت عكرمة يقول Y كلتا يدي الله يمينان فيطوي السماوات فيأخذهن بيده ثم يقول : أنا الملك أين الجبارون ؟ أين المتكبرون ؟ قال : ثم يأخذ الأرضين بيده الأخرى ويقول : أنا الملك أين الجبارون ؟ أين المتكبرون ؟ قال عمر : فحدثت بهذا الحديث سالم بن عبد الله فقال سالم : أخبرنا عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يطوى الله السماوات يوم القيامة ثم يأخذهن بيده اليمنى ثم يقول : أنا الملك أين الجبارون ؟ أين المتكبرون ؟ ثم يطوي الأرضين ثم يأخذهن بشماله ثم يقول : أنا الملك أين الجبارون ؟ أين المتكبرون ؟ K أخرجه مسلم

حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے دونوں دست قدرت (جو اس کی شان کے لائق ہیں) دائیں ہیں، وہ زمین کو لپیٹتا ہے۔ اس کو اپنے دست مبارک سے پکڑتا ہے، پھر فرماتا ہے: میں بادشا ہ ہوں، کہاں ہیں جبر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟ پھر زمینوں کو پکڑتا ہے اپنے دوسرے دست قدرت سے اور فرماتا ہے، کہاں ہیں جبار؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟ حضرت عمر بن حمزہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت سالم بن عبداللہ کو بیان کی۔ حضرت عالم نے فرمایا کہ ہم کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ دے گا پھران کو اپنے دائیں دس قدرت کے ساتھ پکڑ لے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں ، کہاں ہیں جبار اور تکبر کرنے والے؟ پھر زمینوں کو لپیٹ دے گااپنے بائیں دس قدرت کے ساتھ اور فرمائے گا کہاں ہیں جبار اور تکبر کرنے والے؟

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عمر فحدثت بهذا الحديث سالم بن عبد الله فقال سالم ← الملك أين الجبارون أين المتكبرون ← ثم يأخذ الأرضين بيده الأخرى ويقول ← الملك أين الجبارون أين المتكبرون ← كلتا يدي الله يمينان فيطوي السماوات فيأخذهن بيده ثم ← عِكْرِمَةَ، ← عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الحسن بن حماد الكوفي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5558

chevron_left Previous
1…106107108…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter