Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1586

1586 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد بن سلمة عن أبي عبد السلام عن أيوب بن عبد الله بن مكرز عن وابصة بن معبد الأسدي قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أريد أن لا أدع شيئا من البر والإثم إلا سألته فأتيته في عصابة من الناس يستفتونه فجعلت أتخطاهم فقالوا : إليك يا وابصة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت دعوني أدنو من رسول الله صلى الله عليه و سلم فإنه أحب الناس إلي أدونو منه قال : دعوا وابصة ادن يا وابصة استفت قلبك واستفت نفسك واستفت قلبك واستفت نفسك البر ما اطمأنت إليه النفس وأطمأن إليه القلب والإثم ما حاك في النفس وتردد في الصدر وإن أفتاك الناس وأفتوك ثلاثا K إسناده ضعيف

حضرت وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ میں چاہتا تھا کہ آج میں نیکی اور گناہ کے متعلق کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا مگر اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھوں گا ۔ میں لوگوں کے ایک گروہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتوے پوچھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنے کے لیے میں آنکھیں اِدھر اُدھر پھیرنے لگا۔ انہوں نے کہا: اے وابصہ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھو! میں نے کہا: مجھے چھوڑو! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاؤں۔ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاؤں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وابصہ کو چھوڑ دو! اے وابصہ ! قریب ہو! اپنے دل سے فتویٰ لے لو‘ اپنے نفس سے پوچھ لو‘ نیکی وہ ہے جس پر تیرا دل مطمئن ہو اور تیرا نفس مطمئن ہو۔ گناہ وہ ہے جو تیرے دل پر کھٹکے اور دل بے قرار ہو۔ اگرچہ لوگ تجھے اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیں‘ تین مرتبہ آپ نے فرمایا۔

أُرِيدُ ← أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ ← أيوب بن عبد الله بن مكرز ← أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1586

مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1587

1587 - حدثنا علي بن حمزة المعولي حدثنا حماد ابن سلمة عن الزبير أبي عبد السلام عن أيوب بن عبد الله عن وابصة الأسدي قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أريد أن لا أدع شيئا من البر والإثم إلا سألته عنه فأتيته وحوله عصابة من المسلمين يستفتونه فجلعت أتخطاهم إليه فقالوا : إليك يا وابصة فقلت لهم : دعوني أدنو منه فإنه أحب الناس إلي أن أدنو منه فقال : دعوا وابصة ادن يا وابصة ادن يا وابصة فدنوت فجلست بين يديه فقال لي : يا وابصة أتسألني أو أخبرك ؟ قلت : بل أخبرني يا رسول الله قال : جئت تسألني عن البر والإثم ؟ قلت : نعم فجمع أنامه ثم جعل ينكت بهن في صدري ويقول : يا وابصة استفت قلبك واستفت نفسك استفت قلبك واستفت نفسك البر ما اطمأنت إليه النفس والإثم ما حاك في الصدور وإن أفتاك الناس وأفتوك ثلاث مرات K إسناده ضعيف

حضرت وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ میں چاہتا تھا کہ آج میں نیکی اور گناہ کے متعلق کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا مگر اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھوں گا ۔جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ایک گروہ کے درمیان تشریف فرما تھے‘ وہ آپ سے پوچھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنے کے لیے میں آنکھیں اِدھر اُدھر پھیرنے لگا‘ انہوں نے کہا: اے وابصہ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھو! میں نے کہا: مجھے چھوڑو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاؤں۔ کیونکہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاؤں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وابصہ کو بلاؤ! اے وابصہ ! قریب ہو! اے وابصہ ! اور قریب ہو جا! پس میں قریب ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جا بیٹھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے وابصہ ! تم مجھ سے سوال کرو گے یا میں تمہیں بتاؤں؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ ارشاد فرمائیں! آپ نے فرمایا: تُو میرے پاس نیکی اور گناہ کے بارے پوچھنے آیا ہے‘ میں نے عرض کی: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کرنے کے بعد میرے سینے میں مارا اور فرمانے لگے: اے وابصہ اپنے دل سے فتویٰ لے لو اپنے نفس سے پوچھ لو‘ نیکی وہ ہے جس پر تیرا دل مطمئن ہو اور تیرانفس مطمئن ہو‘ گناہ وہ ہے جو تیرے دل پہ کھٹکے اور دل بے قرار ہو۔ اگرچہ لوگ تجھے اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیں‘ تین مرتبہ آپ نے فرمایا۔

وابصة الأسدي ← أيوب بن عبد الله ← الزُّبَيْرِ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ ← حماد ابن سلمة ← عَليّ بن حَمْزَة المعولي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1587

مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1588

1588 - حدثنا أبو عبيدة بن فضيل بن عياض حدثنا مالك بن سعير حدثنا السري بن إسماعيل عن الشعبي عن وابصة بن معبد قال Y انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم ورجل يصلي خلف القوم فقال : يا أيها المصلي وحده ألا تكون وصلته صفا فدخلت معهم أو اجتررت رجلا إليك أن ضاق بكم المكان ؟ أعد صلاتك فإنه لا صلاة لك K إسناده ضعيف

حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہوتے ہی ایک آدمی کو دیکھا وہ قوم کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے نمازی اکیلے نماز پڑھنے والے کیا تو آگے والی صف میں شامل نہیں ہو سکتا تھا‘ ان کے ساتھ شریک ہو جا تا‘ یا اگلی صف سے آدمی کو پیچھے کھینچ لیتا اگر آگے جگہ تنگ تھی‘ اپنی نماز دوبارہ لوٹا‘ تیری نماز نہیں ہوئی۔

انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم ورجل يصلي خلف القوم ← وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← السري بن اسماعيل ← مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1588

مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1589

1589 - حدثنا عمرو الناقد حدثنا عمرو بن عثمان الكلابي الرقي حدثنا أصبغ بن محمد عن جعفر بن برقان عن شداد مولى عياض عن وابصة ـ قال أبو عثمان عمرو : يعني ابن معبد إن شاء الله ـ Y أنه كان يقوم في الناس يوم الأضحى أو يوم الفطر فيقول : إني شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع وهو يقول : أي يوم هذا ؟ قال الناس : يوم النحر قال : فأي شهر هذا ؟ ثم قال : أي بلد هذا ؟ قالوا : هذه البلدة قال : فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا إلى يوم تلقونه ثم قال : اللهم هل بلغت يبلغ الشاهد الغائب . قال وابصة : نشهد عليكم كما أشهد علينا K إسناده ضعيف

حضرت وابصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو عثمان بن معبد نے کہا: ان شاء اللہ! وہ لوگوں کے ساتھ عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن شریک ہوں گے‘ فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے دن حاضر تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ دسویں ذوالحجہ کا دن ہے‘ فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ پھر فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مکہ مکرمہ ہے‘ فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے اموال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر حرام ہیں‘ اس دن کی طرح اور اس مہینہ کی طرح اور اس شہر کی طرح‘ مرنے تک ۔ پھر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا! حاضر غائب کو یہ پیغام پہنچا دے۔ حضرت وابصہ نے کہا: ہم آپ پر گواہ ہیں جس طرح آپ ہم پر گواہ ہیں۔

أبو عثمان عمرو يعني ابن معبد ← وَابِصَةَ ← شَدَّاد مولى عِيَاض، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← أصبغ بن محمد ← عمرو بن عثمان الكلابي الرقي ← عَمْرٌو النَّاقِدُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1589

مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1590

1590 - قال عمرو بن محمد الناقد حدثنا أبو سلمة الخزاعي أن جعفر بن برقان حدثهم في هذا الحديث أن سالم بن وابصة صلى بهم بالرقة وذكر حديث وابصة هذا وقال وابصة Y نشهد عليكم كما أشهد علينا فأوعيتم ونحن نبلغكم

حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث کو بیان کیا کہ حضرت سالم بن وابصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ساتھ مقام رقہ میں نماز پڑھی۔ یہ وابصہ والی حدیث ذکر کی‘ حضرت وابصہ نے فرمایا: ہم آپ پر گواہ ہیں جس طرح ہم آپ سے ۔ ہم پر گواہی دی ہے تم یاد کر لو ہم پہنچانے والے ہیں ۔

حديث وابصة هذا ← في هذا الحديث أن سالم بن وابصة صلى بهم بالرقة ← أبو سلمة الخزاعي أن جعفر بن برقان ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1590

مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1591

1591 - حدثنا أبو علي أحمد بن إبراهيم الموصلي حدثنا أبو فضالة فرج بن فضالة عن عبد الخبير بن قيس بن ثابت ابن شماس عن أبيه عن جده قال Y قتل يوم قريظة رجل من الأنصار يدعة خلادا فقيل لأمه : يا أم خلاد قتل خلاد فجاءت وهي متنقبة فقيل لها : قتل خلاد وتجيئيننا متنقبة ؟ قالت : إن رزئت خلادا فلا أرزأ حيائي . فذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : أما إن له أجر شهيدين قيل : يا رسول الله وبم ؟ قال : لأن أهل الكتاب قتلوه K إسناده ضعيف

حضرت عبید الجبیر بن قیس بن ثابت بن شماس اپنے باپ اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ قریظہ کے دن انصار کے آدمی کو شہید کیا گیا۔ اس کو خلاد کے نام سے پکارتے تھے۔ اس کی والدہ سے کہا گیا: اے اُم خلاد! خلاد کو قتل کیا گیا ہے‘ وہ آئیں اس حالت میں کہ با پردہ تھیں ۔ ان سے عرض کی گئی: خلاد کو شہید کیا گیا ہے اور آپ با پردہ حالت میں ہیں ۔انہوں نے فرمایا: میں نے خلاد کو کھویا ہے اپنی حیاء کو نہیں کھویا۔ اس کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی بارگاہ میں کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے ۔عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! کس وجہ سے؟ فرمایا: کیونکہ اہل کتاب نے اس کو قتل کیا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عبد الخبير بن قيس بن ثابت ابن شماس ← أَبُو فَضَالَةَ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو عَلِيٍّ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1591

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter