مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1410
1410 - حدثنا سفيان بن وكيع قال حدثني أبي عن جدي عن قيس بن وهب عن أبي الوداك Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يخرج الدجال فيتوجه قبله رجل من المسلمين فتلقاه المسالح : مسالح الدجال فيقولون له : أين تعمد ؟ فيقول : أعمد إلى هذا الذي خرج فيقولون له : أو ما تؤمن بربنا ؟ قال : يقول : ما أرى - أحسبه - حقا قال : يقولون : اقتلوه قال : فيقول بعضهم لبعض : أليس قد نهاكم ربكم أن تقتلوا أحدا دونه ؟ قال : فينطلقون به إلى الدجال قال : فإذا رآه المؤمن قال : يا أيها الناس هذا الدجال الذي ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فيأمر به الدجال فيشبح قال : فيقول : خذوه فاشبحوه قال : فيشبح قال : فيمصع ظهره وبطنه ضربا قال : فيقول له : أام تؤمن بي ؟ قال : فيقول : أنت المسيح الكذاب قال : فيأمر به فينشر بالمنشار من مفرقه حتى يفرق بين رجليه قال : ثم يمشي الدجال بين القطعتين قال : ثم يقول : قم فيستوي قائما قال : فيقول له : أما تؤمن بي ؟ قال : فيقول له : ما ازددت فيك إلا بصيرة قال : ثم يقول : يا أيها الناس إنه لا يفعل الذي فعل بي بأحد من الناس قال : فيأخذه الدجال ليذبحه فيجعل ما بين ذقنه إلى ترقوته نحاسا فلا يستطيع إليه سبيلا قال : فيأخذ بيديه ورجليه فيقذف به فيحسب الناس أنه قذفه في النار وإنما ألقي في الجنة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين K إسناده ضعيف ولكن أخرجه مسلم
حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دجال نکلے گا، مسلمانوں میں سے ایک آدمی اس کی جانب متوجہ ہو گا دجال کے لوگ اس سے ملیں گے جو ہتھیار باندھے ہوئے ہوں گے وہ اس آدی کو کہیں گے: تیرا کہاں کا ارادہ ہے؟ وہ کہے گا:میرا ارادہ اس کی طرف ہے جو نکلا ہے۔ وہ کہیں گے: کیا تو ، ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتا ہے؟ وہ کہے گا کہ وہ اس کو خدانہیں سمجھتا ہے وہ کہیں گے۔ اس کو قتل کر دو! وہ ایک دوسرے سے کہیں گے : کیا تم کو تمہارے رب نے اپنی اجازت کے بغیر قتل کرنے سے منع نہیں کیا؟ وہ اس کولے کر دجال کی طرف جائیں گے جب ایمان والا اس کو دیکھے گایعنی دجال کو تو وہ کہے گا: اے لوگو! یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ہے اس کے بعد دجال اس کوزخمی کرنے کے متعلق حکم دے گا وہ اس کو پکڑیں ، گے اور اس کو زخمی کریں گے اور اس کے پیٹ اور پیٹھ پر ماریں گے دجال کہے گا: کیا تو مجھ پر ایمان لاتا ہے؟ وہ مؤمن کہے گا: تومسیح کذاب ہے۔ وہ دجال اس کے متعلق حکم دے گا کہ اس کے سر پر آرا چلایا جائے وہ لوگ اس کے سر کے درمیان آرا چلائیں گے اس کے سر سے لے کر اس کے پاؤں تک دو ٹکڑے کر دیں گے۔ پھر وہ دجال کہے گا: اٹھ تو وہ سیدھا کھڑا ہو جائے گا۔ وہ اس کو کہے گا: کیا تو مجھ پر ایمان لاتا ہے؟ وہ مؤمن کہے گا: مجھے تیرے متعلق اور بصیرت حاصل ہوگئی ہے۔پھروہ بندہ مومن کہے گا: اے لوگو! میرے بعد اس طرح کسی اور سے نہیں کرے گا۔ اس کے بعد دجال اس کوپکڑے گا تا کہ اسکوذبح کیا جائے تو اس مومن کے گلے سے لے کر اس کی آخری حد تک جسم تا نبے کا بن جائے گا وہ اس تک جانے کی طاقت نہیں رکھے گا پھر دجال اس کے پاؤں اور ہاتھ سے پکڑے گا اور اس کو ڈالا جائے گا لوگ سمجھیں گے کہ اس کو آگ میں ڈالا ہے حالانکہ وہ جنت میں جا کر گرا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ آدمی تمام کائنات کو پالنے والے کے ہاں سب سےزیادہ شہادت کا درجہ رکھے گا۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ← جَدِّي، ← أَبِي ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ
Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1410
