Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2605

2605 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا إسرائيل عن عبد الله بن مسلم عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقبل الركن اليماني [ و ] يضع خده عليه K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رکن یمانی کا بوسہ لیتے اور اس پر اپنا رخسار مبارک رکھتے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2605

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2606

2606 - حدثنا شيبان حدثنا همام حدثنا قتادة عن عكرمة Y عن ابن عباس في قول الله عز و جل : { كان الناس أمة واحدة } [ البقرة : 213 ] قال : على الإسلام كلهم وقال الكلبي : يعني على الكفر كلهم K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کے اس ارشاد کے متعلق: ”لوگ ایک امت تھے‘‘ (البقرہ:۲۱۳) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ سارے کے سارے اسلام پر تھے۔امام کلبی فرماتے ہیں : سارے کفر پر تھے۔

الكلبي يعني على الكفر كلهم إسناده صحيح ← عَلَى الإِسْلامِ كُلُّهُمْ ← ابن عباس في قول الله عز و جل ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2606

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2607

2607 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا محمد بن فضيل حدثنا الوليد بن جميع عمن حدثه Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : راصوا الصفوف فإني رأيت الشياطين تخللكم كأنها أولاد الحذف K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : صفوں کو سیدھا رکھا کرو‘ میں شیطان کو تمہارے درمیان داخل دیکھتا ہوں ایسے جیسے تمہارے بیچ میں شیطان کالی چھوٹی بکریوں کی بیٹیوں کی طرح گھس آئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الوليد بن جميع عمن ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2607

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2608

2608 - حدثنا الحسن بن محمد بن الصباح حدثنا معاذ بن هشام أخبرني أبي عن قتادة عن أبي قلابة عن خالد بن اللجلاج Y عن عبد الله بن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأيت ربي في أحسن صورة قال لي : يا محمد قلت : لبيك وسعديك قال : فيم يختصم الملأ الأعلى ؟ قلت : رب لا أدري فوضع يده على كتفي فوجدت بردها بين ثديي فعلمت ما بين المشرق والمغرب فقال : يا محمد فيم يختصم الملأ الأعلى ؟ قلت : في الكفارات : المشي على الأقدام إلى الجمعات وإسباغ الوضوء في المكروهات وانتظار الصلاة بعد الصلاة فمن حافظ عليهن عاش بخير ومات بخير وكان من ذنوبه كيوم ولدته أمه K رجاله رجال الصحيح غير خالد بن اللجلاج

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: میں نے اپنے رب کو بہت اچھی صورت میں دیکھا۔ مجھے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں! فرمایا: تیرے لیے سعادت ہے۔ ملاء الاعلیٰ کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کی: یا اللہ! میں نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں دست قدرت (جو اس کی شان کے لائق ہیں ) میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھے، میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں پائی ۔ میں نے جان لیا جو کچھ زمین اور مشرق میں ہے، پھر اللہ نے فرمایا : اے محمد ! ملا اعلیٰ کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کی: کفارات کے متعلق، اور ان کے قدموں کے متعلق جو جمعہ کے لیے جاتے ہیں مشکل وقت میں ، وضو کرنے کے متعلق، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھے رہنے والے کے متعلق ، جس نے اس پر ہمیشگی کی اس نے بہتر زندگی گزاری اور اچھی موت حاصل کی ۔ اس کے گناہ ایسے معاف ہو جاتے ہیں جس طرح آج ہی اس کی ماں نے اس کو جنا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2608

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2609

2609 - حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي حدثنا مبشر حدثنا الأوزاعي عن الزهري : أراه أخبرني علي بن حسين Y أن ابن عباس قال : أخبرني رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من الأنصار : أنهم بينما هم جلوس مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ رمي بنجم فاستنار فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما كنتم تقولون في الجاهلية إذا رمي بمثل هذا ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم كنا نقول : ولد اليلة رجل عظيم ومات الليلة رجل عظيم قال : فإنها لا يرمى بها لموت أحد ولا لحياته ولكن ربنا تبارك الله تعالى إذا قضى أمرا سبح حملة العرش ثم سبح أهل السماء الذين يلونهم حتى التسبيح أهل السماء الدينا ثم قالوا للذين يلون حملة العرش : ماذا قال ربكم ؟ فيخبرونهم فيستخبر أهل السماوات بعضهم بعضا حتى يبلغ الخبر أهل السماء الدنيا فتخطف الجن فيلقونه إلى أوليائهم ويرمون فما جاؤوا به على وجهه فهو حق ولكنهم يقذفون فيه ويزيدون . الشك من مبشر K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کہ مجھے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک صحابی نے بتایا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ستارا پھینکا گیا وہ روشن ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کہتے تھے جب اس مثل کا ستارا پھنک جاتا تھا، انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ ہم کہتے تھے کہ اس رات کوئی عظیم آدمی کی پیدائش ہوئی اور عظیم آدمی کی وفات ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ستارے کا ٹوٹنا کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتا لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے تسبیح پڑھتے ہیں پھر اہل آسمان والے تسبیح پڑھتے ہیں جو ان کے ساتھ ملے ہوتے ہیں یہاں تک کہ تسبیح آسمان دنیا والوں تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں جو عرش اٹھانے والوں سے قریب ہوتے ہیں تمہارے رب نے کیا کہا؟ ان کو خبر دی جاتی ہے وہ آسمان والے بعض کو خبر دیتے ہیں یہاں تک کہ یہ خبر آسمان سے دنیا والوں تک پہنچ جاتی ہے وہاں جن آوازوں کو اچک لیتے ہیں وہ اپنے اولیاء کی طرف ڈال دیتے ہیں اور پھانک دیتے ہیں جو وہ لے کر آتے ہیں وہ حق ہوتا ہے لیکن جھوٹ بولتے ہیں جو اس پر اپنی طرف سے اضافہ کر لیتے ہیں‘ شک کو خوشخبری ہے۔

عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، ← الزهري أراه ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مبشر ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2609

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2610

2610 - حدثنا ابن نمير حدثنا عبد السلام بن حرب حدثنا يزيد الدالاني عن قتادة عن أبي العالية Y عن ابن عباس قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم نام حتى غط - أو نفخ - فقلت : يارسول الله إنك قد نمت قال : إن الوضوء لا يجب إلا على من نام مضطجعا فإنه إذا نام مضطجعا استرخت مفاصله K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے دیکھا آپ محو آرام تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خراٹے لیے یا سانس لیتے تھے‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ سوئے نہیں تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو فرض نہیں ہوتا مگر اس پر جوسوئے چت لیٹ کر ۔ جب چت لیٹ کر سوئے اس کے اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں (اس وقت وضو واجب ہو جاتا ہے )۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← قَتَادَةَ ← يَزِيدَ الدَّالاَنِيِّ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2610

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2611

2611 - حدثنا عمرو بن حصين حدثنا يحيى بن العلاء عن صفوان بن سليم عن عطاء بن يسار Y عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نظر في المرآة قال : الحمد لله الذي حسن خلقي وخلقي وزان مني ما شان من غيري . وإذا اكتحل جعل في كل عين اثنين وواحدا بينهما وكان إذا لبس نعليه بدأ باليمين وإذا خلع خلع اليسرى وكان إذا دخل المسجد أدخل رجله اليمنى وكان يحب التيمن في كل شيء أخذا وعطاء K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شیشہ دیکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے کہ تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں جس نے میری سیرت وصورت کو خوبصورت بنایا۔ جب سرمہ لگاتے تھے ہر آنکھ میں دو سلائیاں ڈالتے تھے اور ایک آدھی آدھی کر کے۔ جب جوتا پہنتے تھے تو دائیں جانب سے ابتداء کرتے ، جب اتارتے تو بائیں جانب سے اتارتے ، جب مسجد میں داخل ہوتے، تو دائیں پاؤں پہلے داخل کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں کو پسند کرتے تھے ہر شئی لینے و دینے میں۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نظر في المرآة ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← يحيى بن العلاء ← عمرو بن حصين

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2611

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2612

2612 - حدثنا عمرو بن حصين حدثنا يحيى بن العلاء حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن عن أبي صالح Y عن ابن عباس قال يوم الأحد يوم غرس وبناء ويوم الاثنين يوم السفر ويوم الثلاثاء يوم الدم ويوم الأربعاء يوم أخذ ولاعطاء فيه ويوم الخميس يوم دخول على السلطان ويوم الجمعة يوم تزويج وباءة K إسناد تالف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اتوار کے دن اگنے اور بنانے کے لیے ہے، پیر کا دن سفر کے لیے ہے، منگل کا دن خوف کا دن ہے، بدھ کا دن لینے کا دن ہے، اس میں دینے کا نہیں ، جمعرات کا دن بادشاہ کے پاس آنے کا ہے، جمعہ کا دن شادی اور جماع کا دن ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يحيى بن العلاء ← عمرو بن حصين

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2612

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2613

2613 - حدثنا عمرو بن حصين حدثنا حفص بن غياث النخعي حدثني ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال Y قال رجل : يا رسول الله وجبت علي بدنة وقد عزت البدن فما ترى ؟ قال : اذبح مكانها سبعا من الشاء K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھ پر اونٹ واجب ہے، اونٹ کم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا راۓ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی جگہ سات بکریاں ذبح کر لو۔

رَجُلٌ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حفص بن غياث النخعي ← عمرو بن حصين

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2613

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2614

2614 - حدثنا هدبة حدثنا وهيب عن يونس بن عبيد عن عمار بن أبي عمار قال : سمعت ابن عباس يقول Y توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن خمس وستين وكان الحسن يقول : توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن ستين

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا‘ اس وقت آپ کی عمر 65 سال تھی ۔ حضرت امام حسن بصری فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا اس وقت آپ کی عمر 60 سال تھی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← وُهَيْبٌ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2614

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2615

2615 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا حديج بن معاوية حدثنا أبو إسحاق عن سعيد بن جبير قال : Y جاء رجل إالى ابن عباس فقال : قد جاء حسان اللعين : فقال ابن عباس : ما هو بلعين لقد جاهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بلسانه ونفسه K إسناده ضعيف

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا‘ اس نے عرض کی : ان کو حسان العین آیا ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: وہ ان کو لعین کوئی نہیں ہے، بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زبان اور جان کے ساتھ جہاد کرتے تھے۔

قد جاء حسان اللعين ← جاء رجل إالى ابن عباس ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← حديج بن معاوية ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2615

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2616

2616 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا الوليد بن محمد الموقري عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود . Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كتب إلى قيصر يدعوه إلى الإسلام فبعث بكتابه مع دحية الكلبي وأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يدفعه إلى عظيم بصرى ليدفعه إلى قيصر فدفعه عظيم بصرى إلى قيصر فكان قيصر لما كشف الله عنه جنود فارس نذر أن يمشي من حمص إلى إيلياء بما أبلاه الله في ذلك فلما جاء قيصر كتاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال حين قرأ : التمسوا هل ها هنا من قومه أحد لنسألهم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ K إسناده ضعيف جدا ولكن الحديث صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا۔ اس کو اسلام کی دعوت دی۔ خط حضرت دحیہ کلبی کو دے کر بھیجا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت دحیہ کو حکم دیا کہ یہ خط عظیم بصری کو دے دینا تاکہ وہ قیصر کو پہنچا دے ۔عظیم بصری نے قیصر کو دیا۔ قیصر نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ ایران کے لشکر پر فتح دی تو پیدل چل کر حمص سے ایلیاء کی طرف جائے گا جو اللہ نے آزمایا تھا اس کو جب قیصر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط آیا اس نے جس وقت پڑھا۔ اس نے کہا تلاش کرو کیا اس قوم کا کوئی آدمی ہے تاکہ ہم سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کوئی سوال کریں ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، مجھے ابو سفیان نے بتایا وہ شام میں تجارت کے لیے گیا ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کفار قریش کے درمیان معاہدہ ہوا تھا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: ہمارے پاس قیصر کے بھیجے ہوئے آدمی آئے ہیں اور وہ مجھے اور میرے ساتھی کو ساتھ لے کر چلے یہاں تک کہ ہم ایلیاء آئے ہم دونوں اس کے ساتھ داخل ہوئے۔ وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سر پر تاج تھا اس کے اردگر دروم کے سردار تھے۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا ان سے پوچھو کون آدمی اس کے زیادہ قریب ہے جو خیال کرتا ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہے۔ ابو سفیان نے کہامیں ، میں نے کہا وہ میرے چچا کا بیٹا ہے۔ سواری میں اس دن میرے علاوہ عبد مناف کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ قیصر نے کہا: اس کو میرے قریب کرو ۔ میرے ساتھی کو حکم دو کہ وہ میری پشت کے پیچھے ہو جائے ۔ پھر اس نے کہا: اپنے ترجمان سے میں پوچھتا ہوں اس آدمی کے متعلق جو اپنے آپ کو نبی خیال کرتا ہے، اگر وہ جھوٹ بولے اس کے جھوٹ کی تکذیب کرو ۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اگر اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ لوگ مجھ پر جھوٹ بو ملنے کا الزام لگائیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا جس وقت وہ سوال کرتا لیکن میں نے شرم کی کہ میں اپنے اوپر جھوٹ کو ترجیح دوں‘ میں نے اس سے سچ بولا ۔ پھر اس کے ترجمان نے کہا: اس کو کہو کہ اس آدمی کا نسب تم میں کیسا ہے؟ ابو سفیان نے کہا: وہ اچھے نسب والے ہیں، پھر اس نے کہا: میں نبوت کا دعویٰ اس سے پہلے بھی کسی نے کیا ہے؟ کسی نے ہم میں نہیں کیا۔ اس نے کہا: کیا تم اس کو جھوٹ کے ساتھ متمع کیا اس کے کہنے سے پہلے جو کہتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں ۔ اس نے پوچھا: کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں ۔ اس نے پوچھا: اس کی اتباع کرنے والے امیر لوگ ہیں یا کمزور لوگ ہیں؟ میں نے کہا: بلکہ کمزور لوگ ہیں ۔ اس نے پوچھا: وہ اتباع کرنے والے زیادہ ہو رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ میں نے کہا: وہ زیادہ ہو رہے ہیں ۔ اس نے پوچھا: کیا وہ وعدہ خلافی کرتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں ۔اب ہم نے اس سے ایک مدت کا معاہدہ کیا ہے‘ ہم اس سے ڈرتے ہیں ۔ جو ابو سفیان نے کہا: میں اس بات کے علاوہ کوئی بات داخل کرنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ میں اس سے کم کروں کیونکہ میں ڈرتا تھا کہ مجھ پر جھوٹ کا الزام نہ لگ جائے ۔ اس نے پوچھا: کیا تم نے اس سے جنگ کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ۔ اس نے پوچھا: تمہاری جنگ اور اس کی جنگ کیسی رہی۔ میں نے کہا: ڈول کی مثل کبھی ہم اس پر غالب آجاتے ہیں دوسری مرتبہ وہ ہم پر غالب آ جاتا ہے۔ اس نے پوچھا: وہ تم کو کیا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا: وہ حکم دیتا ہے کہ ہم اللہ کی عبادت کریں ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، منع کرتا ہے اس سے جس کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کرتے تھے ، ہم کو نماز کا حکم دیتا ہے اور زکوٰۃ کا اور وعدہ پورا کرنے کا اور امانت ادا کرنے کا۔ ترجمان نے کہا: جس وقت میں نے کہا اس کے متعلق اور تجھ سے اس کے نسب کے متعلق پوچھا تم میں کیسا ہے؟ تو نے گمان کیا تم ہی اچھے نسب والا ہے ۔ اس طرح رسول قوم میں اچھے نسب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔ میں نے تجھ سے سوال کیا: کیا یہ بات اس سے پہلے بھی کسی نے کی ہے؟ تو نے جواب دیا نہیں ۔ میں نے کہا تھا: وہ اگر اس سے پہلے یہ دعویٰ کسی نے کیا ہوتا تو میں کہتاکہ یہ وہ آدمی ہے جو پہلے کے کہی بات دوہرا رہا ہے ۔ میں نے تجھ سے پوچھا: کیا تم نے اس کو جھوٹ کے ساتھ متمع کیا ہے؟ قبل اس کے جو اس نے کہا‘ تو نے کہا: نہیں۔ میں نے پوچھا تھا: ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں سے جھوٹ نہ بولتا ہو اور اللہ پر جھوٹ باندھے ۔ میں نے تجھ سے پوچھا تھا: کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ ہے؟ تو نے کہا تھا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا تھا: اگر اس کے آباؤ اجداد میں بادشاہ ہوتا ، میں کہتاکہ دو آدمی اپنے باپ کی بادشاہی طلب کرتا ہے۔ میں نے تجھ سے پوچھا تھا کہ اس کی اتباع امیر لوگ یا غریب لوگ کر رہے ہیں؟ ٹو نے کہا تھا کہ اس کی اتباع غریب لوگ کر رہے ہیں، رسولوں کی اتباع ہمیشہ غریب لوگ ہی کرتے ہیں ۔ باقی حدیث سوید کی حدیث میں آ چکی ہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الوليد بن محمد الموقري ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2616

chevron_left Previous
1…113114115…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter