Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1714

1714 - قال وسمعت أبا إسحاق قال : سمعت البراء بن عازب قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا مربوعا بعيد ما بين المنكبين عظيم الجمة إلى شحمة أذنيه عليه حلة حمراء ما رأيت شيئا قط أحسن منه K إسناده صحيح

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درمیانہ قد کے تھے‘ دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا‘ زلفیں کانوں کی لو تک تھیں ‘ آپ پر سرخ رنگ کا حلہ تھا‘ میں نے کبھی بھی آپ سے زیادہ خوبصورت دیکھا ہی نہیں ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبَا إِسْحَاقَ

Hadith 1714

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1715

1715 - وبإسناده عن أبي إسحاق قال : سمعت البراء بن عازب قال Y كان أول من قدم من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم مصعب بن عمير و ابن أم مكتوم فكانوا يقرئون الناس قال : فقدم بلال و سعيد و عمار بن ياسر قال : ثم قدم الناس قال : فقدم بلال و سعيد و عمار بن ياسر قال : ثم قدم عمر بن الخطاب في عشرين من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فما رأيت أهل المدينة فرحوا بشيء فرحهم برسول الله صلى الله عليه و سلم قال : حتى جعل الإماء يقلن : قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فما قدم حتى قرأت بـ { سبح اسم ربك الأعلى } [ الأعلى : 1 ] في سور من المفصل K إسناده صحيح

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اصحاب میں سے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگ ان سے پڑھتے تھے۔ حضرت بلال‘ حضرت سعید‘ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے بیس اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے میں نے اہل مدینہ کو کسی شے کے ساتھ خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کے ساتھ خوش ہوتے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ بچیاں کہنے لگیں رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ’’فسبح اسم ربك الاعلی ‘‘ پڑھی دو سورہ مفصل سے ۔

Hadith 1715

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1716

1716 - وبإسناده قال : سمعت البراء قال Y كان النبي صلى الله عليه و سلم ينقل التراب ولقد وارى التراب بطنه وهو يقول : ( اللهم لولا أنت ما اهتدينا ... ولا تصدقنا ولا صلينا ) . ( فأنزلن سكينة علينا ... و ثبت الأقدام إن لا قينا ) . ( إن الألى قد بغوا علينا ) . وربما قال : ( إن الملا قد أبوا علينا ... إذا أرادوا فتنة أبينا ) . يرفع بها صوته K إسناده صحيح

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مٹی جھاڑتے تھے یہاں تک کہ میں نے مٹی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکم اطہر پر دیکھی‘ آپ یہ اشعار پڑھ رہے تھے ۔ ’’اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم زکوٰۃ اور نماز ادا کرتے‘ تو نے ہم پر سکینہ نازل کی اور ہمارے قدموں کو ثابت قدم رکھ جب ہم دشمن آ منا سامنا کریں ۔ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پڑھتے تھے بلند آواز سے بے شک گروہ نے ہم پر انکار کیا جب انہوں نے ہم کو آزمائش میں ڈالنا چاہا۔

Hadith 1716

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1717

1717 - وبإسناده عن البراء قال Y مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوم جلوس في الطريق فقال : إن كنتم لا بد فاعلين فاهدوا السبيل وردوا السلام وأعينوا المظلوم K إسناده صحيح

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قوم کے پاس سے گزرے جو راستے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے ضرور بیٹھنا ہے تو مسافر کی راہنمائی کرو‘ سلام کا جواب دو اور مظلوم کی مدد کرو۔

مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوم جلوس في الطريق ← الْبَرَاءِ، ← وَبِإِسْنَادِهِ

Hadith 1717

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1718

1718 - حدثنا محمد بن بشار حدثنا عبد الرحمن حدثنا شعبة عن أبي إسحاق عن البراء Y عن النبي صلى الله عليه و سلم بمثله . قال شعبة : قلت لأبي إسحاق : أسمعته من البراء ؟ قال : لا K رجاله ثقات

حضرت اُبی اسحاق حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں ۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابی اسحاق سے کہا: کیا آپ نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں! بے شک انہوں نے ہم پر بغاوت کی ۔

لا رجاله ثقات ← شعبة قلت لأبي إسحاق أسمعته من البراء ← النبي صلى الله عليه و سلم بمثله ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 1718

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1719

1719 - حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد حدثنا شعبة عن أبي إسحاق قال : قال البراء بن عازب Y مات ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وهم يشربون الخمر فلما نزل تحريمها قال أناس من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم : وكيف بأصحابنا الذين ماتوا وهم يشربونها ؟ فنزلت { ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا } [ المائدة : 93 ] K إسناده صحيح

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض کا وصال ہو گیا تھا وہ شراب پیتے تھے ۔ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض کہنے لگنے : ان کا حال کیسا ہو گا جو اس حالت میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیتے تھے؟ یہ آیت اتری: ’’نہیں ہے ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے کوئی گناہ جو انہوں نے طمع کی‘ جب وہ ڈرتے تھے اور ایمان والے تھے‘‘۔

أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 1719

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1720

1720 - حدثنا محمد بن بشار حدثنا عبد الرحمن حدثنا شعبة عن أبي إسحاق عن البراء بن عازب Y مثله قال شعبة : قلت : أسمعته من البراء ؟ قال : لا K رجاله ثقات

حضرت اُبی اسحاق حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابی اسحاق سے کہا: کیا آپ نے حضرت براء پانی سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں !

لا رجاله ثقات ← شعبة قلت أسمعته من البراء ← البراء بن عازب مثله ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 1720

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1721

1721 - حدثنا محمد حدثنا محمد حدثنا شعبة عن أبي إسحاق أنه سمع البراء بن عازب يقول Y أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا إذا أخذ مضجعه أن يقول : اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضعت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منحى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت فإن مات مات على الفطرة K إسناده صحيح

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ جب تو اپنے بستر پہ آئے تو یہ پڑھ لیا کر : ’’اللهم اسلمت الیٰ آخرہ ‘‘ اگر اس رات کو مر جائے گا تو فطرت پر مرے گا۔

أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدٍ

Hadith 1721

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1722

1722 - وبه عن أبي إسحاق قال : سمعت البراء يقول Y قرأ رجل { الكهف } وفي الدار دابة فجعلت تنقر فسلم فإذا ضبابة ـ أو سحابة ـ قد غشيته فذكره للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : اقرأ فلان فإنها السكينة نزلت عند القرآن أو تنزلت للقرآن K إسناده صحيح

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک آدمی نے سورۃ الکہف شریف پڑھ رہے تھے گھر میں ایک جانور تھا وہ بدکنے لگا۔ جب پڑھنا بند کرتے تو وہ روکا جاتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فلان پڑھتے رہنا تھا وہ سکینہ تھی جو قرآن پڑھتے وقت اترتی ہے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← وبه

Hadith 1722

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1723

1723 - وبه عن أبي إسحاق قال : سمعت البراء يقول Y آخر آية نزلت { الكلالة } وآخر سورة نزلت { براءة } K إسناده صحيح

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آخری آیت جو نازل ہوئی وہ آیت کلالہ تھی ۔ آخر سورہ جو نازل ہوئی وہ سورۃ البراءۃ تھی۔

آخر آية نزلت الكلالة وآخر سورة نزلت براءة إسناده صحيح ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← وبه

Hadith 1723

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1724

1724 - وبه عن أبي إسحاق أنه سمع البراء بن عازب يقول Y استصغرت يوم بدر أنا و ابن عمر وكانت المهاجرون نيفا على الستين والأنصار نيفا على المئتين وأربعين K إسناده صحيح

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بدر کے بدر چھوٹے ہونے کی وجہ سے نہیں جانے دیا مہاجرین ساتھ تھے انصار دو سو چالیس تھے۔

استصغرت يوم بدر ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← اَبِیْ اِسْحَاقَ، اَنَّہٗ ← وبه

Hadith 1724

مسند أبي يعلى · مسند البراء بن عازب ‹ مسند البراء بن عازب · حديث 1725

1725 - وبإسناده عن أبي إسحاق أنه سمع البراء Y يقول في هذه الآية : { لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله } [ النساء : 95 ] قال فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم زيدا فجاء بكتف قال : فشكا ابن أم مكتوم ضرارته فنزلت { لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر } [ النساء : 95 ] K إسناده صحيح

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک آیت کے متعلق ’’لا يستوى القاعدون الیٰ آخرہ ‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھنے کا حکم دیا تو وہ ایک ہڈی لے کر آئے ۔ حضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نابینا ہونے کے حوالہ سے شکایت کی ۔ پھر یہ آیت اتری: ’’لا يستوى القاعدون الیٰ آخرہ‘‘۔

Hadith 1725

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter