المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ جَابِرُ بن عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ · حديث 97
97 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، وَحَجَّاجُ بن الْمِنْهَالِ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن أَحْمَدَ بن حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بن فَرُّوخٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بن عَبْدِ الْوَاحَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن مُحَمَّدِ بن عَقِيلٍ، أَنَّ جَابِرَ بن عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ مِنَ أَصْحَابِ ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ، سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، فَخَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ، أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ، فَابْتَعْتُ بَعِيرًا، فَشَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي، ثُمَّ سِرْتُ عَلَيْهِ شَهْرًا، حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ@ بن أُنَيْسٍ الأَنْصَارِيَ، فَقُمْتُ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: جَابِرُ بن عَبْدِ اللَّهِ، فَخَرَجَ عَلَيَّ، فَعَانَقَنِي وَعَانَقْتُهُ، قَالَ: قُلْتَ: حَدِيثًا بَلَغَنِي أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَظَالِمِ، خَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ، أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"يَحْشُرُ اللَّهُ الْعِبَادَ"، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الشَّامِ،"عُرَاةً حُفَاةً غُرْلا بُهْمًا". قَالَ: قُلْتُ: مَا بُهْمًا؟ قَالَ:"لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ، فَيُنَادِي مُنَادِي بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ: أَنَا الْمَلِكُ الدَّيَانُ، لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَأَحَدٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَطْلُبُهُ بِمَظْلَمَةٍ حَتَّى اللَّطْمَةٍ"، قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ، وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً غُرْلا بُهْمًا؟ قَالَ:"الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ"
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک صحابی رسول کے بار ے میں معلوم ہوا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو میں نے نہیں سنی ۔تومجھے خدشہ لا حق ہوا کہ کہیں وہ حدیث سننے سے پہلے میں یا وہ صحابی فوت نہ ہو جائیں تو میں نے اونٹ تیار کیا اور اس پر کجاوہ باندھا پھر ایک مہینے کی مسافت طے کرکے شام میں حاضر ہوا ۔حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس آکر اجازت مانگی اور بتایا کہ جابر بن عبد اللہ آیا ہے ۔آپ باہر تشریف لائے اور گلے سے لگا کر ملے پھر میں نے گزارش کی کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ مظالم کے بارے میں ایک حدیث آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔میں خدشہ لاحق ہوا کہ اسے سننے سے قبل میرا یا آپ کا وصال نہ ہو جائے تو میں اسے سننے کیلئے حاضر ہوا ہوں ۔انہوں نے کہا :میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :اللہ تعالیٰ بندوں کو یہاں (اور ملک شام کی طر ف اشارہ کیا )ننگے بدن ،ننگے پاؤں بے مائگی کی حالت میں اکھٹا کرے گا۔میں نے پوچھا "بہم "کا کیا مطلب ہے ؟کہا ان کے پاس کوئی چیز نہ ہو گی ۔پھر ایک منادی ندا دے گا جسے دور والا بھی اسی طرح سنے گا جیسے قریب والا سنے گا۔ندا آئے گی :میں عدل و انصاف والا بادشاہ ہوں ،کسی جنتی کو اجازت نہیں کہ کسی ایسے جہنم کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہو جائے جس پر اس نے کوئی ظلم کیا ہو اور کسی جہنمی کو اجازت نہیں کہ کسی جنتی کو چھوڑ کر جہنم میں داخل ہو جائے جس پر اس نے کوئی ظلم کیا ہو ۔حتیٰ کہ ایک تھپڑ کا بھی بدلہ ہوگا ۔میں نے عرض کیا :بدلہ کیسے ہو گا حالانکہ ہم تو بے مائگی کی حالت میں جمع ہونگے ؟فرمایا :نیکیوں اور بدیوں کے ساتھ بدلہ ہوگا۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← هَمَّامٌ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بن رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، وَحَجَّاجُ بن الْمِنْهَالِ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 97
