مسند أبي يعلى · مسند بريدة ‹ مسند بريدة · حديث 1413
1413 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر بن الوليد عن أبي يوسف عن أبي حنيفة عن علقمة بن مرثد عن ابن بريدة عن أبيه Y عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا بعث سرية أوجيشا أوصى صاحبها بتقوى الله في خاصة نفسه وأوصاه بمن معه من المسليمن خيرا ثم قال : اغزوا باسم الله قاتلوا من كفر بالله لا تغلوا ولا تغدروا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا فإذا لقيتم عدوكم من المشركين فادعوهم إلى الإسلام فإن أسلموا فاقبلوا منهم وكفوا عنهم ثم ادعوهم إلى التحول من دارهم إلى دار المسلمين فإن فعلوا فاقبلوا منهم وإلا فأخبروهم أنهم كأعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المسليمن وليس لهم في الفيء ولا في الغنيمة نصيب فإن أبوا ذلك فادعوهم إلى إعطاء الجزية فإن فعلوا فاقبلوا منهم وكفوا عنهم فإذا حاصرتم حصنا أو مدينة فإن أرادوكم أن تنزلوهم على حكم الله فلا تنزلوهم فإنكم لا تدرون ما حكم الله ولكن أنزلوهم على حكمكم ثم احكموا فيهم ما رأيتم وإذا حاصرتم قصرا فلا تعطوهم ذمة الله ولا ذمة رسوله ولكن اعطوهم ذممكم وذمم آبائكم فإنكم أن تخفروا ذممكم وذمم أبائكم أهون
حضرت بریده رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،جب کسی لشکر کوبھیجتے تھے تو سپہ سالار کو وصیت کرتے کہ اللہ کے ڈر سے خاص کر اپنے متعلق اور اس کو وصیت کرتے کہ جو اس کے ساتھ مسلمان ہیں بھلائی کی، پھر فرماتے : الله کا نام لے کر اللہ کی راہ میں لڑو۔ اس سے لڑو جو اللہ کاانکار کرے۔ غلو اور خیانت نہ کرو اور مشلہ نہ کرو ۔ بچوں کو قتل نہ کرو۔ جب تم اپنے دشمن کافروں سے آمنا سامنا کرو۔ پھر ان کو اسلام کی طرف دعوت دو۔ اگر مسلمان ہو جائیں ان کی بات مان لو۔ اور ان سے لڑائی بند کر دو۔ پھر ان کو دعوت دو کہ اپنے شہر کو چھوڑ کر مسلمانوں کےشہروں کی طرف ہجرت کریں۔ اگر وہ یہ بھی کر لیں۔ ان کا عذر قبول کر لو۔ اگر وہ نہ مانیں تو ان کو بتا دو کہ مسلمان دیہاتیوں کی طرح ہوں گے ان پر وہی حکم چلے گا جو عام مسلمانوں پر چلتا ہے۔ ان کے لیے مال فئی اور غنیمت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوگا اگر اس کا انکار کر دیں تو ان کو جزیہ دینے کی دعوت دو۔ اگر وہ یہ مان لیں ان کا عذر قبول کرو اور ان سے جنگ روک لو۔ جب تم کسی قلعہ یا شهر کو گھیر لواگرتم ارادہ کرو کہ تم ان کو اللہ کے حکم پراتارنے کا تو اللہ کے حکم پرنہ اتارو۔ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ کا کیا حکم ہے۔ لیکن ان کو ان کے حکم پر اتارو۔ پھر ان پر فیصلہ کرو جوتمہاری رائے ہو جب تم قلعہ کا محاصرہ کرو۔ ان کو الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذمہ پر نہ دولیکن تم ان کو اپنے زمہ پر دو۔ اور اپنے آباء کے ذمہ پر۔ اگرتم اپنے زمہ پر اور اپنے آباء کے زمہ پر لو گے یہ زیادہ آسان ہے۔
أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبِي حَنِيفَةَ ← أَبِي يُوسُفَ ← قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← أَبُو يَعْلَى
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Barira › Chapter · Hadith 1413
