المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ مُحَمَّدُ بن كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ الأَنْصَارِيِّ · حديث 101
101 - حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بن إِبْرَاهِيمَ بن حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بن مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بن عَبْدِ اللَّهِ@ بن الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بن كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن أُنَيِسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا:"مَنْ لِي مِنْ خَالِدِ بن نُبَيْحٍ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِعُرَنَةَ؟"قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ، فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْعَتْهُ لِي، فَقَالَ:"لَوْ رَأَيْتَهُ هِبْتَهُ"، فَقُلْتُ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ، مَا هِبْتُ شَيْئًا قَطُّ، فَخَرَجْتُ حَتَّى لَقِيتُهُ بِجِبَالِ عُرَنَةَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، فَلَقِيتُهُ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَعَرِفْتُ حِينَ رُعِبْتُ مِنْهُ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ، فَقُلْتُ: بَاغِي حَاجَةٍ، فَهَلْ مِنْ مَبِيتٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَالْحَقْ بِي، قَالَ: فَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ، فَصَلَّيْتُ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ، وَأَشْفَقْتُ أَنْ يَرَانِي، ثُمَّ لَحِقْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ، ثُمَّ غَشِيتُ الْجَبَلَ وَلَجَمْتُهُ، حَتَّى إِذَا ذَهَبَ النَّاسُ خَرَجْتُ، حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ". قَالَ مُحَمَّدُ بن كَعْبٍ:"فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَصَّرَةً، فَقَالَ: تَخَصَّرْ بِهَذِهِ حَتَّى تَلْقَانِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَقَلُّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْمُتَخَصِّرُونَ". قَالَ مُحَمَّدُ بن كَعْبٍ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ أَمَرَ بِهَا، فَوُضِعَتْ عَلَى بَطْنِهِ، وَكُفِّنَ عَلَيْهَا، وَدُفِنَتْ مَعَهُ.@ عَبْدُ اللَّهِ بن أُنَيْسِ بن حَرَامٍ الْجُهَنِيُّ كَانَ يَنْزِلُ الْمَدِينَةَ، وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي نَابِي بن عَمْرِو بن سَوَادٍ عَقَبِيٌّ
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا :کون خالد بن نبیح سے میرا بدلہ لے گا؟یہ بنو ہذیل کاایک آدمی تھا اور ان دنوں عرفہ میں آیا ہوا تھا ۔میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کا حلیہ بیان کردیجئے ۔فرمایا جب تو اسے دیکھا گا تو تجھ پر رعب طاری ہو جائے گا۔میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت بخشی ہے میں کھبی کسی چیز سے مرعوب نہیں ہوا۔چناچہ میں وہاں سے نکلا حتیٰ کہ سورج غروب ہونے سے قبل عرفہ کے پہاڑوں میں میری اس سے ملاقات ہوگئی ۔جب میں نے اسے دیکھا تو مجھ پر رعب طاری ہو گیا ۔میں نے پہنچان لیا کہ یہی وہ شخص ہے جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔اس نے پوچھا :کون ہے ؟میں نےکہا :ایک ضرورت مند ہوں ،رات بسر کرنے کی جگہ ہے ؟اس نے کہا :ہاں ،میرے ساتھ آجاؤ ۔میں اسکے پیچھے چل پڑا ،میں نے جلدی سے دو رکعتیں عصر کی ادا کیں اور دوبارہ اس کے پیچھے چل پڑا ۔اور مجھے یہ خدشہ بھی تھا کہ اس نے مجھے دیکھ نہ لیا ہو ۔پھر میں اس تک پہنچا اور تلوارسے اسے قتل کردیا ۔اور پہاڑ میں چھپ گیا ۔جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو میں نکل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے کی خبر دی ۔محمد بن کعب بیان کرتے ہیں :آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لاٹھی دی اور فرمایا :اس سے سہارا لیتے رہو حتیٰ کہ اسے ساتھ لے کر قیامت کے دن مجھ سے ملنا ۔اور اس دن بہت کم لوگ لاٹھیوں والے ہونگے ۔محمد بن کعب کہتے ہیں :جب ان کا وصال ہوا تو انہوں نے اس لاٹھی کی وصیت کی تھی چناچہ اسے ان کے پیٹ پر رکھ کر کفن دیا گیا اور ان کے ساتھ ہی دفن کردیا گیا ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← أَبِي ← مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 101
