المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ خَرَشَةُ بن الْحُرِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ · حديث 159
159 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن عَبْدِ الْعَزِيزِ، وُأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالا، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بن الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بن سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بن بَهْدَلَةَ، عَنِ الْمُسَّيِّبِ بن رَافِعٍ، عَنْ خَرَشَةَ بن الْحُرِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَجَلَسْتُ إِلَى مَشْيَخَةٍ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ شَيْخٌ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا لَهُ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَقَامَ خَلْفَ سَارِيَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ:"زَعَمَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: الْجَنَّةُ لِلَّهِ، يُدْخِلُهَا مَنْ يَشَاءُ، وَإِنَّنِي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ كَأَنَّ رَجُلا أَتَانِي، فَقَالَ لِي: انْطَلِقْ، فَذَهَبَ بِي، فَأَخَذَنِي مَنْهَجًا عَظِيمًا، فَعَرَضَتْ لِي طَرِيقٌ عَنْ يَسَارِي، فَأَرَدْتُ أَسُلُكَها، فَقَالَ: إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، ثُمَّ عَرَضَتْ لِي طَرِيقٌ أُخْرَى عَنْ يَمِينِي فَسَلَكْتُ، حَتَّى انْتَهَيْتُ @ إِلَى جَبَلٍ زَلِقٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَزَجَلَ بِي، فَإِذَا أَنَا عَلَى ذِرْوَتِهِ، فَلَمْ أَتَقَارَّ وَلَمْ أَتَمَلَّكْ، وَإِذَا أَنَا بِعَمُودٍ فِي أَعْلاهُ عُرْوَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَزَجَلَ بِي حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:"رَأَيْتَ خَيْرًا، أَمَّا الْمَنْهَجُ الْعَظِيمُ: فَالْمَحْشَرُ، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عُرِضِتْ لَكَ عَنْ يَسَارِكَ: فَطَرِيقُ أَهْلِ النَّارِ، وَلَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عُرِضَتْ لَكَ عَنْ يَمِينِكَ: فَطَرِيقُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ الزَّلِقُ: فَمَنْزِلَةُ الشُّهَدَاءِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ الَّتِي اسْتَمْسَكْتَ بِهَا: فَعُرْوَةُ الإِسْلامِ، وَأَنْتَ مُسْتَمْسِكٌ بِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ حَتَّى تَمُوتَ". وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بن سَلامٍ.
حضرت خرشہ بن حریبان کرتے ہیں :میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا اور مسجد نبوی شریف میں بزرگوں کے ساتھ بیٹھ گیا ۔اسی دوران ایک بزرگ لاٹھی کا سہارا لیے ہوئے آئے تو کسی نے کہا :یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے ۔وہ آئے اور ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں تو میں ان کے پاس چلا آیا اور عرض کیا:بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ جنتی آدمی ہیں ۔آپ نے فرمایا جنت اللہ کی ہے وہ جسے چاہے اس میں داخل کرے ۔اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک خواب دیکھا تھا ۔میں نے دیکھا کہ گویا ایک آدمی میرے پاس آیا ہے اور مجھے کہا ۔چلو اور اپنے ساتھ لے گیا پھر اس نے ایک عظیم راستہ اختیار کی اور پھر میرے لئے میرے بائیں جانب ایک راستہ پیش کیا گیا ،میں نے اس پر چلنا چاہا تواس آدمی نے کہا :آپ اس پر چلنے کے قابل نہیں ہیں ۔پھر میرے دائیں جاجب ایک اور راستہ لایا گیا تو میں اس پر چلنے لگا حتی ٰ کہ ایک چکنے پہاڑ پر پہنچ گیا ۔اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اچھالا تو پہاڑ کی چوٹی پر تھا ۔لیکن (پھسلن کی وجہ سے )پوری طرح برقرار نہ تھا اور پھر دیکھا کہ ایک ستون ہے جس کے اوپر ایک سونے کا کنڈا ہے ۔اس آدمی نے مجھے پکڑا پھر اچھالا حتیٰ کہ میں نے وہ کنڈا پکڑ لیا ۔اس خواب کو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے خیرو بھلائی کو دیکھا ہے ۔جو عظیم راستہ تھا وہ میدان حشر تھا ۔اور جو تمھارے الٹی جانب راستہ تھا وہ جہنمیوں کا راستہ تھا اور تو اس کے لائق نہیں ہے۔اور جو سیدھی جانب راستہ تھا وہ اہل جنت کا تھا اور جو پہاڑ تھے وہ شہیدوں کے ٹھکانے ہیں اور جس کنڈے کو تو نے پکڑا تھا وہ اسلام کا کنڈا ہے اور تم انشااللہ ء اسلام پر ہی رہو گے حتیٰ کہ تمھاری موت ہو جائے ۔اور میں امید کرتا ہوں کہ میں اہل جنت میں سےہوں ۔یہ بزرگ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں ۔
خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 159
