Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله)

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah)

by Tibrani

231 Hadith93 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ عَبْدُ اللَّهِ بن مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ · حديث 132

132 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَبْدِ اللَّهِ الْحَضَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بن مُحَمَّدِ بن الْحَسَنِ الأَسَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بن الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بن هِلالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مُغَفَّلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ هَاجَ النَّاسُ فِي أَمْرِ عُثْمَانَ:"أَيُّهَا النَّاسُ لا تَقْتُلُوا هَذَا الشَّيْخَ، وَاسْتَعْتِبُوهُ، فَإِنَّهُ لَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا فَيَصْلُحَ أَمْرُهُمْ، حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةً خَلِيفَتَهُمْ فَيَصْلُحَ أَمْرُهُمْ، حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ"، فَلَمْ يَنْظُرُوا فِيمَا قَالَ، وَقَتَلُوهُ، فَجَلَسَ لِعَلِيٍّ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ:"أَيْنَ تُرِيدُ؟"فَقَالَ: أُرِيدُ أَرْضَ الْعِرَاقِ، قَالَ:"لا تَأْتِ الْعِرَاقَ، وَعَلَيْكَ بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَوَثَبَ إِلَيْهِ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ، وَهَمُّوا بِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مِنَّا أَهْلِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ، قَالَ ابْنُ سَلامٍ لابْنِ مُغَفَّلٍ:"هَذَا رَأْسُ الأَرْبَعِينَ، وَسَيَكُونُ عَلَى رَأْسِهَا صُلْحٌ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا إِلا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا إِلا قُتِلَ بِهِ أَرْبَعُونَ أَلْفًا"

حضرت عبداللہ بن مغفل ،حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں مشتعل ہوئے تو حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا :اے لوگو! اس شیخ کو قتل نہ کرو بلکہ اس کو راضی کرلو ۔کیونکہ جب بھی کسی امت نے اپنے نبی کو قتل کیا تو اس کے حالات نہ سنبھلے حتیٰ کہ اس کے بدلے ستر ہزار لوگوں کا خون بہانا پڑا ۔اور جب بھی کسی امت نے نبی کے خلیفہ کو قتل کیا تو ان کے حالات نہ سنبھلے حتیٰ کہ اس کے بدلے چالیس ہزار لوگوں کا خون بہایا گیا ۔لوگوں نے ان کی بات پر غور نہ کیا اور حضرت عثمان کو قتل کردیا ۔پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے راستے میں بیٹھ گئے ،جب آئے تو پوچھا :کہاں کا ارادہ ہے ؟فرمایا :میں عراق جارہا ہوں ۔عرض کیا :عراق مت جائیں ،آپ پر لازم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر سنبھالیں ۔یہ سن کر حضرت علی کے ساتھی ان پر جھپٹ پڑے اور انہیں مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ ہم اہل بیت میں سے ہے اور پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو حضرت عبداللہ بن معقل سے فرمایا یہ ان چالیس ہزار لوگوں کے خون کی ابتداء ہے اور عنقریب ان کے اختتام پر صلح ہو گی اور کسی امت نے جب اپنے نبی کو قتل کیا تو اس کے بدلے ستر ہزار کا خون بہایا گیا اور جب امت نے اپنے خلیفہ کو قتل کیا توا س کے بدلے چالیس ہزار لوگوں کا خون بہایا گیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ← مُحَمَّدُ بن عَبْدِ اللَّهِ الْحَضَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 132

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter