Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند العباس بن مرداس السلمي ‹ مسند العباس بن مرداس السلمي · حديث 1578

1578 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا عبد القاهر بن السري السلمي حدثني ابن كنانة بن العباس بن مرداس السلمي [ أن أباه ] حدثه عن أبيه العباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعا عشية عرفة لأمته بالمغفرة والرحمة وأكثر الدعاء فأجابه الله أني قد فعلت وغفرت لأمتك إلا ظلم بعضهم بعضا فأعاد فقال : يا رب إنك قادر أن تغفر للظالم وتثيب المظلوم خيرا من مظلمته فلم يكن تلك العشية إلا ذا فلما كان من الغد دعا غداة المزدلفة فعاد يدعو لأمته فلم يلبث النبي صلى الله عليه و سلم أن تبسم فقال بعض أصحابه : يا رسول الله بأبي أنت وأمي تبسمت في ساعة لم تكن تضحك فيها فما أضحكك أضحك الله سنك ؟ قال : تبسمت من عدو الله إبليس حين علم أن الله قد أجانبي في أمتي وغفر للظالم أهوى يدعو بالثبور والويل ويحثو التراب على رأسه وقال مرة : فضحكت من جزعه K إسناده ضعيف جدا

حضرت عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کی شام اپنی امت کے لیے بخشش و رحمت کی دعا کی اور بہت زیادہ دعا کی‘ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول فرمائی‘ فرمایا: میں ایسا کروں گا اور تیری امت کو بخشوں گا‘ مگر اس کو نہیں جو ایک دوسرے پر ظلم کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ دعا کی عرض کی: اے رب! تو قادر ہے ظالم کو معاف کر دے‘ مظلوم کو اس سے بڑھ کر اجر دے۔ آپ شام تک یہ دعا مانگتے رہے‘ جب دوسرے دن صبح ہوئی تو نے دوبارہ اپنی امت کے لیے یہی دعا کی‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی ہی دیر رُکے تھے کہ آپ نے تبسم فرمایا، بعض صحابہ کرام نے عرض کی : یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے اس وقت تبسم فرمایا ہے آپ اس وقت مسکرائے تو نہیں ہیں، آپ کیوں مسکرائے ہیں؟ اللہ عزوجل آپ کے دانتوں کو مسکراتا ہی رکھے! آپ نے فرمایا: میں نے اللہ کے دشمن ابلیس کو دیکھ کر تبسم کیا ہے‘ جس وقت اس کو معلوم ہوا کہ اللہ عزوجل نے میری امت کے حوالے سے میری دعا قبول فرمائی ہے اور ظالم کو معاف کر دیا ہے حالانکہ وہ ہلاکت اور فریاد کر رہا تھا اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہا تھا۔ فرمایا: میں اس کے اس جزع فزع کو دیکھ کر ہنس پڑا۔

أبيه العباس ← ابن كنانة بن العباس بن مرداس السلمي أن أباه ← عبد القاهر بن السري السلمي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad al-Abbas bin Merdas al-Salami › Chapter · Hadith 1578

مسند أبي يعلى · مسند العباس بن مرداس السلمي ‹ مسند العباس بن مرداس السلمي · حديث 1579

1579 - حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي حدثنا أبو بكر الحنفي حدثنا عبد الحميد بن جعفر عن سعيد المقبري عن أبي الحويرث : أنه سمع الحكم بن ميناء Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لعمر : اجمع لي من ها هنا من قريش فجمعهم ثم قال : يا رسول الله أتخرج إليهم أم يدخلون ؟ قال : بل أخرج إليهم فخرج فقال : يا معشر قريش هل فيكم غيركم ؟ قالوا : لا إلا بنو أخواتنا قال : ابن أخت القوم منهم ثم قال : يا معشر قريش اعلموا أن أولى الناس بالنبي المتقون فانظروا لا يأتي الناس بالأعمال يوم القيامة وتأتون بالدنيا تحملونها فأصد عنكم بوجهي ثم قرأ { إن أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين } [ آل عمران : 68 ] K إسناده ضعيف لإرساله

حضرت حکم بن میناء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے کہا: میرے لیے یہاں پر قریش کے لوگوں کو جمع کرو ۔ حضرت عمر نے جمع کیا۔ پھر عرض کی : یارسول اللہ! کیا آپ ان کی طرف نکلیں گے یا داخل ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلکہ میں ان کی طرف نکلوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے۔ فرمایا: اے قریش کے گروہ! کیا تم میں اور کوئی بھی ہے؟ انہوں نے عرض کی : نہیں! مگر ہماری بہنوں کے بیٹے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قوم کی بہن کا بیٹا انہیں لوگوں میں شامل ہوتا ہے ۔ پھر فرمایا: اے قریش کے گروہ! جان لو! بے شک اپنے نبی کے قریب متقی ہوں گے‘ ایسا نہ ہو لوگ قیامت کے دن اپنے اعمال کے ساتھ آئیں اور تم دنیا کے ساتھ آؤ‘ اس کو اٹھائے ہوئے‘ میں تم کو اپنی رضا کے لیے روکتا ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت کریمہ پڑھی: ’’ بے شک ابراہیم علیہ السلام کے قریب وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے ان کی اتباع کی اور اس نبی کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے‘‘۔

الحكم بن ميناء ← أبي الحويرث أنه ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad al-Abbas bin Merdas al-Salami › Chapter · Hadith 1579

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter