مسند أبي يعلى · مسند سفينة : رجل ‹ مسند سفينة : رجل · حديث 1592
1592 - حدثنا زحمويه حدثنا صالح حدثنا حاجب يعني ابن عمر قال Y دخلت مع الحكم الأعرج على بكر بن عبد الله فتذكروا أمر الميت يعذب ببكاء الحي فحدثنا بكر قال : حدثنا رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم وكان أبو هريرة خالفه في ذلك فقال : قال أبو هريرة : والله لئن انطلق رجل محاربا في سبيل الله ثم قتل في قطر من أقطار الأرض شهيدا فعمدت امرأة سفها أو جهلا فبكت عليه ليعذبن هذا الشهيد ببكاء هذه السفيهة عليه فقال رجل : صدق رسول الله وكذب أبو هريرة صدق رسول الله وكذب أبو هريرة K رجاله ثقات
حضرت بکر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میت کے معاملہ کا تذکرہ ہوا‘ اس کو عذاب دیا جاتا ہے۔ زندوں کے رونے کی وجہ سے ہم کو بکر نے بیان کیا کہ ہم کو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی مخالفت کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ کی قسم! اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں بھاگتا ہوا چلے زمین کے کونوں میں سے ایک کونے میں ۔ ایک عورت بیوقوف یا بے علم اس پر روئے تو اس شہید کو اس بیوقوف کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ کہا اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جھوٹ کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ کہا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جھوٹ کہا۔
حاجب يعني ابن عمر ← صَالِحٍ، ← زحمويه
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Safina : Rijjal › Chapter · Hadith 1592
