Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · المقداد بن عمرو الكندي ‹ المقداد بن عمرو الكندي · حديث 1517

1517 - حدثنا هدبة حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن المقداد بن عمرو الكندي قال Y قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعي رجلان من أصحابي فطلبنا هل يضيفنا أحد فلم يضيفنا أحد فأتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلنا : يا رسول الله أصابنا جوع وجهد وإنا تعرضنا هل يضيفنا أحد ؟ فلم يضفنا أحد فدفع إلينا أربعة أعنز فقال : يا مقداد خذ هذه فاحتلبها فجزئها أربعة أجزاء : جزءا لي وجزءا لك وجزاءا لصاحبيك فكنت أفعل ذلك فلما كان ذات ليلة شربت جزئي وشرب صاحباي جزئيهما وجعلت النبي صلى الله عليه و سلم في القعب وأطبقت عليه فاحتبس النبي صلى الله عليه و سلم فقالت لي نفسي : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد دعاه أهل بيت من المدينة فتعشى معهم ورسول الله صلى الله عليه و سلم لا يحتاج إلى هذا اللبن فلم تزل نفسي تديرني حتى قمت إلى القعب فشربت ما فيه فلما تقار في بطني أخذني ما قدم وما حدث فقالت لي نفسي : يجي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو جائع ظمآن فيرفع القعب فلا يجد فيه شيئا فيدعو عليك فتسجيت كأني نائم وما كان بي نوم فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم تسليمة أسمع اليقظان ولم يوقظ النائم فلما لم ير في القعب شيئا رفع رأسه إلى السماء فقال : اللهم أطعك من أطعمنا واسق من سقانا قال : فاغتنمت دعوة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذت الشفرة وأنا أريد أن أذبح بعض تلك الأعنز فأطعمه فضربت بيدي فوقعت على ضرعها فإذا هي حافل ثم نظرت إليهن جميعا فإذا هن حفل فحلبت في القعب حتى امتلأ ثم أتيته وأنا ابتسم فقال : هيه بعض سوآتك يا مقداد فقلت : يا رسول الله اشرب ثم أخبر فشرب ثم شربت ما بقي ثم أخبرته فقال : يا مقداد هذه بركة كان ينبغي لك أن تعلمني حتى نوقظ صاحبينا فنسقيهما من هذه البركة قال : قلت : يا رسول الله إذا شربت أنت الركة وأنا فما أبالي من أخطأت K إسناده صحيح

حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے دو ساتھی آئے‘ قریب تھا کہ بھوک کی وجہ سے ہماری سماعت اور بصارت چلی جاتی ، پس ہم نے مطالبہ کیا کیا ہمیں کوئی اپنا مہمان بنائے گا؟ ان میں سے کسی نے بطور مہمان ہم کو قبول نہ کیا یہاں تک کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمیں بے حد بھوک لگی ہے‘ ہم نے اپنے آپ کو بطور مہمان پیش کیا؟ ہمیں کسی نے اپنا مہمان نہ بنایا، پس آپ نے ہمیں چار بکریاں دیں‘ فرمایا : اے مقداد! ان کو پکڑ کر ان کا دودھ نکال اس کو چار حصوں میں تقسیم کر‘ ایک حصہ میرے لیے‘ ایک تیرے لیے اور ایک ایک حصہ تیرے دونوں ساتھیوں کے لیے‘ پس میں ایسے ہی کرتا رہا‘ پس جب ایک رات میں نے اپنے حصہ اور میرے دونوں دوستوں نے اپنا اپن حصہ پی لیا‘ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ پیالے میں رکھ کر اوپر سے ڈھک دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آنے میں دیر لگ گئی‘ میں نے اپنے دل میں کہا: بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو مدینہ سے بلا کر ان کے ساتھ شام کا کھانا کھایا ہے‘ لہٰذا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دودھ کی ضرورت نہیں ہے‘ یہ بات مسلسل میرے دل میں گھومتی رہی یہاں تک کہ میں اٹھ کر اس پیالہ کے پاس گیا جتنا اس میں دودھ تھا۔ میں نے پی لیا۔ پس جب میں نے پی لیا تو مجھے ندامت ہوئی اور دل میں کہا کہ جو میں نے کہا (اگر) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور آپ نے دودھ نہ پایا تو آپ تیرے خلاف کریں گے اور تو ہلاک ہو جائے گا۔ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی، اسی حال میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشریف لائے‘ آپ ویسے ہی آئے آپ نے اس انداز میں سلام کیا کہ جاگنے والا سنے اور سونے والا نہ جائے‘ پھر آپ نے پینے کے لیے دودھ دیکھا تو آپ نے برتن میں کوئی شی نہیں دیکھی‘ آپ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا‘ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کی: اے اللہ ! تو اس کو کھلا جو مجھے کھلائے اور تو اس کو پلا جو مجھے پلائے۔ میں نے چھری پکڑی تاکہ میں ایک بکری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ذبح کروں ۔ میں نے اس بکری کی کھیری پر ہاتھ مار کر دیکھا اس کے اور سب بکریوں کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہیں‘ میں نے پیالے میں دودھ دوھا یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا‘ پھر میں اس کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اس حال میں کہ میں ہنس رہا تھا‘ آپ نے فرمایا: اے مقداد! اپنی غلطی س‘ میں نے عرض کی: آپ پیش! پھر میں خبر دینے لگا۔ آپ نے اس کو نوش کیا‘ پھر مجھے پکڑایا تو میں نے اس کو پیا جو بچا ہوا تھا‘ پھر آپ نے مجھے فرمایا: اے مقداد! یہ برکت ہے‘ آپ کو چاہیے کہ مجھے بتائیں تاکہ ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو جگا کر اس برکت سے ان کو بھی پلائیں۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! جب میں نے اور آپ نے برکت کو پی لیا۔

المقداد بن عمرو الكندي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Al-Miqdad bin Amr Al-Kindy › Chapter · Hadith 1517

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter