مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1163
1163 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن عمارة بن القعقاع عن عبد الرحمن بن أبي نعم Y عن أبي سعيد قال : بعث علي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من اليمن بذهبة في أدم مقروظ لم تحصل فقسمها بين أربعة نفر زيد الخيل و الأقرع بن حابس و عيينة بن حصن و علقمة بن علاثة فقال ناس من المهاجرين والأنصار : نحن كنا أحق بهذا فبلغه ذلك فشق عليه فقال : لا تأمنوني وأنا أمين من في السماء يأتيني خبر السماء صباحا ومساء ؟ فقام إليه ناتىء العينين مشرف الوجنتين ناشز الجبهة كث اللحية محلوق الرأس مشمر الإزار فقال : يا رسول الله اتق الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم ويحك : أولست أحق أهل الأرض بأن أتقي الله ؟ ثم أدبر فقام خالد سيف الله فقال : يا رسول الله ألا أضرب عنقه ؟ فقال : لا : إنه لعله أن يصلي قال : إنه إن يصلي يقول بلسانه ما ليس في قلبه قال : إني لم أومر أن أشق عن قلوب الناس ولا أشق بطونهم فنظر إليه النبي صلى الله عليه و سلم وهو مقف فقال : إنه سيخرج من ضئضىء هذا قوم يتلون كتاب الله لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فقال عمارة : فحسبت أنه قال : لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل ثمود K إسناده صحيح
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یمن سے بیری کے پتوں سے رنگے ہوئے چمڑے میں سونے کی ڈلی بھیجی' آپ ے چار لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیئے : زید خیل 'اقرع بن حابس ' عینیہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ کو۔ مہاجرین اور انصار میں سے کچھ لوگوں نے عرض کی: ہم اس کے زیادہ حقدار تھے' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ پر دشوار گزرا ' فرمایا: تم مجھے امین نہیں سمجھتے ! میں تو آسمان والوں میں امین ہوں' میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔آپ کی طرف ایک آدمی کھڑا ہوا' اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں اور رخسار ابھرے ہوئے تھے' پیشانی پر نشان تھا اور داڑھی گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا اور تہبند اورپر اُٹھا ہوا تھا' اس نے بکواس کی: اے اللہ کے رسول ! عدل کریں! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو! میں زمین میں زیادہ حق دار نہیں ہوں کہ میں اللہ سے زیادہ ڈروں! پھر وہ چلا گیا تو حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ کی تلوار کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ! اس کی گردن نہ اتار دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ! ہو سکتا ہے کہ یہ نمازی ہو'کہا: اگر یہ نمازی ہے تو زبان سے وہ کلام کر رہا ہے جو اس کےدل میں نہیں ہے' آپ نے فرمایا: مجھے لوگوں کے دلوں کو چیرنے کا حکم نہیں دیا گیا نہ ان کے پیٹوں کو چیرنے کا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا' آپ نے فرمایا: عنقریب اس کی پشت سے ایک قوم نکلے گی جو اللہ کی کتاب کو پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا' وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ حضرت عمارہ فرماتے ہیں:میرا خیال تھا کہ اگر میں ان کو پاتا تو میں ان کی قومِ ثمود کی طرح قتل کر تا۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ
Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1163
