Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2773

2773 - حدثنا محمد بن عباد المكي و حاتم بن إسماعيل حدثنا شريك عن الأعمش عن يزيد بن أبان عن الحسن عن أنس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن القرآن غنى لا فقر بعده ولا غنى دونه K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک قرآن غنی کرنے والا ہے، قرآن کے بعد فقر نہیں اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی غنی ہے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← محمد بن عباد المكي و حاتم بن إسماعيل

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2773

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2774

2774 - حدثنا محمد بن عباد المكي حدثنا أبو سعيد مولى بني هشام عن مبارك عن الحسن عن أنس قال Y غلا السعر على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : يا رسول الله لو سعرت لنا ؟ فقال : إن الله هو القابض الباسط إني لأمنعكم ولا أعطيكموه إني لأرجو أن ألقى الله وليس أحد منكم يطلبني بمظلمة ظلمتها إياه في نفس ولا مال K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں اشیاء کے نرخ بہت مہنگے ہو گئے ، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ہمارے لیے نرخ مقرر فرمائے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ ہی رزق کو تنگ کرنے والا اور وہی اس کو پھیلانے والا ہے۔ بے شک نہ ہی میں نے وہ تم سے روکا ہے اور نہ ہی تم کو وہ دیا ہے میں تو اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کوئی ایک بھی مجھ سے کسی بھی زیادتی کا مطالبہ نہ کرے جو کہ میں نے اس پر کی ہو نہ ہی کسی کی ذات میں اور نہ ہی کسی کے مال میں ۔

غلا السعر على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا ← أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكٌ، ← أبو سعيد مولى بني هشام ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2774

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2775

2775 - حدثنا الحكم بن موسى حدثنا مبشر بن إسماعيل الحلبي عن تمام بن نجيح عن الحسن عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من حافظين رفعا إلى الله ما حفظا فيرى الله في أول الصحيفة خيرا ـ أو في آخرها ـ إلا قال الله لملائكته : اشهدوا أني قد غفرت لعبدي ما بين طرفي الصحيفة K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حافظین ( کراماً کاتبین ) جو بھی محفوظ کرتے ہیں وہ اس کو محفوظ کر کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھیج کر دیتے ہیں جو بھی انہوں نے محفوظ کیا ہوتا ہے۔ صحیفے کے اوّل میں اور اس کے آخر میں اللہ تعالیٰ بھلائی دیکھے تو اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرماتا ہے: گواہ ہو جاؤ میں نے اپنے بندے کے صحیفے کی دونوں طرفوں کے جو کچھ بھی مابین ہے اس کو بخش دیا۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← تمام بن نجيح ← مبشر بن إسماعيل الحلبي ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2775

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2776

2776 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن الزبرقان أبو همام الأهوازي عن يونس عن الحسن عن أنس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يبيع حاضر لباد وإن كان أخاه أو أباه K رجاله رجال الصحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے اگرچہ وہ اس کا بھائی ہو یا اس کا باپ ۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← محمد بن الزبرقان أبو همام الأهوازي ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2776

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2777

2777 - حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن عن أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المرء مع من أحب K رجاله رجال الصحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ جنت میں ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← حَفْصٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2777

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2778

2778 - حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا أبو معاوية حدثنا إسماعيل بن مسلم عن الحسن عن أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن والحارث K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین نام عبداللہ ،عبدالرحمٰن اور حارث ہیں ۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2778

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2779

2779 - حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا محمد بن بشر حدثنا الحسن بن صالح عن أبي ربيعة عن الحسن عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاثة تشتاق إليهم الجنة : علي و عمار و سلمان

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین ایسے شخص ہیں جن کی جنت مشتاق ہے :علی‘ عمار اور سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← أبي ربيعة ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2779

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2780

2780 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا يحيى بن آدم حدثنا الحسن بن صالح عن أبي ربيعة عن الحسن عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجنة تشتاق إلى ثلاثة : علي و عمار و سلمان

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت مشتاق ہے تین آدمیوں کی :علی ،عمار اور سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← أبي ربيعة ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2780

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2781

2781 - حدثنا الحسن بن عمر بن شقيق الجرمي حدثنا أبي عن إسماعيل بن مسلم عن الحسن عن أنس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي على راحلته K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری مبارک پر نماز پڑھتے تھے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← أَبِي ← الحسن بن عمر بن شقيق الجرمي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2781

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2782

2782 - حدثنا أبو يوسف الجيزي حدثنا مؤمل أخبرنا مبارك عن الحسن عن أنس قال Y كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وعنده عمر بن الخطاب ورسول الله على سرير شريط ليس بين جنب رسول الله صلى الله عليه و سلم وبين الشريط شيء قال : وكان أرق الناس بشرة فانحرف انجرافة وقد أثر الشريط ببطن جلده ـ أو بجنبه ـ فبكى عمر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يبكيك ؟ قال : أما والله ما أبكي يا رسول الله أن لا أكون أعلم أنك أكرم على الله من قيصر و كسرى إنهما يعيثان فيما يعيثان فيه من الدنيا وأنت رسول الله بالمكان الذي أرى ؟ فقال : يا عمر أما ترضى أن تكون لنا الآخرة ولهم الدينا ؟ قال : بلى قال : فإنه كذلك K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار پائی پر جلوہ افروز تھے اور وہ کھجور کے چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی تھی ۔ نبی کریم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو مبارک اور ان رسیوں کے مابین کوئی چیز بھی نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے نرم جلد والے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھوڑا سا پہلو تبدیل فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلد مبارک یا پہلو مبارک ( راوی کو شک ہے ) پر اس رسی کے نشانات واضح تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تجھے کس شے نے رُلایا ؟ عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم! مجھے اس شے نے رلایا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے نزدیک قیصر روم اور کسریٰ ایران سے کئی گناہ زیادہ عزت والے ہیں اور وہ دونوں اس دنیا میں دنیا کی اعلیٰ ترین آسائشوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور اس مکان میں زندگی شریف بسر فرما رہے ہیں جس کو میں دیکھ رہا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! جی ہاں! میں اس پر خوش ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر معاملہ اسی طرح ہے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكٌ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أبو يوسف الجيزي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2782

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2783

2783 - حدثنا موسى بن محمد بن حيان حدثنا الضحاك بن مخلد عن المبارك بن فضالة عن الحسن عن أنس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان على سرير وهو مرمل بشريط قال : فدخل عليه ناس من أصحابه قال : ودخل عمر فانحرف النبي صلى الله عليه و سلم فإذا الشريط قد أثر بجنبه فبكى عمر وقال : والله لنعلم أنك أكرم على الله من كسرى و قيصر وهما يعيثان فيما يعيثان فيه قال : أما ترضى أن تكون لهم الدينا ولنا الآخرة ؟ قال : بلى قال : فسكت K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چار پائی پر جلوہ افروز تھے اور وہ کھجور کے پتوں کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ داخل ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پہلو مبارک تبدیل فرمایا‘ اس رسی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلد مبارک میں نشان ڈال دیئے تھے تو (اس معاملے کو دیکھ کر ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیصر و کسریٰ سے بہت زیادہ عزت والے ہیں لیکن وہ دونوں دنیا کی آسائشوں میں زندگیاں گزار رہے ہیں جیسا کہ دہ گزار رہے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا اور ہمارے لیے آخرت؟ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: جی ہاں! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر خاموش ہو جاؤ۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← الضحاك بن مخلد ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2783

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2784

2784 - حدثنا عمرو بن الضحاك بن مخلد [ حدثنا أبو عاصم عن ] سالم الخياط عن الحسن عن أنس قال Y ما شممت مسكة ولا عنبرة أطيب رائحة من رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو مبارک سے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ اچھی کبھی کوئی خوشبو اور نہ ہی کوئی عطر سونگھی ہے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← سَالِمٍ الْخَيَّاطِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2784

chevron_left Previous
1…127128129…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter