Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2247

2247 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا روح حدثنا ابن جريج قال : أخبرني أبو الزبير Y أنه سمع جابرا أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا طعم أحدكم فسقطت لقمته من يده فلميط ما أرابه ثم ليطعمها ولا يدعها للشيطان فإن الرجل لا يدري في أي طعامه يبارك له فيه K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اس کا لقمہ گر جائے تو وہ اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ کیونکہ آدمی نہیں جانتا ہے کہ کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جابرا أنه ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2247

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2248

2248 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا روح حدثنا زكريا بن إسحاق حدثنا أبو الزبير Y أنه سمع جابرا يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا رأيتم الهلال فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فعدوا ثلاثين يوما K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو جب حیاند دیکھو تو عید کرو‘ اگر تم پر آسمان غبار آلود ہو تو تیس دن مکمل کرو ۔

جَابِرًا ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2248

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2249

2249 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا روح حدثنا ابن جريج قال : أخبرني أبو الزبير Y أنه سمع جابرا يقول : اعتزل رسول الله صلى الله عليه و سلم نساءه شهرا فخرج صبح تسع وعشرين فقال بعض القوم : يا رسول الله أصبحنا من تسع وعشرين ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الشهر تسع وعشرون ثم صفق النبي صلى الله عليه و سلم بيديه ثلاثا : مرتين بالأصابع كلها والثالثة بتسع منها K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی عورتوں سے ایک ماہ تک علیحدہ رہے‘ انتیس کی صبح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے جب بعض صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول اللہ! ہم نے انتیس کی صبح کی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ تین مرتبہ مارا‘ دو مرتبہ اپنی تمام انگلیوں کے ساتھ تیسری مرتبہ ان میں سے نو کے ساتھ اشارہ کیا۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2249

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2250

2250 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا روح حدثنا ابن جريج قال : أخبرني أبو الزبير Y أنه سمع جابرا يقول : أراد النبي صلى الله عليه و سلم أن ينهى أن يسمى ببركة و أفلح و بيسار و بنافع وبنحو ذلك ثم رأيته سكت بعد عنها فلم يقل شيئا ثم قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم ينه عن ذلك ثم أراد عمر أن ينهى عن ذلك ثم تركه K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ کیا منع کرنے سے کہ ہم نام رکھیں برکتہ‘ فلح ‘ یسار‘ نافع وغیرہ پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد خاموش ہو گئے کسی شئے کا حکم نہیں دیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع بھی نہیں کیا‘ پھر حضرت عمر نے منع کرنے کا ارادہ کیا پھر آپ نے بھی اس کو چھوڑ دیا۔

جَابِرًا ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2250

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2251

2251 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا روح حدثنا ابن جريج قال : أخبرني زياد بن إسماعيل عن سليمان بن عتيق Y عن جابر قال : لما دخلت صفية بنت حيي على النبي صلى الله عليه و سلم فسطاطه حضره ناس وحضرت معهم ليكون لي فيها قسم [ فخرج النبي صلى الله عليه و سلم فقال : قوموا عن أمكم فلما كان من العشي حضرنا ] فخرج النبي صلى الله عليه و سلم في ردائه نحو من مد ونصف من تمر عجوة قال : كلوا من وليمة أمكم K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صفیہ بنت حیی‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خیمہ میں آئیں تو صحابہ کرام تشریف لائے‘ میں بھی ان کے ساتھ آیا تاکہ میں بھی اس لنگر میں شریک ہو جاؤں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: اپنی ماں سے کہو اٹھ جاؤ‘ جب رات ہوئی ۔ ہم حاضر ہوئے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چادر لے کر نکلے باہر اس میں مد اور نصف عجوہ کھجور تھی‘ فرمایا: تم اپنی امی کا ولیمہ کھاؤ۔

جَابِرٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، ← زياد بن إسماعيل ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2251

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2252

2252 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا روح حدثنا زكريا بن إسحاق حدثنا أبو الزبير Y أنه سمع جابر بن عبد الله قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة غزاها وذلك في رمضان فصام رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فضعف ضعفا شديدا وكاد العطش يقتله وجعلت ناقته تد خل العضاه فأخبر به النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ائتوني به فأتي به فقال : ألست في سبيل الله ومع رسول الله ؟ أفطر فأفطر K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے وہ غزوہ رمضان شریف میں ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صحابی روزہ رکھے تھے وہ بہت زیادہ کمزور ہو گئے ۔ قریب تھا کہ پیاس کی وجہ سے فوت ہو جاتے۔ انہوں نے اونٹنی ایک درخت کے نیچے کر لی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو میرے پاس لاؤ ، جب انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تُو اللہ کی راہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں ہے؟ تو افطار کر لے ۔ تو اس نے افطار کر لیا۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2252

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2253

2253 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا روح حدثنا زكريا بن إسحاق حدثنا أبو الزبير Y عن جابر قال : د خل أبو بكر الصد يق يستأذن على رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجد الناس جلوسا ببابه لم يؤذن لأحد منهم قال فأذن لأبي بكر فدخل ثم أقبل عمر فاستأذن فأذن له فوجد النبي صلى الله عليه و سلم جالسا حوله نساؤه واجما ساكتا فقال : لأقولن شيئا أضحك النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله لو رأيت بنت خارجة سألتني النفقة فقمت إليها فوجأت عنقها فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : هن حولي يسألنني النفقة فقام أبو بكر إلى عائشة يجأ عنقها وقام عمر إلى حفصة يجأ عنقها كلاهما يقول : تسألن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما ليس عنده ؟ فقلن : والله لا نسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا أبدا ليس عنده ثم اعتزلهن شهرا - أو تسعا وعشرين - ثم نزل عليه هذه الأية : { يا أيها النبي قل لأزواجك } حتى بلغ : { للمحسنات منكن أجرا عظيما } [ الأحزاب : 28 ، 29 ] قال : فبدأ بعائشة فقال : يا عائشة إني أريد أن أعرض عليك أمرا لا أحب أن تعجلي فيه بشيء حتى تستشيري أبويك قالت : وما هو يا رسول الله ؟ فتلا عليها الآية فقالت : أفيك يا رسول الله أستشير أبوي ؟ بل أختار الله ورسوله و الدار الآخرة وأسألك أن لا تخبر امرأة من نسائك بالذي قلت قال : لا تسألني امرأة منهن إلا أخبرتها إن الله لم يبعثني معنتا ولكن بعثني معلما ميسرا K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی‘ لوگوں کو در اقدس کے دروازے پر پایا‘ ان میں سے کسی نے اجازت نہیں مانگی ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی‘ آپ داخل ہوئے‘ پھر حضرت عمر آئے تو آپ نے بھی اجازت چاہی‘ آپ کو اجازت دی گئی‘ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھا ہوا پایا‘ آپ کے اردگرد آپ کی ازواج خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دل میں فرمایا: میں ضرور کوئی ایسی بات کروں گا جس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش ہو جائیں گے ۔ عرض کی : یا رسول اللہ! اگر آپ دیکھتے کہ بنت خارجہ (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیوی ) نے مجھ سے مانگا ہے‘ میں اس کی طرف کھڑا ہو کر‘ میں نے اس کی گردن مروڑ دوں‘ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے ۔ آپ نے فرمایا: یہ جو میرے اردگرد ہیں جس طرح آپ دیکھ رہے ہیں‘ مجھ سے خرچ مانگ رہی ہیں ۔ حضرت ابو بکر‘ حضرت عائشہ کی طرف کھڑے ہوئے‘ ان کی گردن مروڑی ۔ حضرت عمر‘ حضرت حفصہ کی طرف کھڑے ہوئے‘ انہوں نے ان کی گردن مروڑی‘ دونوں کہہ رہے تھے : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگتی ہو‘ ایسی چیز جو آپ کے پاس نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی شی نہیں مانگیں گی جو آپ کے پاس نہ ہو ۔ پھر آپ کی ایک ماہ یا انتیس دن تک ان سے علیحدہ رہے۔ پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’اے غیب کی خبریں دینے والے! اپنی ازواج کو فرمائیں‘‘ یہاں تک ’’احسان کرنے والیوں سے کہ تم میں سے ہر کے لیے اجرعظیم ہے‘‘۔ آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ابتداء کی‘ فرمایا : اے عائشہ! میں تم سے اس کام کا اعراض کرنا چاہتا ہوں‘ میں پسند کرتا ہوں کہ تو اس معاملہ میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ اپنے ماں باپ سے مشورہ کر لے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے؟ آپ نے یہ آیت تلاوت کی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: کیا آپ کے ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں؟ بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کروں گی‘ میں آپ سے سوال کرتی ہوں کہ آپ اپنی ازواج میں سے کسی کو نہ بتائیں جو میں نے عرض کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی عورت مجھ سے سوال کرے گی تو میں اس کو بتا دوں گا کیونکہ اللہ عزوجل نے مجھے سخت مزاج نہیں بنایا ہے بلکہ مجھے آسانی کرنے والا استاذ بنا کر بھیجا ہے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2253

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2254

2254 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا هشام عن أبي الزبير Y عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ترتدوا الصماء في ثوب واحد ولا يأكل أحدكم بشماله ولا يمشين في نعل واحد ولا يحتبين في ثوب واحد K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہی کپڑے میں صماء نہ کرو (صماء کا مطلب ہے: کوئی آدمی کپڑے کو اس طرح جسم پر لپیٹ لے کہ کسی طرف سے کھلا نہ رہے‘ ہاتھ پاؤں سب بند ہو جائیں، کوئی حصہ کپڑے سے باہر نہ رہے نہ کوئی تم میں اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ ایک جوتی پہن کر چلے اور منع فرمایا کہ کوئی ایک ہی کپڑے میں گوٹ مارے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2254

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2255

2255 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الصمد حدثنا هشام عن أبي الزبير Y عن جابر قال : كنا نعزل على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينهنا عنه K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عزل کرتے تھے‘ آپ اس سے ہم کو منع نہیں کرتے تھے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2255

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2256

2256 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الصمد حدثنا أبي حدثنا القاسم بن عبد الواحد المكي حدثنا عبد الله بن محمد بن عقيل قال Y سمعت جابرا يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العبد إذا تزوج بغير إذن سيده كان عاهرا K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرے‘ وہ نافرمان ہے۔

جَابِرًا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← القاسم بن عبد الواحد المكي ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2256

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2257

2257 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الصمد حدثنا كثير حدثنا عطاء Y عن جابر قال : أرسلني رسول الله صلى الله عليه و سلم فانطلقت ثم رجعت وقد قضيتها فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فسلمت عليه فلم يرد علي فوقع في نفسي ما الله أعلم به قال : قلت : لعل رسول الله صلى الله عليه و سلم وجد علي أني أبطأت ؟ فسلمت عليه فلم يرد علي فوقع في نفسي أشد من الأولى ثم سلمت عليه فرد علي وقال : إنه لم يمنعني أن أرد عليك إلا أني كنت أصلي وكان على راحلته متوجها لغير القبلة K رجاله ثقات

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کہیں بھیجا‘ میں نے کیا‘ پھر وہ کام کر کے واپس لوٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا‘ میں نے آپ پر سلام کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا‘ میرے دل میں کوئی بات آ گئی جسے اللہ جانتا ہے میں نے دل ہی دل میں کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر ناراض نہ ہو گئے ہوں کہ میں نے آنے میں دیر کر دی ہے‘ میں نے پھر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہیں دیا‘ پس میرے دل میں پہلی سے بھی زیادہ سخت بات آ گئی‘ پھر میں نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سلام کا جواب دے کر فرمایا: مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے سوائے اس کے کوئی رکاوٹ نہیں تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے اور آپ کا چہرہ مبارک قبلہ کی طرف نہیں تھا۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← کَثِيرٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2257

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2258

2258 - حدثنا كامل بن طلحة حدثنا الليث بن سعد حدثنا أبو الزبير Y أن جابر بن عبد الله قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : غطوا الإناء وأوكوا السقاء وأطفئوا السراج فإن الشيطان لا يحل سقاء ولا يفتح بابا ولا يكشف إناء وإن لم يجد أحدكم إلا أن يعرض على إنائه عودا ويذ كر الله فليفعل فإن الفويسقة تضرم على أهل البيت بيتهم K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتن ڈھانپ لیا کرو‘ مشکیزے کا منہ بند کر لیا کرو اور چراغ بجھا دیا کرو کیونکہ شیطان مشکیزہ نہیں کھول سکتا نہ بند دروازہ کھول سکتا ہے اور نہ برتن کو کھول سکتا ہے‘ اگر تم میں سے کوئی ڈھانپنے کے لیے کچھ نہ پائے تو اس پر لکڑی رکھ لے اور اللہ کا ذکر کرے تو وہ ایسا ضرور کرے بے شک چوہیا اس کو ( چراغ کی بتی کو) گھسیٹ کر گھر والوں پر لے آئے گی اور جلا دے گی۔

أبو الزبير أن جابر بن عبد الله ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2258

chevron_left Previous
1…242526…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter