Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله)

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah)

by Tibrani

231 Hadith93 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ خَرَشَةُ بن الْحُرِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ · حديث 159

159 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن عَبْدِ الْعَزِيزِ، وُأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالا، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بن الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بن سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بن بَهْدَلَةَ، عَنِ الْمُسَّيِّبِ بن رَافِعٍ، عَنْ خَرَشَةَ بن الْحُرِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَجَلَسْتُ إِلَى مَشْيَخَةٍ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ شَيْخٌ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا لَهُ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَقَامَ خَلْفَ سَارِيَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ:"زَعَمَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: الْجَنَّةُ لِلَّهِ، يُدْخِلُهَا مَنْ يَشَاءُ، وَإِنَّنِي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ كَأَنَّ رَجُلا أَتَانِي، فَقَالَ لِي: انْطَلِقْ، فَذَهَبَ بِي، فَأَخَذَنِي مَنْهَجًا عَظِيمًا، فَعَرَضَتْ لِي طَرِيقٌ عَنْ يَسَارِي، فَأَرَدْتُ أَسُلُكَها، فَقَالَ: إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، ثُمَّ عَرَضَتْ لِي طَرِيقٌ أُخْرَى عَنْ يَمِينِي فَسَلَكْتُ، حَتَّى انْتَهَيْتُ @ إِلَى جَبَلٍ زَلِقٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَزَجَلَ بِي، فَإِذَا أَنَا عَلَى ذِرْوَتِهِ، فَلَمْ أَتَقَارَّ وَلَمْ أَتَمَلَّكْ، وَإِذَا أَنَا بِعَمُودٍ فِي أَعْلاهُ عُرْوَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَزَجَلَ بِي حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:"رَأَيْتَ خَيْرًا، أَمَّا الْمَنْهَجُ الْعَظِيمُ: فَالْمَحْشَرُ، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عُرِضِتْ لَكَ عَنْ يَسَارِكَ: فَطَرِيقُ أَهْلِ النَّارِ، وَلَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عُرِضَتْ لَكَ عَنْ يَمِينِكَ: فَطَرِيقُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ الزَّلِقُ: فَمَنْزِلَةُ الشُّهَدَاءِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ الَّتِي اسْتَمْسَكْتَ بِهَا: فَعُرْوَةُ الإِسْلامِ، وَأَنْتَ مُسْتَمْسِكٌ بِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ حَتَّى تَمُوتَ". وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بن سَلامٍ.

حضرت خرشہ بن حریبان کرتے ہیں :میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا اور مسجد نبوی شریف میں بزرگوں کے ساتھ بیٹھ گیا ۔اسی دوران ایک بزرگ لاٹھی کا سہارا لیے ہوئے آئے تو کسی نے کہا :یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے ۔وہ آئے اور ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں تو میں ان کے پاس چلا آیا اور عرض کیا:بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ جنتی آدمی ہیں ۔آپ نے فرمایا جنت اللہ کی ہے وہ جسے چاہے اس میں داخل کرے ۔اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک خواب دیکھا تھا ۔میں نے دیکھا کہ گویا ایک آدمی میرے پاس آیا ہے اور مجھے کہا ۔چلو اور اپنے ساتھ لے گیا پھر اس نے ایک عظیم راستہ اختیار کی اور پھر میرے لئے میرے بائیں جانب ایک راستہ پیش کیا گیا ،میں نے اس پر چلنا چاہا تواس آدمی نے کہا :آپ اس پر چلنے کے قابل نہیں ہیں ۔پھر میرے دائیں جاجب ایک اور راستہ لایا گیا تو میں اس پر چلنے لگا حتی ٰ کہ ایک چکنے پہاڑ پر پہنچ گیا ۔اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اچھالا تو پہاڑ کی چوٹی پر تھا ۔لیکن (پھسلن کی وجہ سے )پوری طرح برقرار نہ تھا اور پھر دیکھا کہ ایک ستون ہے جس کے اوپر ایک سونے کا کنڈا ہے ۔اس آدمی نے مجھے پکڑا پھر اچھالا حتیٰ کہ میں نے وہ کنڈا پکڑ لیا ۔اس خواب کو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے خیرو بھلائی کو دیکھا ہے ۔جو عظیم راستہ تھا وہ میدان حشر تھا ۔اور جو تمھارے الٹی جانب راستہ تھا وہ جہنمیوں کا راستہ تھا اور تو اس کے لائق نہیں ہے۔اور جو سیدھی جانب راستہ تھا وہ اہل جنت کا تھا اور جو پہاڑ تھے وہ شہیدوں کے ٹھکانے ہیں اور جس کنڈے کو تو نے پکڑا تھا وہ اسلام کا کنڈا ہے اور تم انشااللہ ء اسلام پر ہی رہو گے حتیٰ کہ تمھاری موت ہو جائے ۔اور میں امید کرتا ہوں کہ میں اہل جنت میں سےہوں ۔یہ بزرگ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں ۔

خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 159

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ خَرَشَةُ بن الْحُرِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ · حديث 160

160 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بن إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بن أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بن مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بن الْحُرِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلَقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فِيهَا شَيْخٌ حَسِنُ الْهَيْئَةِ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بن سَلامٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا، فَلَمَّا قَامَ، قَالَ الْقَوْمُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، قُلْتُ: وَاللَّهِ لأَتْبَعَنَّهُ، فَلأَعْلَمَنَّ مَكَانَ بَيْتِهِ، قَالَ: فَتَتَبَّعْتُهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَاسْتَأْذَنْتُ، فَأَذِنَ@ لِي، فَقَالَ: مَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي، قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَكَ لَمَّا قُمْتَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ، قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُحَدِّثُكَ مِمَّ قَالُوا ذَلِكَ: إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي آتٍ، فَقَالَ: قُمْ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَإِذَا أَنَا بِجَوَادٍ عَلَى شِمَالِي، فَذَهَبْتُ لآخُذَ فِيهَا، فَقَالَ لِي: لا تَأْخُذْ فِيهَا، فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَإِذَا جَوَادٌ عَلَى يَمِينِي، فَقَالَ لِي: خُذْ هَاهُنَا، فَأَتَيْنَا جَبَلا، فَقَالَ: اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا، فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَى اسْتِي، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ مِرَارًا، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ، وَأَسْفَلُهُ فِي الأَرْضِ، فِي أَعْلاهُ حَلَقَةٌ، فَقَالَ لِي: اصْعَدْ إِلَى فَوْقِ هَذَا، قُلْتُ: كَيْفَ أَصْعَدُ فَوْقَ هَذَا وَرَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي، فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلَقَةِ، ثُمَّ صَرَفَ الْعَمُودَ، فَخَرَّ، وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلَقَةِ حَتَّى الصُّبْحِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، قَالَ:"الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِكَ، فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَأَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ، فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ: فَهُوَ مَنْزِلَةُ الشُّهُدَاءِ، وَلَنْ تَنَالَهُ، وَأَمَّا الْعَمُودُ، فَهُوَ عَمُودُ الإِسْلامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ: فَهِيَ عُرْوَةُ الإِسْلامِ، وَلَنْ تَزَالَ مُتَمِسِّكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ" ثُمَّ قَالَ لِي:"أَتَدْرِي كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ؟"قُلْتُ: لا. قَالَ:"خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ، فَقَالَ: يَلِدُ فُلانًا، وَيَلِدُ فُلانٌ فُلانًا، وَيَلِدُ فَلانٌ فُلانًا، وَيَلِدُ فُلانٌ فُلانًا، أَجَلُهُ كَذَا، وَعَمَلُهُ كَذَا وَكَذَا، وَرِزْقُهُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ".@

حضرت خرشہ بن حربیان کرتے ہیں :میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا اور مسجد نبوی شریف میں بزرگوں کے ساتھ بیٹھ گیا ۔اس میں ایک خوبصورت بزرگ بیٹھے ہوئے تھے جن کا نام عبداللہ بن سلام تھا اور وہ لوگوں کو اچھی اچھی حدیثیں سنا رہے تھے ۔جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو کسی نے کہا :جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا پسند کرے وہ اس شخص کو دیکھ لے ۔میں نے سوچا :میں ضرور ان کا پیچھا کروں گا اور ان کے گھر کا پتہ لگاؤں گا۔ اور عرض کیا:بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ جنتی آدمی ہیں ۔آپ نے فرمایا جنت اللہ کی ہے وہ جسے چاہے اس میں داخل کرے ۔اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک خواب دیکھا تھا ۔میں نے دیکھا کہ گویا ایک آدمی میرے پاس آیا ہے اور مجھے کہا ۔چلو اور اپنے ساتھ لے گیا پھر اس نے ایک عظیم راستہ اختیار کی اور پھر میرے لئے میرے بائیں جانب ایک راستہ پیش کیا گیا ،میں نے اس پر چلنا چاہا تواس آدمی نے کہا :آپ اس پر چلنے کے قابل نہیں ہیں ۔پھر میرے دائیں جاجب ایک اور راستہ لایا گیا تو میں اس پر چلنے لگا حتی ٰ کہ ایک چکنے پہاڑ پر پہنچ گیا ۔اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اچھالا تو پہاڑ کی چوٹی پر تھا ۔لیکن (پھسلن کی وجہ سے )پوری طرح برقرار نہ تھا اور پھر دیکھا کہ ایک ستون ہے جس کے اوپر ایک سونے کا کنڈا ہے ۔اس آدمی نے مجھے پکڑا پھر اچھالا حتیٰ کہ میں نے وہ کنڈا پکڑ لیا ۔اس خواب کو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے خیرو بھلائی کو دیکھا ہے ۔جو عظیم راستہ تھا وہ میدان حشر تھا ۔اور جو تمھارے الٹی جانب راستہ تھا وہ جہنمیوں کا راستہ تھا اور تو اس کے لائق نہیں ہے۔اور جو سیدھی جانب راستہ تھا وہ اہل جنت کا تھا اور جو پہاڑ تھے وہ شہیدوں کے ٹھکانے ہیں اور جس کنڈے کو تو نے پکڑا تھا وہ اسلام کا کنڈا ہے اور تم انشااللہ ء اسلام پر ہی رہو گے حتیٰ کہ تمھاری موت ہو جائے ۔اس کے بعد انہوں نے فرمایا :کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کیسے بنایا ؟میں نے کہا نہیں ۔فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ سلام کو تخلیق فرمایا ۔پھر فرمایا :فلاں نے جنم لیا ااور فلاں کو پیدا کیا اور فلاں کی اتنی مدت ہے اور فلاں کے ایسے ایسے عمل ہیں ۔اور فلاں کا اتنا اتنا رزق ہے ۔پھر ان میں روح پھونکی جائے گی۔

خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 160

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ خَرَشَةُ بن الْحُرِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ · حديث 161

161 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بن إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بن أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْعَلاءِ بن الْمُسَيِّبِ، عَنْ صَالِحِ بن خَبَّابٍ، عَنْ خَرَشَةَ بن الْحُرِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ، قَالَ:"لا أُحَدِّثُكُمْ إِلا عَنْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ، أَوْ عَنْ كِتَابٍ مُنَزَّلٍ: إِنَّ عَبْدًا لَوْ أَذْنَبَ كُلَّ ذَنْبٍ، ثُمَّ تَابَ إِلَى اللَّهِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِيَوْمٍ قُبِلَ مِنْهُ".

حضرت خرشہ بن حر بیان کرتے ہیں :حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں تمہیں جو بیان کروں گا وہ صرف نبی مرسل کی طرف سے ہو گا یا اللہ کی نازل کردہ کتاب میں سے ہو گا۔بے شک کوئی بندہ جب کسی بھی طرح کے گناہ کرلے پھر مرنے سے ایک دن پہلے تو بہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گا۔

نَبِيٍّ مُرْسَلٍ، أَوْ ← عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ، قَالَ:"لا أُحَدِّثُكُمْ إِلا ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← صَالِحِ بْنِ خَبَّابٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 161

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ خَرَشَةُ بن الْحُرِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ · حديث 162

162 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بن هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَرَشَةَ بن الْحُرِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بن سَلامٍ، فَقَالَ:"أَلا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا هُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَذَكَرَ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، يَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَارَبِّ حَرَقْتَ بنيَّ، فَيَخْرُجُونَ مِنْهَا".

حضرت خرشہ بن حر بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا تو میری ملاقات حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی ،آپ نے فرمایا :کیا میں تمہیں ایک بات نہ بتاؤں جو کتاب میں ہے ؟پھر انہوں نے ایک قوم کا ذکر کیا جسے جہنم سے نکالا جائے گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کہیں گے :اے میرے رب ! تو نے میرے بچوں کو جلا دیا تو انہیں آگ سے نکالا جائے گا۔

خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 162

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter