Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5499

5499 - حدثنا أو خثيمة حدثنا إسمعيل بن أبي أويس حدثني مالك عن ابن شهاب عن سالم عن ابيه عبد الله بن عمر Y أن روس الله - صلى الله عليه و سلم - كان إذا رفع رأسه من الركوع رفع يديه وقال : سمع اللخ لمن حمده ربنا ولك الحمد K إسناده صحيح

حضرت سالم اپنے والد گرامی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سےسر اٹھاتے تو دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے اور زبان سے کہتے : اللہ نےاپنی حمد کرنے والے کی حمد کو سنا: اے ہمارے رب! اور تیرے لئے حمد ہے۔

سَالِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← أو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5499

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5500

5500 - حدثنا عبد الله بن محمد بن أسماء حدثنا جويرية عن نافع أن عبيد الله بن عبد الله بن سالم بن عبد الله أخبراه أنهما كلما عبد الله ليالي نزل الجيش بابن الزبير قبل أن يقتل فقالا : لا يضرك أن لا تحج العام إنا نخاف أن يحال بينك وبين البيت . Y فقال : قد خرجنا مع رسول الله - صلى الله عليه و سلم - فحال كفار قريش دون البيت فنحر رسول الله - صلى الله عليه و سلم - هديه وحلق رأسه واشهدم أني قد أوجبت عمرة إن شاء الله أنطلق فإن خلي بيني وبين البيت طفت وإن حيل بيني وبينه فعلت كما فعل رسول الله - صلى الله عليه و سلم - وانا معه فأهل بالعمرة بذي الحليفة ثم سار ساعة فقال : إنما شأنهما واحد وأشهدكم أني قد أوجبت حجة مع عمرتي فلم يحل منهما حتى أحل يوم النحر وكان يقول من سمع الحج والعمرة فأهل بهما فإنه لا يحل حتىيحل منهما جميعا يوم النحر فيطوف النحر فيطوف عنهاما طوافا واحدا بالبيت وبالصفا والمروة يوم يدخل مكة K إسناده صحيح

حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمراور حضرت سالم بن عبداللہ دونوں نے انہیں خبر دی کہ ان دونوں نے حضرت عبداللہ سے بات کی ان راتوں میں جب ابن زبیر کے ہاں لشکر اترا، ان کے شہید ہونے سے پہلے تو ان دونوں نے کہا: آپ کو یہ بات نقصان نہیں دے گی کہ اس سال آپ حج نہ کریں ، ہمیں ڈر ہے کہ آپ کے اور بیت اللہ شریف کے درمیان کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو آپ نے فرمایا: تحقیق ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے تو قریش قبیلہ کے کافر بیت اللہ شریف کے سامنے رکاوٹ بن گئے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قربای کے جانورکو نحر کیا اور اپنے سر کا حلق کروایا اور میں تم لوگوں کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے (اپنے اوپر) عمرہ واجب کر لیا، اگر اللہ نے چاہا تو میں جاؤں گا ، پس اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان راستہ خالی ہوا تو طواف کروں گا اور میرے بیت اللہ شریف کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی تو میں ایسے ہی کروں گا جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا اور (اس وقت ) میں ساتھ تھا، پس آپ نے ذوالحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا، پھر ایک گھڑی چلے تو فرمایا: ان دونوں (حج و عمرہ) کے احکام تو ایک جیسے ہیں اور میں تمہیں اس بات کا گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کو واجب کیا، پس آپ نے ان دونوں کا احرام نہ کھولا حتیٰ کہ آپ نے دسویں کے سن کھولا اور فرما رہے تھے : جس نے حج وعمرہ کو جمع کیا پس وہ دونوں کا احرام باندھے کیونکہ وہ احرام نہیں کھول سکتا ہے حتیٰ کہ قربانی والے دن دونوں سے اکٹھے احرام کھولے، پس سو دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف کر لے، بیت اللہ شریف اور صفا و مروہ کی ایک ہی سعی کر لے جس دن وہ مکہ داخل ہو۔

نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5500

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5501

5501 - حدثنا عبد الله بن عبد الصمد أو صالح بن عبد الصمد أخوه حدثنا قاسم عن سفيان عن عاصم عن سالم عن ابن عمر Y قال : جاء عمر الى رسول الله - صلى الله عليه و سلم - يستأذن في العمرة فقال : يأ أخي أدع ولا تنسنا في صالح الدعاء K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے ، عرض کی عمرہ کی اجازت حاصل کرنے آیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے بھائی! میرے لئے دعا کرنا اپنی نیک دعا میں ہمیں نہ بھولنا۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← قاسم ← عبد الله بن عبد الصمد أو صالح بن عبد الصمد أخوه

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5501

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5502

5502 - حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري حدثنا أصرم ين حوشب عن زياد بن سعد عن الزهري عن سالم عن أبيه قال Y قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم - : إذا كان الفيء ذراعا ونصفا إلى ذراعين فصلوا الظهر K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سایہ ایک ہاتھ اور نصف ہاتھ ہو جائے دو ہاتھوں تک تم ظہر کی نماز پڑھو۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← أصرم ين حوشب ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5502

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5503

5503 - حدثنا وهب بن بقية الواسطي حدثنا خالد عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن سالم عن ابن عمر Y أن النبي - صلى الله عليه و سلم - استشار المسلمين فيما يجمعهم على الصلاة فقالوا : البوق فكرهه من أج اليهود ثم ذكر الناقوس فكرهه من أجل الناصاري فأري تلك الليلة النداء رجل من الأنصار يقال له عبد الله بن زيد و عمر بن الخطاب فطرقه الأنصاري فأمر بني الله - صلى الله عليه و سلم - بلالا فأذن به K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے نماز کی اطلاع کے لئے مشورہ کیا ؟ عرض کی: بوق۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند کیا یہ یہود کرتے ہیں، پھر ناقوس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بھی نا پسند کیا ، نصاریٰ کے فعل کی وجہ سے، انصار کے ایک آدمی کو اذان کا طریقہ سکھایا گیا، ان کو عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کہا جاتا ہے اور عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی سکھایا گیا، انصاری نے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کے حکم دیا اذان دینے کا۔حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کا اضافہ کیا ، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے برقرار رکھا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: مجھے وہی دکھایا گیا تھا جو اس نے دیکھا ہے لیکن وہ مجھ سے سبقت لے گئے ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5503

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5504

5504 - قال الزهري : وزاد بلال في نداء الصلاة الفجر : الصلاة خير من النوم . Y فأقرها نبي الله - صلى الله عليه و سلم - وقال عمر : ام إي قد رأيت مثل الذي رأى ولكنه سبقني

عمر ام إي قد رأيت مثل الذي رأى ولكنه سبقني

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5504

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5505

5505 - حدثنا وهب بن بقية أخبرنا خالد عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن سالم . عن ابن عمر قال Y قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم - : من فاتته العصر فكأنما وتر أهله وماله K إسناده صحيح

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوئی، گویا کہ اس کے سارے گھر والے اور سارا مال برباد ہوا۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5505

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5506

5506 - حدثنا وهب أخبرنا خالد عن ليث عن نافع عن ابن عمر قال Y قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم - : ومن فاتته العصر K إسناده ضعيف

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : جس بندے کی عصر نماز قضا ہوئی گویا اس کے گھر والے اور مال ہلاک ہوا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← لَيْثٌ، ← خَالِدٌ، ← وَھْبٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5506

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5507

5507 - حدثنا نعيم بن هيصم حدثنا عبد الواحد ابن زياد عن الحجاج بن أرطأة حدثني أبو مطر أن سمع سالم بن عبد الله بن عمر يحدث عن أبيه قال Y كان رسول الله - صلى الله عليه و سلم - إذا سمع الرعد والصواعق قال : اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعاقنا لذلك K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گرج و کڑک ی آواز سنتے تو یوں دعا کرتے : اے اللہ! اپنے غضب سے ہمیں قتل نہ کرنا ، ہمیں اپنےعذاب کے ساتھ ہلاک نہ کرنا اور اس سے پہلے ہمیں عافیت عطا کر نا۔

اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعاقنا لذلك إسناده ضعيف ← الرعد والصواعق ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← أبو مطر أن ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← عبد الواحد ابن زياد ← نعيم بن هيصم

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5507

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5508

5508 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد النرسي حدثنا وهيب عن معمر عن الزهري عن سالم بن عبد الله عن أبيه Y عن النبي - صلى الله عليه و سلم - قال : من باع له مال فإن ماله للبائع إلا أن يشترط المتبتع ومن باع نخلا قد أبرت فإن مرها للبائع إلا أن يشترط المتباع K إسناده صحيح

حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال تھا تو مال بائع کے ہے مگر خریدار شرط لگا لے اور جس نے کھجور کے درخت بیچے، اس کے درست ہونے کے بعد تو اس کا پھل بائع کا ہے، مگر یہ کہ خریدار اس کی شرط لگا لے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← وُهَيْبٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5508

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5509

5509 - عثمان بن ابي شيبة حدثنا طلحة يعين ابن يحيى عن يونس عن ابن شهاب عن سالم عن أبيه قال Y قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم - : لا ترفعوا أبصاركم غلى السماء أن يلتمع K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (نماز کے دوران) اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف نہ اٹھاؤ ایسا نہ ہو کہ نظریں اچک لی جائیں۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← طلحة يعين ابن يحيى ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5509

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5510

5510 - حدثنا عبد الله بن نمير الكوفي حدثنا إسحاق با سليمان عن حنظلة قال : سمعت سالما يقول : سمعت ابن عمر يقول Y سمعت رسول الله - صلى الله عليه و سلم - يقول إذا أستاذنكم نساؤكم غلى المساجد فأذنوا لهن K إسناده صحيح

حضرت حنظلہ فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت سالم کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جب تمہاری بیویاں تم سے مسجدوں میں جانے کے لئے اجازت طلب کریں توا نہیں اجازت دے دو۔

إذا أستاذنكم نساؤكم غلى المساجد فأذنوا لهن إسناده صحيح ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمًا ← حَنْظَلَةُ، ← إسحاق با سليمان ← عبد الله بن نمير الكوفي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5510

chevron_left Previous
1…102103104…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter