مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1586
1586 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد بن سلمة عن أبي عبد السلام عن أيوب بن عبد الله بن مكرز عن وابصة بن معبد الأسدي قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أريد أن لا أدع شيئا من البر والإثم إلا سألته فأتيته في عصابة من الناس يستفتونه فجعلت أتخطاهم فقالوا : إليك يا وابصة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت دعوني أدنو من رسول الله صلى الله عليه و سلم فإنه أحب الناس إلي أدونو منه قال : دعوا وابصة ادن يا وابصة استفت قلبك واستفت نفسك واستفت قلبك واستفت نفسك البر ما اطمأنت إليه النفس وأطمأن إليه القلب والإثم ما حاك في النفس وتردد في الصدر وإن أفتاك الناس وأفتوك ثلاثا K إسناده ضعيف
حضرت وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ میں چاہتا تھا کہ آج میں نیکی اور گناہ کے متعلق کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا مگر اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھوں گا ۔ میں لوگوں کے ایک گروہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتوے پوچھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنے کے لیے میں آنکھیں اِدھر اُدھر پھیرنے لگا۔ انہوں نے کہا: اے وابصہ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھو! میں نے کہا: مجھے چھوڑو! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاؤں۔ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاؤں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وابصہ کو چھوڑ دو! اے وابصہ ! قریب ہو! اپنے دل سے فتویٰ لے لو‘ اپنے نفس سے پوچھ لو‘ نیکی وہ ہے جس پر تیرا دل مطمئن ہو اور تیرا نفس مطمئن ہو۔ گناہ وہ ہے جو تیرے دل پر کھٹکے اور دل بے قرار ہو۔ اگرچہ لوگ تجھے اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیں‘ تین مرتبہ آپ نے فرمایا۔
أُرِيدُ ← أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ ← أيوب بن عبد الله بن مكرز ← أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،
Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1586
