Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1410

1410 - حدثنا سفيان بن وكيع قال حدثني أبي عن جدي عن قيس بن وهب عن أبي الوداك Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يخرج الدجال فيتوجه قبله رجل من المسلمين فتلقاه المسالح : مسالح الدجال فيقولون له : أين تعمد ؟ فيقول : أعمد إلى هذا الذي خرج فيقولون له : أو ما تؤمن بربنا ؟ قال : يقول : ما أرى - أحسبه - حقا قال : يقولون : اقتلوه قال : فيقول بعضهم لبعض : أليس قد نهاكم ربكم أن تقتلوا أحدا دونه ؟ قال : فينطلقون به إلى الدجال قال : فإذا رآه المؤمن قال : يا أيها الناس هذا الدجال الذي ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فيأمر به الدجال فيشبح قال : فيقول : خذوه فاشبحوه قال : فيشبح قال : فيمصع ظهره وبطنه ضربا قال : فيقول له : أام تؤمن بي ؟ قال : فيقول : أنت المسيح الكذاب قال : فيأمر به فينشر بالمنشار من مفرقه حتى يفرق بين رجليه قال : ثم يمشي الدجال بين القطعتين قال : ثم يقول : قم فيستوي قائما قال : فيقول له : أما تؤمن بي ؟ قال : فيقول له : ما ازددت فيك إلا بصيرة قال : ثم يقول : يا أيها الناس إنه لا يفعل الذي فعل بي بأحد من الناس قال : فيأخذه الدجال ليذبحه فيجعل ما بين ذقنه إلى ترقوته نحاسا فلا يستطيع إليه سبيلا قال : فيأخذ بيديه ورجليه فيقذف به فيحسب الناس أنه قذفه في النار وإنما ألقي في الجنة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين K إسناده ضعيف ولكن أخرجه مسلم

حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دجال نکلے گا، مسلمانوں میں سے ایک آدمی اس کی جانب متوجہ ہو گا دجال کے لوگ اس سے ملیں گے جو ہتھیار باندھے ہوئے ہوں گے وہ اس آدی کو کہیں گے: تیرا کہاں کا ارادہ ہے؟ وہ کہے گا:میرا ارادہ اس کی طرف ہے جو نکلا ہے۔ وہ کہیں گے: کیا تو ، ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتا ہے؟ وہ کہے گا کہ وہ اس کو خدانہیں سمجھتا ہے وہ کہیں گے۔ اس کو قتل کر دو! وہ ایک دوسرے سے کہیں گے : کیا تم کو تمہارے رب نے اپنی اجازت کے بغیر قتل کرنے سے منع نہیں کیا؟ وہ اس کولے کر دجال کی طرف جائیں گے جب ایمان والا اس کو دیکھے گایعنی دجال کو تو وہ کہے گا: اے لوگو! یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ہے اس کے بعد دجال اس کوزخمی کرنے کے متعلق حکم دے گا وہ اس کو پکڑیں ، گے اور اس کو زخمی کریں گے اور اس کے پیٹ اور پیٹھ پر ماریں گے دجال کہے گا: کیا تو مجھ پر ایمان لاتا ہے؟ وہ مؤمن کہے گا: تومسیح کذاب ہے۔ وہ دجال اس کے متعلق حکم دے گا کہ اس کے سر پر آرا چلایا جائے وہ لوگ اس کے سر کے درمیان آرا چلائیں گے اس کے سر سے لے کر اس کے پاؤں تک دو ٹکڑے کر دیں گے۔ پھر وہ دجال کہے گا: اٹھ تو وہ سیدھا کھڑا ہو جائے گا۔ وہ اس کو کہے گا: کیا تو مجھ پر ایمان لاتا ہے؟ وہ مؤمن کہے گا: مجھے تیرے متعلق اور بصیرت حاصل ہوگئی ہے۔پھروہ بندہ مومن کہے گا: اے لوگو! میرے بعد اس طرح کسی اور سے نہیں کرے گا۔ اس کے بعد دجال اس کوپکڑے گا تا کہ اسکوذبح کیا جائے تو اس مومن کے گلے سے لے کر اس کی آخری حد تک جسم تا نبے کا بن جائے گا وہ اس تک جانے کی طاقت نہیں رکھے گا پھر دجال اس کے پاؤں اور ہاتھ سے پکڑے گا اور اس کو ڈالا جائے گا لوگ سمجھیں گے کہ اس کو آگ میں ڈالا ہے حالانکہ وہ جنت میں جا کر گرا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ آدمی تمام کائنات کو پالنے والے کے ہاں سب سےزیادہ شہادت کا درجہ رکھے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ← جَدِّي، ← أَبِي ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1410

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1411

1411 - حدثنا قطن بن نسير حدثنا جعفر بن سليمان حدثنا المعلى بن زياد قال Y لما هزم يزيد بن المهلب أهل البصرة قال المعلى : فخشيت أن أجلس في حلقة الحسن بن أبي الحسن فأوجد فيها فأعرف فأتيت الحسن في منزله فدخلت عليه فقلت : يا أبا سعيد كيف بهذه الآية من كتاب الله ؟ قال : أية آية من كتاب الله ؟ قلت : قول الله في هذه الآية : { وترى كثيرا منهم يسارعون في الإثم والعدوان وأكلهم السحت لبئس ما كانوا يعملون } [ المائدة : 62 ] قال : يا عبد الله إن القوم عرضوا السيف فحال السيف دون الكلام قلت : يا أبا سعيد فهل تعرف لمتكلم فضلا ؟ قال : لا قال المعلى : ثم حدث بحديثين قال : حدثنا أبو سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بحديث قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا لا يمنعن أحدكم رهبة الناس أن يقول الحق إذا رآه أن يذكر تعظيم الله فإنه لا يقرب من أجل ولا يبعد من رزق . قال : ثم حدث الحسن بحديث آخر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس للمؤمن أن يذل نفسه قيل : وما إذلاله نفسه ؟ قال : يتعرض من البلاء لما لا يطيق . قيل : يا أبا سعيد فيزيد الضبي وكلامه في الصلاة ؟ قال : أما إنه لم يخرج من السجن حتى ندم قال المعلى : فقمت من مجلس الحسن فأتيت يزيد فقلت : يا أبا مودود بينما أنا و الحسن نتذاكر إذ نصبت أمرك نصبا فقال : مه يا أبا الحسن قال : قلت : قد فعلت قال : فما قال الحسن ؟ قلت : قال : أما إنه لم يخرج من السجن حتى ندم على مقالته قال يزيد : ما ندمت على مقالتي وايم الله لقد قمت مقاما أخطر فيه بنفسي قال يزيد : فأتيت الحسن فقلت : يا أبا سعيد : غلبنا على كل شيء نغلب على صلاتنا ؟ فقال : يا عبد الله إنك لم تصنع شيئا إنك تعرض نفسك لهم ثم أتيته فقال لي مثل مقالته قال : فقمت يوم الجمعة في المسجد و الحكم بن أيوب يخطب فقلت : رحمك الله الصلاة قال : فلما قلت ذلك احتوشتني الرجال يتعاوروني فأخذوا بلحيتي وتلبيبتي وجعلوا يجئون بطني بنعال سيوفهم قال : ومضوا بي نحو المقصورة فما وصلت إليه حتى ظننت أنهم سيقتلوني دونه قال : ففتح لي باب المقصورة قال : فدخلت فقمت بين يدي الحكم وهو ساكت فقال : أمجنون أنت ؟ قال : وما كنا في صلاة فقلت : أصلح الله الآمير هل من كلام أفضل من كتاب الله ؟ قال : لا قلت : أصلح الله الأمير أرأيت لو أن رجلا نشر مصحفا يقرؤه غدوة إلى الليل أكان ذلك قاضيا عنه صلاته ؟ قال : والله إني لأحسبك مجنونا قال : و أنسن بن مالك جالس تحت منبره ساكت فقلت يا أنس يا أبا حمزة أنشدك الله فقد خدمت رسول الله صلى الله عليه و سلم وصحبته أبمعروف قلت أم بمنكر ؟ أبحق قلت أم بباطل ؟ قال : فلا والله ما أجابني بكلمة قال له الحكم بن أيوب : يا أنس قال : يقول : لبيك أصلحك الله قال : وكان وقت الصلاة قد ذهب قال : كان بقي من الشمس بقية فقال : احبسوه . قال يزيد : فأقسم لك يا أبا الحسن - يعني للمعلى - لما لقيت من أصحابي كان أشد علي من مقامي قال بعضهم : مراء وقال بعضهم : مجنون قال : وكتب الحكم إلى الحجاج : أن رجلا من بني ضبة قام يوم الجمعة قال : الصلاة وأنا أخطب وقد شهد الشهود العدول عندي أنه مجنون فكتب إليه الحجاج : إن كانت قامت الشهود العدول أنه مجنون فخل سبيله وإلا فاقطع يديه ورجليه واسمر عينيه واصلبه قال : فشهدوا عند الحكم أني مجنون فخلى عني . قال المعلى عن يزيد الضبي : مات أخ لنا فتبعنا جنازته فصلينا عليه فلما دفن تنحيت في عصابة فذكرنا الله وذكرنا معادنا فإنا كذلك إذ رأينا نواصي الخيل والحراب فلما رآه أصحابي قاموا وتركوني وحدي فجاء الحكم حتى وقف علي فقال : ما كنتم تصنعون ؟ قلت : أصلح الله الأمير مات صاحب لنا فصلينا عليه ودفن فقعدنا نذكر ربنا ونذكر معادنا ونذكر ما صار إليه قال : ما منعك أن تفر كما فروا ؟ قلت : أصلح الله الأمير أنا أبرأ من ذلك ساحة وآمن للأمير من أن أفر قال : فسكت الحكم فقال عبد الملك بن المهلب - وكان على شرطته - تدري من هذا ؟ قال : من هذا ؟ قال : هذا المتكلم يوم الجمعة قال : فغضب الحكم وقال : أام إنك لجريء خذاه قال : فأخذت فضربني أربع مئة سوط فما دريت حين تركني من شدة ما ضربني قال : وبعثني إلى واسط فكنت في ديماس الحجاج حتى مات الحجاج K رجاله رجال الصحيح

حضرت معلیٰ بن زیاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یزید بن مہلب نے اہل بصرہ کو شکست دی ۔ معلیٰ فرماتے ہیں: میں حسن بن ابوالحسن کے حلقہ میں بیٹھنے سے ڈرتا تھا میں ان کے حلقہ میں پایا جاؤں گا تو پہچان لیا جاؤں گا میں حسن کے پاس ان کے گھر پر آیا میں آپ کے پاس داخل ہوا تو میں نے عرض کی: اے ابوسعید! آپ اللہ عزوجل کے اس ارشاد کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے کلام کی کون سی آیت ہے؟ میں نے عرض کی: یہ آیت ’’آپ ان میں سے بہت زیادہ یہودیوں کو دیکھتے ہو کہ گناہ زیادتی اور سود کھانے میں ، دوڑتے ہیں وہ ضرور ہی بہت برے کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: اے عبداللہ! بے شک ایک قوم نے تلوار چلائی تلوار ان کے کلام کے درمیان حائل ہوئی میں نے عرض کی: اے ابوسعید! کیا آپ پہچانتے ہیں گفتگو کرنے والے کیلئے کوئی فضیلت؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! معلیٰ فرماتے ہیں: پھر انہوں نے دو حدیثیں بیان کیا کہ ہم کو ابوسعید نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالہ سے بیان کیاکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! تم میں سے کسی کو لوگوں کا ڈر حق بات کہنے سے نہ روکے جبکہ وہ جانتے بھی ہوں اور ان کو الله کی رضا حاصل کرنے کیلئے بیان کریں کیونکہ وہ جو ناحق پر ہے وہ نہ تو موت پر قریب کر سکتا ہے اور نہ رزق کو دور کر سکتا ہے۔ پھر حسن نے دوسری حدیث بیان کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ عرض کی گئی : ذلیل کرنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: اپنے آپ کو ایک آزمائش میں ڈالے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا ہے۔ عرض کی گئی: اے ابوسعید! یزید الضبی اور اس کا کلام نمازکے بارے میں کیا ہے؟ فرمایا: وہ قید سے نہیں نکلے گا یہاں تک کہ وہ شرمسار ہو گا۔ میں یزید کے پاس آیا میں نے کہا: اے ابومودود! ہم اور حسن آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک میں نے آپ کا ذکر کیا انہوں نے فرمایا: اے ابوالحسن! اس کو چھوڑیں! میں نے کہا: آپ نے کچھ کیا ہے؟ اس نے کہا: حسن نے کیا کہا ہے؟ میں نے کہا: انہوں نے فرمایا کہ وہ قید سے نہیں نکلے یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات پر شرمسار نہ ہو۔ یزید نے کہا: میں اپنی بات پر شرمسار نہیں ہوں گا اللہ کی قسم! میں اس جگہ کھڑا ہوں جس میں میری جان کو خطرہ ہے۔ یزید نےکہا: اس کے بعد میں حسن کے پاس آؤں گا میں نے کہا: اے ابوسعید! ہم ہرشی میں مغلوب ہو گئے ہماری نمازوں میں ہم پر غلبہ پا لیا جاتا ہے؟ فرمایا: اے عبداللہ! آپ کچھ نہ کریں آپ اپنے آپ کو ان کے سامنے پیش کریں۔ پھر میں اس کے پاس آیا مجھے پہلی بات کی طرح بات کی تو فرمایا: میں جمعہ کے دن مسجد میں کھڑا ہوا حال یہ تھا کہ حکم بن ایوب خطبہ دے رہے تھے میں نے کہا: الله آپ پر رحم کرے! نماز ۔ جب میں نے یہ بات کہی تو لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور عار دلانے لگے انہوں نے میری داڑھی اور گریبان سے پکڑا اور میرے پیٹ میں اپنی تلواروں کے نچلے حصوں کے ساتھ مارنے لگے مجھے وہ محل کے حکمران تک لے گئے جب مجھے وہاں لے گئے تو میں نے گمان کیا کہ ہو سکتا ہے کہ مجھے قتل کیا جائے۔ میرے لیئے محل کا دروازہ کھول دیا گیا میں داخل ہوا میں حکم کے سامنے کھڑا ہوا وہ خاموشی کی حالت میں تھا۔ اس نے کہا: آپ مجنون ہیں؟ ہم نے نماز میں کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ امیر کی اصلاح کرے؟ کیا تیری گفتگو اللہ کے کلام سے افضل ہے؟ اس نے کہا: نہیں! اللہ امیر کی اصلاح کرے! آپ بتائیں کہ اگر کوئی آدمی قرآن کھول کرصبح سے لے کر رات تک پڑھتا ہے تو کیا اس کی نماز قضاء ہوسکتی ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں خیال کرتا ہوں کہ تو پاگل ہے۔ فرمایا:انس بن مالک منبر کے نچے خاموشی سے تشریف فرما تھے میں نے عرض کی: اے انس! اے ابوحمزہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی آپ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے کیا اسے نیکی جانتے ہیں؟ جو میں نے عرض کی : یا برائی ؟ کیایہ حق ہے یا باطل؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم مجھے کسی بات کا جواب نہیں دیا ۔حکم بن ایوب نے کہا: اے انس! راوی کا بیان ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ حاضر ہوں! اللہ آپ کی اصلاح کرے! میں نے کہا: نماز کا وقت ہے سورج کے غروب ہونے میں تھوڑا وقت باقی ہے تو کہا: تم اسے روکو! یزید نے کہا: میں تجھے قسم دیتا ہوں اے ابوالحسن! یعنی معلیٰ کو کہا جب میں اپنے دوستوں میں سے کچھ کو ملا تو وہ وقت مجھ پر پہلے کھڑا ہونے کے وقت ، سے زیادہ سخت تھا ان میں سے بعض کہنے لگے : یہ دکھاوا کر رہا ہے بعض کہنے لگے: یہ جنون ہے ۔ حکم نے حجاج کی طرف خط لکھا کہ بنی ضبہ کا ایک آدی جمعہ کے دن کھڑا ہوا ہے اس نے کہا: نماز کا وقت ہو گیا ہے اس حالت میں کہ میں خطبہ دے رہا تھا اس پر میرے عادل گواہ بھی ہیں کہ یہ مجنون ہے۔ تو اس کا راستہ چھوڑ دے ور نہ اس کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دے اس کی آنکھوں پر گرم تار ڈالو اور اس کو سولی پر چڑھا دو۔حکم کے پاس گواہی دی کہ میں مجنون ہوں میرا راستہ چھوڑ دیں۔ معلیٰ نے یزیدی سے روایت کر کے فرمایا:ہمارا بھائی فوت ہو گیا ہم اس کے جنازہ میں شریک ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جب دفن کیا گیا تو میں ایک گروہ میں پیچھے ہٹ کر رکا ہم نے اللہ کا ذکر اور قیامت کا ذکر کیا ہم اسی حالت میں تھے کہ اچانک ہم نے گھوڑے کی پیشانی اور لشکر دیکھا، گھوڑوں کی پیشانیاں جب میرے ساتھیوں نے ان کو دیکھا تو وہ کھڑے ہوئے اور مجھے اکیلا چھوڑ گئے ۔ حکم آیا یہاں تک کہ میرے پاس کھڑا ہوا اس نے کہا: تم کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا: اللہ امیر کی اصلاح کرے! ہمارا ساتھی فوت ہو گیا ہے ہم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ہے اور دفن کیا ہم اپنے رب اور قیامت کا ذکر کر رہے ہیں اور ہم ذکر کر رہے ہیں جو اس کے ساتھ ہوگا ۔ اس نے کہا: آپ کو یہاں سے جانے کی رکاوٹ ہے جس طرح وہ چلے گئے ہیں؟ میں نے کہا: اللہ امیر کی اصلاح کرے؟ میں اپنے آپ کو ذلیل کرنے سے بری ہوں میں امیر کی طرف سے بھاگنے سے امن میں ہوں ۔ حکم خاموش ہو گیا ۔ عبدالملک بن مہلب نے کہا: وہ پولیس پر نگران تھا وہ جانتا تھا کہ یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ وہی ہے جس نے جمعہ کے دن گفتگو کی ہے۔ حکم کو غصہ آیا اور کہا: تو جرأت کرنے والا ہے تم دونوں اس کو پکڑو۔ مجھے پکڑا گیا اور مجھے چار سو کوڑے مارےگئے میں نہیں جانتا ہوں کہ جس وقت مجھے چھوڑاگیا مجھے مار کھاتے وقت زیادہ تکلیف ہوئی یا چھوڑتے وقت زیادہ تکلیف ہوئی اور مجھے واسط کی طرف بھیجا میں حجاج کے حمام کی جگہ میں رہا یہاں تک کہ حجاج مر گیا۔

المعلى فخشيت ← لما هزم يزيد بن المهلب أهل البصرة ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قَطَنُ بْنُ نَسِيرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1411

مسند أبي يعلى · مسند [ ركانة ] ‹ مسند [ ركانة ] · حديث 1412

1412 - أخبرنا أبو يعلى حدثنا أبو كريب حدثنا محمد بن ربيعة قال : لقيت بمكة رجلا من أهل عسقلان يقال له أبو الحسن حدثني عن أبي جعفر بن محمد بن ركانة عن أبيه أنه Y صارع النبي صلى الله عليه و سلم فقال ركانة : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : فرق بيننا وبين المشركين العمائم على القلانس K إسناده تالف

حضرت ابی جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیا حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نےحضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سےسنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور مشرقین کے درمیان فرق ٹو پیوں پر عمامہ باندھنا ہے۔

فرق بيننا وبين المشركين العمائم على القلانس إسناده تالف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أبيه أنه صارع النبي صلى الله عليه و سلم فقال ركانة ← أبي جعفر بن محمد بن ركانة ← لقيت بمكة رجلا من أهل عسقلان يقال له أبو الحسن ← مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad [Rakana] › Chapter · Hadith 1412

مسند أبي يعلى · مسند بريدة ‹ مسند بريدة · حديث 1413

1413 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر بن الوليد عن أبي يوسف عن أبي حنيفة عن علقمة بن مرثد عن ابن بريدة عن أبيه Y عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا بعث سرية أوجيشا أوصى صاحبها بتقوى الله في خاصة نفسه وأوصاه بمن معه من المسليمن خيرا ثم قال : اغزوا باسم الله قاتلوا من كفر بالله لا تغلوا ولا تغدروا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا فإذا لقيتم عدوكم من المشركين فادعوهم إلى الإسلام فإن أسلموا فاقبلوا منهم وكفوا عنهم ثم ادعوهم إلى التحول من دارهم إلى دار المسلمين فإن فعلوا فاقبلوا منهم وإلا فأخبروهم أنهم كأعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المسليمن وليس لهم في الفيء ولا في الغنيمة نصيب فإن أبوا ذلك فادعوهم إلى إعطاء الجزية فإن فعلوا فاقبلوا منهم وكفوا عنهم فإذا حاصرتم حصنا أو مدينة فإن أرادوكم أن تنزلوهم على حكم الله فلا تنزلوهم فإنكم لا تدرون ما حكم الله ولكن أنزلوهم على حكمكم ثم احكموا فيهم ما رأيتم وإذا حاصرتم قصرا فلا تعطوهم ذمة الله ولا ذمة رسوله ولكن اعطوهم ذممكم وذمم آبائكم فإنكم أن تخفروا ذممكم وذمم أبائكم أهون

حضرت بریده رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،جب کسی لشکر کوبھیجتے تھے تو سپہ سالار کو وصیت کرتے کہ اللہ کے ڈر سے خاص کر اپنے متعلق اور اس کو وصیت کرتے کہ جو اس کے ساتھ مسلمان ہیں بھلائی کی، پھر فرماتے : الله کا نام لے کر اللہ کی راہ میں لڑو۔ اس سے لڑو جو اللہ کاانکار کرے۔ غلو اور خیانت نہ کرو اور مشلہ نہ کرو ۔ بچوں کو قتل نہ کرو۔ جب تم اپنے دشمن کافروں سے آمنا سامنا کرو۔ پھر ان کو اسلام کی طرف دعوت دو۔ اگر مسلمان ہو جائیں ان کی بات مان لو۔ اور ان سے لڑائی بند کر دو۔ پھر ان کو دعوت دو کہ اپنے شہر کو چھوڑ کر مسلمانوں کےشہروں کی طرف ہجرت کریں۔ اگر وہ یہ بھی کر لیں۔ ان کا عذر قبول کر لو۔ اگر وہ نہ مانیں تو ان کو بتا دو کہ مسلمان دیہاتیوں کی طرح ہوں گے ان پر وہی حکم چلے گا جو عام مسلمانوں پر چلتا ہے۔ ان کے لیے مال فئی اور غنیمت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوگا اگر اس کا انکار کر دیں تو ان کو جزیہ دینے کی دعوت دو۔ اگر وہ یہ مان لیں ان کا عذر قبول کرو اور ان سے جنگ روک لو۔ جب تم کسی قلعہ یا شهر کو گھیر لواگرتم ارادہ کرو کہ تم ان کو اللہ کے حکم پراتارنے کا تو اللہ کے حکم پرنہ اتارو۔ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ کا کیا حکم ہے۔ لیکن ان کو ان کے حکم پر اتارو۔ پھر ان پر فیصلہ کرو جوتمہاری رائے ہو جب تم قلعہ کا محاصرہ کرو۔ ان کو الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذمہ پر نہ دولیکن تم ان کو اپنے زمہ پر دو۔ اور اپنے آباء کے ذمہ پر۔ اگرتم اپنے زمہ پر اور اپنے آباء کے زمہ پر لو گے یہ زیادہ آسان ہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبِي حَنِيفَةَ ← أَبِي يُوسُفَ ← قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← أَبُو يَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Barira › Chapter · Hadith 1413

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1414

1414 - أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس عن ابن أبي طلحة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة K إسناده صحيح

حضرت ابوطلہ صلى الله عليه وسلم فرماتے ہیں کہ حضور نظام نےفرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس گھر میں حدثنا ابن عيينة، عن الهري، عن عبيد الله، عن كتا اور تصویر ہو۔

ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1414

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1415

1415 - حدثنا أبو بكر حدثنا معاذ بن معاذ و عبد الأعلى قالا : حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس بن مالك . عن أبي طلحة قال Y كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا غلب على قوم أحب أن يقيم بعرصتهم ثلاثا K إسناده صحيح

حضرت ابو طلحہصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی قوم پر غلبہ پا لیتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نا پسند کرتے تھے کہ میدان جنگ میں تین دن ٹھہریں ۔

أَبِي طَلْحَةَ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← معاذ بن معاذ و عبد الأعلى ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1415

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1416

1416 - حدثنا أبو بكر حدثنا أبو خالد الأحمر و أبو معاوية عن حجاج عن الحسن بن سعد عن ابن عباس قال : أخبرني أبو طلحة : Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جمع بين الحج والعمرة K إسناده ضعيف

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کیا۔

أَبُو طَلْحَةَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ← حجاج، ← أبو خالد الأحمر و أبو معاوية ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1416

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1417

1417 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا عبد الله بن بكر السهمي عن حميد عن ثابت عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة . عن أبي طلحة Y أن النبي صلى الله عليه و سلم ضحى بكبشين أملحين فقال عند الذبح : الأول عن محمد وآل محمد وقال عند الذبح : الثاني عمن آمن بي وصدق من أمتي K رجاله ثقات غير أنه منقطع

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو سینگوں والے کالی آنکھوں والے ذبح کیے پہلے ایک کو ذبح کرتے اور فرماتے :محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے اور آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے !اور دوسرے کو ذبح کرتے وقت پڑھتے : اس کی طرف سے جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کی میری امت سے۔

أَبِي طَلْحَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← ثَابِتٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1417

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1418

1418 - حدثناه إبراهيم بن سعيد الجوهري حدثنا عبد الله بن بكر عن حميد عن ثابت عن إسحاق بن عبد الله ابن أبي طلحة عن أبي طلحة Y أن النبي صلى الله عليه و سلم ضحى بكبشين أملحين فقال عند الذبح : الأول عن محمد وآل محمد وقال عند الذبح : الآخر عمن آمن بي وصدقني من أمتي K إسناده ضعيف

حضرت ابو طلحه رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوسینگوں والے کالی آنکھوں والے ذبح کیےپہلے کو ذبح کرتے وقت فرمایا: محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آل محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے اور دوسرے کو ذبح کرتے وقت پڑھتے: اس کی طرف سے جو مجھ پر ایمان لائے اور جو میری تصدیق کرے میری امت سے۔

أَبِي طَلْحَةَ، ← إسحاق بن عبد الله ابن أبي طلحة ← ثَابِتٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1418

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1419

1419 - حدثنا إبراهيم بن سعيد حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن الحسن بن سعد عن ابن عباس عن أبي طلحة Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قرن الحج والعمرة K إسناده ضعيف

حضرت ابو طلحہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اقدسصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کیا۔

أَبِي طَلْحَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ← حجاج، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1419

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1420

1420 - حدثنا محمد بم أبي بكر المقدمي حدثنا سليمان بن داود حدثنا محمد بن ثابت عن أبيه عن أنس عن أبي طلحة Y أنه دخل على النبي صلى الله عليه و سلم في وجعه الذي مات فيه فقال : أقرئ قومك السلام فإنهم ـ ما علمت ـ أعفه صبر K إسناده ضعيف

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اس بیماری میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصال فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی قوم کو سلام کہنا کیونکہ وہ سوال سے بچنے والے صبر کرنے والے ہیں۔

جعه الذي مات فيه ← أبي طلحة أنه دخل على النبي صلى الله عليه و سلم في ← أَنَسٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← محمد بم أبي بكر المقدمي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1420

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1421

1421 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا عبد الواحد بن زياد حدثنا عثمان بن حكم حدثنا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة قال : قال أبو طلحة Y كنا قعودا بالأفنية نتحدث فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام علينا فقال : ما لكم ولمجالس الصعدات ؟ اجتنبوا مجالس الصعدات قال : قلنا : يا رسول الله إنا جلسنا لغير ما بأس : جلسنا نتذاكر ونتحدث فقال : إما لا فأدوا حقها قلنا : يا رسول الله وما حقها ؟ قال : غض البصر ورد السلام وحسن الكلام K إسناده ضعيف

حضرت ابوطلحہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم راستوں میں بیٹھتے اور باتیں کرتے۔ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے ہم پہ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم کو کیا ہے کہ تم راستوں پر بیٹھتے ہو؟ راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے راستہ میں بیٹھنے کے علاوہ کوئ جگہ نہیں پاتے ، ہم بیٹھتے ہیں مذاکرہ کے لیے اور ہم گفتگو کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے ایسا کرنا ہے تو راستہ کا حق ادا کرو۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: راستہ کا حق یہ ہے کہ آنکھ کا ، جھکنا، سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کرنا۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عثمان بن حكم ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1421

chevron_left Previous
1…585586587…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter