Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عتبان ‹ مسند عتبان · حديث 1506

1506 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا هاشم بن القاسم حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس عن عتبان بن مالك نحوا منه وزاد فيه Y وأصحابه يتحدثون بينهم ويذكرون ما يلقون من المنافقين ثم أسندوا عظم ذلك إلى مالك بن دخشيم قال : ودوا أنه دعا عليه يحملونه عليه فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر نحوا منه K إسناده صحيح

حضرت عتبان بن مالک سے اسی طرح روایت ہے لیکن اس میں کچھ اضافہ ہے کہ صحابہ کرام آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور ذکر کر رہے تھے جو منافقین کی طرف سے ان کو پہنچتی ہے‘ پھر اس بڑے کام کی نسبت حضرت مالک بن دخشم کی طرف کی‘ انہوں نے چاہا کہ آپ اس کے خلاف دعا کریں وہ اس کے خلاف ہنگامہ کر رہے تھے‘ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کی‘ وہی کہا جو اوپر حدیث میں ذکر ہوا ہے۔

عتبان بن مالك نحوا منه ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هاشم بن القاسم ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Utban › Chapter · Hadith 1506

مسند أبي يعلى · مسند عتبان ‹ مسند عتبان · حديث 1507

1507 - حدثنا أبو حمزة هريم بن عبد الأعلى حدثنا معتمر بن سليمان عن سليمان بن المغيرة حدثنا ثابت عن أنس عن محمود بن الربيع عن عتبان بن مالك قال Y لقيت عتبان بعدذ لك فحدثني بحديث أعجبني فقلت لابني اكتبه فكتبه قال : وقد كان ذهب بصره قال : قلت : يا نبي الله لو أتيتني فصليت عندي في مكان أتخذه مسجدا ؟ قال : فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل يصلي وجعل أصحابه يتحدثون قال : فذكروا ما يلقون من المنافقين من الأذى فحملوا عظم ذلك على مالك بن الدخشيم فكان يعجبهم أن يحملوا النبي صلى الله عليه و سلم فيدعو عليه فيهلك فقالوا : يا نبي الله إن من أمره كذا وكذا قال : فقال نبي الله صلى الله عليه و سلم : أليس يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ؟ قالوا : إنما يقول ذلك بلسانه وليس حقيقة في قلبه قال : فقال نبي الله صلى الله عليه و سلم : لا يشهد أحد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله فيدخله الله النار أو قال : فتطعمه النار أبدا . قال المعتمر : قال : إني سمعته من أنس وما حدث به أحدا K إسناده صحيح

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عتبان سے ملا‘ اس کے بعد انہوں نے مجھے حدیث بیان کی تو مجھے پسند آئی میں نے اپنے بیٹے سے کہا: اس کو لکھو! انہوں نے لکھا: وہ یہ حدیث تھی کہ ان کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اگر آپ میرے پاس آئیں اور میرے مکان میں نماز پڑھیں تو میں اس کو مسجد بنالوں گا۔ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے‘ آپ نماز پڑھنے لگے‘ صحابہ کرام گفتگو کرنے لگے‘ انہوں نے ذکر کیا جو ان کو منافقوں کی طرف سے تکلیف پہنچی تھی‘ انہوں نے اس کی نسبت حضرت مالک بن دخشم کی طرف کی‘ وہ پسند کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے خلاف دعا کریں اور یہ ہلاک ہو جائے ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! یہ اس اس طرح کے کام کرتا ہے‘ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ لا الہ الا اللہ وانّ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی : زبان سے دیتا ہے لیکن دل سے انکار کرتا ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ کوئی آدمی لا الہ الا اللہ انی رسول اللہ کی گواہی دیتا ہو وہ اس کے بعد جہنم میں داخل ہو جائے یا فرمایا: جہنم کی آگ اس کو ہمیشہ کھائے۔معتمر فرماتے ہیں: میرے والد نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس سے سنا اور انہوں نے اسے کسی ایک سے بیان نہیں کیا۔

وقد كان ذهب بصره ← بحديث أعجبني فقلت لابني اكتبه فكتبه ← لقيت عتبان بعدذ لك ← عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو حمزة هريم بن عبد الأعلى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Utban › Chapter · Hadith 1507

مسند أبي يعلى · مسند عمرو بن خارجة ‹ مسند عمرو بن خارجة · حديث 1508

1508 - حدثنا خلف بن هشام حدثنا أبو عوانة عن قتادة عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم عن عمرو بن خارجة قال Y خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على ناقة وأنا تحت جرانها وهي تقصع بجرة ولعابها يسيل بين كتفي فقال : يا أيها الناس إن الله أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث والولد للفراش وللعاهر الحجر ومن ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه رغبة عنهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا K إسناده حسن

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اس حالت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوٹنی پر سوار تھے۔ میں اس کے نیچے کھڑا تھا وہ جگالی کر رہی تھی۔ اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان گر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے لہٰذا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔ بچہ بستر والے کا ہے، زانی کے لیے پتھر ہیں ۔ جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی یا اپنے آقا کے علاوہ کسی اور آقا کی طرف اس سے بے رغبت ہوتے ہوئے اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ۔ اس کے نہ فرض اور نہ نفل دونوں قبول نہ ہوں گے۔

تحت جرانها وهي تقصع بجرة ولعابها يسيل بين كتفي ← خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على ناقة ← عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خلف بن هشام،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ammara Bin Kharja › Chapter · Hadith 1508

مسند أبي يعلى · مسند عمارة بن أوس ‹ مسند عمارة بن أوس · حديث 1509

1509 - حدثنا يحيى بن عبد الحميد حدثنا قيس ابن الربيع عن زياد بن علاقة عن عمارة بن أوس Y وقد كان صلى القبلتين جميعا قال : إني لفي منزلي إذا مناد ينادي على الباب أن النبي صلى الله عليه و سلم قد حول القبلة فأشهد على إمامنا والرجال والنساء والصبيان لقد صلوا إلى هاهنا ـ يعني بيت المقدس ـ وإلى هاهنا ـ يعني الكعبة ـ K إسناده ضعيف

حضرت عمارہ بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کو دو قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ہے‘ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر تھا۔ جب آواز دینے والے نے آواز دی‘ میرے دروازے پر کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ شریف کی جانب منہ پھیر لیا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں اپنے آگے والوں اور مردوں اور عورتوں اور بچوں کو جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے کہ وہ کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں ۔

إني لفي منزلي إذا مناد ينادي على الباب ← عمارة بن أوس وقد كان صلى القبلتين جميعا ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← قيس ابن الربيع ← يحيى بن عبد الحميد

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ammara Bin Aws › Chapter · Hadith 1509

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن الأطول ‹ مسند سعد بن الأطول · حديث 1510

1510 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد حدثنا حماد بن سلمة أخبرنا عبد الملك أبو جعفر عن أبي نضرة عن . سعد بن الأطول Y أن رجلا مات وترك ثلاث مئة درهم وعيالا قال : فأردت أن أنفقها على عياله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن أخاك محبوس بدينه فاقض عنه فقضى عنه فقال يا رسول الله قد قضيت عنه إلا امرأة ادعت دينارين وليس لها بيتنة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اعطها فإنها صادقة

حضرت سعد بن الاطول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی فوت ہوا۔ اس نے تین سو تیرہ درہم بطور وراثت چھوڑے اور بچے۔ میں نے ارادہ کیا کہ میدان کی اولاد پہ خرچ کر دوں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیرا بھائی قرض چھوڑ کر مرا ہے تو اس کی طرف سے قرض ادا کر ۔ عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس کی طرف سے قرض ادا کر دیا ہے ۔ مگر ایک عورت دو دینار کا دعویٰ کرتی ہے اس کے پاس گواہ نہیں ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اس کو دے دو کیونکہ وہ سچی ہے ۔

فأردت أن أنفقها على عياله ← سعد بن الأطول أن رجلا مات وترك ثلاث مئة درهم وعيالا ← أَبِي نَضْرَةَ ← عبد الملك أبو جعفر ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Al-Atoul › Chapter · Hadith 1510

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن الأطول ‹ مسند سعد بن الأطول · حديث 1511

1511 - حدثنا ابن عبد الله بن بدر بن واصل بن عبد الله بن سعد بن الأطول قال : حدثني أبي عبد الله بن بدر ابن واصل بن عبد الله بن سعد بن الأطول حدثني عبد الله بن سعد الأطول Y كان عبد الله بن سعد يخرج إلى أصحابه بتستر يزورهم فيقم يوم دخوله والثاني ويخرج في الثالث فيقولون له : لو أقمت فيقول : سمعت أبي يقول : نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم ـ أو سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عن التناءة فمن أقام ببلد الخراج فقد تنأ فأنا أكره أن أقيم

حضرت سعد بن الاطول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ساتھیوں کی طرف تستر گئے‘ ان کی ملاقات کرنے کے لیے۔آپ جس دن آئے اس دن اور دوسرے دن مقیم ہو گئے ۔ تیسرے دن نکلے انہوں نے آپ سے عرض کی کہ اگر قیام کریں ( تو بہتر ہے) آپ نے فرمایا: میں نے اپنے باپ سے سنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع کیا مقیم ہونے سے جو خراج والی جگہ میں قیام کرے بے شک اس میں مقیم ہونے سے منع کیا ہے ۔ میں ناپسند کرتا ہوں مقیم ہونے کو۔

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Al-Atoul › Chapter · Hadith 1511

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن الأطول ‹ مسند سعد بن الأطول · حديث 1512

1512 - حدثنا ابن عبد الله بن بدر حدثني عباد ابن موسى القرشي عن حماد بن سلمة عن عبد الملك أبي جعفر عن أبي نضرة عن سعد بن الأطول Y أن أباه مات وترك ثلاث مئة درهم وعيالا ودينا فأردت أن أنفق على عياله فقال لي النبي صلى الله عليه و سلم : إن أباك محبوس بدينه فاقض عنه قلت : بأبي أنت وأمي يا رسول الله قد قضيت عنه ما خلا امرأة ادعة دينارين وليس لها بينة قال : اعطها فإنها صادقة فأعطيتها K إسناده حسن

حضرت سعد بن الاطول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ان کے والد فوت ہوئے۔ اس نے تین سو تیرہ درہم بطور وراثت چھوڑے اور بچے اور قرض چھوڑا، میں نے ارادہ کیا کہ یہ ان کی اولاد پر خرچ کر دوں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ قرض کی وجہ سے روک لیا گیا‘ تو اس کی طرف سے قرض ادا کر ۔ عرض کی : یا رسول اللہ! میں نے اس کی طرف سے قرض ادا کر دیا ہے ۔ مگر ایک عورت دو دینار کا دعویٰ کرتی ہے اس کے پاس گواہ نہیں ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اس کو دے دو کیونکہ وہ سچی ہے‘ میں نے اس کو دے دیا۔

أَبِي نَضْرَةَ ← عبد الملك أبي جعفر ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عباد ابن موسى القرشي ← ابن عبد الله بن بدر

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Al-Atoul › Chapter · Hadith 1512

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن الأطول ‹ مسند سعد بن الأطول · حديث 1513

1513 - حدثنا ابن عبد الله حدثني عباد بن موسى عن حماد بن سلمة عن سعيد الجريري عن أبي نضرة Y عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم بمثله K إسناده حسن

ابو نضرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی آدمی سے اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔

رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم بمثله إسناده حسن ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ← ابن عبد الله

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Al-Atoul › Chapter · Hadith 1513

مسند أبي يعلى · أبو مرثد الغنوي ‹ أبو مرثد الغنوي · حديث 1514

1514 - حدثنا العباس بن الوليد النرسي حدثنا عبد الله بن المبارك حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال : سمعت بسر بن عبيد الله وقال مرة : عن بسر بن عبيد الله عن أبي إدريس الخولاني عن واثلة بن الأسقع عن أبي مرثد الغنوي Y قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها K إسناده صحيح

حضرت ابو مرثد الغنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبروں پر نہ بیٹھو نہ اُن کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو ۔

لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها إسناده صحيح ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← بسر بن عبيد الله وقال مرة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Abu Marthad Al-Ghanawi › Chapter · Hadith 1514

مسند أبي يعلى · عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري ‹ عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري · حديث 1515

1515 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد حدثنا فضالة ابن حصين العطار قال : سمعت الخطاب بن سعيد عن سليمان ابن محمد بن إبراهيم الأنصاري عن عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الراسخات في الوحل المطعمات في المحل من باعها فإن ثمنها بمنزلة الرماد على شاهقة هبت له ريح فقذفته K إسناده تالف

حضرت عبدالله بن عبدالرحمٰن الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیچڑ میں گڑی ہوئی اور محل میں کھائی جانے والی چیزوں کو جس نے بیچا تو ان کی قیمت اس راکھ کی مانند ہے‘ جو بلند جگہ پر ہو‘ تھوڑی سی تیز ہوا چلے اور اس کو اٹھا کر کہیں : ( دریا‘ سمندر‘ کس وغیرہ) میں پھینک دے۔

عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري ← سليمان ابن محمد بن إبراهيم الأنصاري ← الخطاب بن سعيد ← فضالة ابن حصين العطار ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Abdullah bin Abdul Rahman Al-Ansari › Chapter · Hadith 1515

مسند أبي يعلى · عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري ‹ عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري · حديث 1516

1516 - حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا جرير بن حازم حدثنا الحسن عن عبد الرحمن بن سمرة قال Y قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا يا عبد الرحمن لا تسأل الإمارة وذكر الحديث K إسناده صحيح

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عبدالرحمٰن ! حکومت کا سوال نہ کرنا‘ اور حدیث ذکر فرمائی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Abdullah bin Abdul Rahman Al-Ansari › Chapter · Hadith 1516

مسند أبي يعلى · المقداد بن عمرو الكندي ‹ المقداد بن عمرو الكندي · حديث 1517

1517 - حدثنا هدبة حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن المقداد بن عمرو الكندي قال Y قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعي رجلان من أصحابي فطلبنا هل يضيفنا أحد فلم يضيفنا أحد فأتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلنا : يا رسول الله أصابنا جوع وجهد وإنا تعرضنا هل يضيفنا أحد ؟ فلم يضفنا أحد فدفع إلينا أربعة أعنز فقال : يا مقداد خذ هذه فاحتلبها فجزئها أربعة أجزاء : جزءا لي وجزءا لك وجزاءا لصاحبيك فكنت أفعل ذلك فلما كان ذات ليلة شربت جزئي وشرب صاحباي جزئيهما وجعلت النبي صلى الله عليه و سلم في القعب وأطبقت عليه فاحتبس النبي صلى الله عليه و سلم فقالت لي نفسي : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد دعاه أهل بيت من المدينة فتعشى معهم ورسول الله صلى الله عليه و سلم لا يحتاج إلى هذا اللبن فلم تزل نفسي تديرني حتى قمت إلى القعب فشربت ما فيه فلما تقار في بطني أخذني ما قدم وما حدث فقالت لي نفسي : يجي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو جائع ظمآن فيرفع القعب فلا يجد فيه شيئا فيدعو عليك فتسجيت كأني نائم وما كان بي نوم فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم تسليمة أسمع اليقظان ولم يوقظ النائم فلما لم ير في القعب شيئا رفع رأسه إلى السماء فقال : اللهم أطعك من أطعمنا واسق من سقانا قال : فاغتنمت دعوة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذت الشفرة وأنا أريد أن أذبح بعض تلك الأعنز فأطعمه فضربت بيدي فوقعت على ضرعها فإذا هي حافل ثم نظرت إليهن جميعا فإذا هن حفل فحلبت في القعب حتى امتلأ ثم أتيته وأنا ابتسم فقال : هيه بعض سوآتك يا مقداد فقلت : يا رسول الله اشرب ثم أخبر فشرب ثم شربت ما بقي ثم أخبرته فقال : يا مقداد هذه بركة كان ينبغي لك أن تعلمني حتى نوقظ صاحبينا فنسقيهما من هذه البركة قال : قلت : يا رسول الله إذا شربت أنت الركة وأنا فما أبالي من أخطأت K إسناده صحيح

حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے دو ساتھی آئے‘ قریب تھا کہ بھوک کی وجہ سے ہماری سماعت اور بصارت چلی جاتی ، پس ہم نے مطالبہ کیا کیا ہمیں کوئی اپنا مہمان بنائے گا؟ ان میں سے کسی نے بطور مہمان ہم کو قبول نہ کیا یہاں تک کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمیں بے حد بھوک لگی ہے‘ ہم نے اپنے آپ کو بطور مہمان پیش کیا؟ ہمیں کسی نے اپنا مہمان نہ بنایا، پس آپ نے ہمیں چار بکریاں دیں‘ فرمایا : اے مقداد! ان کو پکڑ کر ان کا دودھ نکال اس کو چار حصوں میں تقسیم کر‘ ایک حصہ میرے لیے‘ ایک تیرے لیے اور ایک ایک حصہ تیرے دونوں ساتھیوں کے لیے‘ پس میں ایسے ہی کرتا رہا‘ پس جب ایک رات میں نے اپنے حصہ اور میرے دونوں دوستوں نے اپنا اپن حصہ پی لیا‘ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ پیالے میں رکھ کر اوپر سے ڈھک دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آنے میں دیر لگ گئی‘ میں نے اپنے دل میں کہا: بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو مدینہ سے بلا کر ان کے ساتھ شام کا کھانا کھایا ہے‘ لہٰذا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دودھ کی ضرورت نہیں ہے‘ یہ بات مسلسل میرے دل میں گھومتی رہی یہاں تک کہ میں اٹھ کر اس پیالہ کے پاس گیا جتنا اس میں دودھ تھا۔ میں نے پی لیا۔ پس جب میں نے پی لیا تو مجھے ندامت ہوئی اور دل میں کہا کہ جو میں نے کہا (اگر) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور آپ نے دودھ نہ پایا تو آپ تیرے خلاف کریں گے اور تو ہلاک ہو جائے گا۔ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی، اسی حال میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشریف لائے‘ آپ ویسے ہی آئے آپ نے اس انداز میں سلام کیا کہ جاگنے والا سنے اور سونے والا نہ جائے‘ پھر آپ نے پینے کے لیے دودھ دیکھا تو آپ نے برتن میں کوئی شی نہیں دیکھی‘ آپ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا‘ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کی: اے اللہ ! تو اس کو کھلا جو مجھے کھلائے اور تو اس کو پلا جو مجھے پلائے۔ میں نے چھری پکڑی تاکہ میں ایک بکری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ذبح کروں ۔ میں نے اس بکری کی کھیری پر ہاتھ مار کر دیکھا اس کے اور سب بکریوں کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہیں‘ میں نے پیالے میں دودھ دوھا یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا‘ پھر میں اس کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اس حال میں کہ میں ہنس رہا تھا‘ آپ نے فرمایا: اے مقداد! اپنی غلطی س‘ میں نے عرض کی: آپ پیش! پھر میں خبر دینے لگا۔ آپ نے اس کو نوش کیا‘ پھر مجھے پکڑایا تو میں نے اس کو پیا جو بچا ہوا تھا‘ پھر آپ نے مجھے فرمایا: اے مقداد! یہ برکت ہے‘ آپ کو چاہیے کہ مجھے بتائیں تاکہ ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو جگا کر اس برکت سے ان کو بھی پلائیں۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! جب میں نے اور آپ نے برکت کو پی لیا۔

المقداد بن عمرو الكندي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Al-Miqdad bin Amr Al-Kindy › Chapter · Hadith 1517

chevron_left Previous
1…593594595…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter