Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عفيف الكندي ‹ مسند عفيف الكندي · حديث 1547

1547 - حدثنا عبد الرحمن بن صالح حدثنا سعيد ابن خثيم الهلالي عن أسد بن وداعة البجلي عن ابن يحيى بن عفيف الكندي عن أبيه عن جده عفيف قال Y جئت في الجاهلية ‘لى مكة وأنا أريد أن أبتاع لأهلي من ثيابها وعطرها فأتيت العباس بن عبد المطلب وكان رجلا تاجرا فأنا عنده جالس حيث أنظر إلى الكعبة وقد حلقت الشمس في السماء فارتفعت فذهبت إذ جاء شاب فرمى ببصره إلى السماء ثم قام مستقبل القبلة ثم ألبث إلا يسيرا حتى جاء غلام فقام على يمينه ثم لم ألبث إلا يسيرا حتى جاءت امرأة فقامت خلفهما فركع الشاب فركع الغلام والمرأة فرفع الشاب فرفع الغلام والمرأة فقلت : يا عباس أمر عظيم ! فقال العباس : أمر عظيم ! تدري من هذا الشاب ؟ قلت : لا قال : هذا محمد بن عبد الله ابن أخي تدري من هذا الغلام ؟ هذا علي ابن أخي تدري من هذه المرأة ؟ هذه خديجة بنت خويلد زوجته إن ابن أخي هذا أخبرني أن ربه رب السماوات والأرض أمره بهذا الدين الذي هو عليه ولا والله ما على الأرض كلها أحد على هذا الدين غير هؤلاء الثلاثة K إسناده حسن

حضرت عفیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں زمانہ جاہلیت میں مکہ آیا۔ میں چاہتا تھا کہ میں اپنے گھر والوں کے لیے نئے کپڑے اور خوشبو خرید لوں ۔ میں حضرت عباس بن عبدالمطلب کے پاس آیا۔ حضرت عباس تاجر تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا۔ اس وقت میں کعبہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دیکھا کہ سورج نے آسمان میں حلقہ بنا لیا۔ پس وہ بلند ہوا تو میں گیا‘ اچانک ایک نوجوان آیا اس نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی ۔ پھر قبلہ شریف کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد ایک بچہ آیا وہ آپ کے دائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد ایک عورت آئی۔ وہ ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی ۔ اس نو جوان نے رکوع کیا اور اس بچے اور عورت نے بھی رکوع کیا ۔ اس نوجوان نے رکوع سے سر اٹھایا‘ اس بچے اور عورت نے بھی سر اٹھایا‘ اس نو جوان نے سجدہ کیا‘ اس بچے اور عورت نے بھی سجدہ کیا۔ میں نے عرض کی : اے عباس! یہ عظیم کام ہے ۔ حضرت عباس نے کہا: یہ کام بہت بڑا ہے ۔ جانتے ہو یہ نو جوان کون ہے؟ میں نے عرض کی :نہیں! فرمایا: یہ نو جوان محمد بن عبداللہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔ یہ بچہ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے میرے بھائی ابو طالب کا بیٹا ہے۔ یہ عورت خدیجہ بنت خویلد اس کی بیوی ہے یہ میرے بھائی کہتا ہے کہ اس کا رب تو زمین و آسمان کا رب اور اس کو اس دین کا حکم دیا ہے جس پر یہ ہے اور کوئی خدا نہیں ہے ۔ اللہ کی قسم اس کے ساتھ ان تین کے علاوہ اس دین پر کوئی نہیں ہے۔

جده عفيف ← أَبِيهِ ← ابن يحيى بن عفيف الكندي ← أسد بن وداعة البجلي ← سعيد ابن خثيم الهلالي ← عبد الرحمن بن صالح

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Afif Al-Kindi armrest › Chapter · Hadith 1547

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter