المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الْقَاسِمُ بن مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن الزُّبَيْرِ · حديث 33
33 - حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بن سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بن مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بن الزُّبَيْرِ، يَقُولُ:"مِنْ سُنَّةِ الْحَاجِّ أَنْ يُصَلِّيَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ: الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ الآخِرَةَ، وَالصُّبْحَ بِمنَى، ثُمَّ يَغْدُو، فِيقِيلَ حَيْثُ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ يَرُوحَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، فِيخْطُبَ النَّاسَ، ثُمَّ يَنْزِلَ، فِيجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ: الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ يَقِفَ بِعَرَفَةَ، فِيدَفَعَ@ إِذَا غَرُبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ حَيْثُ قَدَّرَ اللَّهُ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ، ثُمَّ يَبِيتَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ يَدْفَعَ إِذَا أَصْبَحَ، فَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ، إِلا النِّسَاءُ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا :حاجی کی سنتوں میں سے ہے کہ وہ ترویہ کے دن ظہر ،عصر ،مغرب ،عشاء اور فجر کی نماز منی ٰ میں ادا کرے ۔پھر صبح صبح نکل جائے اور دوپہر کا آرام کرے جہاں اللہ نے اس کیلئے لکھ دیا ۔پھر جب سورج ڈھلنے لگ جائے تو (امام )لوگوں کو خطبہ دے ۔پھر اتر آئے اور ظہر اور عصر جو اکھٹا ادا کرے ۔پھر عرفہ میں وقوف کرے اور جب سورج غروب ہو جائے تو نکل جائے ۔پھر مغرب کی نماز ادا کرے جہاں اللہ اس کے لیئے مقدر کردے ۔پھر مزدلفہ میں وقوف کرے اور جب فجر طلوع ہو جائے تو فجر کی نماز پڑھے اور جب صبح پھیل جائے تو نکل جائے ۔اور جب اس نے جمرات پر کنکریاں مارلیں تو بیوی سے صحبت کے علاوہ باقی کام اس کےلیے حلال ہو جائیں گے حتیٰ کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرلے۔
الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 33
