مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1426
1426 - حدثنا محمد بن عباد المكي حدثنا حاتم عن معاوية ـ يعني ابن أبي مزرد ـ عن عبد الله بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري عن أبيه عبد الله بن أبي طلحة عن أبي طلحة قال Y دخلت المسجد فعرفت في وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم الجوع فخرجت حتى أتيت أم سليم وهي أم أنس بن مالك كانت تحت مالك أبي أنس بن مالك فقلت : يا أم سليم إني قد عرفت في وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم الجوع فهل عندك من شيء ؟ قال : عندي شيء وأشارت بكفها فقلت لها : اصنعي وانعمي فأرسلت أنسا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : ساره في أذنه وادعه فلما أقبل أنس قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا رجل قد جاء بخير قال رسول صلى الله عليه و سلم : آرسلك أبوك يدعونا يا بني ؟ قال : فقال رسول الله لأصحابه : اذهبوا بسم الله قال : فأدبر أنس يشتد حتى أتى أبا طلحة فقال : هذا يا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أتاك في الناس قال : فخرجت حتى لقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم عند الباب على مستراح الدرجة فقلت : يا رسول الله ماذا صنعت بنا ؟ إنما عرفت في وجهك الجوع فصنعا لك شيئا تأكله قال : ادخل وابشر قال : فأخذها رسول الله صلى الله عليه و سلم فجمعها في الصحفة بيده ثم أصلحها فقال : هل من ؟ كأنه يعني الأدم قال : فأتوه بعكتهم فيها شيء أو ليس فيها شيء فقال بها رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده : فاسكب منها السمن ثم قال : ادخل علي عشرة عشرة فأكلوا كلهم وشبعوا وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم للفضل الذي فضل : كلوا أنتم وعيالكم فأكلوا وشبعوا K إسناده حسن
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے مبارک سے بھوک پہچان لی ۔ میں ام سلیم کے پاس آیا، أم سلیم حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ۔ وہ حضرت مالک ابی انس بن مالک کے نکاح میں تھیں۔ میں نے کہا: اے ام سلیم ! میں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے مبارک سے بھوک معلوم کی ہے، کیا تیرے پاس کوئی شے ہے؟ ام سلیم نے کہا: میرے پاس کوئی شے ہے، اپنی ہتھیلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ میں نے اس کو کہا: اس کو پکا اور تیار کر کے رکھے۔ میں نے انس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بھیجا۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کان میں آہستہ گفتگو کرنا اور دعوت دینا۔ جب انس گیا تو حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اچھی خبر لایا ہے! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیرے باپ نے بھیجا ہے ہم کو دعوت دینے کے لیے؟ اے بیٹے! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: چلو الله کا نام لے کر۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے پلٹے یہاں تک کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ عرض کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود اور صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آ رہے ہیں۔ میں نکلا یہاں تک کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دروازے کے پاس ملا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے بھوک معلوم کی تھی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا تھا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھالیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: داخل ہو اور خوشخبری دے۔ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو پکڑا اس کو اپنے ہاتھ سے ایک پیالہ میں جمع کیا، پھر اس کو درست کیا اس کے بعد فرمایا: کیا اور بھی ہے؟ یعنی سالن۔ وہ آٹے کے پاس لایا گیا اورکپی میں کوئی شی تھی اس میں کوئی شے نہیں تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست قدرت سے اس کو جمع کیا اس سے گھی نکلا پھر فرمایا: میرے پاس دس دس افراد آئیں! ان سب نے کھایا اور سیر ہو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جوبچ گیا تھا اس کے متعلق فرمایا: خودبھی کھاؤ اور اپنے بچوں کو بھی کھلا دے تو انہوں نے کھایا اورسیر ہوگئے ۔
أَبِي طَلْحَةَ، ← أبيه عبد الله بن أبي طلحة ← عبد الله بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري ← معاوية يعني ابن أبي مزرد ← حَاتِمٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1426
