Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 991

991 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يحيى عن شعبة حدثني قتادة عن عبد الله بن أبي عتبة Y عن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أشد حياء من العذراء في خدرها . وقال : لا تقوم الساعة حتى لا يحج البيت K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کنواری لڑکی سےز یادہ حیا دا ر تھے اور فرمایا : قیامت نہیں آئے یہاں تک کہ بیت اللہ کا حج نہیں کیا جائے گا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 991

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 992

992 - حدثنا زهير حدثنا يحيى عن مجالد عن أبي الوداك Y عن أبي سعيد قال : سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن جنين الناقة والبقرة فقال : إن شئتم فكلوه وذكاته ذكاة أمه K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے اونٹنی اور گائے کے پیٹ کے بچہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : اگر چاہو تو کھا لو اس کی ماں کا ذبح کرنا اس بچہ کا ذبح کرنا ہے ۔

جنين الناقة والبقرة فقال إن شئتم فكلوه وذكاته ذكاة أمه إسناده ضعيف ← سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← مجالد ← يَحْيَى ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 992

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 993

993 - حدثنا زهير حدثنا يحيى عن ابن عجلان حدثنا عياض بن عبد الله Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يعجبه العراجين يمسكها بيده فدخل المسجد يوما وفي يده منها واحدة فرأى نخامات في قبلة المسجد فحتهن به حتى أنقاهن ثم أقبل على الناس مغضبا فقال : أيحب أحدكم أن يستقبله الرجل فيبصق في وجهه ؟ إن أحدكم إذا قام إلى الصلاة فإنما يستقبل ربه والملك عن يمينه فلا يبصق بين يديه ولا عن يمينه ولكن عن يساره أو تحت قدمه اليسرى فإن عجلت به بادرة فليتفل هكذا وتفل يحيى في ثوبه ورد بعضه على بعض K إسناده حسن

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم اراجین پسند کرتے تھے اس کو اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم مسجد میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے ایک ہاتھ میں اراجین تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مسجد کے قبلہ کی طرف تھوک دیکھا ، اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے کھچا یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے غصہ کی حالت میں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی آدمی ہو اس کے منہ پر تھوکے ؟ بے شک جب تم میں کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس کے سامنے اس کا رب ہوتا ہے کوئی بھی اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھو کے اگر تھوکنا ہی ہے تو اپنے بائیں جانب یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک دے ۔ اگر نماز کے دوران جلدی شدت کے ساتھ آئے وہ اس طرح تھو ک دے ۔حضرت یحیی نے کپڑے میں تھوکا پھر کپے کو مل دیا ۔

أيحب أحدكم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 993

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 994

994 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يحيى عن ابن عجلان أخبرنا عياض Y عن أبي سعيد أن رجلا دخل المسجد يوم الجمعة ورسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر فدعاه فأمره أن يصلي ركعتين تم دخل المسجد ثانية ورسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر فدعاه فأمره أن يصلي ركعتين ثم قال : تصدقوا فتصدقوا فأعطاه ثوبين مما تصدقوا ثم قال : تصدقوا فألقى هو أحد ثوبيه فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم ما صنع وقال : انظروا إلى هذا الرجل دخل المسجد بهيئة بذة فرجوت أن تفطنوا له فتصدقوا عليه أو تكسوه فلم تفعلوا فقلت : تصدقوا فأعطوه ثوبين ثم قلت : تصدقوا فألقى أحد ثوبيه خذ ثوبك وانتهره K إسناده حسن

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم منبر پر جلوہ افروز تھے ، اس نے آنے والے آدمی کو بلایا اس کو فرمایا کہ ہ دو رکعت ادا کرے پھر وہ داخل ہو دوسری مرتبہ اور رسول پاک منبر پر جلوہ افروز تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا :صدقہ دو ، پس صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے صدقہ دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے اس کو دو کپڑے دئیے جو صدقہ کیا تھا ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : صدقہ کرو ۔ اس آدمی نے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا دے دیا ۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے اس فعل کا ناپسند کیا اور فرمایا : اس آدمی کی طرف دیکھو ( جب ) مسجد میں داخل ہوا تھا تو اس کی حالت بری تھی ۔ میں نے امید کی کہ تم اس کو دو گے پس تم اس پر صدقہ کرو یا تم اس کو پہناؤ ، تم نے ایسا نہیں کیا ۔ میں نےصدقہ کروا کر تم کو دو کپڑوں میں سے ایک واپس دے دیا ۔اپنا کپڑا لو اور آپ نے ڈانٹا ۔

عِيَاضٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 994

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 995

995 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن سعيد عن سعد بن إسحاق حدثتني زينب Y عن أبي سعيد الخدري أن رجلا من المسلمين قال : يا رسول الله أرأيت هذه الأمراض التي تصيبنا ماذا لنا بها ؟ قال : كفارات قال : أي رسول الله وإن قلت ؟ قال : وإن شوكة فما فوقها قال : فدعا على نفسه أن لا يفارقه الوعك حتى يموت وأن لا يشغله عن حج ولا عمرة ولا جهاد في سبيل الله ولا صلاة مكتوبة في جماعة فما مس إنسان جسده إلا وجد حرها حتى مات K إسناده جيد

حضرت ابو سعیدالخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام میں سے ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بیماریاں جو ہم کو لگتی ہیں ، اس میں ہمارے لیے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : گناہوں کا کفارہ ہے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ تھوڑے ہی مصائب ہوں ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ ایک کانٹا یا اس سے اوپر ہو ، اس نے اپنے لیے دعا کی کہ بخار اس سے جدا نہ ہو مرنے تک اور ایسا بخار ہو کہ اس کی وجہ سے اس کا حج و عمرہ ، اللہ کی راہ میں جہاد اور فرض نماز با جماعت نہ رہے ، اس کے جسم کو کوئی آدمی ہاتھ لگاتا تو گرمی محسوس کرتا یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنَ المسلمين ← سعد بن إسحاق حدثتني زينب ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 995

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 996

996 - حدثنا زهير حدثنا سفيان عن الزهري عن عبيد الله Y عن أبي سعيد ان النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن اختناث الأسقية K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مشکیزے کو اوپر کر کے ، اس کا منہ نیچے کر کے نیچے سے منہ لگا کر پانی پینے سےمنع فرمایا ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 996

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 997

997 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن سعيد حدثنا سعد بن إسحاق قال : حدثتني زينب بنت كعب Y عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن لحوم الأضاحي فوق ثلاثة أيام ثم رخص أن نأكل وندخر قال : فقدم قتادة بن النعمان أخو أبي سعيد فقدموا إليه من قديد الأضحى فقال : كأن هذا من قديد الأضحى ؟ قالوا : نعم قال : أليس قد نهى عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال أبو سعيد : بلى إنه قد حدث فيه أمر كان نهانا عنه أن نحبسه فوق ثلاثة أيام ورخص لنا أن نأكل وندخر K إسناده جيد

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے منع فرمایا کہ ہم قربانی کو گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ہم کو کھانے اور رکھنے کی رخصت دے دی ۔ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ کہ حضرت قتادہ بن نعمان ا بو سعید رضی اللہ عنہ کے بھائی آئے ان کے پاس ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس قر بانی کا گوشت وادی قدیدسے آیا تھا۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا گویا کہ یہ قربانی کا گوشت ہے ؟ وای قدید کا ہے ۔ انہوں نے کہا : جی ہاں ! حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے سے منع نہیں فرمایا؟ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بالکل بات اسی طرح ہے کہ بے شک اس کے مطلقق نیا حکم آ گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم ہم کو تین دن سے زیادہ گوشت رکھنے سے منع کرتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ہم کو قربانی کے گوشت سے کھانے اوت ذخیرہ کرنے کی اجازت دی ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← حدثتني زينب بنت كعب ← سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 997

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 998

998 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن سعيد حدثنا سعد بن إسحاق حدثتني زينب بينت كعب Y عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حرم ما بين لابتي المدينة : أن يعضد شجرها أو يخبط K إسناده جيد

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مدینہ شریف کے دونوں کناروں کو حرام قرار دی ۔ درخت کو جھکا کر پتے جھاڑنے کو ممنوع قرار دیا ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← سعد بن إسحاق حدثتني زينب بينت كعب ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 998

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 999

999 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا محمد بن فضيل عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن عبد الله بن قسيط عن أبي سلمة بن عبد الرحمن و عطاء بن يسار Y عن أبي سعيد الخدري قال : قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم طعاما مختلفا من التمر فتبايعناه بيننا بزيادة فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نبيعه إلا كيلا بكيل K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ہمیں مختلف کھجوریں تقسیم فرمائیں ۔ ہم نے آپس میں زیادتی کے ساتھ فراخت کرنی شروع کیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ہم کو بیع کرنے سے منع کر دیا مگر برا بر بر ابر۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبي سلمة بن عبد الرحمن و عطاء بن يسار ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 999

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1000

1000 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا يعقوب القمي عن ليث عن مجاهد Y عن أبي سعيد الخدري قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أوصني قال : عليك بتقوى الله فإنه جماع كل خير عليك بالجهاد فإنه رهبانية المسلمين عليك بذكر الله وتلاوة كتابه فإنه نور لك في الأرض وذكر لك في السماء واخزن لسانك إلا من خير فإنك بذاك تغلب الشيطان K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس ایک آدمی آیا ، اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! مجھے کوئی وصیت کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : تم تقوی ٰ اختیار کرو ۔ اس میں ہر قسم کی بھلائی ہے ۔تم پر جہاد لازم ہے یہ مسلمانوں کی رہبانیت ہے ۔ تم پر اللہ کا ذکر اور قرآن کی تلاوت ہے یہ تمہارے لیے زمین میں نورہے اور آسمان میں تیرا ذکر کیا جائے گا ، زبان کو ہمیشہ بھلائی کے لیے کھولو اس کے ساتھ شیطان مغلوب ہو جاتا ہے ۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1000

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1001

1001 - حدثنا أبو كريب حدثنا معاوية بن هشام عن شيبان عن فراس عن عطية Y عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لقد دخل الجنة عبد ما عمل خيرا قط قال لأهله حين حضرته الوفاة : إن أنا مت فاحرقوني ثم اسحقوني ثم اذروا نصفي في البحر ونصفي في البر فأمر البحر والبر فجمعاه فقال : ما حملك على ما صنعت ؟ قال : مخافتك فغفر له بذلك K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : بے شک ایک آدمی جنت میں داخل ہو گا اس نے کبھی بھی نیک عمل نہیں کیا تھا ۔ اس نے اپنے خاندان کے لوگوں سے کہا جس وقت اس نے کہا :اگر میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر میری راکھ کو آدھا سمندر میں بہا دینا ، آدھا خشکی میں پھینک دینا ۔ اللہ عزوجل نے خشکی اور سمندر کو حکم دیا تو دونوں نے راکھ کو جمع کیا ۔ اس سے پوچھا گیا : تجھے یہ کرنے پر کس نے ابھارا تھا ؟ اس نے عرض کی : یا الہی ! تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا ، تو اس کو اس وجہ سے بخش دیا گیا ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← فِرَاسٍ، ← شَيْبَانَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1001

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1002

1002 - حدثنا أبو كريب حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان الثوري عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص Y عن عبد الله بنحو هذا الحديث وكان الرجل نباشا فغفر له لخوفه K إسناده صحيح

عبداللہ نے اسی کی مانند حدیث بیان کی ہے (اس میں یہ الفاظ زائد ہیں ؛ ) وہ آدمی کفن چور تھا ۔

أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1002

chevron_left Previous
1…550551552…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter