Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2665

2665 - وعن ابن عباس في قوله Y { رخاء حيث أصاب } [ ص : 36 ] قال الرخاء : المطيعة وأما قوله : { حيث أصاب } قال : حيث أراد

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کا ’’رخاء حيث أصاب ‘‘الرخاء سے مراد اطاعت ہے‘ حيث اصاب سے مراد جیسے اس کا ارادہ ہے ۔

حيث أراد ← الرخاء المطيعة وأما قوله حيث أصاب ← وعن ابن عباس في قوله رخاء حيث أصاب ص

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2665

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2666

2666 - وعن ابن عباس في قوله Y { فأصابها إعصار فيه نار فاحترقت } [ البقرة : 266 ] قال الإعصار : الريح الشديد K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ارشاد کا ’’اعصارفيه الىٰ آخرہ‘‘(البقرہ:266 ) کا معنی اعصار سے مراد سخت ہوائیں ۔

الإعصار الريح الشديد إسناده ضعيف جدا ← وعن ابن عباس في قوله فأصابها إعصار فيه نار فاحترقت البقرة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2666

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2667

2667 - وعن ابن عباس في قوله Y { أضغاث أحلام } [ يوسف : 44 ] قال : هي الأحلام الكاذبة K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کا معنی’’اضغاث احلام‘‘ احلام سے مراد جھوٹی خوبیاں ہیں ۔

هي الأحلام الكاذبة إسناده ضعيف جدا ← وعن ابن عباس في قوله أضغاث أحلام يوسف

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2667

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2668

2668 - وعن ابن عباس Y في قوله عز و جل { الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس } [ البقرة : 275 ] قال : يعرفون يوم القيامة بذلك لا يستطيعون القيام إلا كما يقوم المجنون المخنق { ذلك بأنهم قالوا إنما البيع مثل الربا } [ البقرة : 275 ] ـ كذبوا على الله ـ { وأحل الله البيع وحرم الربا فمن جاءه موعظة من ربه فانتهى فله ما سلف وأمره إلى الله ومن عاد فأولئك أصحاب النار هم فيها خالدون } [ البقرة : 275 ] وقوله : { يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين * فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله } إلى آخر الآية [ البقرة : 278 279 ] فبلغنا والله أعلم ـ أن هذه الآية نزلت فب بني عمرو بن عمير بن عوف من ثقيف وفي بني المغيرة من بني مجزوم كانت بنو المغيرة يربون لثقيف فلما أظهر الله [ رسوله ] على مكة وضع يومئذ الربا كله وكان أهل الطائف قد صالحوا على أن لهم رباهم وما كان عليهم من ربا فهو موضوع وكتب رسول الله صلى الله عليه و سلم في آخر صحيفتهم أن لهم ما للمسلمين وعليهم ما على المسلمين : أن لا يأكلوا الربا ولا يؤاكلوه فأتاهم بنو عمرو بن عمير وبنو المغيرة إلى عتاب بن أسد ـ وهو على مكة ـ فقال بنو المغيرة : ما جعلنا أشقى الناس بالربا ؟ وضع عن الناس غيرنا فقال بنو عمرو بن عمير : صولحنا على أن لنا ربانا فكتب عتاب ابن أسيد في ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فنزلت هذه الآية { فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله } [ البقرة : 279 ] فعرف بنو عمرو أن الإيذان لهم بحرب من الله ورسوله بقوله { وإن تبتم فلكم رؤوس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون } [ البقرة : 279 ] { ولا تظلمون } فتأخذون أكثر { ولا تظلمون } فتبخسون منه { وإن كان ذو عسرة } أن تذروه خير لكم إن كنتم تعلمون { فنظرة إلى ميسرة وأن تصدقوا خير لكم إن كنتم تعلمون * واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله ثم توفى كل نفس ما كسبت وهم لا يظلمون } [ البقرة : 280 ، 281 ] فذكروا أن هذه الآية نزلت وآخر أية من سورة النساء نزلتا آخر القرآن K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ اللہ عزوجل کے اس ارشاد کا معنی بیان کرتے ہیں کہ الذين يأكلون الى ٰ آخره ‘‘ (البقرہ:۴ ۲۷ ) وہ قیامت کے دن پہچانے جائیں گے، اس کے ساتھ کہ وہ کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھیں گے، مگر ایسے جس طرح کوئی مجنون کھڑا ہوتا ہے۔’’یہ اس لیے انہوں نے کہا: بیع سود کی مثل ہے‘‘۔ انہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا ۔’’ حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا ہے جو اپنے رب کی نصیحت کی طرف آئے وہ باز آ جائے جو دوبارہ کھائے‘‘۔ پس جس نے سود کھایا ’’یعنی لوگ اصحاب النار ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ (البقرہ:۸۱) ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، چھوڑو جو سود باقی ہے اگر تم ایمان والے ہو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ‘‘ (البقرہ:۲۷۹) ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ یہ آیت بنی عمر و بن عمیر بن عوف‘ قبیلہ ثقیف والے اور بنی مغیرہ قبیلہ بنی مخزوم والے کے متعلق نازل ہوئی۔ بنو مغیرہ‘ قبیلہ ثقیف والوں کوسود دیتے تھے‘ جب اللہ عزوجل نے اپنے رسول کو مکہ پر غلبہ دیا‘ سود ان تمام سے ختم کر دیا‘ اہل طائف نے ان ے صلح کی کہ ان کے لیے سود ہو گا اور ان پر سود نہیں ہو گا ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف خط لکھا کہ نہ ان کے لیے نہ مسلمانوں کے لیے سود جائز ہے کہ وہ سود نہ خود کھائیں اور نہ کھلائیں۔ بنوعمرو بن مغیرہ اور بنو مغیرہ‘ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے‘ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ کے گورنر تھے ۔ بنو مغیرہ نے کہا: ہم لوگوں میں سب سے بڑا بد بخت وہ ہو گا جوسود لیتا ہو گا‘ سود ہمارے علاوہ اور لوگوں کے لیے رکھا گیا ہے۔ بنو عمرو نے کہا: ہم پرصلح کی گئی ہے کہ ہمارے لیے سود ہو گا۔حضرت عتاب بن اُسید نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف خط لکھا تو اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’اگر تم سود لینے سے باز نہ آئے تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑائی کے لیے تیار ہو جاؤ‘‘۔ بنو عمروکومعلوم ہو گیا کہ سود لینے کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کا اعلان ہے ’’اگر تم توبہ کر لو تو اصل مال تمہارا ہے نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا‘‘ تم ظلم نہ کرو کہ تم زیادہ لو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا کہ اس سے کمی کرو‘ اگر تنگ دست ہو تو مہلت دو اگر صدقہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو اللہ سے ڈرو اور اس دن سے کہ تم اس کی طرف لوٹ کر جاؤ گے پھر ہر جان کو پورا پورا اجر دیا جائے گا جو اس نے کمایا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘ یہ آیت ذکر کی اور سورۃ النساء کی آیت ذکر کی‘ دونوں قرآن کی آخری آیت نازل ہوئی۔

ابن عباس في قوله عز و جل

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2668

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2669

2669 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا وكيع بن الجراح عن شيخ سماه وكيع قال : سمعت طاووسا يحدث عن عبد الله الأزدي أو عبيد الله الأزدي شك أبو عثمان عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوحي إلي أن أسجد على سبعة أعظم ولا أكف شعرا ولا ثوبا K إسناده ضعيف غير أن الحديث صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وحی کی گئی ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں اور کپڑے اور بالوں سے نہ کھیلوں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عبد الله الأزدي أو عبيد الله الأزدي شك أبو عثمان ← طَاوُوسًا ← شيخ سماه وكيع ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2669

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2670

2670 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوري قال : أخبرني زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم تمضمض واستنشق وغسل وجهه وغسل ذراعيه مرة ويده مرة ومسح برأسه وأذنيه K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا‘ ایک ایک مرتبہ اور سر کا مسح کیا۔ ہمارے اصحاب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آپ نے دونوں پاؤں بھی دھوئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عبد العزيز بن محمد الدراوري ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2670

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2671

2671 - وأخبرني بعض أصحابنا أن ابن عباس قال Y وغسل رجليه K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کُلی اور ناک میں ایک ہی مرتبہ پانی ڈالا ۔

وغسل رجليه إسناده ضعيف ← وأخبرني بعض أصحابنا أن ابن عباس

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2671

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2672

2672 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا عبد العزيز بن محمد عن زيد بن أسلم قال : حدثني عطاء عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ فتمضمض واستنشق من غرفة واحدة K إسناده صحيح

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2672

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2673

2673 - حدثنا نصر بن علي بن نصر الجهضمي حدثنا موسى بن المغيرة حدثنا أبو موسى الصفار قال Y سألت ابن عباس ـ أو سئل ـ أي الصدقة أفضل ؟ قال : قال رسول الله صلى الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصدقة الماء ألم تسمع إلى أهل النار لما استغاثوا بأهل الجنة قالوا : { أفيضوا علينا من الماء أو مما رزقكم الله } [ الأعراف : 50 ] K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابو موسیٰ الصفار فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا یا سوال کیا گیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: افضل صدقہ پانی ہے، کیا تو نے سنا نہیں کہ جب اہل جہنم‘ اہل جنت سے مدد طلب کریں گے تو وہ کہیں گے ’’ہم پر پانی بہاؤ یا جو اللہ نے تم کو دیا ہے‘‘۔

سألت ابن عباس أو سئل أي الصدقة أفضل ← أبو موسى الصفار ← موسى بن المغيرة ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2673

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2674

2674 - حدثنا الحسن بن شبيب حدثنا شريك عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والله لأغزون قريشا والله لأغزون قريشا والله لأغزون قريشا ـ إن شاء الله من حفظي هذا أو نحوه K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے جہاد کروں گا‘ اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے جہاد کروں گا‘ اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے جہاد کروں گا‘ اگر اللہ نے چاہا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← الحسن بن شبيب

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2674

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2675

2675 - حدثنا عبد الغفار بن عبد الله حدثنا علي بن مسهر عن مسعر بن كدام عن سماك بن حرب عن عكرمة عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم والله لأغزون قريشا والله لأغزون قريشا والله لأغزون قريشا ثم سكت ساعة فقال : إن شاء الله K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے جہاد کروں گا‘ اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے جہاد کروں گا‘ اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے جہاد کروں گا‘ پھر آپ کچھ دیر خاموش رہے‘ پھر فرمایا: اگر اللہ نے چاہا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عبد الغفار بن عبد الله

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2675

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2676

2676 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا معاوية بن هشام أخبرنا سفيان عن حبيب عن عطاء عن ابن عباس قال Y جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : كيف أصبحتم ؟ قال : بخير من قوم لم يعودوا مريضا ولم يشهدوا جنازة K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کیسے کی؟ فرمایا: اس قوم سے بہتر کی جس نے مریض کی عیادت نہیں کی اور جنازہ میں شرکت نہیں کی ۔

بخير من قوم لم يعودوا مريضا ولم يشهدوا جنازة إسناده صحيح ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال كيف أصبحتم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← حَبِيبٍ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2676

chevron_left Previous
1…118119120…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter