Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5379

5379 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا أحمد بن يونس حدثنا أبو بكر بن عياش عن الحسن بن عمرو الفقمي عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد عن أبيه عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذيء K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی شان کے خلاف ہے لعن طعن کرنا ، فحش باتیں اورفضول کام کرنا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ← الحسن بن عمرو الفقمي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5379

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5380

5380 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا أبو الجواب الضبي حدثنا عمار بن رزيق عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم Y أنه كان يتعوذ من الشيطان الرجيم : من همزه ونفثه ونفخه قال : همزه : الموتة ونفثه : السحر ونفخه : الكبر K رجاله ثقات

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطان مردود سے پناہ مانگتے تھے ان الفاظ کے ساتھ "ھمزہ، نفشہ،نفخہ"۔ فرمایا: ھمزہ سے مراد موت نفشہ سے مراد جادہ اور نفخہ سے مراد تکبر ہے۔

همزه الموتة ونفثه السحر ونفخه الكبر رجاله ثقات ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أبو الجواب الضبي ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5380

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5381

5381 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا أيوب عن حميد بن هلال عن أبي قتادة عن أسير بن جابر قال Y هاجت ريح سوداء بالكوفة فجاء رجل ليس له هجيرى إلا أبا عبد الله بن مسعود ! جاءت الساعة وكان متكئا فجلس فقال : إن الساعة لا تقوم حتى لا يقسم ميراث ولا يفرح بغنيمة وقال : عدو يجتمعون لأهل الإسلام ويجمع لهم أهل الإسلام ـ ونحى بيده إلى الشام ـ قلت : الروم تعني ؟ قال : نعم قال : وتكون عند ذلكم القتال ردة شديدة فيشترط للموت شرطة لا ترجع إلا غالبة فيقتتلون حتى يحجز بينهم الليل فيفيء هؤلاء وهؤلاء كل غير غالب وتفنى الشرطة ثم يشترط المسلمون شرطة للموت لا ترجع إلا غالبة فيقتتلون حتى يمسوا : يحجز بينهم الليل فيفيء هؤلاء وهؤلاء كل غير غالب وتفنى الشرطة حتى إذا كان اليوم الرابع نهض إليهم بقية أهل الإسلام فيجعل الله الدبرة عليهم فيقتلون مقتلة ـ إما قال : لا يرى مثلها أو قال : لم ير مثلها ـ حتى إن الطائر ليمر بجهاتهم ما يخلفهم حتى يخر ميتا فيتعاد بنو الأب كانوا مشة فلا يجدونه بقي منهم إلا الرجل الواحد فبأي غنيمة يفرح أو أي ميراث يقاسم ؟ فبينما هم كذلك إذ سمعوا بناس هم أكثر من ذلك : جاءهم الصريخ أن الدجال قد خلف في ذراريهم فيتركون ما في أيديهم ويقبلون فيبعثون عشرة فوارس طليعة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني لأعرف أسماءهم وأسماء آبائهم وألوان خيولهم وهم خير فوارس على ظهر الأرض يومئذ أو قال : هم من خير فوارس على ظهر الأرض يومئذ K إسناده صحيح

حضرت اسیر بن جابر فرماتے ہیں کہ کوفہ میں کالی آندھی آئی ، پس ایک آدمی آیا جو زیادہ بولنے والا نہ تھا، مگر(کہا:) اے عبداللہ بن مسعود ! قیامت آگئی ہے، اس قبل کہ آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے، اٹھ کر بیٹھ گئے۔ فرمایا: قیامت نہیں آئے گی جن تک ایسا نہ ہو کہ میراث تقسیم نہ کی جائے اور غنیمت ملنے سے خوشی نہ ہو۔ اور فرمایا: دشمن اہل اسلام کے لئے اکٹھے ہوں گے اور اہل اسلام کو بھی اکٹھا کریں گے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ شام کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کہا: روم مراد ہے، فرمایا : جی ہاں! فرمایا: اس وقت لڑائی لڑائی ہو گی ، سخت طرح کی لڑائی ہوگی، پس موت کے لئے شرطہ کو مقرر کیا جائے گا کہ وہ غلبہ پائے بغیر نہیں لوٹیں گے۔ پس وہ لڑتے رہیں گے حتیٰ کہ رات چھا جائے گی، پس یہ بھی باقی رہیں گے اور وہ بھی، کوئی بھی غالب نہ ہوگا، شرطہ ختم ہو جائے گا۔ پھر مسلمان موت کے لئے شرطہ مقرر کریں گے کہ جب تک وہ غالب نہ ہوں گے نہیں لوٹیں گے، پس وہ لڑیں گے حتیٰ کہ شام ہو جائے گی، ان کے درمیان رات چھا جائے گی۔ یہ بھی باقی ہوں گے وہ بھی، کوئی غالب نہیں ہو گا، کی شرط باندھیں گے کہ وہ غالب ہو کر واپس لوٹیں گے، پس لڑائی ہوگی شام تک، پس یہ بھی اور وہ بھی باقی ہوں گے، شرطہ فنا ہو جائے گا حتیٰ کہ جب چوتھا دن ہو گا تو باقی اہل اسلام بھی ان کی طرف اٹھ کھڑے ہوں گے، پس اللہ تعالی ان پر شکست لازم کر دے گا،پس وہ ایسی جنگ کریں گے جیسی نہیں دیکھی جا سکے گی یا نہیں دیکھی گئی ہو گی۔ حتیٰ کہ اگر ان کی جانب سے کوئی پرندہ گزرے گا تو ان کو پیچھے نہیں چھوڑ سکے گا یہاں تک کہ مر کر گر جائے گا، پس ایک باپ کے بیٹے سو تک ہو جائیں گے، پس وہ اس کو نہیں پائیں گے مگر ان میں سے ایک آدمی باقی رہ جائے گا، پس کیسی غنیمت جس پر خوش ہوا جائے گا یا کون سی میراث جس جو تقسیم کیا جائے گا، وہ اسی حال پر ہوں گے، جب وہ کچھ لوگوں کی آواز سنیں گے جو اس سے زیادہ ہوں گے تو اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پاس ایک اعلان کرنے والا آئے گا کہ دجال ان کی اولادوں میں آگیا ہے، پس جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہو گا، وہیں چھوڑ دی گے اور اس طرف متوجہ ہو جائیں گے، پس وہ دن شہسواروں کو بھیجیں گے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان کے نام ، ان کے باپوں کے نام اور ان گھوڑوں کے رنگوں کو بھی جانتا ہوں ، وہ بہترین شہ سوار ہوں گے، روئے زمین پر اس وقت، یا فرمایا: وہ زمیں کی پیٹھ پر اس وقت سب سے بہتر شہسوار ہوں گے۔

أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5381

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5382

5382 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا مروان بن معاوية الفزاري عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال : سمعت عبد الله بن مسعود يقول Y كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس لنا نساء فقلنا : يارسول الله ألا نستخصي ؟ فنهانا عن ذلك وأمرنا أن ننكح المرأة بالثوب ثم قرأ عبد الله : { يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله } K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں تھے۔ ہمارے لئے عورتیں نہیں تھی۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ ہم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا اس سے ہم کو حکم دیا کہ نکاح کرنے کا کسی عورت کے ساتھ، کپڑوں کے بدلے پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ آیت پڑھی: "اے ایمان والو! ان چیزوں کو حرام نہ کرو جن کو اللہ نےحلال کیا"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5382

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5383

5383 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا المسعودي عن سماك بن حرب عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود عن أبيه عبد الله قال Y بينما رجل في مملكته تذكر فعلم أن ما هو فيه منقطع وأنه قد شغله عن عبادة ربه فانساب من قصره ليلا حتى صار إلى مملكة غيره فأتى ساحل البحر فجعل يضرب اللبن فيعيش به ويعبد ربه فبلغ الملك الذي هو في مملكته عبادته وحاله فأرسل إليه فأبى أن يأتيه فلما رأى ذلك ركب إليه فلما رآه العابد هرب منه فتبعه على دابته فقال : يا عبد الله : إنه ليس عليك مني بأس ثم نزل إليه فسأله عن أمره فقال : أنا فلان صاحب مملكة كذا وكذا تذكرت فعلمت أن ما كنت فيه منقطع وأنه قد شغليني عن عبادة ربي قال : فما أنت بأحق بما صنعت مني ثم خلى سبيل دابته وتبعه فكانا يعبدان الله جميعا فسألا الله أن يميتهما جميعا فماتا جميعا فدفنا قال عبد الله : فلو كنت برميلة مصر لأريتكم قبورهما بالنعت الذي نعت لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اسی دوران کہ ایک آدمی اپنی مملکت میں تھا، اس نے نصیحت پکڑی، پس اسے علم ہوا کہ وہ جس حالت میں ہے، وہ ختم ہونے والی ہے اور یہ کہ اس نے اس کو اپنےرب کی عبادت سےغافل کر دیا ہے، وہ رات کے وقت اپنے محل سے کھسک گیا یعنی کسی کو بتائے بغیر نکل گیا حتیٰ کہ وہ کسی دوسری بادشاہی میں چلا گیا۔ پس وہ ساحل سمندر پہ آیا۔ پس اس نے اینٹیں بنانا شروع کر دیں اور اسی سے روزی لگا اور اپنےرب کی عبادت کا آغاز کر دیا۔ پس یہ بات اس مملکت کے بادشاہ کو بھی پہنچ گئی جس میں وہ تھا اور اس کی عبادت و حال کا پتہ چل گیا، اس بادشاہ نے اس کی طرف آدمی بھیجا تو اس نے اس کے پاس آنے سے انکار کردیا، جب اس نے یہ دیکھا تو خود اس کی طرف جانے کیلئے سوار ہوا، پس جب عابد نے اس بادشاہ کو اپنی طرف آیا ہوا دیکھا تو اس سے بھاگ نکلا، پس اس نے اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کا پیچھا کیا۔ اس عرض کی: اے اللہ کے بندے!میری طرف سے تمہیں کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیے۔ پھر وہ اس کے پاس اترا اور اس معاملے کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا تو اس نے بتایا: میں فلاں فلاں بادشاہی کا مالک ہوں ،مجھے نصیحت آ گئی ہے، میں نے جان لیا ہے کہ میری حالت ختم ہونے والی ہے اور اس نے مجھے اپنے رب کی عبادت سے غافل کر دیا ہے۔ اس بادشاہ نے کہا: جو کچھ تو نے کیا، آپ مجھ سے زیادہ اس کے حقدار نہیں ہیں، پھر اپنی سواری کو چھوڑ دیا اور اسی کی پیروی کی ، وہ دونوں اکٹھے اپنے رب کی عبادت کرنے لگے ۔ پس انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہا ان دونوں کو ایک ساتھ موت آئے، پس وہ دونوں اکٹھے فوت ہوئے اور دفن ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اگر میں مصر کے ٹیلہ پر ہوتا تو تمہیں ان دونوں کی قبریں بھی دکھاتا، اسی طریقے سے جیسے ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دکھائیں۔

أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5383

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5384

5384 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا شعبة عن السدي عن مرة عن عبد الله ـ قال شعبة : رفعه وأنا لا أرفعه لك ـ Y في قول الله : { ومن يرد فيه بإلحاد بظلم نذقه من عذاب أليم } قال : لو أن رجلا هم فيه بإلحاد وهو بعد أبين لأذاقه الله تعالى عذابا أليما K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں سے روایت ہے حضرت شعبہ کا قول ہے : انہوں نے رفع کیا لیکن میں تیرے رفع نہیں کروں گا ، اللہ کے اس قول میں : "اور جو اس میں ناحق زیادتی کا ارادہ کرے گا، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے" ۔ فرمایا: اگرا یک آدمی اس میں ناحق زیادتی کا ارادہ کرے جبکہ وہ دور دراز عدن میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی ضرور دردناک عذاب چکھائے گا۔

لا أرفعه لك في قول الله ← شعبة رفعه ← عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← السُّدِّيِّ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5384

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5385

5385 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عزرة بن قيس قال : حدثتني أم الفيض قالت : سمعت ابن مسعود يقول : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y من قال ليلة عرفة هذه العشر كلمات ألف مرة لم يسأل الله شيئا إلا أعطاه إلا قطية رحم أو مأثم : سبحان الذي في السماء عرشه سبحان الذي في الأرض موطئه سبحان الذي في الجنة رحمته سبحان الذي في النار سلطانه سبحان الذي في الجنة رحمته سبحان الذي في القبور قضاؤه سبحان الذي في الهواء روحه سبحان الذي رفع السماء سبحان الذي وضع الأرض سبحان الذي لا نجا منه إلا إليه K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دس کلمات کو ایک ہزار مرتبہ کہا ۔ عرفہ کی رات جو بھی اللہ تعالی سے مانگے گا تو اللہ تعالی اس کو عطا کرے گا۔ مگر رشتہ داری کاٹنے والا ، یا گناہ کرنے والے کو نہیں: "سبحان الذی الیٰ آخرہ" ۔

مَنْ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← حدثتني أم الفيض ← عزرة بن قيس ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5385

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5386

5386 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا أحوص بن جواب حدثنا عمار بن رزيق عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون حدثنا عبد الله ونحن في بيت المال قال : خرج إلينا النبي صلى الله عليه و سلم ونحن بمنى فأسند ظهره إلى قبة حمراء ثم أخذ يحدثنا فقال Y إنه لن يدخل الجنة إلا نفس مسلمة ـ ثلاث مرات ـ ثم قال : أما ترضون أن تكونوا ربع أهل الجنة ؟ قالوا : نعم قال : أما ترضون أن تكونوا ثلث أهل الجنة ؟ قالوا : نعم قال : فوالذي نفسي بيده إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة وسأنبئكم عن ذلك إنما مثل المؤمنين فيمن سواهم مثل الشعرة البيضاء في الثور الأسود أو السوداء في الثور الأبيض K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حدیث بیان کی اس حال میں کہ ہم بیت المال میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، اس حال میں کہ ہم منیٰ میں تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیٹھ ایک سرخ قبہ کے ساتھ لگائی ،پھر ہمیں حدیث سنانے لگے۔ فرمایا: جنت میں صرف اسلام کو دل سے قبول کرنے والی جان ہی داخل ہو گی۔ یہ بات تین بار فرمائی۔ پھر فرمایا: کیا تم خوش نہیں ہو کہ تم تمام جنتیوں کا تیسرا حصہ بنو؟ صحابہ کرام نے عرض کی: جی ہاں! فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! بے شک مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت والوں کا نصف بنو، عنقریب میں تمہیں اس سے آگاہ کروں گا، دوسرے لوگوں میں ایمان والوں کی مثال اس طرح ہو گی جس طرح کالے بیل میں سفید بال یا سفید بیل میں کالے بال ہوتے ہیں۔

عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَحْوَصُ بْنُ جواب ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5386

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5387

5387 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن عبيدة السلماني عن عبد الله Y أنه جاء حبر من اليهود إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إنه إذا كان يوم القيامة جعل الله السماوات على إصبح والأرضين على إصبع والجبال والشجر على إصبع ن والماء والثرى على إصبع والخلائق كلها على إصبع ثم يهزهن ثم يقول : أنا الملك أنا الملك فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ضحك حتى بدت نواجذه تعجبا لما قال تصديقا له ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : { وما قدروا الله حق قدره } إلى قوله { عما يشركون } K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اہل کتاب میں سے حضور کی بارگاہ میں آیا،عرض کی: بے شک اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر اور پہاڑ درخت کو ایک انگلی پر اور پانی اور کیچڑ کو ایک انگلی پر، تمام مخلوق کو ایک انگلی پر، پھر فرمایا: میں بادشاہ ہوں ، میں بادشاہ ہوں۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں پھر اس کی بات تعجب کرنے کی وجہ سے، پھر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی"وماقدروا للہ الیٰ آخرہ" ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5387

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5388

5388 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا حسين بن محمد حدثنا إسرائيل عن الوليد بن أبي هشام عن زيد بن زائد عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأصحابه Y لا يبلغني أحمد من أصحابي شيئا فإني أحب أن أخرج إليكم وأنا سليم الصدر K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا: مجھے میرے صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق کوئی بات نہ پہنچائے میں پسند کرتا ہوں کہ میں تم سے نکلوں اس حالت میں کہ میرا سینہ سلیم (صاف) ہو۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زَيْدِ بْنِ زَائِدٍ ← الوليد بن أبي هشام ← اِسْرَائِیْلُ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5388

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5389

5389 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وكيع حدثنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن إبراهيم عن علقمة و الأسود عن عبد الله قال Y جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني لقيت امرأة في البستان فضممتها إلي فباشرتها وقبلتها وفعلت بها كل شيء غير أني لم أجامعها قال فسكت عنه النبي صلى الله عليه و سلم فنزلت الآية : { إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين } قال فدعاه النبي صلى الله عليه و سلم فقرأها عليه وقال له عمر : يا رسول الله أله خاصة أم للناس كافة ؟ قال : لا بل للناس كافة K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول! بے شک میں ایک عورت سے باغ میں ملا ہوں، پس میں نے اس کو اپنے ساتھ چمٹا لیا، مباشرت کی ، بوسے لیے اور اس کے ساتھ جماع کے علاوہ سب کچھ کیا۔ راوی کا بیان ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے تو یہ آیت نازل ہوئی :"بے شک خالص نیکیاں بے ارادہ کی گئی برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں، یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے" ۔ راوی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلوا کر اس کے سامنے یہ آیت پڑھی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نےعرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا یہ اس کیلئے خاص ہے یا سب لوگوں کے لئے عام حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! بلکہ سب لوگوں کے لئے عام ہے۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← عَبْدُ اللَّهِ ← علقمة و الأسود ← إِبْرَاهِيمَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5389

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5390

5390 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وكيع حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال Y كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم في حرث بالمدينة وهو متكىء على عسيب له فانتهى إلى قوم من اليهود فقال بعضهم : لا تسألوه فسألوه فاتكأ على العسيب كأنه يوحى إليه فقال : { ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا } K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ شریف میں ایک کھیتی میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے گے۔ یہود کی ایک قوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ یہود کی ایک قوم آپ کے پاس آئی ۔ بعض نے ان میں سے کہا: اس سے سوال نہ کرو۔ پس انہوں نے کہا کہ سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسیب پر ٹیک لگائے تھے گویا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا "یسا لونک علی اللزین الیٰ آخرہ " حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کہا تو ان میں سے ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5390

chevron_left Previous
1…929394…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter