المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 204
204 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بن مَرْوَانَ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بن أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُدْرِكَ بن عِمَارَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَجْتَازُ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، إِذْ قَالَ الْقَوْمُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ، يَا عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونِي، فَجِئْتُ، فَقَالَ:"اجْلِسْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ، كَيْفَ تَقُولُ الشِّعْرَ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَقُولَهُ؟"قُلْتُ: أَنْظُرُ، ثُمَّ أَقُولُ. قَالَ:"فَعَلَيْكَ بِالْمُشْرِكِينَ"، وَلَمْ أَكُنْ أَعْدَدْتُ شَيْئًا، فَقُلْتُ: خَبِّرُونِي أَثْمَانَ الْعَبَاءِ مَتَى ………كُنْتُمْ بَطَارِيقَ أَوْ دَانَتْ لَكُمْ مُضَرُ فَعَرِفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ جَعَلْتُ قَوْمَهُ أَثْمَانَ الْعَبَاءِ، فَنَظَرْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا هَاشِمَ الْخَيْرِ إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَكُمْ عَلَى البَرِيَّةِ فَضْلا مَا لَهُ غَيْرُ إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ أَعْرِفُهُ …فِرَاسَةً خَالَفْتُهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا@ وَلَوْ سَأَلْتَ أَوِ اسْتَنْصَرْتَ بَعْضَهَمُ فِي جُلِّ أَمْرِكَ مَا آوُوا وَلا نَصَرُوا فَثَبَّتَ اللَّهُ مَا آتَاكَ مِنْ حُسْنٍ … تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا قَالَ:"وَأَنْتَ، فَثَبَّتَكَ اللَّهُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ".
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :ایک دن میں مسجد میں سے گزر رہا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی جماعت میں تشریف فرماتھے کہ ایک آدمی نے مجھے آوازیں دیں اے عبداللہ بن رواحہ ! اے عبداللہ بن رواحہ ! میں خیال گزار ا کہ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یا د کیا ہو گا۔لہذا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے عبداللہ بیٹھ جاؤ ۔اور یہ بتاؤ کہ تم شعر کیسے کہتے ہو؟جب کہنا چاہو تو کہہ لیتے ہو ؟میں نے عرض کیا :میں غور کرتا ہوں پھر کہتا ہوں ۔فرمایا :تم پر مشرکوں کی ہجو کرنا لازم ہے ۔چناچہ میں نے کوئی تیاری نہ کی اور کہا:فخبر ونی اثمان العباء متی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کنتم بطاریق او دانت لکم مضر ۔میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے انور پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے کہ میں نے ان کی قوم کو "اثمان العبا ء "کہہ دیا تھا ۔پھر میں نے غور کیا اور کہا :آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ابن رواحہ ! اللہ تجھے بھی ثبات عطا فرمائے ۔
الْقَوْمُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ، يَا عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ، فَظَنَنْتُ ← أَجْتَازُ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ ← بَيْنَمَا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُدْرِكَ بن عِمَارَةَ وَهُوَ ← عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ مَرْوَانَ الْكُوفِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 204
