Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2199

2199 - حدثنا سفيان حدثنا محمد بن المنكدر عن ابن جريج قال : أخبرني أبو الزبير Y أنه سمع جابر بن عبد الله يسأل عن ركوب البدن فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اركبها بالمعروف إذا ألجئت إليها حتى تجد ظهرا K إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح

حضرت ابو زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا آپ سے قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بھلائی کے ساتھ اس پر سوار ہو جاؤ جب تک سواری نہ پاؤ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ركوب البدن ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2199

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2200

2200 - حدثنا واصل بن عبد الأعلى حدثنا ابن فضيل عن الوليد بن جميع عن أبي سلمة Y عن جابر قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم على المنبر فقال : إنه بينما أناس يسيرون قي البحر فنفذ طعامهم فرفعت لهم جزيرة فخرجوا يريدون الخبز فلقيتهم الجساسة - قلت لأبي سلمة : وما الجساسة ؟ قال : امرأة تجر شعر رأسها - قالت لهم : في هذا القصر خبر ما تريدون فأتوه فإذا هم برجل موثق فقال : أخبروني أو سلوني أخبركم فسكت القوم فقال : أخبروني عن نخل بيسان و أريحيا - أريحا - أأطعم ؟ قالوا : نعم قال : فأخبروني عن حمأة زغر هل فيها ماء ؟ قالوا : نعم قالوا : هو المسيح تطوى له الأرض فيسلكها في أربعين يوما إلا ما كان من طيبة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا وإن طبية هي المدينة ما من باب من أبوابها إلا ملك صالت سيفه يمنعه منها وبمكة مثل ذلك ثم قال : في بحر فارس ما هو في بحر الروم ما هو فقال لي : أبو سلمة إن في هذا الحد يث شيئا ما حفظت قال : شهد جابر بن عبد الله أنه ابن الصياد قلت : فإنه قد مات قال : وإن مات قلت : فإنه أسلم قال : وإن أسلم قلت فإنه قد دخل المدينة قال : و إن دخل المدينة K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک گروہ سمندر میں سفر کرتا ہے‘ اسی دوران ان کا زاد راہ ختم ہو جاتا ہے (جس سے وہ پریشان ہو جاتے ہیں ) پس ان کے لیے ایک جزیرہ بلند ہوتا ہے‘ وہ کھانا تلاش کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں جساسہ ملتی ہے۔ میں نے ابو سلمہ سے سوال کیا ( راوی کا بیان ہے ) جساسہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ عورت جو اپنی جلد اور سر کے بال گھسیٹتی ہے‘ تو وہ کہتی ہے: اس محل میں اس چیز کی خبر ہے جوتم تلاش کر رہے ہو‘ وہ سارا گروہ مل کر اس جگہ آتا ہے‘ وہاں ایک بندھا ہوا آدمی ہے‘ پس وہ کہتا ہے: مجھے بتاؤ! یا مجھ سے پوچھو! ( راوی کو شک ہے کہ ان دو میں سے کون سا لفظ مروی عنہ نے بولا ) میں تمہیں بتاؤں گا۔ (یہ سن کر ) قوم خاموش ہو جاتی ہے۔ پس وہ کہتا ہے: مجھے بیسان اور اریحا کے کھجوروں کے باغ کی خبر دو! کیا اس سے اس نے کھایا۔ وہ کہتے ہیں: ہاں! (خبر دیتے ہیں)۔ وہ کہتا ہے: مجھے زغر کے کیچڑ کی خبر دو گے کیا اس میں پانی ہے؟ وہ کہتے ہیں: ہاں! (بالکل)۔ انہوں نے کہا: وہ مسیح ہے جس کے لیے چالیس دن میں پوری زمین لپیٹ دی جاتی ہے (یعنی وہ اس میں بھرے گا ) مگر مدینہ طیبہ میں داخل نہ ہو سکے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ طیبہ کا کوئی دروازہ ایسا نہیں ہو گا جس پر ایک فرشتہ تلوار سونتے اس کو روکنے کے لیے نہ کھڑا ہو گا اور مکہ میں بھی اسی طرح ۔ پھر فرمایا: فارس کے سمندر میں کیا ہے؟ روم کے سمندر میں کیا ہے؟ یہ بات تین بار فرمائی‘ پھر تین بار اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر مارا۔ سو ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا: اس حدیث میں ایک ایسی چیز ہے جس کو میں نے یاد کیا۔ ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جناب جابر نے گواہی دی کہ وہ ابن صیاد ہے۔ میں نے کہا: نہیں! کیونکہ وہ تو فوت ہو چکا ہے انہوں نے کہا: اگرچہ وہ فوت ہو چکا‘ میں نے کہا: وہ اسلام لایا ؟ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ مسلمان بھی ہوا‘ میں نے کہا: وہ مدینہ میں داخل ہوا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ مدینہ میں بھی داخل ہوا ۔

جَابِرٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2200

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2201

2201 - حدثنا الحسين بن يزيد الطحان حدثنا إبراهيم بن عيينة عن أبي طالب عن محارب Y عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم الإدام الخل وكفى بالمرء شرا أن يتسخط ما قرب إليه K إسناده حسن

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین سالن سرکہ ہے۔ آدمی کے بدترین ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ناراض ہو‘ اس سے جو اس کے قریب کیا جائے ۔

جَابِرٍ ← مُحَارِبٍ ← أبي طالب ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← الحسين بن يزيد الطحان

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2201

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2202

2202 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سالم المفلوج - ثقة حدثنا محمد بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين عن أبيه عن جده Y عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رمل من الحجر إلى الحجر

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پتھر سے لے کر دوسرے پتھر تک رمل کیا۔

جَابِرٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← محمد بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين ← عبد الله بن محمد بن سالم المفلوج ثقة

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2202

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2203

2203 - حدثنا سفيان بن وكيع حدثنا أبي عن إبراهيم بن يزيد عن أبي الزبير Y عن جابر قال : كنا في سفر فصام رجل فغشي عليه فوقف عليه أصحابه فمر النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : صام قال النبي صلى الله عليه و سلم : ليس من البر الصوم في السفر K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سفر میں تھے کہ ایک آدمی نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ اس پر غشی طاری ہو گئی تو صحابہ کرام اس پر ٹھہرنے لگے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قریب سے گزرے تو ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ روزہ کی حالت میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر کی حالت میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ← أَبِي ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2203

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2204

2204 - حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة حدثنا ابن أبي زائدة عن ابن جريج عن أبي الزبير Y عن جابر قال سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اركبها بالمعروف إذا ألجئت إليها حتى تجد ظهرا - يعني به البدنة K إسناده صحيح

حضرت ابو زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا آپ سے قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بھلائی کے ساتھ اس پر سوار ہو جاؤ جب تک سواری نہ پاؤ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2204

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2205

2205 - حدثنا جبارة بن مغلس حدثنا أبو بكر النهشلي حدثنا الهيثم بن أبي الهيثم Y عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم احتجم في الأخدعين وبين الكتفين وأعطى الحجام أجره ولو كان حراما لم يعطه K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھنے لگوائے دونوں رخساروں اور دونوں کندھوں کے درمیان‘ حجام کو اس کی مزدوری بھی دی‘ اگر یہ پچھنے لگانا حرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدوری نہ دیتے ۔

جَابِرٍ ← الهيثم بن أبي الهيثم ← أَبُو بَکْرٍ النَّهْشَلِيُّ ← جبارة بن مغلس

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2205

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2206

2206 - حدثنا مسروق بن المرزبان حدثنا حفص بن غياث عن ابن جريج عن محمد بن عباد بن جعفر Y عن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صيام يوم الجمعة مفردا K إسناده حسن

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔

صيام يوم الجمعة مفردا إسناده حسن ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2206

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2207

2207 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا عبد الرحيم بن سليمان حدثنا أشعث عن أبي الزبير المكي قال Y سألت جابر بن عبد الله عن الحنطة بالتمر وفضل يدا بيد فقال : قد كنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم نشتري الصاع الحنطة بستة آصع من تمر يدا بيد فإن كان نوعا واحدا فلا خير فيه إلا مثلا بمثل K إسناده ضعيف

حضرت ابی زبیر المکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ سے گندم ، کھجور کے بدلے لینے کے متعلق پوچھا: زیادتی کے ساتھ نقد نقد ؟ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہم ایک صاع خریدتے تھے چھ صاع کھجوروں کے بدلے نقد نقد ۔ اگر ایک جنس ہو تو پھر بھلائی نہیں‘ اس طرح فروخت کرنے میں مگر برابر برابر۔

الحنطة بالتمر وفضل يدا بيد ← سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي الزبير المكي ← أَشْعَثَ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2207

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2208

2208 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد عن سعيد الجريري عن أبي نضرة Y عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان في سفر في رمضان فأتى هو وأصحابه غدير فقال للقوم : اشربوا قالوا : نشرب ولا تشرب ؟ فقال : إني أيسركم إني راكب فنزل فشرب وشربوا K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان شریف میں ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ایک نہر پر آئے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : پیو، عرض کی گئی: ہم پئیں اور آپ نہ پئیں‘ ایسا نہیں ہوسکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے تم پر آسانی کرنے کے لیے کیا ہے‘ میں سوار ہوا۔ آپ نیچے اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا ،صحابہ کرام نے بھی پیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2208

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2209

2209 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا محمد بن إسحاق عن عطاء Y عن جابر قال : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة أتاه أصحاب الصليب الذين يجمعون الأوداك فقالوا : يا رسول الله إنا نجمع هذه الأوداك من الميتة وغيرها وإنما هي للأدم والسفن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قاتل الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فباعوها وأكلوا أثمانها فنهاهم عن ذلك K رجاله ثقات

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صلیب والے آئے جو چربی جمع کرتے تھے تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم یہ چربی جمع کرتے ہیں جو مردار وغیرہ کی ہوتی ہے اور یہ سالن کشتیوں پر ملنے کے کام آتی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ یہود کو برباد کرے! ان پر چربی حرام تھی‘ سو وہ اسے بیچتے تھے اور اس کی قیمت استعمال میں لاتے تھے ‘ سو انہیں اس سے بھی منع کر دیا گیا۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2209

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2210

2210 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا سفيان بن حسين عن محمد بن المنكدر Y عن جابر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عال ثلاثا من بنات يكفيهن و يرحمهن ويرفق بهن فهو في الجنة فقال رجل : يا رسول الله واثنتين ؟ قال واثنتين حتى قلنا : إن إنسانا لو قال : واحدة لقال واحدة K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بچیاں ہوں‘ اس نے ان کی پرورش کی ، ان پر شفقت کی اور ان کے ساتھ نرمی کی وہ جنت میں ہو گا۔ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر دو ہوں تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو بھی جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہیں یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ اگر یہ آدمی ایک کے متعلق پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور ایک کے متعلق بھی یہی فرماتے ۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2210

chevron_left Previous
1…202122…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter