Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1818

1818 - حدثنا أبو بكر حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الذيال بن حرملة الأسدي عن جابر بن عبد الله قال Y اجتمعت قريش للنبي صلى الله عليه و سلم يوما فقالوا : انظروا أعلمكم بالسحر والكهانة والشعر فليأت هذا الرجل الذي قد فرق جماعتنا وشتت أمرنا وعاب ديننا فليكلمه ولينظر ما يرد عليه قالوا : ما نعلم أحدا غير عتبة بن ربيعة . قالوا : أنت يا أبا الوليد فأتاه عتبة فقال : يا محمد أنت خير أم عبد الله ؟ فسكت رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : أنت خير أم عبد المطلب ؟ فسكت رسول الله صلى الله عليه و سلم . قال : فإن كنت تزعم أن هؤلاء خير منك عبدوا الآلهة التي عبت وإن كنت تزعم أنك خير منهم فتكلم حتى نسمع قولك إنا والله ما رأينا سخلة قط أشأم على قومك منك ! فرقت جماعتنا وشتت أمرنا وعبت ديننا ففضحتنا في العرب حتى لقد طار فيهم أن في قريش ساحرا وأن في قريش كاهنا والله ما نتظر إلا مثل صيحة الحبلى بأن يقوم بعضنا إلى بعض بالسيوف حتى نتفانى أيها الرجل إن كان إنما بك الحاجة جمعنا حتى تكون أغنى قريش رجلا وإن كان إنما بك الباءة فاختر أي نساء قريش شئت فنزوجك عشرا ! قال له رسول الله : أفرغت ؟ قال : نعم قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بسم الله الرحمن الرحيم { حم * تنزيل من الرحمن الرحيم } [ فصلت : 1 2 ] حتى بلغ : فإن أعرضوا فقل : { فإن أعرضوا فقل أنذرتكم صاعقة مثل صاعقة عاد وثمود } [ فصلت : 13 ] فقال عتبة : حسبك حسبك ما عندك غير هذا ؟ قال لا فرجع إلى قريش فقالوا : ما وراءك ؟ قال : ما تركت شيئا أرى أنكم تكلمون به إلا كلمته قالوا : هل أجابك ؟ قال : نعم والذي نصبها بنية ما فهمت شيئا مما قال غير أنه قال : { أنذرتكم صاعقة مثل صاعقة عاد وثمود } [ فصلت : 13 ] قالوا ويلك ! يكلمك رجل بالعربية لا تدري ما قال ؟ قال : لا والله ما فهمت شيئا مما قال غير ذكر الصاعقة

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: قریش ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر اکٹھے ہوئے‘ انہوں نے کہا: اپنے میں سے کوئی ایسا آدمی دیکھو جو تم سب سے زیادہ جادو‘ کہانت اور شعر کو جاننے والا ہو‘ پس وہ اس آدمی ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس جائے‘ جس نے ہماری اجتماعیت کوختم کر دیا ہے‘ ہمارے معاملے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے اور ہمارے دین کو معیوب قرار دیا ہے‘ پس وہ اس سے کلام کرے اور عذر کرے‘ یہ کیا جواب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: عتبہ بن ربیعہ کے علاوہ ہم کسی کو ایسا نہیں جانتے‘ انہوں نے کہا ہے: اے ابو الولید ! تو ہی ہے‘ پس وہ آپ کے پاس آیا‘ اس نے کہا: اے محمد ! کیا تو بہتر ہے یا ( آپ کا باپ) عبداللہ؟ آپ خاموش رہے‘ پھر اس نے کہا: آپ بہتر ہیں یا عبدالمطلب ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بھی جواب دینے سے چپ رہے‘ پس اگر آپ گمان کرتے ہیں کہ یہ سارے آپ سے بہتر ہیں تو یہ ان معبودوں کی عبادت کرتے رہے ہیں جن پر عیب لگاتے ہیں‘ پس اگر آپ کا گمان ہے کہ آپ ان سے بہتر ہیں تو پھر بولیں تاکہ ہم بھی آپ کی بات سنیں ۔قسم بخدا! ہم نے کسی پیدا ہونے والے کو نہیں دیکھا ہے جو آپ کی قوم پر آپ سے زیادہ بھاری ہو۔ آپ نے ہماری جمعیت کو تتر بتر کر دیا‘ ہمارے امر کو بکھیر دیا اور ہمارے دین کو عیب لگایا‘ سو آپ نے تو ہمیں پورے عرب میں رسوا کر دیا حتٰی کہ اب ان میں یہ خبر عام ہو گئی ہے کہ قریشیوں میں ایک جادوگر ہے‘ ایک کا ہن ہے۔ قسم بخدا! ہمیں حاملہ عورت کی چیخ کی مقدار انتظار ہے‘تلوار لے کر ہم ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے یہاں تک کہ فنا ہو جائیں گے۔اے صاحب! اگر تو آپ کو کوئی مالی ضرورت ہے تو ہم آپ کو اتنا مال اکٹھا کر کے دیتے ہیں کہ آپ تمام قریش سے زیادہ مالدار بن جائیں گے‘ اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو قریش کی جس عورت کو پسند کریں ہم آپ کی اس سے شادیاں کر دیتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشادفرمایا: کیا تُو نے اپنی بات کر لی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نام سے شروع جو انتہائی مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے‘ حم، رحمان و رحیم کی طرف سے نازل کیا گیا ہے‘ آپ تلاوت آیات کرتے رہے حتٰی کہ اس آیت پر پہنچے: پس اگر وہ اعراض کریں تو فرما دیجئے! میں تمہیں قوم عادو ثمود جیسی کڑک سے ڈراتا ہوں ۔ عتبہ نے کہا: کافی ہے‘ کافی ہے‘ اس کے علاوہ بھی آپ کے پاس کچھ جواب ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں! وہ قریشیوں کی طرف واپس ہو گیا۔ انہوں نے کہا: تیرے پیچھے کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے پیچھے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے‘ جو باتیں تم ان سے کہہ سکتے تھے میں نے کہہ دی ہیں‘ انہوں نے کہا: کیا انہوں نے آپ کو جواب دیا؟ اس نے کہا: جی ہاں! اس ذات کی قسم جس نے بنیاد ڈالی ہے میں صرف ایک بات کے علاوہ کچھ نہیں سمجھا‘ انہوں نے کہا: میں تمہیں عاد و ثمود جیسی کڑک سے ڈراتا ہوں‘ انہوں نے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو ایک آدمی آپ سے عرب میں کلام کرتا ہے اور تو سمجھتا نہیں‘ اس نے کیا کہا۔ اس نے کہا: یہ بات نہیں‘ یہ قسم ہے۔ اس نے جو کہا: صاعقہ کے ذکر کے علاوہ مجھےکوئی چیز سمجھ نہیں آئی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الذيال بن حرملة الأسدي ← الأَجْلَحِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1818

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1819

1819 - حدثنا أبو بكر حدثنا شريك عن الأجلح عن أبي الزبير عن جابر قال Y لما قدم النبي صلى الله عليه و سلم مكة أتي بأبي قحافة ورأسه ولحيته كأنهما ثغامة فقال : غيروا الشيب واجتنبوا السواد K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ شریف تشریف لائے آپ کے پاس ابو قحافہ کو لایا گیا ان کے سر کے بال اور داڑھی شریف کے بال ایسے جیسے بالکل سفید تھے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفیدی کو بدلو اور سیاہی سے بچو‘ یعنی سیاہ خضاب سے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الأَجْلَحِ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1819

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1820

1820 - حدثنا أبو بكر حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ابن عقيل عن جابر Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ناد يا عمر في الناس أنه من مات يعبد الله مخلصا من قلبه أدخله الله الجنى وحرم عليه النار قال : فقال عمر : يا رسول الله أفلا أبشر الناس قال : لا لا يتكلوا K إسناده حسن

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عمر! لوگوں کو آواز دے دو جو اللہ کی عبادت کرتا ہے خلوص دل کے ساتھ اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جہنم اس پر حرام کر دے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو خوشخبری دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :نہیں ! لوگ اس پر بھروسہ نہ کر لیں ۔

جَابِرٍ ← ابْنِ عَقِيلٍ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1820

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1821

1821 - حدثنا أبو بكر حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ابن عقيل عن جابر Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي بكر : متى توتر ؟ قال : من أول الليل بعد العتمة قال لعمر : متى توتر ؟ قال : من آخر الليل قال لأبي بكر : أخذت بالحزم وقال لعمر : أخذت بالقوة K إسناده حسن

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ عرض کی : اوّل رات کو عشاء کے بعد۔ پھر حضرت عمر سے پوچھا: تم کب پڑھتے ہو؟ عرض کی: رات کے آخری حصہ میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: تو نے یقین کو پکڑا‘ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: تو نے قوت کو پکڑا۔

جَابِرٍ ← ابْنِ عَقِيلٍ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1821

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1822

1822 - حدثنا أبو بكر حدثنا يونس بن محمد عن مفضل بن فضالة عن حبيب بن الشهيد عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذ بيد مجذوم فوضعها معه في القصعة فقال : كل بسم الله ثقة بالله وتوكلا عليه K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جذام کی بیماری والے کے ہاتھ کو پکڑا اس کا ہاتھ اپنے ساتھ پیالے میں رکھ‘ اور فرمایا: کھا اللہ کا نام لے کر ، اللہ پر یقین اور اس پر بھروسہ کرتے ہوئےکھاؤ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1822

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1823

1823 - حدثنا أبو بكر حدثنا يونس بن محمد حدثنا عبد الواحد بن زياد حدثنا مجالد بن سعيد حدثني الشعبي عن جابر Y أن امرأتين من هذيل قتلت إحداهما الأخرى ولكل واحدة منهما زوج وولد فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم دية المقتول على عاقلة القاتلة وبرأ زوجها وولدها قال فقال عاقلة المقتول : ميراثها لنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ميراثها لزوجها وولدها قال : وكانت حبلى فقالت عاقلة المقتولة : إنها كانت حبلى وألقت جنينا قال : فخاف عاقلة المقتولة أن يضمنهم قال : فقالوا : يا رسول الله لا شرب ولا أكل ولا صاح فاستهل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أسجع الجاهلية ؟ فقضى في الجنين غرة : عبد أو أمة K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ دو عورتیں قبیلہ ندیل سے تھیں ۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو مارا۔ ان میں سے ہر ایک کا شوہر اور اولاد بھی تھی‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مقتول کی دیت قاتلہ کے ورثاء پر مقرر فرمائی‘ اس عورت کے شوہر اور اس کی اولا دکواس سے بَری قرار دیا۔مقتول کے ورثاء کہنے لگے: اس کی وراثت ہمارے لیے ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کے لیے نہیں‘ اس کی وراثت اس کے شوہر اور اولاد کے لیے ہے‘ وہ عورت حاملہ تھی‘ مقتولہ کے ورثاء کہنے لگے: وہ حاملہ تھی اور اس نے کچا بچہ جن دیا ہے۔ قاتلہ کے ورثاء نے کہا کہ اس کی ضمان بھی لے جائے گی ۔ انہوں نے عرض کی یارسول اللہ! نہ اس نے پیا نہ کھایا‘ نہ چیخ ماری‘ وہ ایسے ہی مر گیا ہے۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا جاہلیت والی باتیں کرتے ہو؟ آپ نے ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنے کی دیت مقرر کی ۔

جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1823

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1824

1824 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان بن عيينة سمع عمر و جابر بن عبد الله قال Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزاة فكسع رجل من المهاجرين رجلا من الأنصار فقال الأنصاري : يا للأنصار فقال المهاجري : يا للمهاجرين فسمع ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما بال دعوى الجاهلية ؟ قيل : يا رسول الله : كسع رجل من المهاجرين من الأنصار فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوها فإنها منتنة K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے‘ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کو کہا‘ انصاری نے کہا: اے انصاری! مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنی تو آپ نے فرمایا: کیا جاہلیت والے دعوے ہیں۔عرض کی گئی: یا رسول اللہ! مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصاری کو کہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو چھوڑو کیونکہ یہ بُرا ہے۔

عمر و جابر بن عبد الله ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1824

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1825

1825 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان بن عيينة سمع عمر و جابر بن عبد الله Y أن النبي صلى الله عليه و سلم باع مدبرا K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدبر غلام کو فروخت کیا ۔

عمر و جابر بن عبد الله ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1825

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1826

1826 - وبه Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحرب خدعة K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے۔

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1826

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1827

1827 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان بن عيينة سمع عمرو عن جابر قال Y كان معاذ يصلي مع النبي صلى الله عليه و سلم ثم يرجع فيؤم قومه فأخر النبي صلى الله عليه و سلم ليلة الصلاة فجاء فقرأ سورة البقرة فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : أفتان يا معاذ ؟ K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے پھر واپس جا کر اپنی قوم کو امامت کرواتے تھے۔ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مؤخر کی ۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے‘ انہوں نے سورۃ بقرہ پڑھنا شروع کی ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا : اے معاذ! کیا آپ لوگوں میں فتنہ ڈالنا چاہتے ہیں؟

جَابِرٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1827

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1828

1828 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان سمع عمر و جابرا قال Y أتاه النبي صلى الله عليه و سلم ـ يعني عبد الله بن أبي ـ بعدما أدخل حفرته فأمر به فأخرج فنفث عليه من ريقه وألبسه قميصه والله أعلم K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لائے ۔ اس کو قبر میں داخل کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اس کو نکالنے کا ، ان کو نکالا گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کفن پر اپنا لعاب لگایا اور اس کو قمیض پہنائی۔ اللہ زیادہ جانتا ہے۔

عمر و جابرا ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1828

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1829

1829 - حدثنا زهير حدثنا سفيان سمع عمرو جابرا قال Y لما أنزل على النبي صلى الله عليه و سلم : { قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم } [ الأنعام : 65 ] قال : أعوذ بوجهك أو من تحت أرجلكم قال : أعوذ بوجهك أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض قال : هاتان أهون ـ أو أيسر ـ K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی:’’اے حبیب! فرما دیں کہ اللہ عزوجل قادر ہے تم پر تمہارے اوپر سے عذاب لانے پر‘‘ (انعام:۶۵ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تیری رضا کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں‘ ’’یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا کے ساتھ’’او يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم باس بعض ‘‘ فرمایا: یہ دونوں ملکی اور آسان بھی ہیں ۔

لما أنزل على النبي صلى الله عليه و سلم ← عمرو جابرا ← سُفْيَانَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1829

chevron_left Previous
1…619620621…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter