المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ عَبْدُ اللَّهِ بن مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ · حديث 132
132 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَبْدِ اللَّهِ الْحَضَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بن مُحَمَّدِ بن الْحَسَنِ الأَسَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بن الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بن هِلالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مُغَفَّلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ هَاجَ النَّاسُ فِي أَمْرِ عُثْمَانَ:"أَيُّهَا النَّاسُ لا تَقْتُلُوا هَذَا الشَّيْخَ، وَاسْتَعْتِبُوهُ، فَإِنَّهُ لَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا فَيَصْلُحَ أَمْرُهُمْ، حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةً خَلِيفَتَهُمْ فَيَصْلُحَ أَمْرُهُمْ، حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ"، فَلَمْ يَنْظُرُوا فِيمَا قَالَ، وَقَتَلُوهُ، فَجَلَسَ لِعَلِيٍّ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ:"أَيْنَ تُرِيدُ؟"فَقَالَ: أُرِيدُ أَرْضَ الْعِرَاقِ، قَالَ:"لا تَأْتِ الْعِرَاقَ، وَعَلَيْكَ بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَوَثَبَ إِلَيْهِ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ، وَهَمُّوا بِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مِنَّا أَهْلِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ، قَالَ ابْنُ سَلامٍ لابْنِ مُغَفَّلٍ:"هَذَا رَأْسُ الأَرْبَعِينَ، وَسَيَكُونُ عَلَى رَأْسِهَا صُلْحٌ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا إِلا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا إِلا قُتِلَ بِهِ أَرْبَعُونَ أَلْفًا"
حضرت عبداللہ بن مغفل ،حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں مشتعل ہوئے تو حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا :اے لوگو! اس شیخ کو قتل نہ کرو بلکہ اس کو راضی کرلو ۔کیونکہ جب بھی کسی امت نے اپنے نبی کو قتل کیا تو اس کے حالات نہ سنبھلے حتیٰ کہ اس کے بدلے ستر ہزار لوگوں کا خون بہانا پڑا ۔اور جب بھی کسی امت نے نبی کے خلیفہ کو قتل کیا تو ان کے حالات نہ سنبھلے حتیٰ کہ اس کے بدلے چالیس ہزار لوگوں کا خون بہایا گیا ۔لوگوں نے ان کی بات پر غور نہ کیا اور حضرت عثمان کو قتل کردیا ۔پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے راستے میں بیٹھ گئے ،جب آئے تو پوچھا :کہاں کا ارادہ ہے ؟فرمایا :میں عراق جارہا ہوں ۔عرض کیا :عراق مت جائیں ،آپ پر لازم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر سنبھالیں ۔یہ سن کر حضرت علی کے ساتھی ان پر جھپٹ پڑے اور انہیں مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ ہم اہل بیت میں سے ہے اور پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو حضرت عبداللہ بن معقل سے فرمایا یہ ان چالیس ہزار لوگوں کے خون کی ابتداء ہے اور عنقریب ان کے اختتام پر صلح ہو گی اور کسی امت نے جب اپنے نبی کو قتل کیا تو اس کے بدلے ستر ہزار کا خون بہایا گیا اور جب امت نے اپنے خلیفہ کو قتل کیا توا س کے بدلے چالیس ہزار لوگوں کا خون بہایا گیا ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ← مُحَمَّدُ بن عَبْدِ اللَّهِ الْحَضَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 132
