المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ زُرَارَةُ بن أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ · حديث 151
151 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بن مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُوذَةُ بن خَلِيفَةَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بن عَوْذِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ زُرَارَةَ بن أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ قِبَلَهُ، فَكُنْتُ فِيمَنْ خَرَجَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا سَمِعْتُهُ،@ يَقُولُ:"أَطْعِمُوُا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوُا السَّلامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلوُا الْجَنَّةَ بِسَلامٍ".
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ،جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے (راستہ بنانے کیلئے )ادھر ادھر بھاگ رہے تھے اور میں ان میں سے تھا جو گھروں سے نکلے تھے ،جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا ۔اور سب سے پہلی بات جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے :کھانا کھلاؤ اور سلام کو رواج دو اور نما ز پڑھا کرو جب لوگ سور رہے ہوں ۔ایسا کرنے سے تم سلامتی کے جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَوْفٌ، ← معاذ بن عوذ الله القرشي ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 151
