Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1426

1426 - حدثنا محمد بن عباد المكي حدثنا حاتم عن معاوية ـ يعني ابن أبي مزرد ـ عن عبد الله بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري عن أبيه عبد الله بن أبي طلحة عن أبي طلحة قال Y دخلت المسجد فعرفت في وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم الجوع فخرجت حتى أتيت أم سليم وهي أم أنس بن مالك كانت تحت مالك أبي أنس بن مالك فقلت : يا أم سليم إني قد عرفت في وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم الجوع فهل عندك من شيء ؟ قال : عندي شيء وأشارت بكفها فقلت لها : اصنعي وانعمي فأرسلت أنسا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : ساره في أذنه وادعه فلما أقبل أنس قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا رجل قد جاء بخير قال رسول صلى الله عليه و سلم : آرسلك أبوك يدعونا يا بني ؟ قال : فقال رسول الله لأصحابه : اذهبوا بسم الله قال : فأدبر أنس يشتد حتى أتى أبا طلحة فقال : هذا يا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أتاك في الناس قال : فخرجت حتى لقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم عند الباب على مستراح الدرجة فقلت : يا رسول الله ماذا صنعت بنا ؟ إنما عرفت في وجهك الجوع فصنعا لك شيئا تأكله قال : ادخل وابشر قال : فأخذها رسول الله صلى الله عليه و سلم فجمعها في الصحفة بيده ثم أصلحها فقال : هل من ؟ كأنه يعني الأدم قال : فأتوه بعكتهم فيها شيء أو ليس فيها شيء فقال بها رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده : فاسكب منها السمن ثم قال : ادخل علي عشرة عشرة فأكلوا كلهم وشبعوا وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم للفضل الذي فضل : كلوا أنتم وعيالكم فأكلوا وشبعوا K إسناده حسن

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے مبارک سے بھوک پہچان لی ۔ میں ام سلیم کے پاس آیا، أم سلیم حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ۔ وہ حضرت مالک ابی انس بن مالک کے نکاح میں تھیں۔ میں نے کہا: اے ام سلیم ! میں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے مبارک سے بھوک معلوم کی ہے، کیا تیرے پاس کوئی شے ہے؟ ام سلیم نے کہا: میرے پاس کوئی شے ہے، اپنی ہتھیلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ میں نے اس کو کہا: اس کو پکا اور تیار کر کے رکھے۔ میں نے انس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بھیجا۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کان میں آہستہ گفتگو کرنا اور دعوت دینا۔ جب انس گیا تو حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اچھی خبر لایا ہے! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیرے باپ نے بھیجا ہے ہم کو دعوت دینے کے لیے؟ اے بیٹے! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: چلو الله کا نام لے کر۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے پلٹے یہاں تک کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ عرض کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود اور صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آ رہے ہیں۔ میں نکلا یہاں تک کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دروازے کے پاس ملا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے بھوک معلوم کی تھی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا تھا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھالیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: داخل ہو اور خوشخبری دے۔ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو پکڑا اس کو اپنے ہاتھ سے ایک پیالہ میں جمع کیا، پھر اس کو درست کیا اس کے بعد فرمایا: کیا اور بھی ہے؟ یعنی سالن۔ وہ آٹے کے پاس لایا گیا اورکپی میں کوئی شی تھی اس میں کوئی شے نہیں تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست قدرت سے اس کو جمع کیا اس سے گھی نکلا پھر فرمایا: میرے پاس دس دس افراد آئیں! ان سب نے کھایا اور سیر ہو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جوبچ گیا تھا اس کے متعلق فرمایا: خودبھی کھاؤ اور اپنے بچوں کو بھی کھلا دے تو انہوں نے کھایا اورسیر ہوگئے ۔

أَبِي طَلْحَةَ، ← أبيه عبد الله بن أبي طلحة ← عبد الله بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري ← معاوية يعني ابن أبي مزرد ← حَاتِمٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1426

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1427

1427 - حدثنا محمد بن مرزوق حدثنا زاجر بن الصلت عن الحارث بن عمير عن شداد عن أبي طلحة Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا شباب قريش ! لا تزنوا من سلم له شبابه فله الجنة K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے قریش کے نوجوانو! زناء نہ کرو جس نے اپنی جوانی کی حفاظت کی اس کے لیے جنت ہے۔

أَبِي طَلْحَةَ، ← شَدَّادٌ ← الحارث بن عمير ← زاجر بن الصلت ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوْقٍ۔

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1427

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1428

1428 - حدثنا أبو معمر الهذلي حدثنا هشيم أخبرنا حميد عن أنس عن أبي طلحة قال Y لقد سقط السيف مني يوم بدر لما غشينا من النعاس يقول الله : { إذ يغشيكم النعاس أمنة منه } [ الأنفال : 11 ]

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میرے ہاتھ سے تلوار گرگئی بدر کے دن اس اونگھ کی وجہ سے جو ہم پر طاری ہوگئی تھی اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: جب اللہ اپنی طرف سے (تمہارے دلوں کی تسکین کیلئے تم پر اونگھ غالب کررہا تھا۔

الله إذ يغشيكم النعاس أمنة منه الأنفال ← لقد سقط السيف مني يوم بدر لما غشينا من النعاس ← أَبِي طَلْحَةَ، ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← هُشَيْمٌ ← أبو معمر الهذلي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1428

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1429

1429 - حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري حدثنا أبي حدثنا شعبة عن عمرو بن دينار عن يحيى بن جعدة عن عبد الله بن عمرو عن أبي طلحة Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : توضؤوا مما غيرت النار K إسناده حسن

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وضو کرو اس چیز کو کھانے کے بعد جس کو آگ نےپکایا ہو۔

توضؤوا مما غيرت النار إسناده حسن ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي طَلْحَةَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1429

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1430

1430 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا سفيان عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس عن أبي طلحة Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة K إسناده صحيح

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس گھر میں كتا اور تصویر ہو۔

أَبِي طَلْحَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1430

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1431

1431 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرعرة حدثنا روح بن عبادة حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة قال : ذكر لنا أنس عن أبي طلحة Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر يوم بدر بأربعة وعشرين رجلا من صناديد قريش فقذفوا في طوي من أطواء بدر خبيث مخبث وكان إذا ظهر على قوم أحب أن يقيم بعرصتهم ثلاث ليال فلما كان ببدر يوم الثالث أمر براحلته فشد عليها رحلها ثم مشى واتبعه أصحابه وقالوا : ما نراه ينطلق يناديهم بأسمائهم وأسماء آبائهم : يا فلان ابن فلان يا فلان ابن فلان أيسركم أنكم أطعتم الله ورسوله ؟ فأنا قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا فهل وجدتم ما وعد ربكم حقا ؟ قال : عمر بن الخطاب : يا رسول الله ما تكلم من أجساد لا أرواح لها ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : والذي نفسي بيده ما أنتم بأسمع لما أقول منهم قال قتادة : أحياهم الله حتى أسمعهم توبيخا وتصغيرا ونقمة وحسرة ندامة K إسناده صحيح

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بدر کے دن حکم دیا چوبیس قریش کے سرداروں کے متعلق کہ ان کو بدر کے گہرے ترین کنواں میں ڈال دو ۔ بس ا نہیں ڈال دیا گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی قوم پر غالب آجاتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس جگہ تین دن ٹھہرنے کو پسند کرتے تھے۔ جب بدر کا تیسرا دن تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سواری کے متعلق حکم دیا اس پر اس کا سامان باندھا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلے، پیچھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی چلے۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں: ہمارا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کام کے لیے چلے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کنویں کے کنارے پر کھڑے ہو گئے اور ان کو پکارنے لگے ان کے ناموں کے ساتھ اور ان کے آباؤ اجداد کے ناموں کے ساتھ : اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا تم کو پسند ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کرو؟ ہم نے پا لیا جو ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا۔ کیا تم نے بھی پا لیا ہے جس کا تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسے اجسام ، سے گفتگو کرتے ہیں جن میں روح ہی نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! تم ان سے زیادہ نہیں سنتے ہو جو میں ان سے کہہ رہا ہوں ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الله تعالی نے ان کو زندہ کیا یہاں تک کہ اللہ نے ان کو سنایا توبیخاًذلیل کرنے کے لیے ، حسرت اور ندامت کے لیے۔

أَبِي طَلْحَةَ، ← لنا أنس ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1431

مسند أبي يعلى · مسند أبي طلحة ‹ مسند أبي طلحة · حديث 1432

1432 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حماد عن سهيل بن أبي صالح عن سعيد بن يسار عن أبي طلحة Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الملائكة لا تدخل بيتا فيه تصاوير ولا كلب فقال زيد بن خالد الجهني لأبي طلحة : مر بنا إلى عائشة نسألها عن هذا فأتيا عائشة فسألاها فقالت : أما هذا فلا أحفظه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكن كان رسول الله صلى الله عليه و سلم في مغزى له فتحينت قفلته فكسوت عرش البيت نمطا فلما دخل استقبلت فأخذت بيده فقلت : الحمد لله الذي نصرك وأعزك وأكرمك فنظر إليه فرأيت الكراهية في وجهه وذكر الحديث بتمامه K إسناده منقطع

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں جس گھر میں کتا اور تصویر ہو۔ حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے ابو طلحہ سے عرض کی: چلو! ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے ہیں ہم اس کے متعلق پوچھتے ہیں۔ ہم دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس حوالہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی بات یا دنہیں ہے لیکن رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک غزوہ میں تھے میں وہاں سے نکلی اور میں نے گھر کے فرش پر ایک چمڑا بچھایا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم داخل ہوئے تو میں آگے بڑھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا میں نے عرض کی : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عزت و کرامت دی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدد کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پرناپسندیدگی دیکھی پھر باقی حدیث مکمل ذکر کیا۔

أَبِي طَلْحَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Talha › Chapter · Hadith 1432

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter