Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله)

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah)

by Tibrani

231 Hadith93 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ جَابِرُ بن عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ · حديث 97

97 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، وَحَجَّاجُ بن الْمِنْهَالِ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن أَحْمَدَ بن حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بن فَرُّوخٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بن عَبْدِ الْوَاحَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن مُحَمَّدِ بن عَقِيلٍ، أَنَّ جَابِرَ بن عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ مِنَ أَصْحَابِ ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ، سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، فَخَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ، أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ، فَابْتَعْتُ بَعِيرًا، فَشَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي، ثُمَّ سِرْتُ عَلَيْهِ شَهْرًا، حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ@ بن أُنَيْسٍ الأَنْصَارِيَ، فَقُمْتُ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: جَابِرُ بن عَبْدِ اللَّهِ، فَخَرَجَ عَلَيَّ، فَعَانَقَنِي وَعَانَقْتُهُ، قَالَ: قُلْتَ: حَدِيثًا بَلَغَنِي أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَظَالِمِ، خَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ، أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"يَحْشُرُ اللَّهُ الْعِبَادَ"، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الشَّامِ،"عُرَاةً حُفَاةً غُرْلا بُهْمًا". قَالَ: قُلْتُ: مَا بُهْمًا؟ قَالَ:"لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ، فَيُنَادِي مُنَادِي بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ: أَنَا الْمَلِكُ الدَّيَانُ، لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَأَحَدٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَطْلُبُهُ بِمَظْلَمَةٍ حَتَّى اللَّطْمَةٍ"، قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ، وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً غُرْلا بُهْمًا؟ قَالَ:"الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ"

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک صحابی رسول کے بار ے میں معلوم ہوا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو میں نے نہیں سنی ۔تومجھے خدشہ لا حق ہوا کہ کہیں وہ حدیث سننے سے پہلے میں یا وہ صحابی فوت نہ ہو جائیں تو میں نے اونٹ تیار کیا اور اس پر کجاوہ باندھا پھر ایک مہینے کی مسافت طے کرکے شام میں حاضر ہوا ۔حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس آکر اجازت مانگی اور بتایا کہ جابر بن عبد اللہ آیا ہے ۔آپ باہر تشریف لائے اور گلے سے لگا کر ملے پھر میں نے گزارش کی کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ مظالم کے بارے میں ایک حدیث آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔میں خدشہ لاحق ہوا کہ اسے سننے سے قبل میرا یا آپ کا وصال نہ ہو جائے تو میں اسے سننے کیلئے حاضر ہوا ہوں ۔انہوں نے کہا :میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :اللہ تعالیٰ بندوں کو یہاں (اور ملک شام کی طر ف اشارہ کیا )ننگے بدن ،ننگے پاؤں بے مائگی کی حالت میں اکھٹا کرے گا۔میں نے پوچھا "بہم "کا کیا مطلب ہے ؟کہا ان کے پاس کوئی چیز نہ ہو گی ۔پھر ایک منادی ندا دے گا جسے دور والا بھی اسی طرح سنے گا جیسے قریب والا سنے گا۔ندا آئے گی :میں عدل و انصاف والا بادشاہ ہوں ،کسی جنتی کو اجازت نہیں کہ کسی ایسے جہنم کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہو جائے جس پر اس نے کوئی ظلم کیا ہو اور کسی جہنمی کو اجازت نہیں کہ کسی جنتی کو چھوڑ کر جہنم میں داخل ہو جائے جس پر اس نے کوئی ظلم کیا ہو ۔حتیٰ کہ ایک تھپڑ کا بھی بدلہ ہوگا ۔میں نے عرض کیا :بدلہ کیسے ہو گا حالانکہ ہم تو بے مائگی کی حالت میں جمع ہونگے ؟فرمایا :نیکیوں اور بدیوں کے ساتھ بدلہ ہوگا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← هَمَّامٌ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بن رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، وَحَجَّاجُ بن الْمِنْهَالِ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 97

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ جَابِرُ بن عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ · حديث 98

98 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بن إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن ثَابِتٍ الْجَزْرِيُّ، عَنِ الْوَازِعِ بن نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بن عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيِسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ لِسُفُيَانَ @ الْهُذَلِيُّ؟ يَهْجُونِي، وَيَشْتُمُنِي، وَيُؤْذِينِي". فَقُلْتُ لَهُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْعَثْنِي لَهُ، فَبَعَثَهُ لَهُ، فَلَمَّا أَتَاهُ لَيْلا، دَخَلَ دَارَهُ، فَنَادَى: أَيْنَ سُفْيَانُ؟ فَأطْلَعَ إِلَيْهِ مُطَّلِعًا مِنْ أَهْلِهُ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ سُفْيَانَ، فَمُرُوهُ فَلْيَطَّلِعْ عَلَيَّ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ سُفْيَانُ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تَهْبِطَ إِلَيَّ، فَإِنَّ عِنْدِي دِرْعٌ أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكَهَا، قَالَ: فَأَيْنَ هِيَ؟ قَالَ: هَا هَذِهِ فَاهْبِطْ إِلَيَّ بِقِبَائِكِ، فَاخْرُجْ مَعِي أُرِيكَهَا، فَخَرَجَ مَعَهُ، فَسَلَّ سَيْفَهُ، فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ، فَأَخْبَرَهُ بِأَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَصَا يَتَخَصَّرُ بِهَا، فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ قَالَ:"تَخَصَّرْ بِهَذِهِ، فَإِنَّ الْمُتَخَصِّرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَلِيلٌ، فَلَمْ تَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى مَاتَ فَدُفِنَتْ مَعَهُ".

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ،حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سفیان ہذلی کو کون قتل کرے گا؟کیونکہ وہ میری ہجو بیان کرتا ہے اور مجھے برا بھلا کہہ کر اذیت کا باعث بنتا ہے ۔حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس ک طرف بھیج دیجئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بھیج دیا ۔جب وہ اس کے پاس پہنچے تو رات کا وقت تھا اس کے گھر میں آکر آواز دی کہ سفیان کہاں ہے ؟اس کے گھر والوں میں سے کسی نے پوچھا کیا کام ہے ؟کہا :میں نے کہا میں نے ابو سفیان سے ملنا ہے ۔اسے میرے پاس بھیج دیجئے ۔پھر سفیان میرے پاس آیا اور پوچھا کیا چاہتے ہو ؟میں نے کہا :چاہتا ہوں کہ تو میرے پاس آئے،میرا پاس ایک ذرع ہے جسے میں نے ٹھیک کرانا ہے ۔اس نے کہا :کہاں ہے ؟میں نے کہا یہ ہے توا پنی چادر لے کر میرے ساتھ چل ۔چناچہ وہ چلا آیا ۔میں نے نظر بچا کر تلوار نکالی اور اسے قتل کردیا حتیٰ کہ کب وہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تھے میں نے خبر دی کہ میں نے ابو سفیان کو قتل کردیا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عصا تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ میں لئے رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرما کر فرمایا :اس سے سہارا لیا کر بے شک قیامت کےدن لاٹھی کا سہارا لینے والے بہت کم ہوں گے۔چناچہ وہ لاٹھی ان کے پاس رہی حتی ٰ کہ ان کا وصا ل ہو ا تو وہ ان کے ساتھ ہی دفن کردی گئی ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ، ← عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 98

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ جَابِرُ بن عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ · حديث 99

99 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بن عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بن إِسْمَاعِيلَ بن مَجَمِّعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عَبْدِ اللَّهِ بن كَعْبِ بن مَالِكٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ بنتِ عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ، أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بن أَبِي الْحُقَيْقِ لَيَقْتُلُوهُ: عَبْدُ اللَّهِ بن عَتِيكٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَحَلِيفٌ لَهُمْ، وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، وَأَنَّهُمْ قَدِمُوا خَيْبَرَ لَيْلا، فَعَمَدْنَا@ إِلَى أَبْوَابِهِمْ نُغْلِقُهَا عَلَيْهِمْ مِنْ خَارِجٍ، قَالَتِ امْرَأَةُ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ: إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ عَبْدِ اللَّهِ بن عَتِيكٍ، قَالَ: افْتَحِي، فَفَتَحَتْ، فَدَخَلْتُ أَنَا، وَعَبْدُ اللَّهِ بن عَتِيكٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: دُونَكَ، فَذَهَبْتُ لأَضْرِبَهَا بِالسَّيْفِ، فَأَذْكُرُ"نَهْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ، وَالْوِلْدَانِ"، فَأَكُفُّ عَنْهَا. قَالَ عَلِيُّ بن الْمَدِينِيُّ: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ الأَنْصَارِيُّ، وَلَيْسَ بِالْجُهْنِيِّ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ الأَنْصَارِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْهُ جَابِرُ بن عَبْدِ اللَّهِ.

حضرت عبداللہ بن انیس کی بیٹی ،حضرت عبداللہ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے فرمایا :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو عبداللہ بن ابی الحقیق کو قتل کرنے کے لیئے بھیجا ۔ان میں حضرت عبداللہ بن عتیک ،عبداللہ بن انیس ،ابو قتادہ ،ان کا ایک حلیف اور ایک انصار آدمی رضی اللہ عنہم شامل تھے۔یہ سب لوگ رات کےوقت خیبر میں پہنچے اور اس کےدروازے پر جا کر دستک دی ۔اس کی بیوی نے کہا :یہ تو عبداللہ بن عتیک کی آواز لگتی ہے ۔اس نے دروازہ کھول دیا ۔میں اور عبداللہ بن عتیک اندر چلے گئے ۔حضرت عبد اللہ نے اس سے کہا :بھاگ جا ۔میں اسے قتل کرنے کیلئے آگے بڑھا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت یاد آگئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کوقتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔تو میں نے اس سے ہاتھ روک لئے ۔حضرت علی بن مدینی بیان کرتے ہیں:یہ عبداللہ بن انیس انصاری ہیں،جہنی نہیں ہیں۔یہ وہی عبداللہ بن انیس ہیں جن سے حضرت عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔

إبراهيم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ← إبْرَاهِيمُ بْنُ إسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 99

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ جَابِرُ بن عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ · حديث 100

100 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بن أَحْمَدَ بن مُقْبِلٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن وَهْبٍ الْعَلافُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بن مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بن عُمَرَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بن حُوَيْصَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بن مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ:"ضَرَبَ الْمُسْتَنِيرُ بن رِزَامٍ الْيَهُودِيُّ وَجْهِي بِمِخْرَشٍ مَنْ شَوْحَطٍ، فَشَجَّنِي مَنْقَلَةً، أَوْ مَأْمُومَةً، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَشَفَ عَنْهَا، وَتَفَلَ فِيهَا فَمَا آذَانِي مِنْهَا شَيْءٌ".

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :یستتر بن رزام یہودی نے ایک پہاڑی درخت سے بنے ہوئے ڈنڈے سے میرا چہرہ زخمی کر ڈالا تو میں اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے سے کپڑا ہٹا کر اپنا لعاب دہن لگاتا تو میری ساری تکلیف اور اذیت دور ہو گئی ۔

ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← إِبْرَاهِيمَ بن حُوَيْصَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْعَلَّافُ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُقْبِلٍ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 100

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter