مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1199
1199 - حدثنا زهير حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح Y عن أبي سعيد أو عن أبي هريرة - شك الأعمش - قال : لما كانت غزاة تبوك أصاب الناس مجاعة فقالوا : يا رسول الله لو أذنت لنا فنحرنا نواضحنا فأكلنا وادهنا قال : فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم : افعلوا فجاء عمر فقال يا رسول الله : إنهم إن فعلوا قل الظهر ولكن ادعهم بفضل أزوادهم ثم ادع لهم عليها بالبركة لعل الله أن يجعل في ذلك البركة قال : فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بنطع فبسطه ثم دعا بفضل أزوادهم قال : فجعل الرجل يجيء بكف الذرة والآخر بكف التمر والآخر بالكسرة حتى اجتمع على النطع شيء من ذلك قال : فدعا عليه بالبركة ثم قال : خذوا في أوعيتكم قال : فأخذوا في أوعيتهم حتى ما تركوا في العسكر وعاء إلا ملؤوه قال : وأكلوا حتى شبعوا قال : وفضلت منهم فضلة قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله لا يلقى الله بها عبد غير شاك فيحجب عن الجنة K إسناده صحيح
حضرت ابو سعید یا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ' اعمش کو شک ہے ' فرمایا: جب غزوہ تبوک تھا تو صحابہ کرام کو بھوک لگی ' صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اگر آپ ہم کو اونٹ نحر کرنے کا حکم دیں تو ہم ان کو کھائیں اور چربی بنائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کر لو! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر انہوں نے ایسے کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گے' آپ ایسے کریں کہ ان کا بچا ہوا کھانا منگوا لیں' پھر اس پر آپ برکت کی دعا کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دستر خوان منگوایا ' اس کو بچھایا گیا تو آپ نے ان کا بچا ہوا کھانا منگوایا۔ ایک آدمی ایک مٹھی چاول لے کر آیا۔ دوسرا ایک مٹھی کھجور لایا۔ تیسرا روٹی کا ٹکڑا لے کر آیا یہاں تک کہ دسترخوان پر کچھ اشیاء جمع ہو گئیں ' آپ نے برکت کی دعا کی' پھر فرمایا: اپنے برتن بھر لو! صحابہ کرام نے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ لشکر میں کوئی برتن خالی نہیں رہا کہ وہ بھوا ہوا تھا۔ صحابہ کرام نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے۔ ان کا کھانا ویسے ہی بچا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ' کوئی بندہ بھی اللہ سے ملے بغیر شک کیے تو ایسا نہیں کہ اسے جنت سے روک دیا جائے۔
لما كانت غزاة تبوك أصاب الناس مجاعة فقالوا ← أبي هريرة شك الأعمش ← أَبِي سَعِيدٍ أَوْ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← زُهَيْرٍ
Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1199
