مسند أبي يعلى · الحارث الأشعري ‹ الحارث الأشعري · حديث 1571
1571 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا أبان بن يزيد حدثنا يحيى بن أبي كثير أن زيدا حدثه أن أبا سلام حدثه أن الحارث الأشعري حدثه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله أمر يحيى بن زكريا بخمس كلمات يعمل بهن ويأمر بني إسرائيل يعملون بهن وإن عيسى بن مريم قال له : إن الله أمرك بخمس كلمات تعمل بهن وتأمر بهن بني إسرائيل يعلمون بهن فإما أن تأمرهم وإما أن آمرهم ؟ قال : إنك إن تسبقني بهن خشيت أن أعذب أو يخسف بي قال : فجمع الناس في بيت المقدس حتى امتلأ وقعد الناس على الشرفات قال : فوعظهم : قال : إن الله أمرني بخمس كلمات أعمل بهن وآمركم أن تعلموا بهن : أولاهن أن تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وإن مثل من أشرك بالله كمثل رجل اشترى عبدا من خالص ماله بذهب أو رق قال : هذه داري وهذا عملي فاعلم وأد إلي فجعل يعمل ويؤدي إلى غير سيده فأيكم يسره أن يكون عبده كذلك ؟ وإن الله خلقكم ورزقكم فلا تشركوا به شيئا وأمركم بالصلاة فإذا صليتم فلا تلتفتوا وأمركم بالصيام وإن مثل ذلك كمثل رجل كانت معه صرة فيه مسك ومعه عصابة كلهم يعجبه أن يجد ريحها وإن الصيام أطيب عند الله من ريح المسك وآمركم بالصدقة وإن مثل ذلك كمثل رجل أسره العدو وقاموا إليه فأوثقوا يده إلى عنقه فقال : هل لكم أن أفدي نفسي منكم ؟ قال : فجعل يعطيهم القليل والكثير ليفك نفسه منهم وآمركم بذكر الله كثيرا وإن مثل ذلك كمثل رجل طلبه العدو سراعا في إثره حتى أتى على حصن حصين فأحرز نفسه فيه كذلك العبد لا يحرز نفسه من الشيطان إلا بذكر الله . وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وإنا آمركم بخمس أمرني الله بهن : الجماعة والسمع والطاعة والهجرة والجهاد في سبيل الله : فمن فارق الجماعة قيد شبر خلع الإسلام من رأسه إلا أن يرجع ومن دعا بدعوى الجاهلية فإنه من جثى جهنم قيل : وإن صام وصلى ؟ قال : وإن صلى وصام فادعوا بدعوى الله الذي سماكم المسلمين المؤمنين عباد الله K إسناده صحيح
حضرت حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے یحییٰ بن زکریا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف پانچ کلمات کی وحی کی کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں‘ آپ نے ان کے بیان کرنے میں دیر کی‘ اس کے بعد اللہ عزوجل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف انہی کلمات کی وحی کی کہ ان کلمات کی تبلیغ کریں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے‘ آپ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے آپ کو ان پانچ کلمات کے متعلق حکم دیا تھا کہ خود بھی اس پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان کلمات پر عمل کرنے کا حکم دیں کیا آپ نے بتائے ہیں یا میں بتاؤں؟ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے روح اللہ ! آپ نہ کریں! میں خوف کرتا ہوں کہ اگر آپ مجھ سے سبقت لے گئے تو مجھے دھنسا دیا جائے گا یا مجھے عذاب دیا جائے گا۔ بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ مسجد بھر گئی اور خود اونچی جگہ تشریف فرما ہوئے پھر ان کو خطبہ دیا اور فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے مجھے پانچ کلمات کی وحی کی ہے کہ خود بھی ان پر عمل کرنے کا اور بنی اسرائیل سے بھی عمل کروانے کا حکم دیا ہے‘ ان میں پہلا کلمہ یہ ہے کہ (1) اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنے کا بے شک اس کی مثال جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کسی غلام کو خریدے خالص اپنے مال سے سونے یا چاندی کے ساتھ پھر اس کو اپنے گھر میں ٹھہرائے اور کہے: تو کام کر اور اپنے کام کی مزدوری مجھے دے ۔ وہ غلام دوسرے آدمی کے لیے کام کرنا شروع کرے اپنے آقا کے علاوہ تو کیا تم میں سے کوئی آدمی اپنے غلام سے راضی ہو گا اس طرح کہ اللہ عزوجل نے تم کو پیدا کیا اور تم کو رزق دیا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ‘ جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو ادھر ادھر نہ دیکھو کیونکہ اللہ عزوجل کی رحمت اس آدمی کے چہرے کی طرف رہتی ہے جب تک وہ اِدھر اُدھر نہ دیکھے۔ (2) تم کو روزے رکھنے کا حکم دیتا ہے‘ روزے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کے پاس تھیلا ہو اور اس میں مشک خوشبو ہو تم میں سب اس کی خوشبو حاصل کرنے کو پسند کریں گے‘ روزے دار کے منہ کی بو اللہ عزوجل کے ہاں مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی ہے (3) تم کو صدقہ کا حکم دیتا ہے‘ صدقہ دینے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کو قید کر لیا گیا ہو اور اس کے پاؤں گردن کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں‘ اس کو لایا جائے تاکہ اس کی گردن اڑا دی جائے تو وہ ان کو کہنے لگے: کیا تمہارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم میں سے کوئی میری جان کا فدیہ دے وہ تھوڑا یا زیادہ سب کچھ دیدے یہاں تک کہ اتنا مال اکٹھا ہو جس سے اس کی جان کا فدیہ ہو جائے (4) اور میں تم کو اللہ کے ذکر کا حکم دیتا ہوں کہ تم کثرت سے اللہ کا ذکر کرو‘ اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کو اس کا دشمن تلاش کرے اور وہ تیزی سے اس کے پیچھے چلے وہ ایک قلعہ میں آ جائے اس میں آ کر اس نے اپنی جان کو بچا لیا تو اسی طرح بنده شیطان سے نجات اللہ کے ذکر سے حاصل کر سکتا ہے ۔
أَنَّ الْحَارِثَ الْأَشْعَرِيَّ ← أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ زَيْدًا، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،
Musnad Abu Yaalaa · Al-Harith al-Ash'ari › Chapter · Hadith 1571
