مسند أبي يعلى · مسند عمير بن سعد ‹ مسند عمير بن سعد · حديث 1580
1580 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد بن سلمة عن أبي سنان عن أبي طلحة الخولاني قال Y أتينا عمير بن سعد في نفر من أهل فلسطين وكان يقال : نسيج وحده فقعدنا على دكان له عظيم في داره فقال لغلامه : يا غلام أورد الخيل قال : وفي الدار تور من حجارة قال : فأوردها فقال : أين فلانة ؟ قال : هي جربة تقطر دما ـ أو قال : تقطر ماء شك أبو إسحاق ـ قال : أوردها فقال أحد القوم : إذا تجرب الخيل كلها قال : أوردها فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ألم تر إلى البعير من الإبل كيف يكون بالصحراء ثم يصبح في كركرته ـ أو مراقه ـ نكتة لم تكن قبل ذلك فمن أعدىالأول ؟ K إسناده ضعيف
حضرت ابوطلحہ خولانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس فلسطین والوں کے ساتھ ایک گروہ بن کر آئے اس کو نسیج وحدہ کہا جاتا تھا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم ان کے گھر میں ایک بڑی دکان پر بیٹھے‘ انہوں نے اپنے غلام سے کہا: اے غلام ! گھوڑا لا! ان کے گھر میں پتھر کا لوٹا تھے‘ اس سے انہوں نے کہا: اس کو بھی لاؤ! انہوں نے فرمایا: فلاں اونٹنی کہاں ہے؟ ان کے غلام نے عرض کی : اس کو خارش پڑی ہوئی ہے‘ اس سے خون بہہ رہا ہے ۔ یا فرمایا: خون بہہ رہا ہے ۔ ابو اسحاق کو شک ہے‘ عمیر نے فرمایا: اس کو بھی لاؤ ۔ قوم میں سے ایک نے کہا: اس وقت سارے گھوڑوں کو خارش لگ جائے گی۔ آپ نے فرمایا: اس کو بھی لاؤ! کیونکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیماری کی چھوت اور فال اور مقتول کے سر سے پرندے کا نکلنا کوئی چیز نہیں ہے‘ کیا تم نے دیکھا نہیں ان اونٹوں کو جو صحرا میں چرتے ہیں جو صبح گھومتے رہتے ہیں یا اس کے پیٹ میں ایک سوراخ ہوتا ہے اس سے پہلے نہیں ہوتا ہے‘ تو پہلے کو کس نے لگایا ہے؟
أبي طلحة الخولاني ← أَبِي سِنَانٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Umair bin Saad › Chapter · Hadith 1580
