مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1818
1818 - حدثنا أبو بكر حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الذيال بن حرملة الأسدي عن جابر بن عبد الله قال Y اجتمعت قريش للنبي صلى الله عليه و سلم يوما فقالوا : انظروا أعلمكم بالسحر والكهانة والشعر فليأت هذا الرجل الذي قد فرق جماعتنا وشتت أمرنا وعاب ديننا فليكلمه ولينظر ما يرد عليه قالوا : ما نعلم أحدا غير عتبة بن ربيعة . قالوا : أنت يا أبا الوليد فأتاه عتبة فقال : يا محمد أنت خير أم عبد الله ؟ فسكت رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : أنت خير أم عبد المطلب ؟ فسكت رسول الله صلى الله عليه و سلم . قال : فإن كنت تزعم أن هؤلاء خير منك عبدوا الآلهة التي عبت وإن كنت تزعم أنك خير منهم فتكلم حتى نسمع قولك إنا والله ما رأينا سخلة قط أشأم على قومك منك ! فرقت جماعتنا وشتت أمرنا وعبت ديننا ففضحتنا في العرب حتى لقد طار فيهم أن في قريش ساحرا وأن في قريش كاهنا والله ما نتظر إلا مثل صيحة الحبلى بأن يقوم بعضنا إلى بعض بالسيوف حتى نتفانى أيها الرجل إن كان إنما بك الحاجة جمعنا حتى تكون أغنى قريش رجلا وإن كان إنما بك الباءة فاختر أي نساء قريش شئت فنزوجك عشرا ! قال له رسول الله : أفرغت ؟ قال : نعم قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بسم الله الرحمن الرحيم { حم * تنزيل من الرحمن الرحيم } [ فصلت : 1 2 ] حتى بلغ : فإن أعرضوا فقل : { فإن أعرضوا فقل أنذرتكم صاعقة مثل صاعقة عاد وثمود } [ فصلت : 13 ] فقال عتبة : حسبك حسبك ما عندك غير هذا ؟ قال لا فرجع إلى قريش فقالوا : ما وراءك ؟ قال : ما تركت شيئا أرى أنكم تكلمون به إلا كلمته قالوا : هل أجابك ؟ قال : نعم والذي نصبها بنية ما فهمت شيئا مما قال غير أنه قال : { أنذرتكم صاعقة مثل صاعقة عاد وثمود } [ فصلت : 13 ] قالوا ويلك ! يكلمك رجل بالعربية لا تدري ما قال ؟ قال : لا والله ما فهمت شيئا مما قال غير ذكر الصاعقة
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: قریش ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر اکٹھے ہوئے‘ انہوں نے کہا: اپنے میں سے کوئی ایسا آدمی دیکھو جو تم سب سے زیادہ جادو‘ کہانت اور شعر کو جاننے والا ہو‘ پس وہ اس آدمی ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس جائے‘ جس نے ہماری اجتماعیت کوختم کر دیا ہے‘ ہمارے معاملے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے اور ہمارے دین کو معیوب قرار دیا ہے‘ پس وہ اس سے کلام کرے اور عذر کرے‘ یہ کیا جواب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: عتبہ بن ربیعہ کے علاوہ ہم کسی کو ایسا نہیں جانتے‘ انہوں نے کہا ہے: اے ابو الولید ! تو ہی ہے‘ پس وہ آپ کے پاس آیا‘ اس نے کہا: اے محمد ! کیا تو بہتر ہے یا ( آپ کا باپ) عبداللہ؟ آپ خاموش رہے‘ پھر اس نے کہا: آپ بہتر ہیں یا عبدالمطلب ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بھی جواب دینے سے چپ رہے‘ پس اگر آپ گمان کرتے ہیں کہ یہ سارے آپ سے بہتر ہیں تو یہ ان معبودوں کی عبادت کرتے رہے ہیں جن پر عیب لگاتے ہیں‘ پس اگر آپ کا گمان ہے کہ آپ ان سے بہتر ہیں تو پھر بولیں تاکہ ہم بھی آپ کی بات سنیں ۔قسم بخدا! ہم نے کسی پیدا ہونے والے کو نہیں دیکھا ہے جو آپ کی قوم پر آپ سے زیادہ بھاری ہو۔ آپ نے ہماری جمعیت کو تتر بتر کر دیا‘ ہمارے امر کو بکھیر دیا اور ہمارے دین کو عیب لگایا‘ سو آپ نے تو ہمیں پورے عرب میں رسوا کر دیا حتٰی کہ اب ان میں یہ خبر عام ہو گئی ہے کہ قریشیوں میں ایک جادوگر ہے‘ ایک کا ہن ہے۔ قسم بخدا! ہمیں حاملہ عورت کی چیخ کی مقدار انتظار ہے‘تلوار لے کر ہم ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے یہاں تک کہ فنا ہو جائیں گے۔اے صاحب! اگر تو آپ کو کوئی مالی ضرورت ہے تو ہم آپ کو اتنا مال اکٹھا کر کے دیتے ہیں کہ آپ تمام قریش سے زیادہ مالدار بن جائیں گے‘ اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو قریش کی جس عورت کو پسند کریں ہم آپ کی اس سے شادیاں کر دیتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشادفرمایا: کیا تُو نے اپنی بات کر لی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نام سے شروع جو انتہائی مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے‘ حم، رحمان و رحیم کی طرف سے نازل کیا گیا ہے‘ آپ تلاوت آیات کرتے رہے حتٰی کہ اس آیت پر پہنچے: پس اگر وہ اعراض کریں تو فرما دیجئے! میں تمہیں قوم عادو ثمود جیسی کڑک سے ڈراتا ہوں ۔ عتبہ نے کہا: کافی ہے‘ کافی ہے‘ اس کے علاوہ بھی آپ کے پاس کچھ جواب ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں! وہ قریشیوں کی طرف واپس ہو گیا۔ انہوں نے کہا: تیرے پیچھے کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے پیچھے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے‘ جو باتیں تم ان سے کہہ سکتے تھے میں نے کہہ دی ہیں‘ انہوں نے کہا: کیا انہوں نے آپ کو جواب دیا؟ اس نے کہا: جی ہاں! اس ذات کی قسم جس نے بنیاد ڈالی ہے میں صرف ایک بات کے علاوہ کچھ نہیں سمجھا‘ انہوں نے کہا: میں تمہیں عاد و ثمود جیسی کڑک سے ڈراتا ہوں‘ انہوں نے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو ایک آدمی آپ سے عرب میں کلام کرتا ہے اور تو سمجھتا نہیں‘ اس نے کیا کہا۔ اس نے کہا: یہ بات نہیں‘ یہ قسم ہے۔ اس نے جو کہا: صاعقہ کے ذکر کے علاوہ مجھےکوئی چیز سمجھ نہیں آئی ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الذيال بن حرملة الأسدي ← الأَجْلَحِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1818
