المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 192
192 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا أَتَاهُمُ ابْنُ رَوَاحَةَ، جَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ@ نِسَائِهِمْ فَأَهْدُوهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، إِنَّكُمْ لأَبْغَضُ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيَّ، وَمَا ذَاكَ بِحَامِلِي أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، أَمَا مَا عَرَضْتُمْ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ الرِّشْوَةِ، فَإِنَّهَا سُحْتٌ، وَإِنَّا لا نَأْكُلُهَا، ثُمَّ خَرَصَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهَا، أَوْ يَأْخُذَهَا هُوَ، قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ، فَأَخَذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرَصِ".
حضرت امام زہری بیان کرتے ہیں :جب حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے پاس آئے تو انہوں نے اپنے عورتوں کے زیورات اکھٹے کر انہیں تحفہ دیا ،آپ نے فرمایا :اے یہودیو! میرے نزدیک اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ قابل نفرت تم ہو اور اس کےباوجود میں تمھارا کوئی نقصان نہیں کروں گا۔بہرحال جو تم نے جو رشوت پیش کی ہے یہ حرام ہے اور ہم حرام نہیں کھاتے ۔پھر آپ نے ان کے لیئے تخمینہ لگایا اور انہیں اختیار دیا کہ وہ حصہ لے لیں یا آپ لے لیں ۔یہودیوں نے کہا :اس طرح کے لوگوں کی وجہ سے زمین و آسمان قائم ہیں اور پھر اپنا حصہ لے لیا ۔
لَمَّا أَتَاهُمُ ابْنُ رَوَاحَةَ جَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَأَهْدُوهَا إِلَيْهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 192
