المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ عَمْرُو بن عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ · حديث 109
109 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بن مُحَمَّدِ بن نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بن صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بن يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن @ إِسْحَاقَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بن مُسْلِمٍ الزُّهْرِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بن كَعْبِ بن مَالِكٍ الأَنْصَارِيَّ، وَعَمْرَو بن عَبْدِ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ نَفَرًا مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا: مَنْ رَجُلٌ نَبْعَثُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قُلْتُ: أَنَا، قَالُوا: فَاذْهَبْ، فَسَلْهُ لَنْا: مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ فَخَرَجْتُ حَتَّى وَافَيْتُ غُرُوبَ الشَّمْسِ عِنْدَ بَعْضِ أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُصَلِّي بِالْمَغْرِبِ، فَصَلَّى وَخَرَجَ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتَهُ وَأَنَا مَعَهُ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفُطْرَةٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن أُنَيْسٍ: فَرَأَيْتُنِي وَأَنَا أَرْعَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِلَّةِ طَعَامِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بنعْلِهِ، ثُمَّ قَالَ:"إِنِّي أَظُنُّ أَنَّ لَكَ حَاجَةً"، قُلْتُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ فُلانٌ، وَفُلانٌ، يَسْأَلُونَكَ: مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ، قَالَ:"اللَّيْلَةُ، وَتِلْكَ اللَّيْلَةُ اثْنَيْنِ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ"، ثُمَّ قَالَ:"مَا اللَّيْلَةُ؟"قُلْتُ: لَيْلَةُ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ، قَالَ:"لا، بَلِ اللَّيْلَةُ الْمُقْبِلَةُ لَيْلَةُ ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ".
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :انصاری کی ایک جماعت نے کہا :ہم کس آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں ؟میں نے کہا :میں حاضر ہوں ۔انہوں نے کہا :جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر آؤ کہ لیلتہ القدر کب ہوتی ہے ؟ چناچہ میں نکلا اور سورج غروب ہونے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے پاس پہنچ گیا ۔کچھ ہی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے تشریف لائے ،نماز پڑھا کرچل پڑے تو میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا حتیٰ کہ ان کے ساتھ ہی گھر میں داخل ہو گیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کھانا منگوایا ،میں نے خود کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کی کمی دیکھ کر دل میں شفقت و مہربانی کے جزباب امڈ رہے تھے ۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو اپنے نعلین مبارک منگوائے پھر مجھ سے فرمایا :لگتا ہے تمہیں کوئی کام ہے ؟میں نے عرض کیا :جی ہاں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے فلاں فلاں نے آپ کی طرف بھیجا ہے وہ پوچھتے ہیں کہ لیلتہ القدر کب ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یہ رات ،رمضان کی بائیسویں رات ہے ۔پھر فرمایا :کونسی رات ہے ؟میں نے عرض کیا :بائیسویں ۔فرمایا :اس سے اگلی یعنی تیئسویں رات ۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 109
