Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1163

1163 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن عمارة بن القعقاع عن عبد الرحمن بن أبي نعم Y عن أبي سعيد قال : بعث علي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من اليمن بذهبة في أدم مقروظ لم تحصل فقسمها بين أربعة نفر زيد الخيل و الأقرع بن حابس و عيينة بن حصن و علقمة بن علاثة فقال ناس من المهاجرين والأنصار : نحن كنا أحق بهذا فبلغه ذلك فشق عليه فقال : لا تأمنوني وأنا أمين من في السماء يأتيني خبر السماء صباحا ومساء ؟ فقام إليه ناتىء العينين مشرف الوجنتين ناشز الجبهة كث اللحية محلوق الرأس مشمر الإزار فقال : يا رسول الله اتق الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم ويحك : أولست أحق أهل الأرض بأن أتقي الله ؟ ثم أدبر فقام خالد سيف الله فقال : يا رسول الله ألا أضرب عنقه ؟ فقال : لا : إنه لعله أن يصلي قال : إنه إن يصلي يقول بلسانه ما ليس في قلبه قال : إني لم أومر أن أشق عن قلوب الناس ولا أشق بطونهم فنظر إليه النبي صلى الله عليه و سلم وهو مقف فقال : إنه سيخرج من ضئضىء هذا قوم يتلون كتاب الله لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فقال عمارة : فحسبت أنه قال : لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل ثمود K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یمن سے بیری کے پتوں سے رنگے ہوئے چمڑے میں سونے کی ڈلی بھیجی' آپ ے چار لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیئے : زید خیل 'اقرع بن حابس ' عینیہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ کو۔ مہاجرین اور انصار میں سے کچھ لوگوں نے عرض کی: ہم اس کے زیادہ حقدار تھے' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ پر دشوار گزرا ' فرمایا: تم مجھے امین نہیں سمجھتے ! میں تو آسمان والوں میں امین ہوں' میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔آپ کی طرف ایک آدمی کھڑا ہوا' اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں اور رخسار ابھرے ہوئے تھے' پیشانی پر نشان تھا اور داڑھی گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا اور تہبند اورپر اُٹھا ہوا تھا' اس نے بکواس کی: اے اللہ کے رسول ! عدل کریں! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو! میں زمین میں زیادہ حق دار نہیں ہوں کہ میں اللہ سے زیادہ ڈروں! پھر وہ چلا گیا تو حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ کی تلوار کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ! اس کی گردن نہ اتار دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ! ہو سکتا ہے کہ یہ نمازی ہو'کہا: اگر یہ نمازی ہے تو زبان سے وہ کلام کر رہا ہے جو اس کےدل میں نہیں ہے' آپ نے فرمایا: مجھے لوگوں کے دلوں کو چیرنے کا حکم نہیں دیا گیا نہ ان کے پیٹوں کو چیرنے کا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا' آپ نے فرمایا: عنقریب اس کی پشت سے ایک قوم نکلے گی جو اللہ کی کتاب کو پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا' وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ حضرت عمارہ فرماتے ہیں:میرا خیال تھا کہ اگر میں ان کو پاتا تو میں ان کی قومِ ثمود کی طرح قتل کر تا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1163

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1164

1164 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن عاصم الأحول عن أبي المتوكل Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم في الذي يجامع ثم يريد أن يعود فليتوضأ K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی بیوی سے جماع کیا، اس کا ارادہ دوبارہ کرنے کا ہے ، اس کو چاہیے کہ وہ وضو کر لے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1164

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1165

1165 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم عن سهم بن منجاب عن قزعة Y عن أبي سعيد قال : ودع رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا فقال له : أين تريد ؟ قال : أريد بيت المقدس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صلاة في مسجدي أفضل من مئة في غيره إلا المسجد الحرام K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الوداع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوکہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے عرض کی: بیت المقدس کا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں کے علاوہ میں پڑھنے سے سو گناہ زیادہ ثواب ہے مسجد حرام اس سے مستثنیٰ ہے۔

ارِیْدُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ ← له أين تريد ← ودع رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1165

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1166

1166 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم عن سهم بن منجاب عن قزعة Y عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ر صوم في يوم عيد ولا تسافر المرأة ثلاثة أيام إلا مع ذي محرم K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عید کے دن روزہ نہیں ہے اور کوئی عورت تین سے زیادہ سفر نہ کرے اپنے شوہر یا محرم رشتہ دار کے علاوہ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1166

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1167

1167 - وعن أبي سعيد Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد : مسجد الحرام ومسجد المدينة ومسجد الأقصى K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سواری نہ باندھو: مسجد حرام، میری مسجد ، مسجد الاقصیٰ اس کے علاوہ کسی اور طرف نہیں۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1167

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1168

1168 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد Y عن أبي سعيد الخدري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يدخل الجنة ولد زنى ولا مدمن خمر ولا عاق ولا منان K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ولد الزنا ' شراب پینے والا، نافرمان اور احسان جتلانے والا داخل نہیں ہوں گے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1168

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1169

1169 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جري عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الرحمن بن أبي نعم Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحسن و الحسين سيدا شباب أهل الجنة و فاطمة سيدة نساء أهل الجنة إلا ما كان من مريم بنت عمران K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (میرے لخت جگر) حسن و حسین رضی اللہ ٹعالیٰ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے۔ مگر مریم بنت عمران اس سے مستثنیٰ ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← جري ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1169

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1170

1170 - وعن أبي سعيد قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقتل المحرم الأفعى الأسود والعقرب والحدأة والكلب العقور والفويسقة قال : قلت : ما الفويسقة ؟ قال : الفأرة قلت : وما شأن الفأرة ؟ قال : إن النبي صلى الله عليه و سلم استيقظ وقد أخذت الفتيلة وصعدت بها إلى السقف K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محرم حالت احرام میں بچھو ' چیل ' پاگل کتے اور چوہے کو مار سکتا ہے۔ میں نے عرض کی: چوہے کاکیا کام (قصور) ہے؟ آپ رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اُٹھتا ہے اور وہ بتی پکڑ کر اسے لے کر دیوار پر چڑھ گیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1170

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1171

1171 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي صالح Y عن أبي سعيد الخدري قال : كان بين خالد بن الوليد وبين عبد الرحمن بن عوف شيء فسبه خالد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسبوا أحدا من أصحابي فإن أحدكم لو أنفق مثل أحد ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابی کو گالی نہ دو ' اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو تم میں سے کوئی اس کے ایک مُد اور اس کے حصہ کے ثواب کو نہ پا سکے گا۔

بين عبد الرحمن بن عوف شيء فسبه خالد ← کَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1171

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1172

1172 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي صالح Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : احتجت الجنة والنار فقالت النار : في الجبارون والمتكبرون وقالت الجنة : في ضعفاء النضاس ومساكينهم قال : فقضى بينهما : إنك الجنة رحمتي أرحم بك من أشاء وإنك النار عذابي أعذب بك من أشاء ولكلاكما علي ملؤها K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت اور دوزخ کا آپس میں مناظرہ ہوا۔ جہنم نے کہا: میرے اندر جابر اور تکبر کرنے والے ہوں گے۔ جنت نے کہا: میرے اندر کمزور لوگ اور مساکین ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے دونوں کے درمیان فیصلہ کیا، فرمایا: جنت میری رحمت ہے کہ تیرے ذریعہ جس پر چاہوں رحم کروں اور دوزخ تو میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے جسے چاہوں عذاب دوں لیکن میرے ذمہ تم دونوں کو بھرنا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1172

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1173

1173 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي صالح Y عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يدعى نوح يوم القيامة فيقول : لبيك وسعديك يا رب فيقول : هل بلغت ؟ فيقول : رب نعم فيقول لأمته : هل بلغكم ؟ فيقولون : ما أتانا من نذير فيقال : من يشهد لك ؟ فيقول : محمد صلى الله عليه و سلم وأمته قال : فيشهدون أنه قد بلغ ويكون الرسول عليكم شهيدا فذلك قوله : { جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس } [ البقرة : 143 ] قال : والوسط : العدل K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کو بلوایا جائے گا، حضرت نوح علیہ السلام عرض کریں گے کہ لبیک وسعد یک! اے رب ! اللہ پاک فرمائے گا: کیا آپ علیہ السلام نے پیغام پہنچا دیا تھا؟ حضرت نوح علیہ السلام عرض کریں گے : جی ہاں ! حضرت نوح علیہ السلام کی امت سے اللہ پوچھے گا: کیا تم تک پیغام پہنچا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس ڈرانے والا کوئی نہیں آیا۔ حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: آپ کے پیغام پہنچانے کی گواہی کون دے گا؟ حضرت نوح علیہ السلام فرمائیں گے: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت! وہ گواہی دیں گے کہ بے شک نوح علیہ السلام نے پیغام بھیجا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گواہی دیں گے ان پر' اس لیے یہ اللہ کا ارشاد ہے: " ہم نے تم کو درمیانی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ" وسط کا معنی ہے: درمیان۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1173

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1174

1174 - وعن أبي سعيد قال Y جاءت المرأة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إن زوجي صفوان بن المعطل يضربني إذا صليت ويفطرني إذا صمت ولا يصلي صلاة الفجر حتى تطلع الشمس و صفوان عنده فسأله عما قالت فقال : يا رسول الله أما قولها : يضربني إذا صليت فإنها تقرأ بسورتي وقد نهيتها عنها فقال : لو كانت سورة واحدة لكفت الناس قال : وأما قولها : يفطرني إذا صمت فإنها تنطلق وتصوم وأنا رجل شاب فلا أصبر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ : لا تصومن امرأة إلا بإذن زوجها وأما قولها : إني لا أصلي حتى تطلع الشمس فإنا أهل بيت قد عرف فينا ذاك أنا لا نكاد نستيقظ حتى تطلع الشمس قال : فإذا استيقظت فصل K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ کی بیوی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، اس نے عرض کی کہ صفوان مجھے مارتا ہے ۔ جب میں قرآن پڑھتی ہوں اور روزہ رکھنے سے منع کرتا ہے وہ خود بھی نماز سورج طلوع ہونے کے وقت پڑھتا ہے۔ حضرت صفوان ' وہاں آپ کے پاس موجود تھے' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے 'اس کی بیوی کے قول کے بارے پوچھا' صفوان نے عرض کی: اس نے جو کہا کہ مجھے مارتا ہے جب میں نماز پڑھتی ہوں'کیونکہ یہ وہی سورت پڑھتی ہے جو میں پڑھتا ہوں جبکہ میں نے اسے اس سے منع کیا ہے' تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ایک ہی سورت ہوتی تو تمام لوگوں کو کفایت کرتی ' اس کا کہنا کہ مجھےروزہ رکھنے سے منع کرتا ہے کیونکہ یہ لگا تار روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے ' تو میں نوجوان آدمی ہوں میں صبر نہیں کر سکتا تو اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنے خاوند کی جازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے' بہر حال اس کا کہنا نماز سورج کے طلوع کےوقت پڑھتا ہوں۔ ہم ایسے گھر والے ہیں ہماری عرف ہے کہ ہم نہیں جاگتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہر حال اے صفوان ! جب تو جاگے تو نماز پڑھا کر۔

جاءت المرأة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت ← وعن أبي سعيد

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1174

chevron_left Previous
1…456…25
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter