Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله)

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah)

by Tibrani

231 Hadith93 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 180

180 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن أَحْمَدَ بن حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بن مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" خَلُّوا بني الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ قَدْ أَنْزَلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ بِأَنَّ خَيْرَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِهِ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضا ء کیلئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے یہ اشعار پڑھتے ہوئے چل رہے تھے:"کافروں کی اولاد و ! ان کا راستہ صاف خالی کردو۔رحمنٰ نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے کہ سب سے بہترین قتل اللہ کی راہ میں قتل ہونا ہے "۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 180

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 181

181 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُوسَى بن هَارُونَ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بن عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بن سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ مَشَى عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: خَلُّوا بني الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ……الْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ………وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ@ فَقَالَ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَرَمِ اللَّهِ، تَقُولُ الشِّعْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ:"خَلِّ عَنْهُ يَا عُمَرُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَهَذَا أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ السُّيُوفِ".@

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے یہ کہتے ہوئے چل رہےتھے:کافروں کے بچو! ا ن کے راستے سے دور ہٹ جاؤ۔آج ان کی راہ آنے پر ہم تمہیں ایسا ماریں گے کہ کھوپڑیاں اپنی جگہوں سے اتر جائیں گی اور دوست اپنے دوست کو بھلا دے گا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اےابن رواحہ ! اللہ کے حرم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تم شعر کہہ رہے ہو ؟اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے عمر ! پیچھے ہٹ جاؤ ،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میرے جان ہے ! یہ شعر کا فروں پر تلواروں سے زیادہ سخت ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← عَلِيُّ بن عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُوسَى بن هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 181

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 182

182 - حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بن الْحَسَنِ الَحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بن إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بن أَبِي بَكْرٍ،"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ مَكَّةَ فِي تِلْكَ الْعُمْرَةِ، دَخَلَهَا وَعَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ الأَنْصَارِيُّ آخَذٌ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: خَلُّوا بني الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ… إِنِّي شَهِيدٌ أَنَّهُ رَسُولُهُ خَلُّوا فَكُلُّ الْخَيْرِ فِي رَسِولِهِ… يَا رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنٌ بِقِيلِهِ أَعْرِفُ حَقَّ اللَّهِ فِي قَبُولِهِ …نَحْنُ قَتَلْنَاكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ كَمَا قَتَلْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ@ …ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ.

حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ القضا ء کیلئے مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے یہ شعر بولتے جا رہے تھے:اے کافروں کے بچو! ان کے راستے سے دور ہو جاؤ ۔میں گواہ ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔دور ہٹ جاؤ ،کہ ہر قسم کی بھلائی اللہ کے رسول میں ہی ہے۔اے میرے رب ! میں ان کے فرمان پر ایمان رکھتا ہوں ۔میں ان کی قبولیت میں اللہ کے حق کو پہچانتا ہوں ۔ہم تمہیں ان کے خاطر اس قتل کریں گے جیسے ہم نے اللہ کی نازل کردہ کتاب کیلئے تمہیں قتل کیا ہے ۔اے ضرب لگائیں گے کہ کھوپڑی اپنی جگہ سے گر جائے گیا ور دوست اپنے دوست سے بھاگ جائے گا۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 182

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 183

183 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بن هَارُونَ بن سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بن عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ أَمَرَ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ:"اكْشِفُوا عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَاسْعُوا فِي الطَّوَافِ". لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ جَلَدَهُمْ وَقُوَّتَهُمْ، وَكَانَ يَكِيدُهُمْ بِكُلُّ مَا اسْتَطَاعَ، فَانْكَفَأَ أَهْلُ مَكَّةَ الرِّجَالُ مِنْهُمْ، وَالنِّسَاءُ، وَالصِّبْيَانُ يَنْظُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابِهِ وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ يَذْكُرُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَشِّحًا بِالسَّيْفِ، يَقُولُ: خَلُّوا بني الْكُفِّارِ عَنْ سَبِيلِهِ…أَنَا الشَّهِيدُ.... رَسُولُهُ قَدْ نَزَلَّ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ… فِي صُحُفٍ تُتْلَى عَلَى رَسُولِهِ فَالْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ…كَمَا ضَرَبْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ@ …وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ وَتَغَيَّبَ رِجَالٌ مِنْ أَشْرَافِ الْمُشْرِكِينَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْظًا، وَحَنَقًا، وَنَفَاسَةً، وَحَسَدًا خَرَجُوا إِلَى نَوَاحِي مَكَّةَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ................. ثَلاثًا".

حضرت ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں :جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو عمرۃ القضا کا حکم دیا تو فرمایا :کندھے ننگے کرلو اور طواف میں کوشش کرو ۔تاکہ مشرکین ان کے اجسام اور قوت کو دیکھیں ۔جہا ں تک ہو سکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بناوٹ کا حکم دیا اور اہل مکہ جس میں مرد ،عورتیں اور بچے شامل تھے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کےساتھیوں کو دیکھتے تھے کہ وہ کیسے بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں ۔اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے تلوار برہنہ کرے شعر پڑھ رہے تھے :اے کافرو ں کی اولاد و ! ان کا راستہ چھوڑ دو ۔میں گواہ ہوں کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔اللہ نے ان پر نازل کردہ کتاب میں فرمایا ہے اور ان صحیفوں میں جو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑھے جاتے ہیں ۔آج ہم تمہیں اس کی تعبیر پر ماریں گے جیسے ہم نے تمہیں اس کے نازل ہونے پر مارا تھا ۔ایسی ضرب لگائیں گے کہ گردنیں تن سے جدا ہو جائیں گی اور دوست اپنے دوست کا حال نہ پوچھے گا۔اور حال یہ تھا کہ مشرکوں کے سردار مکہ کو چھوڑ کر غیظ و غضب اور حسد میں جلتے ہوئے گردونواح کی بستیوں میں بھاگ گئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسک ادا کئے اور تین دن تک قیام فرمایا ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 183

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 184

184 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا............، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بن بَرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بن مَهْرَانَ، عَنْ مُقْسِمٍ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،"أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ، وَبَيْضَاءَ، يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالأَرْضِ، فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نُعْلِمَهَا، وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ، وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ، بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ، فَحَرَزَ النَّخْلَ، وَهُوَ الَّذِي يَدْعُونَهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرَصَ، فَقَالَ: فِي ذَا كَذَا وَكَذا، فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، قَالَ: فَأَنَا أَلِي حِرْزَ النَّخْلِ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتَ، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ، وَبِهِ قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ، رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَ بِالَّذِي قُلْتَ.@

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو اہل خیبر کیلئے شرط رکھی کہ ساری زمین اور سارا سونا اور چاندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ۔اہل خیبر نے عرض کیا :ہم زمینداری کو اچھی طرح جانتے ہیں لہذا آپ زمین ہمیں عطا کردیں تاکہ ہم اس پر کام کریں اور پھلوں کا آدھا ہمارا اور آدھا آپ کا ہو گا۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس شرط پر زمین عطا کردی ۔جب کھجوریں اتارنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا اور آپ نے کھجوروں کا اندازہ لگایا (اس کو اہل مدینہ خرص کہتے ہیں )تو فرمایا اس میں اتنا اتنا پھل ہے ۔لوگوں نے کہا :اے ابن رواحہ آپ نے تو بہت زیادہ بتا دیا ہے ۔آ پ نے فرمایا :ٹھیک ہے میں کھجوریں اتار کر ان کا تخمینہ لگا دیتا ہوں اور میں تمہیں اس کا نصف دے دوں گا جو میں نے کہا ہے ۔انہوں نے کہا :یہ بات حق ہے اور اس کی وجہ سے آسمان اور زمین کا نظام قائم ہے ۔ہم راضی ہیں کہ آپ کے اندازے کے مطابق حصہ لے لیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،"أَنَّ النَّبِيَّ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ ← مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 184

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 185

185 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ:"فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ، فَيُخْرِصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ أَوَّلَ الثَّمَرَةِ، قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُونَ الْيَهُودَ بِأَنْ يَأْخُذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرَصِ، أَوْ يَدْفَعُوهَا إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرَصِ، لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثَّمَارُ وَتُفَرَّقَ".@

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خیبر کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی طرف بھیجا کرتے تھے تاکہ تازہ پکنے والی کھجورو ں کو کھانے سے پہلے ان کاحساب لگایا جائے ۔پھر یہودیوں کو اختیار دیا جاتا کہ وہ انہیں اسی اندازے کے مطابق لے لیں یا مسلمانوں کو واپس کر دیں ۔اور بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ حکم اس لیے تھا کہ پھلوں کو کھانے اور بانٹنے سے پہلے اندازہ لگا کر زکوٰۃ کا حساب کیا جائے ۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 185

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 186

186 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بن عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:"خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسَقٍ، وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمُ ابْنُ رَوَاحَةَ، أَخَذُوُا الثَّمَرَ وَعَلَيْهِمْ عُشْرُونَ أَلَفَ وَسَقٍ".

حضرت جابر بن عبداللہ بن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجوروں کا حساب لگایا تو وہ چالیس ہزار وسق تھیں ۔ان کا خیا ل ہے کہ یہودیوں کو جب حضرت ابن رواحہ نے اختیار دیا کہ وہ کھجوریں لے لیں تو انہوں نے ساری کھجوریں لے لیں اور ان پر بیس وسق لازم تھے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 186

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 187

187 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّازِقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن نِسْطَاسٍ عَنْ خَيْبَرَ، قَالَ: فَتَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ جَمْعًا لَهُ حَرْثُهَا وَنَخْلُهَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ رَقِيقٌ، فَصَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ عَلَى أَنَّهُمْ يَكْفُونَا الْعَمَلَ وَلَكُمْ شَطْرُ الثَّمَرِ، عَلَى أَنْ أُقِرُّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَذَلِكَ حِينَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ رَوَاحَةَ يَخْرِصُهَا بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا خَيَّرَهُمْ أَخَذَتْ يَهُودُ الثَّمَرَ، فَلَمْ تَزَلْ خَيْبَرُ بِيَدِ الْيَهُودِ عَلَى صُلْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى كَانَ عُمَرُ، فَأَخَرَجَهُمْ، فَقَالَتِ الْيَهُودُ: أَلَمْ يُصَالِحْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: بَلَى، عَلَى أَنَّهُ يُقِرُّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهَذَا حِينَ بَدَا @ لِي أَنْ أُخْرِجَكُمْ، فَأَخْرَجَهُمْ ثُمَّ قَسَّمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ افَتَتَحُوهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُعْطِ مِنْهَا أَحَدًا لَمْ يَحْضَرِ افْتِتَاحَهَا، قَالَ: فَأَهْلُهَا الآنَ الْمُسْلِمُونَ لَيْسَ فِيهَا يَهُودٌ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ بِالْخَرَصِ لِكَيْ يُحْصِي الزَّكَاةَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ، وَتُفَرَّقَ وَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ".

حضرت عامر بن عبدالرحمنٰ بن نسطاس ،خیبر کے حوالے سے بیان کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کیا تو سب کچھ یعنی وہاں کی کھیتی اور کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں ۔اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابیوں کے پاس غلام نہ تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے اس بات صلح کرلی کہ وہ ہمارے لئے کام کریں گے اور ہم انہیں آدھی کھجوریں دیں گے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں تم سے معاہدہ تب تک کررہا ہوں جب تک کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر معاملہ واضح نہیں ہو جاتا ۔اس وقت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ ان کیلئے کھجوروں کا تخمینہ لگائیں۔پھر جب انہوں نے یہودیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے ساری کھجوریں رکھ لیں۔خیبر کا علاقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے تک اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صلح نامہ پر یہودیوں کے قبضے میں رہا ۔پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو آپ نے یہودیوں کا خیبر سے نکال دیا ۔یہودیوں نے کہا :کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس اس شرط پر صلح نہ کی تھی ؟فرمایا :ہاں کیونکہ مگر اس کا اقرار تب تک تھا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر معاملہ روشن ہو جائے اور اب مجھ پر یہ معاملہ واضح ہو گیا ہے کہ میں تمہیں نکال دوں ۔چناچہ حضرت عمر نے انہیں نکال دیا اور خیبر کی زمین ان مسلمانوں میں تقسیم کردی جو اسے فتح کرنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔اور جو اس کی فتح میں شریک نہ تھے ان میں سے کسی کو کچھ بھی نہ دیا ۔اب خیبر میں سب مسلمان ہی ہیں کوئی یہودی نہیں ہے ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے تخمینے کا حکم اس لیئے دیا تاکہ پھلوں کے کھانے کے لائق ہونے اور تقسیم کرنے سے پہلے اس کی زکواۃ کا حساب لگالیا جائے ۔اور مسلمان اب تک اسی پر عمل کررہے تھے۔

خَيْبَرَ. ← عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِسْطَاسٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 187

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 188

188 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بن عُبَيْدِ بن عُمَيْرٍ، عَنْ مُقَاضَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ خَيْبَرَ، عَلَى أَنَّ لَنَا نِصْفَ الثَّمَرِ، وَلَكُمْ نِصْفُهُ، وَيَكْفُونَا الْعَمَلَ، حَتَّى إِذَا طَابَ ثَمَرُهُمْ، أَتُوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ ثَمَرَنَا قَدْ طَابَ، فَابْعَثْ خَارِصًا يَخْرِصُ بَيْنَنَا وَبَيْنِكَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ، فَلَمَّا طَافَ فِي نَخْلِهِمْ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَدًا أَعْظَمَ فِرْيَةً عَلَى اللَّهِ، وَأَعْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ، وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ أَحَدًا أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْكُمْ، وَاللَّهِ مَا يَحْمِلُنِي ذَلِكَ أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ قَدْرَ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ، وَأَنَا أَعْلَمُهَا. قَالَ: ثُمَّ خَرَصَهَا جَمِيعًا الَّذِي لَهُمْ، وَالَّذِي لِيَهُودَ ثَمَانِينَ أَلْفَ@ وَسَقٍ، فَقَالَ الْيَهُودُ: حَرَبْتَنَا، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: إِنْ شِئْتُمْ فَأَعْطُونَا أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسَقٍ وَنَخْرُجُ عَنْكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْنَاكُمْ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسَقٍ، وَتَخْرُجُونَ عَنَّا، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ، وَبِهَذَا يَغْلَبُونَكُمْ".

عبداللہ بن عبید بن عمیر ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیبر کے بارے یہودیوں سے کئے ہوئے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے اس شرط پر صلح کی تھی کہ آدھی کھجوریں ہماری اور آدھی تمھاری ہوں گی۔اور تم ہمارے لیئے کام کرو گے ۔جب کھجوریں پکنے کے قریب ہو گئیں تو یہودی ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا :ہماری کھجوریں پک گئیں ہیں آپ کسی تخمینہ کا ر کا بھیج دیں تاکہ وہ ہمارے اور آپ کے درمیان تخمینہ لگا دے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ۔جب آپ ان کے باغ میں چکر لگا رہے تھے تو ان کی طرف دیکھ کر فرمانے لگے :اللہ کی قسم ! اللہ کی مخلوق میں اللہ پر سب سے بڑے جھوٹ بولنے والا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمن رکھنے والا میں تم سے بڑھ نہیں کسی کو نہیں جانتا ۔اور اللہ کی قسم ! اللہ نے میرے نزدیک تم سے زیادہ دشمنی کے لائق کسی کو پیدا نہیں کیا ۔اللہ کی قسم ! اس کے باوجود جانتے بوجھ کر میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی تمھارا نقصان نہیں کروں گا۔پھر آپ نے ساری کھجوروں کا تخمینہ لگایا ا س کا بھی جو مسلمانوں کی تھیں اور اس کا بھی جو یہودیوں کی تھی ساری ملا کر اسی ہزار وسق کھجوریں بنیں ۔یہودیوں نے کہا :آپ ہمیں اختیار دیتے ہیں (کہ ہم ساری رکھ لیں)آپ نے فرمایا :اگر تم چاہو تو ہمیں چالیس وسق دے دو اور ہم سے دور ہو جاؤ ۔یہودیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا :اس جیسے لوگوں کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں اور اسی وجہ سے یہ لوگ تم پر غالب آئے ہیں ۔

مُقَاضَاةِ النَّبِيِّ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 188

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 189

189 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَمْرِو بن خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ وَجَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ، فَكَرِهَ أَنْ يُصِيبَ مِنْهُمْ شَيْئًا، وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدْلا بَيْنَهُ وَبَيْنَكُمْ، فَلا أَرِبَ لِي فِي هَدِيَّتِكُمْ، فَخَرَصَ النَّخْلَ، فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، هَذَا الَّذِي تَعْرِضُونَ عَلَيْنَا، وَتَعْمَلُونَ بِهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ، وَكَانَتْ خَيْبَرُ لِمَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَشْهَدْهَا أَحَدٌ غَيْرَهُمْ، وَلَمْ يَأْذَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَحَدٍ تَخَلَّفَ عَنْ مَخْرَجِهِ إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ فِي شُهُودِ خَيْبَرَ".

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کرلیا تو حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ بھیجا تاکہ وہ یہودیوں کے درمیان تقسیم کا کام کریں ۔جب حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے پاس آئے تو انہیں کھانے پینے کے ہدیے اور تحفے پیش کرنے لگے ۔آپ نے ان سے کوئی بھی چیز لینے کا پسندنہ کیا اور فرمایا :مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے بھیجا ہے کہ ہمیں ان کے اور تمھارے درمیان انصاف کروں اور مجھے تمھارے ہدیوں میں کوئ دلچسبی نہیں ہے ۔پھر آپ کھجوروں کا اندازہ لگانے لگے اور جب تخمینہ مکمل ہو گیا تو حضرت عبداللہ نے یہودیوں کو اختیار دیا اور فرمایا :اگر تم چاہو تو میں تمھارے لیے حصہ بناتا ہوں اور اس پر کھڑا ہوتا ہوں اور اگر تم چاہو تو ہمارے لئے حصہ بناؤ اور اس پر قائم رہو۔انہوں نے پسند کیا کہ وہ حصے بنائیں گے اور اس پر کھڑے ہونگے۔اور انہوں نے کہا :اے ابن رواحہ یہ فیصلہ جو تم نے ہم پر پیش کیا اور جس پر تم مسلمان لوگ عمل کرتے ہو اسی کے سبب آسمان وزمین قائم ہیں اور یہ صرف حق کی وجہ سے قائم ہوتے ہیں ۔اور خیبر (کی زمین وغیرہ )انہیں کیلئے تھی جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے ان کے سوا کوئی اس کے حصے میں شامل نہ تھا ۔اور نہ ہی کوئی ایسا تھا جو پیچھے رہ گیا ہو اور نہ ان کے سوا کوئی اس میں شامل ہو سکا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اس کی اجازت نہیں دی ۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 189

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 190

190 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بن هَارُونَ بن سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن فُلَيْحٍ، عَنْ @ مُوسَى بن عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي فَتْحِ خَيْبَرَ، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ ثَمَرَهَا، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ جَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ وَيُكَلِّمُونَهُ، وَجَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا لَكَ وَتُخَفِّفُ عَنَّا وَتَجَاوَزُ، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدْلا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ، فَلا أَرِبَ لِي فِي دُنْيَاكُمْ، وَلَنْ أَحِيفَ عَلَيْكَمْ، وَإِنَّمَا عَرَضْتُمْ عَلَيَّ السُّحْتَ، وَإِنَّا لا نَأْكُلُهُ، فَخَرَصَ النَّخْلَ، فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرَصَ خَيَّرَهُمْ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصَيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، هَذَا الَّذِي تَعْمَلُونَ بِهِ، بِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ".

حضرت ابن شہاب فتح خیبر کے بارے میں فرماتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ بھیجا تاکہ وہ یہودیوں کے درمیان تقسیم کا کام کریں ۔جب حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے پاس آئے تو انہیں کھانے پینے کے ہدیے اور تحفے پیش کرنے لگے اور انہیں کھانے پینے کے ہدیے اور تحفے پیش کرنے لگے اور انہیں سے باتیں کرتے اور اپنی عورتوں نے زیورات پیش کرنے لگے اور کہا :یہ سب تمھارے لیے ہیں بس تم ہمارے حساب میں تخفیف کردو۔آپ نے فرمایا :اے یہودیو! اس بات میں شک نہیں کہ سب لوگوں سے زیادہ مجھے تم سے دشمنی ہے لیکن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے بھیجا ہے کہ ہمیں ان کے اور تمھارے درمیان انصاف کروں اور مجھے تمھاری دنیا میں کوئی دلچسبی نہیں ہے اور میں تمھارا کوئی نقصان نہیں کروں گا۔اور تم مجھ پر رشوتیں پیش کررہے ہو اور میں حرام نہیں کھاتا ۔پھر آپ کھجورو ں کا اندازہ لگانے لگے اور جب تخمینہ مکمل ہو گیا تو حضرت عبداللہ نے یہودیوں کو اختیار دیا اور فرمایا :اگر تم چاہو تو میں تمھارے لیے حصہ بناتا ہوں اور اس پر کھڑا ہوتا ہوں اور اگر تم چاہو تو ہمارے لیے حصہ بناؤ اورا س پر قائم رہو انہوں نے پسند کیا کہ وہ حصے بنائیں گے اور اس پر کھڑے ہونگے ۔اور انہوں نے کہا :اے ابن رواحہ یہ فیصلہ جو تم نے ہم پر پیش کیا اور جس پر تم مسلمان لوگ عمل کرتے ہو اسی کے سبب آسمان وزمین قائم ہیں اور یہ صرف حق کی وجہ سے قائم ہوتے ہیں ۔

ابْنِ شِهَابٍ فِي فَتْحِ خَيْبَرَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 190

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 191

191 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: خَرْصُهُمْ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَخْبَرَنِي عَنِ ابْنِ رَوَاحَةَ: أَنَّهُ خَرَصَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: إِنْ شِئْتُمْ فَلَنَا، وَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ، قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ".

ابن جریح بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطا سے زمانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں خیبر کی کھجوروں کے تخمینے کے بارے میں پوچھا توا نہوں نے مجھے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کےبار ےمیں خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور یہودیوں کے درمیان تخمینہ لگایا تھا اور فرمایا :اگر تم چاہو تو ساری ہم رکھ لیتے ہیں (اور تمھارے حصے کے پیسے ادا کر دیتے ہیں )اور اگر تم چاہو تو ساری تم رکھ لو (اور ہمیں قیمت ادا کردو)اس پر یہودیوں نے کہا :اسی طرح کے فیصلوں سے زمین و آسمان قائم ہیں ۔

بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ". ← «إِنْ شِئْتُمْ فَلَنَا، وَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ» ← ابْنِ رَوَاحَةَ: أَنَّهُ خَرَصَ بَيْنَ النَّبِيِّ وَبَيْنَ الْيَهُودِ، ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: خَرْصُهُمْ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 191

chevron_left Previous
1…151617…20
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter