مسند أبي يعلى · رسول قيصر ‹ رسول قيصر · حديث 1597
1597 - حدثنا حوثرة بن أشرس حدثنا حماد بن سلمة عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن سعيد بن أبي راشد قال Y كان رسول قيصر جارا لي زمن يزيد بن معاوية فقلت له أخبرني عن كتاب رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى قيصر فقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أرسل دحية الكلبي إلى قيصر وكتب معه إليه كتابا يخيره بين إحدى ثلاث : إما إن يسلم وله ما في يديه من ملكه وإما أن يؤدي الخراج وإما أن يأذن بحرب . قال : فجمع قيصر بطارقته وقسيسيه في قصره وأغلق عليهم الباب وقال : إن محمدا كتب إلي يخيرني بين إحدى ثلاث : إما أن أسلم ولي ما في يدي من ملكي وإما أن أؤدي الخراج وإما أن آذن بحرب وقد تجدون فيما تقرؤون من كتبكم أن سيملك ما تحت قدمي من ملكي فنخروا نخرة حتى إن بعضهم خرجوا من برانسهم وقالوا : ترسل إلى رجل العرب جاء في برديه ونعليه بالخراج ؟ فقال : اسكتوا إنما أردت أن أعلم تمسككم بدينكم ورغبتكم فيه ثم قال : ابتغوا لي رجلا من العرب فجاؤوا بي فكتب معي إلى النبي صلى الله عليه و سلم كتابا وقال لي : انظر ما سقط عنك من قوله فلا يسقط عند ذكر الليل والنهار فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو مع أصحابه محتبون بحمائل سيوفهم حول بئر تبوك فقلت : أيكم محمد ؟ فأومأ بيده إلى نفسه فدفعت إليه الكتاب فدفعه رجل إلى جنبه فقلت : من هذا ؟ فقالوا : معاوية بن أبي سفيان فقرأه فإذا فيه : كتبت تدعوني إلى جنة عرضها السماوات والأرض فأين النار إذا ! ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا سبحان الله إذا جاء الليل فأين النهار ؟ فكتبته عندي ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنك رسول قوم فإن لك حقا ولكن جئتنا ونحن مرملون قال عثمان : أكسوه حلة صفورية فقال رجل من الأنصار : علي ضيافته . وقال لي قيصر فيما قال : انظر إلى ظهره فرأى رسول الله صلى الله عليه و سلم أني أريد النظر إلى ظهره فألقى ثوبه عن ظهره فتظرت إلى الخاتم في نغص الكتف فأقبلت عليه أقبله ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني كتبت إلى النجاشي فأحرق كتابي والله محرقه وكتبت إلى كسرى عظيم فارس فمزق كتابي والله ممزقه وكتبت إلى قيصر فرفع كتابي فلا يزال الناس ـ ذكر كلمة ـ ما كان في العيش خير K رجاله ثقات
حضرت سعید بن ابو راشد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ قیصر کا نمائندہ یزید بن معاویہ کے زمانہ میں میرا پڑوسی تھا‘ میں نے ان کو کہا: مجھے آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط بتائیں جو آپ نے قیصر کو لکھا تھا۔ اس نے کہا: بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قیصر کی طرف بھیجا‘ حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آپ کا خط تھا جو آپ نے قیصر کو لکھا تھا۔ قیصر کو تین باتوں کا اختیار دیا: (۱) یا تو وہ مسلمان ہو جائے تو اس کی بادشاہی اسی کے پاس رہے گی، (۲) ٹیکس دے (۳) یا لڑائی کا اعلان کرنا۔ قیصر نے اپنے امراء اور پادری اپنے محل میں جمع کیے‘ ان کے آنے کے بعد دروازہ بند کر دیا اور کہا: محمد نے میری طرف خط لکھا ہے‘ مجھے تین چیزوں میں سے ایک اختیار کرنے کو کہا ہے: (۱) یا تو یہ کہ میں مسلمان ہو جاؤں اس صورت میں جو بادشاہی میرے پاس ہے وہ میرے پاس ہی رہے گی (۳) یا پھر میں انہیں خراج ( ٹیکس ) دوں (۳) تیسری صورت میں مجھے جنگ کا چیلنج ہے‘ اور تم اپنی کتابوں میں پڑھتے ہو کہ ایک دن وہ عنقریب اس بادشاہی کا مالک ہو جائے گا جو میرے قدموں کے نیچے ہے۔سو انہوں نے ناک چڑھایا‘ حتٰی کہ ان میں سے بعض آپے سے باہر ہو گئے اور کہا: کیا آپ ایک ایسے عربی آدمی کے ہاتھ خراج بھیجنا چاہتے ہیں جو دو چادروں میں ملبوس جوتے پہنے ہوئے تیرے پاس آیا ہے ۔ ان کی یہ بات سن کر بادشاہ بولا : خاموش ہو جاؤ! بس میرا ارادہ یہ تھا کہ میں معلوم کروں کہ تم اپنے دین پر کس قدر مضبوط ہو اور تمہیں اپنے دین میں کتنی دلچسپی ہے ۔ پھر کہا: ایک عربی آدمی تلاش کر کے میرے پاس لے آؤ۔ سو وہ مجھے تلاش کر کے اُس کے پاس لائے سو اس نے ایک خط لکھا اور میرے ہاتھ میں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بھیجا اور خصوصی طور پر مجھ سے ۔ کہا: جو بات وہ کہیں اسے نوٹ کرنا۔ رات کی بات جانے دینا اور نہ دن کی ۔سو میں اللہ کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوا‘ حال یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دوستوں کے ساتھ برا جمان تھے‘ تبوک کے کنویں کا کنارہ تھا‘ صحابہ کرام نے تلواریں حمائل کی ہوئی تھیں ( میں چونکہ سفیر تھا‘ مجھے کیا خطرہ تھا) میں نے کہا: تم میں سے محمد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی طرف اشارہ کیا تو میں نے خط آپ کے حوالے کر دیا۔سو آپ کے پہلو میں ایک آدمی موجود تھا‘ آپ نے وہ خط اس کو دیا ۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: یہ حضرت سفیان کے بیٹے حضرت معاویہ ہیں۔ سو انہوں نے وہ خط پڑھا جبکہ اس میں لکھا تھا: آپ نے لکھا ہے کہ آپ مجھے اس جنت کی طرف بلا رہے ہیں جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے تو پھر دوزخ کہاں ہے؟ سو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو پاک ہے! جنب رات آ گئی تو پھر دن کہاں؟ سو میں نے اس بات کو اپنے پاس لکھ لیا، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گویا ہوئے : تم ایک قوم کے سفیر ہو‘ سو بے شک تمہارا حق ہے لیکن اب تو ہمارے پاس آیا ہے اور ہم درویش ہیں ( کھانے پینے کا سامان کم رکھتے ہیں ) ۔ حضرت عثمان نے فرمایا: اسے صفوری حُلہ پہنانا چاہیے۔ انصاریوں میں سے ایک صحابی بولے: میرے اوپر لازم ہے کہ میں اس کی میزبانی کا شرف حاصل کروں ۔ جو باتیں شہنشاہ قیصر نے مجھ سے کہی تھیں‘ ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ مبارک کو دیکھنا۔سواس نے خیال ظاہر کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں چاہتا ہوں کہ آپ کی پیٹھ دیکھوں‘ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیٹھ سے کپڑا ہٹا دیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے درمیان میں مہر نبوت کو دیکھا‘ سو میں آگے بڑھا کہ مہر نبوت کو بوسہ دوں ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں نے نجاشی کی طرف خط لکھا‘ سو اس نے میرا خط جلا دیا اور اللہ اس ( نجاشی ) کو جلانے والا ہے اور میں نے کسریٰ فارس کی طرف خط لکھا تو سو اُس نے میرا خط پھاڑ دیا‘ سو اللہ اسے پھاڑ نے والا ہے اور میں نے قیصر کی طرف خط لکھا ہے تو اس نے میرے خط کو بلند کیا‘ سو لوگ ہمیشہ اس کو یاد کرتے رہیں گے جب تک زندگی میں بھلائی ہے ۔
كتاب رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى قيصر فقال ← كان رسول قيصر جارا لي زمن يزيد بن معاوية فقلت له ← سعيد بن أبي راشد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ،
Musnad Abu Yaalaa · Rasool Qasir › Chapter · Hadith 1597
