مسند أبي يعلى · مسند عمرو بن خارجة ‹ مسند عمرو بن خارجة · حديث 1508
1508 - حدثنا خلف بن هشام حدثنا أبو عوانة عن قتادة عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم عن عمرو بن خارجة قال Y خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على ناقة وأنا تحت جرانها وهي تقصع بجرة ولعابها يسيل بين كتفي فقال : يا أيها الناس إن الله أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث والولد للفراش وللعاهر الحجر ومن ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه رغبة عنهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا K إسناده حسن
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اس حالت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوٹنی پر سوار تھے۔ میں اس کے نیچے کھڑا تھا وہ جگالی کر رہی تھی۔ اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان گر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے لہٰذا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔ بچہ بستر والے کا ہے، زانی کے لیے پتھر ہیں ۔ جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی یا اپنے آقا کے علاوہ کسی اور آقا کی طرف اس سے بے رغبت ہوتے ہوئے اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ۔ اس کے نہ فرض اور نہ نفل دونوں قبول نہ ہوں گے۔
تحت جرانها وهي تقصع بجرة ولعابها يسيل بين كتفي ← خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على ناقة ← عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خلف بن هشام،
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ammara Bin Kharja › Chapter · Hadith 1508
