Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2713

2713 - حدثنا بشر بن سيحان حدثنا يزيد بن زريع عن سيعد بن أبي عروبة عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أحسن ما غيرتم به الشيب الحناء والكتم

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے اچھا جس کے ساتھ تم اپنے بڑھاپے کو بدلتے ہو وہ مہندی اور کتم ہے۔

أحسن ما غيرتم به الشيب الحناء والكتم ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← سيعد بن أبي عروبة ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← بشر بن سيحان

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2713

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2714

2714 - حدثنا حجاج بن يوسف حدثنا يونس بن محمد و حجين بن المثنى قال يونس : حدثنا حبان بن علي عن عقيل عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير الأصحاب أربعة وخير السرايا أربع مئة وخير الجيوش أربعة آلاف وما هزم قوم بلغوا اثني عشر ألفا من قلة إذا صدقوا وصبروا . إلا أن حجينا قال : عن ابن شهاب ولم يقل في آخر الحديث وصبروا K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین ساتھی چار ہیں ، بہترین سرایا وہ جس میں چار سو لوگ ہیں اور بہترین لشکر وہ جو چار ہزار پر مشتمل ہو‘ بارہ ہزار قلت کی بنا پر مغلوب نہیں ہو سکتے‘ جب وہ صدق ِدل سے صبر کے ساتھ لڑیں، مگر حجین نے کہا: حضرت ابن شہاب سے روایت ہے اور انہوں نے حدیث کے آخر میں ’’وصبروا‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← حبان بن علي ← يُونُسَ ← يونس بن محمد و حجين بن المثنى ← حجاج بن يوسف

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2714

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2715

2715 - حدثنا زهير بن حرب حدثنا يحيى بن أبي بكر حدثنا الحسن بن صالح عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجز شاربه وكان إبراهيم يجز شاربه K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مونچھوں کو تراشتے تھے اور ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھوں کو تراشتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2715

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2716

2716 - أخبرنا أبو يعلى حدثنا زهير حدثنا بشر بن السري حدثنا شعبة عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الخنصر والإبهام سواء K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خنصر اور انگوٹھا(دیت) میں برابر ہیں۔

الخنصر والإبهام سواء إسناده صحيح ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو يَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2716

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2717

2717 - حدثنا زهير حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن طاووس عمن سمع ابن عمر و ابن عباس يحدثان Y عن النبي صلى الله عليه و سلم : لا يجل لرجل مسلم أن يعطي العطية ثم يرجع فيها إلا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يرجع في عطيته كمثل الكلب أكل حتى إذا شبع قاء ثم رجع في قيئه K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو عطیہ دے کر واپس لے لے مگر باپ جو اس نے اپنے بیٹے کو دیا ہے وہ واپس لے سکتا ہے۔ اس کی مثال جو کسی کو عطیہ دے کر واپس لیتا ہے اس طرح جس طرح کتا جب سیر ہو جائے وہ قئے کر کے دوبارہ چاٹ لیتا ہے ۔

ابن عمر و ابن عباس يحدثان ← طاووس عمن ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2717

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2718

2718 - حدثنا زهير أخبرنا يزيد بن هارون أخبرنا محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يوم الحديبية : يرحم الله المحلقين قال : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال : يرحم الله المحلقين قالوا : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال : يرحم الله المحلقين قالوا : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال ] : والمقصرين قالوا : يا رسول الله ما بال المحلقين لم ظاهرت لهم بالترحم ؟ قال رضي الله عنه إنهم لم يشكوا K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرتے تھے: اے اللہ! حلق کرنے والوں کو بخش دے، ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ ! قصر کرنے والوں کے لیے بھی دعا کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دعا کی: اے اللہ ! حلق کرنے والوں کو بخش دے۔ تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ دعا کی : اے اللہ ! قصر کرنے والوں کو بھی بخش دے۔صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بال کاٹنے والوں کو دوسروں پر ترجیح دینے کی حکمت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ انہوں نے شک نہیں کیا ( بال چھوٹے کرنے والوں کو شک رہتا ہے کہ شاید اس سے کم یا زیادہ کاٹنے ہوں )۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2718

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2719

2719 - حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا ثابت أبو زيد عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عم سعيد بن جبير عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لهذا الحجر لسانا وشفتين يشهدان لمن استلمه يوم القيامة بحق K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پتھر ( حجر اسود ) کے دو ہونٹ اور ایک زبان ہو گی دونوں گواہی دیں گے اس کے لیے جس نے اس کو بوسہ دیا ہو گا قیامت کے دن حق کے ساتھ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عبد الله بن عثمان بن خثيم عم سعيد بن جبير ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2719

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2720

2720 - حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا ثابت أبو زيد عن هلال عن عكرمة عن ابن عباس قال Y أسري بالنبي صلى الله عليه و سلم إلى بيت المقدس ثم جاء من ليلته فحدثهم بمسيره وبعلامة بيت المقدس وبعيرهم قال : قال : أناس نحن لا نصدق محمدا فارتدوا كفارا فضرب الله أعناقهم مع أبي جهل قال : وقال أبو جهل : يخوفنا محمد بشجرة الزقوم ؟ هاتوا تمرا وزبدا تزقموا قال : ورأى الدجال في صورته رؤيا عين ليس رؤيا منام وعيسى بن مريم وإبراهيم قال : فسئل النبي صلى الله عليه و سلم عن الدجال فقال : رأيته فيلمانيا أقمر هجانا إحدى عينيه قائمة كأنها كوكب دري كأن شعره أغصان شجرة ورأيت عيسى شابا أبيض جعد الرأس حديد البصر مبطن الخلق ورأيت موسى أسحم آدم كثير الشعر ! شديد الخلق ورأيت إبراهيم فلا أنظر إلى إرب من آرابه إلا نظرت إليه كأنه صاحبكم قال : وقال لي جبريل : سلم على أبيك فسلمت عليه K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المقدس کی سیر کروائی گئی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات آئے ان کو بتایا سیر کے متعلق اور بیت المقدس کی نشانی ۔مشرکین کہنے لگے: ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق نہیں کرتے ہیں۔لوگوں نے کہا: ہم محمد کی تصدیق نہیں کریں گے‘ وہ کافر ہو کر مرتد ہو گئے‘ اللہ عزوجل نے ابو جہل کے ساتھ ان کو مارا۔ ابو جہل کہنے لگے: محمد! ہم کو زقوم کے درخت سے ڈراتا ہے‘ کھجور اور مکھن لے آ ؤ‘ وہ زقوم کی طرح ہو جائے گا‘ اس نے دجال کو اپنی جاگتی آنکھ سے دیکھا ہے نہ کہ صرف خواب میں اور عیسیٰ ابن مریم اور ابراہیم کو دیکھا ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا دجال کے دیکھنے کے متعلق تو آپ نے فرمایا: میں نے اس کو دیکھا ہے‘ جسم بھاری بھرکم‘ چاند سے چمکیلا‘ اعلیٰ نسب والا‘ اس کی ایک آنکھ ہے اس طرح گویا وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے‘ اس کے بال ایسے ہیں جس طرح درخت کی ٹہنیاں ہوتی ہیں‘ میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا وہ نوجوان تھے‘ سفید رنگ والے تھے‘ آپ گھنگھریالے بالوں والے تھے‘ تیز نگاہ والے تھے‘ خوش اخلاق تھے‘ میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ تھوڑے گھنگھریالے بالوں والے تھے لیکن بال مبارک بہت زیادہ تھے‘ سخت طبیعت کے تھے‘ میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا‘ میں نے آپ کے اعضاء میں ایک ایک عضو کو دیکھا مگر میں نے ان کی طرف دیکھا گویا وہ تمہارا صاحب ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خود اپنی ذات ِپاک ۔ مجھے جبرائیل نے عرض کی : اپنے والد ماجد کو سلام کریں تو میں نے ان کو سلام کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالٍ، ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2720

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2721

2721 - بسم الله الرحمن الرحيم أخبرنا الشيخ الخليل أبوسعد بن أبي بكر من محمد بن عبد الرحمن الجنزروذي قراءة عليه فأقربه وقال نعم أخبرنا أبو عمرو بن أحمد بن سنان المقري الحيري سنة سبعين وثلاث مئة أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي التيمي سنة ست وثلاث مئة حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا أبو عوانة وضاح عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اتقوا الحديث عني إلا ما علمتم فإنه من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار ومن كذب بالقرآن بغير علم فليتبوأ مقعده من النار K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری حدیث بیان کرنے میں احتیاط کیا کرو۔ وہی بیان کرو جس کا تم کو علم ہو ۔ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔جس نے قرآن میں بغیر علم کے کہا اس کو بھی چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ۔

بسم الله الرَّحْمَن الرحيم.

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2721

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2722

2722 - حدثنا زهير حدثنا يونس بن محمد حدثنا دواد بن أبي الفرات عن علباء عن عكرمة عن ابن عباس قال Y خط رسول الله صلى الله عليه و سلم في الأرض أربعة خطوط فقال : أتدرون ما هذا ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم فقال رسول الله صلى اله عليه وسلم : أفضل نساء أهل الجنة خديجة بنت خويلد فاطمة بنت محمد مريم بنت عمران و آسية بنت مزاحم امرأة فرعون K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار خط کھینچے، فرمایا: جانتے ہیں یہ کیا ہیں؟ عرض کی : اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کی افضل ترین عورتوں میں حضرت خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ، مریم بنت عمران ، آسیہ بنت مزاحم ( فرعون کی بیوی ہیں )۔

اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← أتدرون ما هذا ← خط رسول الله صلى الله عليه و سلم في الأرض أربعة خطوط ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عِلْبَاءَ، ← دواد بن أبي الفرات ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2722

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2723

2723 - حدثنا زهير حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن إسحاق قال : ذكر طلحة بن نافع عن سعيد عن عبد الله بن عباس قال Y تزوج رجل من الأنصار امرأة من بني عجلان فدخل بها فبات عندها فلما أصبح قال : ما وجدتها عذراء قال : فرفع شأنها رسول الله صلى الله عليه و سلم فدعا الجارية فسألها فقالت : بلى قد كنت عذراء فال : فأمر بهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فتلاعنا وأعطاها المهر K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصار کے آدمی نے بنی عجلان کی عورت سے شادی کر لی۔ اس کے پاس گیا رات اس کے ہاں گزاری جب صبح ہوئی اس نے کہا کہ میں نے اس کو کنواری نہی پایا۔ یہ معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچی کو بلوایا اور اس سے پوچھا اس کے متعلق ۔ اس نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ! میں کنواری تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ دونوں کے درمیان لعان کرنے کا اور اس کو مہر دیا۔

ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2723

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2724

2724 - حدثنا زهير حدثنا أحوص بن جواب الضبي حدثنا عمار بن زريق عن محمد بن عبد الرحمن عن عبد الكريم عن مجاهد عن ابن عباس قال Y نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن خواتيم الذهب والقسية والمثيرة الحمراء المشبعة من المعصفر وعن أن يقرأ القرآن وهو راكع أو ساجد K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا: سونے کی انگوٹھی ،مصری و شامی ریشم‘ میثرہ‘ حمراء جو رنگ کیا گیا ہو معصفر سے اور قرآن رکوع اور سجدہ کی حالت میں پڑھنے سے۔

خواتيم الذهب والقسية والمثيرة الحمراء المشبعة من المعصفر ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عمار بن زريق ← أحوص بن جواب الضبي ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2724

chevron_left Previous
1…122123124…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter