Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1626

1626 - حدثنا وهب بن بقية حدثنا خالد عن عطاء عن ميسرة و أبي البختري Y أن عمارا يوم صفين جعل يقاتل فلا يقتل فيجئ إلى علي فيقول : يا أمير المؤمنين أليس هذا يوم كذا وكذا هو ؟ فيقول : أذهب عنك فقال ذلك مرارا ثم أتي بلبن فشربه فقال عمار : إن هذه لآخر شربة أشربها من الدنيا ثم تقدم فقاتل حتى قتل K إسناده ضعيف

حضرت عطا‘ جناب میسرہ اور حضرت ابو بختری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صفین کی جنگ کے دن لڑ رہے تھے ، آپ شہید نہیں ہورہے تھے۔ آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے ‘ عرض کی : اے امیرا لمومنین! کیا یہ فلاں فلاں دن نہیں ہے؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : آپ چھوڑ دیں اس کو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی مرتبہ ارشاد فرمایا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا۔ آپ نے پیا۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ آخری شربت ہے جو میں اس دنیا میں پی رہا ہوں ۔ پھر آگے بڑھے‘ لڑے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے ۔

ميسرة و أبي البختري ← عَطَاءٍ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Hadith 1626

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1627

1627 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حماد عن علي بن زيد عن سلمة بن محمد بن عمار بن ياسر عن عمار بن ياسر Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن من الفطرة المضمضة والاستنشاق وقص الشارب والسواك وغسل البراجم ونتف الإبط والاستحداد والاختتان والانتضاح K إسناده ضعيف

حضرت عمار یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کچھ چیزیں فطرت سے ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مونچھیں کاٹنا، مسواک کرنا ، انگلیوں کے جوڑوں کا دھونا، بغل کے بال اکھاڑنے ، زیر ناف بال مونڈھنا ، ختنہ کرنا۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Hadith 1627

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1628

1628 - حدثنا عمر بن الخطاب حدثنا عبد الملك بن إبراهيم الجدي حدثنا سفيان عن ابن عجلان عن سعيد بن أبي سعيد Y أن عمارا صلى فقال له رجل : لقد خففت الصلاة يا أبا اليقظان ؟ قال : هل رأيتني نقصت من حدودها شيئا ؟ شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الرجل ليصلي ثم ينصرف ما كتب له إلا نصفها ثلثها ربعها خمسها سدسها ثمنها تسعها عشرها K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت عمر بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک آدمی نے کہا: اے ابو یقظان ! آپ کو دیکھا ہے کہ آپ نے دونوں رکعتیں مختصر پڑھی ہیں ۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ نے مجھے نماز کی حدوں میں سے کسی کو کم کرتے دیکھا ہے؟ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا: ایک آدمی نماز پڑھتا ہے ہو سکتا ہے کہ اس سے اس کو اس نماز کا دسواں یا نواں یا آٹھواں یا چھٹا یا پانچواں (چوتھے‘ تیسرے یا آدھے حصے کا ثواب بھی نہ ملے)۔

له رجل لقد خففت الصلاة يا أبا اليقظان ← سعيد بن أبي سعيد أن عمارا صلى ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،

Hadith 1628

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1629

1629 - حدثنا حجاج بن يوسف الشاعر حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن صالح عن ابن شهاب حدثني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس عن عمار بن ياسر Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عرس بذات الجيش ومعه عائشة زوجته فانقطع عقد لها من جزع ظفار فحبس الناس ابتغاء عقدها ذلك حتى أضاء الفجر وليس مع الناس ماء فتغيظ عليها أبو بكر وقال : حبست الناس وليس معهم ماء ؟ ! فأنزل الله تعالى على رسول الله تعالى على رسوله رخصة التطهير بالصعيد الطيب فقام المسلمون مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فضربوا أيديهم في الأرض ورفعوا أيديهم ولم يقبضوا من التراب شيئا فمسحوا بها وجوههم وأيديهم إلى المناكب ومن بطن أيديهم إلى الآباط K إسناده صحيح

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات جیش میں رات گزاری۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہار گر گیا تھا۔ لوگوں کو اس ہار کی تلاش میں روک لیا گیا یہاں تک کہ فجر چمک گئی ۔ صحابہ کرام کے پاس اس وقت پانی بھی نہیں تھا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر غصہ آیا کہ تیری وجہ سے صحابہ کو روک لیا گیا اور ان کے پاس پانی بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پاک مٹی کے ساتھ پاک ہونے کی رخصت والی آیت اتاری ۔ صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے‘ انہوں نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا مٹی کو جھاڑ انہیں ۔انہوں نے اس کے ساتھ اپنے چہروں کا مسح کیا اور دونوں ہاتھوں کا کندھوں تک اور ہاتھوں کے اندر کا بغل تک کیا ۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← حجاج بن يوسف الشاعر

Hadith 1629

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1630

1630 - حدثنا حجاج حدثنا يعقوب حدثنا أبي عن محمد بن إسحاق حدثني محمد بن مسلم بن عبد الله بن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن عبد الله بن عباس عن عمار بن ياسر قال Y كنت في القوم حين نزلت الرخصة في المسح بالصعيد إذا لم نجد الماء قال : فضربنا ضربة باليدين بالصعيد للوجه فمسحناه مسحة واحدة قال : ثم ضربنا ضربة أخرى لليدين فمسحناهما بها إلى المنكبين ظهرا وبطنا K إسناده صحيح

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں اس قوم میں شامل تھا جس وقت مٹی کے ساتھ تیمّم کا حکم نازل ہوا‘ جب ہم نے پانی نہیں پایا ہم نے چہرے پر مسح کے لیے ہاتھ پاک مٹی پر مارے‘ ہم نے اس کے ساتھ ایک ہی دفعہ مسح کیا، پھر ہم نے دونوں ہاتھ مارے‘ ہم نے اس کے ساتھ دونوں کندھوں تک مسح کیا، دونوں طرف سے ظاہراً باطناً ۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ، ← حجاج،

Hadith 1630

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1631

1631 - حدثنا حجاج حدثنا يعقوب حدثنا أبو أويس عن الزهري أن عبيد الله بن عبد الله أخبره عن أبيه عن عمار بن ياسر أنه قال Y تمسحنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم من التراب فمسحنا بوجوهنا وأيدينا إلى المناكب K إسناده صحيح

حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مٹی کے ساتھ ساتھ مسح کیا ہم نے اپنے چہرہ کا مسح کیا اور ہاتھوں کا کندوں تک کیا۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← الزهري أن عبيد الله بن عبد الله ← أَبُو أُوَيْسٍ ← يَعْقُوبُ، ← حجاج،

Hadith 1631

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1632

1632 - حدثنا حجاج حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن عبيد الله ن عمار بن ياسر كان يحدث Y أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر ومعه عائشة فهلك عقدها فاحتبس ـ أو حبس ـ الناس ابتغاءه وليس معهم ماء فأنزل الله تعالى آية التيمم قال عمار : فضربوا أيديهم فمسحوا بها وجوههم ثم عادوا فضربوا بأيديهم فمسحوا بها أيديهم إلى الإبطين أو قال : إلى المناكب . قال عبد الرزاق : وكان معمر يحدث عن الزهري عن عبيد الله أن عمارا كان يمسح بالتيمم وجهه مسحة [ واحدة ] ثم يعود فيمسح يديه إلى الإبطين و [ كان ] يختصره معمر هكذا K إسناده صحيح

حضرت عبید اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے تھے کہ وہ ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے‘ آپ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں‘ آپ کا ہار گم ہو گیا، صحابہ کرام کو اس کی تلاش کے لیے روک لیا گیا ( نماز کا وقت ہو گیا ) تو ان کے پاس پانی بھی نہیں تھا‘ اللہ عزوجل نے تیمّم والی آیت نازل فرمائی ۔ حضرت عمار فرماتے ہیں : صحابہ کرام نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اس کے ساتھ اپنے چہرے کا مسح کیا۔ اس کے بعد دوبارہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا اس کے ساتھ اپنی بغلوں تک مسح کیا یا فرمایا: کندھوں تک۔ عبدالرزاق فرماتے ہیں: حضرت معمر‘ زہری سے بیان کرتے ہیں وہ عبید اللہ سے کہ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چہرے کا ایک دفعہ سے کیا پھر دوبارہ دونوں ہاتھوں کا بغلوں تک ۔معمر اسی طرح اختصار بیان کرتے تھے۔

عبيد الله ن عمار بن ياسر كان ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← حجاج،

Hadith 1632

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1633

1633 - حدثنا حجاج حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا ابن أبي ذئب عن الزهري عن عبيد الله عن عمار بن ياسر قال Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فهلك عقد لعائشة فطلبوه حتى أصبحوا وليس مع القوم ماء فنزلت الرخصة فقام المسلمون فضربوا بأيديهم إلى الأرض فمسحوا بها وجوههم وظاهر أيديهم وباطنها إلى الآباط K إسناده صحيح

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک سفر میں ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے‘ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہار گم ہو گیا۔ پس تمام حضرات اسے تلاش کرنے لگے یہاں تک کہ صبح ہو گئی جبکہ قوم کے پاس پانی نہیں تھا، پس رخصت والی آیت نازل ہوئی، پس تمام مسلمانوں نے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا‘ ان کے ساتھ اپنے چہروں پر مسح کیا۔ اپنے ہاتھوں کے ظاہر پر اور ان کے باطن پر بھی بغلوں تک ۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حجاج،

Hadith 1633

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1634

1634 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد عن أبي الزبير عن محمد بن علي عن عمار قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يصلي فسلمت عليه فرد علي K رجاله رجال الصحيح

حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا آپ کی نماز پڑھ رہے تھے‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سلام کا جواب دیا ۔

عَمَّارٍ ← محمد بن علي ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Hadith 1634

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1635

1635 - حدثنا إبراهيم حدثنا حماد عن عطاء الخراساني عن يحيى بن يعمر عن عمار بن ياسر أنه قال Y قدمت على أهلي ليلا من سفر قد تشققت يداي فضمخوني بالزعفران فغدوت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلمت فلم يرد علي ولم يرحب بي فقال : اذهب فاغسل هذا عنك فذهبت فغسلته ثم جئت فسلمت عليه فرد علي ورحب بي وقال : إن الملائكة لا تحضر جنازة الكافر بخير ولا المتضمخ بالزعفران ولا الجنب ورخص للجنب إذا أراد أن ينام أو يأكل أو يشرب أن يتوضأ

حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سفر سے واپسی پر رات کو اپنے گھر گیا۔ میرے دونوں ہاتھ زخمی ہو گئے تھے۔ انہوں نے ان کو زعفران سے رنگ دیا۔ صبح کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا اور مجھے خوش آمدید بھی نہیں کہا۔ فرمایا: جاؤ ، اس کو اپنے سے دھو کر آؤ‘ میں گیا۔ میں نے اس کو دھو لیا پھر میں گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا اور مجھے خوش آمدید بھی کہا اور فرمایا: بے شک فرشتے کافر کے جنازہ میں بھلائی کے ساتھ حاضر نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے پاس جس نے زعفران کے ساتھ اپنے آپ کو رنگا ہوا ہو اور نہ ہی جنبی کے پاس حاضر ہوتے ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ جب سونے کا ارادہ کرے یا کھانے اور پینے کا تو وضو کر لے ۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 1635

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1636

1636 - حدثنا عقبة بن مكرم حدثنا يونس بن بكير حدثنا علي بن أبي فاطمة عن أبي مريم قال : سمعت عمار بن ياسر يقول Y يا أبا موسى أنشدك الله ألم تسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كذب علي متعمدا فليتبوأ معقعده من النار ؟ فأنا سائلك عن حديث فإن صدقت وإلا بعثت عليك من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من يقررك ثم أنشدك الله أليس إنما عناك أنت رسول الله صلى الله عليه و سلم بنفسك قال : إنها ستكون فتنة في أمتي أنت يا أبا موسى فيها نائم خير منك قاعدا وقاعد خير منك قائما وقائم خير منك ماشيا فخصك رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم يعم الناس ؟ أبو موسى ولم يرد عليه شيئا K إسناده ضعيف

حضرت ابو مریم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: اے ابوموسیٰ میں آپ کو قسم دیتا ہوں! کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے؟ میں نے آپ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا ہے اگر آپ نے سچ بولا ورنہ میں تجھ پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجوں گا جو تیرے ساتھ اقرار کریں گے پھر میں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا: عنقریب فتنہ ہوں گے میری امت میں‘ اے موسیٰ اس میں سونے والا بہتر ہو گا تجھ سے اس حال میں کہ تو بیٹھنے والا ہو اور بیٹھنے والا بہتر ہو گا تجھ سے اس حال میں کہ تو کھڑا ہونے والا ہو اور کھڑا ہونے والا بہتر ہو گا تجھ سے جبکہ تو چلنے والا ہو ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو خاص کیا تھا۔ عام لوگوں کے لیے نہیں کہا تھا۔ حضرت ابوموسیٰ نکلے اور کوئی جواب نہیں دیا۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَبِي مَرْيَمَ ← علي بن أبي فاطمة ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ

Hadith 1636

مسند أبي يعلى · مسند عمار بن ياسر ‹ مسند عمار بن ياسر · حديث 1637

1637 - حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة حدثنا شريك عن الركين عن ابن حنظلة عن عمار قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان ذا وجهين في الدنيا كان له لسانان من نار يوم القيامة K إسناده ضعيف

حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں دو چہروں والا ہو گا اس کی قیامت کے دن دو آگ کی زبانیں ہو گی۔

عَمَّارٍ ← ابن حنظلة ← الرُّکَيْنَ ← شَرِيکٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ،

Hadith 1637

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter