Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5092

5092 - حدثنا أبو هشام حدثنا عبيد الله حدثنا إسرائيل عن منصور عن سلمة بن كهيل عن عيسى بن عاصم عن زر عن عبد الله Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الطيرة : الشرك وما منا إلا ولكن الله يذهبه بالتوكل K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بری فال نکالنا شرک ہے ۔ ہم میں سے کوئی بد فال لینے والا نہیں ہوتا مگر اللہ عزوجل اس کو ختم کر دیتا ہے توکل کے ساتھ ۔

الطيرة الشرك وما منا إلا ولكن الله يذهبه بالتوكل إسناده حسن ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أبو هشام

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5092

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5093

5093 - حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأموي حدثنا أبي حدثنا يزيد بن سنان عن زيد بن ابي أنسية عن عاصم بن بهدلة عن زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كأني أنظر إلى موسى بن عمران في هذا الوادي محرما بين قطوانيتين K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینی طور پر موسیٰ بن عمران کو دیکھ رہا ہوں اس وادی میں حالت احرام میں قطوانیتین میں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← زيد بن ابي أنسية ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5093

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5094

5094 - حدثنا وهب بن بقية الواسطي حدثنا خالد عن العلاء بن المسيب عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إنه من كان قبلكم من بني إسرائيل كان إذا عمل العامل منهم بالخطيئة نهاه الناهي تعذيرا عن عبد الله بن مسعود فإذا كان من الغد جالسة وآكله وشاربه كأن لم يره على الخطيئة بالأمس فلما رأى الله ذلك منهم ضرب بقلوب بعضهم على بعض ولعنهم على لسان نبيهم داود و عيسى بن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون والذي نفسي بيده لتأمرون بالمغروف ولتنهون عن المنكر ولتأطرنه على الحق أطرا أو ليضربن الله قلوب بعضكم ببعض ويلعنكم كما لعنهم K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ نبی اسرائیل میں ایک آدمی نے اپنے بھائی کو علانیہ گناہ کرتے دیکھا اس کو سختی سے منع کیا ۔ جب دوسرا دن آیا ( اس نے دیکھا کہ اس کا بھائی گناہ سے باز نہیں آیا) اس نے بھی اس کے ساتھ بیٹھا کھایا اور پیا۔ جب اللہ عزوجل نے یہ معاملہ دیکھا تو ان کے دلوں کو آپس میں ملا دیا۔ ان پر حضرت داؤد و عیسیٰ کی زبان مبارک سے لعنت کی گئی نا فرمانی کی وجہ سے اور حد سے آگے بڑھنے کی وجہ سے تھا ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! تم ضرور نیکی کا حکم دینے کا سلسلہ جاری رکھنا، برائی سے منع کرتے رہنا اور حق پر چلتے رہنا ورنہ اللہ تمہارے دلوں کو ایک دوسرے سے ٹکرادے گا اور جس طرح ان پر لعنت فرمائی تمہارے اوپر بھی لعنت ہوگی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5094

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5095

5095 - حدثنا عبد الله بن عمر القواريري حدثنا يزيد بن زريع حدثنا معتمر عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة بن عبد الله عن عبيدة بن عبد الله عن عبد الله بن مسعود Y أن أناسا أتوا النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : إن صاحبنا اشتكى أفنكويه ؟ قال : فسكت ساعة ثم قال : إن شئتم فاكووه وإن شئتم فارضفوه K إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی ہمارے ساتھی کو زخم لگا ہے ، کیا ہم اسے داغیں؟ آپ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: اگر تم چاہو تو داغ لگاؤ اگر چاہو تو پچھنا لگاؤ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عُبَيْدَةَ بنِ عبدِ اللَّهِ، ← اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُعْتَمِرٌ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5095

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5096

5096 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا سلام بن سليمان أبو المنذر حدثنا عاصم بن بهدلة عن زر عن عبد الله بن مسعود قال : كنت في غنم لآل أبي معيط أرعاها فجاءني النبي صلى الله عليه و سلم ومعه أبو بكر بن أبي قحافة Y فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا غلام هل عندك لبن تسقينا ؟ فقلت : نعم ولكني مؤتمن قال فهل عندك شاة شصوم لم ينز عليها الفحل ؟ قلت نعم فأتيته بشاة شصوم - قال سلام : لم ينز عليها الفحل وهي التي ليس لها ضرع - فمسح النبي صلى الله عليه و سلم مكان الضرع وما بها ضرع [ فإذا ضرع ] حافل مملوء لبنا وأتيته بصخرة منقعرة فاحتلب فسقى أبا بكر وسقاني ثم شرب ثم قال للضرع : اقلص فرجع كما كان . قال : فأنا رأيت هذا بعيني من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله علمني فمسح برأسي وقال : بارك الله فيك فإنك غلام معلم فأسلمت فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فبينما نحن عنده على حراء نزلت عليه سورة المرسلات ن فأخذتها وإن فاه لرطب بها ن فلا أدري باي الآيتين ختمت { وإذا قيل لهم اركعوا لا يركعون } [ المرسلات : 48 ] أو { بأي حديث بعده يؤمنون } [ المرسلات : 50 ] فأخذت من في رسول الله صلى الله عليه و سلم سبعين سورة وأخذت سائر القرىن من أصحابه . قال ك فبينا نحن نيام على حراء ن فما نبهنا إلا قول النبي صلى الله عليه و سلم : منعها منكم الذي منعكم منها ط قالنا : يا رسول الله وما ذاك ؟ قال : حية خرجت من ناحية الجبل K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں غلام تھا عقبہ بن ابی معیط کی بکریوں کو چراتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے غلام ! کیا تیرے پاس دودھ ہے ؟ جو ہمیں پلائے ۔ میں نے عرض کی : جی ہاں۔ لیکن امین ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس وہ بکری ہے جو دودھ دینے والی نہ ہو، اس پر سوار نہ ہوا ہو۔ میں نے کہا : جی ہاں ! میں لے کر آیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ٹانگیں پکڑیں ۔ پھر اس کے ساتھ کی جگہ کو چھونے لگے۔ یہاں تک کہ دودھ اتر آیا۔ میں ایک پتھر کا برتن لے کر آیا اس میں دودھ دوہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اور مجھے پلایا۔ پھر اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا۔ پھر کھیری کو فرمایا، سکڑ جا۔ وہ سکڑ گئی جس طرح پہلی حالت میں تھی۔ فرماتے ہیں : پس میں نے یہ اپنی دونوں آنکھوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دیکھا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مجھے علم عطا کیجئے! پس آپ نے میرےسر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے اندر برکت پیدا فرمائے کیونکیہ تو سکھیا ہو ا بچہ ہے ۔ پس میں نے اسلام قبول کر لیا ۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، اسی دوران کہ ہم حراء کے مقام پر آپ کے پاس تھے، جب سورہ مرسلات نازل ہوئی ۔ پس میں نے اس کو یاد کر لیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر جاری تھی ۔ پس میں اندازہ نہ کرسکا کہ یہ ان دو آیتوں میں سے کس آیت پر ختم ہوئی:" واذاقیل لھم الیٰ آخرہٖ" یا" بای حدیث بعدہ یومنون" پس میں نے ستر سورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے حاصل کیں اور باقی سارا قرآن ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام سے حاصل کیا۔فرماتے ہیں : اسی اثنا ء میں کہ ہم حراء کے مقام پر سوئے ہوئے تھے تو ہم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول نے ہی آگاہ کیا: تم سے اسی ذات نے بچایا ہے جس نے تمہیں اس سے بچایا ہے ۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سانپ تھا جو پہاڑ کے کنارے سے نکلا تھا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← سلام بن سليمان أبو المنذر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5096

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5097

5097 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حددثنا سلام أبو المنذر حدثنا عاصم عن أبي وائل عن عبد الله بن مسعود أن مسيلمة بعث رجلين أحدهما ابن أثال بن حجر Y فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتشهدان أن محمدا رسول الله ؟ قالا : نشهد أن مسيلمة رسول الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : آمنت بالله ورسله ! لو كنت قاتلا وفدا قتلتكما . فبينما ابن مسعود بالكوفة إذ رفع إليه الرجل الذي مع ابن أثال - وهو قريب له - فأمر بقتله فقال للقوم : هل تدرون لم قتلت هذا ؟ قالوا : لا ندري فقال : إن مسيلمة بعث هذا مع ابن أثال بن حجر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتشهدان أن محمدا رسول الله ؟ قالا : نشهد أن مسيلمة رسول الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : آمنت بالله ورسله لو كنت قاتلا وفدا قتلتكما قال : فلذلك قتلته قال أبو وائل : وكان الرجل يومئذ كافرا K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب نے دو آدمی بھیجے ان میں سے ایک اثال بن حجر تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اس نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ( نعوذباللہ)۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں علیہم السلام پر ایمان لایا۔ اگر میں کسی وفد کو قتل کرتاہوتا تو تم کو ضرور قتل کرتا ابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ میں تھے ۔ اچانک ایک آدمی آیا جو اثال کے ساتھ تھا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ قوم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو، میں نے یہ کیوں کہا ہے ؟ انہوں نے عرض کی، ہم نہیں جانتے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسیلمہ نے یہ آدمی ابن اثال بن حجر کے ساتھ بھیجا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کہا تھا کہ تم دونوں گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؟ دونوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے (نعوذ باللہ)۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں علیہم السلام پر ایمان لایا اور اگر میں کسی وفد کو قتل کرتا تو ان دونوں کو ضرور قتل کرتا۔ میں نے اس لیے قتل کیا تھا ۔ ابو وائل فرماتے ہیں کہ وہ آدمی اس دن کافر تھا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← إبراهيم بن الحجاج حددثنا سلام أبو المنذر

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5097

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5098

5098 - حدثنا أبو الربيع حدثنا أبو شهاب عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله قال Y سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الذنب عند الله أكبر ؟ قال : أن تجعل لله ندا وهو خلقك [ قال ] ثم أي ؟ قال : ثم تزانى حليلة جارك قال فأنزل الله تصديقها { والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون } K رجاله رجال الصحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا: اللہ کے ہاں سب سےبڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ کے لیے شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے ۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی پڑوسن سے زنا کرنا۔اللہ عزوجل نے اس کی تصدیق کی، یہ آیت نازل فرمائی : " والذین لا یدعون الیٰ آخرہٖ "۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5098

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5099

5099 - حدثنا أبو الربيع حدثنا أبو شهاب عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أول ما يقضى يوم القيامة بين الناس في الدماء K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کے دن ( حقوق العباد ) میں سب سے پہلے لوگوں کا حساب خون کے متعلق ہوگا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5099

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5100

5100 - وعن الأعمش عن عمارة بن عمير عن الحارث بن سويد حدثنا عبد الله حديثين : أحدهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم والآخر عن نفسه قال Y إن المؤمن يرى ذنوبه كأنه قاعد تحت جبل يخاف أن يقع عليه وإن الفاجر ليرى ذنوبه كذباب مر على أنفه قال له : هكذا . قال : وقال : الله أفرح بتوبة العبد من رجل نزل بدوية مهلكة عليه معه راحلته عليها طعامه وشرابه فوضع رأسه فنام نومة فاستيقظ وقد ذهبت راحلته عليها طعامه وشرابه ن فانطلق في طلبها حتى اشتد عليه العطش أو الجوع - أبو شهاب شك - قال : ارجع إلى مكاني فأموت فيه فرجع إلى مكانه فوضع رأسه فاستيقظ فإذا هو براحلته عنده وعليها طعامه وشرابه K إسناده صحيح وأخرجه البخاري

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دوباتیں بیان کرتے ہیں ۔ ایک اپنی طرف سے اور دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے ۔ اپنی طرف جو ہے وہ یہ ہے کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے کہ جیسے وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے کہ قریب ہے کہ وہ گر جائے اور بڑا انسان ایسے سمجھتا ہے کہ جیسے مکھی اس کے ناک پر بھن بھنا رہی ہے ۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہے وہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل اپنے بندے کو توبہ کرنے سے اتنا خوش ہوتا ہے کہ جس طرح کوئی آدمی اپنی سواری پر سوار ہو وہ جنگل میں جا رہا ہو ۔ اس پر اس کا کھانے اور پینے وغیرہ کا سامان ہو۔ اس نے اپا سر رکھا اور وہ سو گیا۔ وہ جاگا تو سواری بمہ کھانے و پینے کے سامان کے چلی گئی تھی وہ اس کی تلاش میں نکلا ۔ اس کو سخت پیاس یا بھوک لگی ابوشہاب فرماتے ہیں کہ قریب تھا مرنے کے ۔ وہ اپنی جگہ واپس آگیا اس نے اپنا سر رکھا اور سو گیا ۔ پھر جاگا ۔ وہ سواری بمہ کھانے پینے کے سامان کے اس کے پاس تھی ( وہ خوشی میں کہہ رہا تھا اے اللہ تو میرا بندہ ہے میں تیرا رب ہوں)۔

نفسه ← عَبْدُ اللَّهِ حَدِيثَيْنِ أَحَدُهُمَا ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5100

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5101

5101 - حدثنا العباس بن الوليد أبو الفضل حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق الهمداني عن عبد الرحمن بن الأسود عن عبد الله قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكبر في كل رفع ووضع وقيام وقعود و أبو بكر و عمر K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھتے بیٹھتے اللہ اکبر کہتے تھے ۔ حضرت عمرو ابوبکر بھی ایسے ہی کرتے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← العباس بن الوليد أبو الفضل

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5101

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5102

5102 - وعن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسلم عن يمينه وعن شماله : السلام عليكم ورحمة الله والسلام عليم ورحمة الله حتى يرى بياض خديه K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گویا اب بھی ( میری آنکھوں میں وہ منظر ) میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے مبارک کی سفیدی دیکھ رہا ہوں کہ دائیں جانب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرتے تھے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اور بائیں طرف السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

یَّمِیْنِہٖ ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5102

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5103

5103 - حدثنا العباس حدثنا أبو الأحوص حدثنا منصور بن المعتمر عن إبراهيم النخعي عن عبيدة السلماني عن عبد الله بن مسعود قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير أمتي القرن الذين يلوني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يجيء قوم تسبق شهادة أحدهم يمينه ويمينه شهادته . قال ك فقال إبراهيم : كنا ننهى أن نحلف بالعهد والشهادات K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین زمانہ میرا ہے ، اس کے بعد تابعین کا، اس کے بعد تبع تابعین کا، پھر کچھ لوگ آئیں گے ان کی گواہی قسم سے آگے نکل جائے گی اور قسم ان کی گواہی سے ۔ راوی کا بیان ہے : پس ابراہیم نے کہا: ہمیں وعدے اور گواہی کے ساتھ قسم اٹھانے سے منع کیا جاتاتھا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْعَبَّاسُ:

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5103

chevron_left Previous
1…686970…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter